بائبل اور قرآن سائنس کی روشنی میں ( مناظرہ ڈاکٹرذاکرنائیک اورڈاکٹر ولیم کیمپبل)

حصہ اول خطاب:ڈاکٹر ولیم کیمپبل خطاب :ڈاکٹر ذاکر نائیک جوابی خطاب:ڈاکٹر ولیم کیمپبل جوابی خطاب:ڈاکٹر ذاکر نائیک حصہ دوم سوال نمبر 1: طوفان نوح کی نوعیت کیا تھی؟ سوال نمبر 2: اللہ کے نور ہونے سے کیا مراد ہے؟ سوال نمبر 3: ڈاکٹر ولیم کیمپبل بائبل کے مطابق خود امتحان کیوں نہیں دیتے؟ سوال نمبر…

عہدرسالت میں جمع وتدوین قرآن

عربی زبان میں ‘جمع القرآن’ کالفظ دو معانی میں استعمال ہوتا ہے: 1۔ زبانی حفظ کے معنی میں 2۔ کتابت اور تدوین کے معنی میں عہد رسالت میں مذکورہ دونوں معنوں میں حفاظت ِقرآن کا انتظام ہوا۔ جہاں تک پہلے معنی کا تعلق ہے تو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآنِ کریم…

عہدصدیقی ؓ میں جمع قرآن اور اسکی نوعیت

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مکمل قرآن مجید مختلف چیزوں پر لکھا ہوا تھا، سارے اجزا الگ الگ تھے، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان قرآن مجید کی تمام سورتوں کو ایک ہی جلد میں مجلد کروانے کا کام حکومتی اور اجماعی طور پر انجام دیا؛ چنانچہ ایسا نسخہ مرتب…

عہدعثمان ؓ میں جمع قرآن اور اسکی نوعیت

جس طرح حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا سب سے بڑا کارنامہ جمعِ قرآن ہے، اسی طرح حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا سب سے بڑا کارنامہ پوری امت کو قرآن مجید کے اس متفق علیہ نسخہ پر جمع کرنا ہے جو ”عہدِ صدیقی“ میں تیار کیا گیا تھا،اس کی تفصیل یہ ہے…

خلفائے راشدین کے عہد کے بعد قرآن کی تدوین وکتابت

دور ِعثمانی میں مصاحف کی جو نقلیں تیار کرکے مختلف بلادِ اسلامیہ کو بھیجی گئیں تھیں، وہ ایسے رسم الخط پر مشتمل تھیں جو ساتوں حروف کا متحمل ہو سکے ۔ اسی مقصد کے پیش نظر ان مصاحف کو نقطوں اورحرکات سے خالی رکھا گیا تاکہ ان حروف کی تمام متواتر قراء ات __ جو…

قرآن کی تدوین کے مختلف ادوار میں کام کی نوعیت-مختصر جائزہ

عہد رسالت میں قرآن کی تعلیم وتعلم کا بہت اہتمام تھا، چنانچہ صحابہ کرام ؓ نے حفظ اور کتابت دونوں ذرائع سے قرآنِ کریم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل کیا . قرآن کریم یکبارگی نہیں بلکہ تیئیس سال کے عرصہ میں تھوڑا تھوڑا کرکے نازل ہوا۔۔یہ سلسلہ پورے عہد نبوی کو…

وحی کی کیفیت اور مرگی (Epilepsy) کا اعتراض

مستشرقین نے یورپ میں یہ بات مشہور کرائی کہ محمد صل اللہ علیہ وسلم پر وحی نہیں آتی تھی بلکہ انکو نعوذبااللہ مرگی کا مرض لاحق تھا اور مرگی کے دورے کے بعد وہ جو باتیں کرتے تھے لوگ اسے وحی سمجھ لیتے تھے ۔یہ اتنا بچگانہ اعتراض ہے جس کا جواب دینے کی ضرورت…

وحی کے متعلق عقلی شبہات کا جائزہ

ہم شروع میں لکھ چکے ہیں کہ وحی ان معاملات میں اللہ کی طرف سے رہنمائی کی ایک شکل ہے،جن کا ادراک نری عقل سے نہیں ہوسکتا،اور چونکہ وحی کا مشاہدہ انبیا علیہم السلام کے سوا کسی اور کو نہیں ہوتا،اسلئے اس کی ٹھیک ٹھیک کیفیت کا اندازہ بھی کسی اور کو ممکن نہیں،یہی وجہ…

تدوین قرآن-مسلمانوں کی سہل نگاری اور مستشرقین کے شبہات

مسلمانوں کے لیے قرآن کریم کی تدوین وجمع کی تاریخ سے بڑھ کر کوئی قابلِ فخر سرمایہ نہیں ہے۔ وہ نزول کے اوّل دن سے اصحاب ِ رسول کی نگاہوں کےسامنے تھا۔ اُنھیں اچھی طرح معلوم تھا کہ تیئس سال کے عرصے میں قرآن کِس طرح نبی ﷺ پر نازل ہوتا رہا ہے۔ اِس کے…

وحی اور اسکی ضرورت

دنیا میں آنے کے بعد انسان کے لیے دو کام ناگزیر ہیں ، ایک یہ کہ وہ اس کائنات سے اور اس میں پیدا کی ہوئی اشیاء سے ٹھیک ٹھیک کام لے ، اور دوسرے یہ کہ اس کائنات کو استعمال کرتے ہوۓ اللہ تعالیٰ کے احکام کو مد نظر رکھے ، اور کوئی ایسی…

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے حضرت عثمان ؓ کیساتھ اختلاف کی نوعیت

ایک ملحد تحریف قرآن کے موضوع کے تحت لکھتا ہے : “یہ بات بھی بالکل غلط ہے کہ اس عثمانی مصحف پر اجماع ہو گیا تھا کیونکہ عبداللّٰه بن مسعود اور ان کے شاگردوں نے سارے مصحف جمع کر کے جلوانے اور صرف ایک کو رائج کرنے کے عمل کی شدید مخالفت کی اور اسی…

سورۃ البینہ کی فرضی گمشدہ آیات کی حقیقت

ثیودور نولڈکی (Theodor Nöldeke) کے نقش قدم پر چلتے ہوئے عیسائی مشنری ” ضائع شدہ آیات“کے موضوع سے قرآن مجید پر الزام تراشیاں کرتے رہتے ہیں۔ انہیں میں سے ایک الزام یہ ہے کہ سورہ البینہ کی ایک آیت ضائع ہو گئی تھی۔ جیسے نولڈکی اپنی کتاب ” Geschichte des Qorans 1/242 Leipzig 1909″ میں…

مصحف عبداللہ بن مسعودؓ ، سورۃ الفاتحہ اور معوذتین

عیسائی مشنریز کی طرف سے یہ اعتراض اٹھایا جاتا ہے جو اب انکے دیسی شاگرد ملحدین بھی کاپی کرتے ہیں کہ تین سورتیں سورہ فاتحہ اورالمعوذ تین( الفلق اور سورہ والناس) مصحف ِ ابن مسعودؓ میں نہ تھیں! اس اعتراض کا تحقیقی جائزہ پیش ہے ۔ سورہ فاتحہ: الفاتحہ کا مطلب ھے الفتاح الکتاب! یعنی…

تدوین قرآن کے متعلق بعض مستشرقین کی مثبت آراء

۔ دنیا کی تمام مذہبی کتب ِمقدسہ پر قرآن کو ہر حیثیت سے برتری حاصل ہے۔عہد نامہ قدیم و جدید کی تدوین میں تقریباً ڈیڑھ ہزار سال کا عرصہ لگا۔ بادشاہوں سے لے کر فقیروں تک ہزاروں اَفراد نے اس کی تدوین میں حصہ لیا۔ اس کا مستند ترین حصہ تورات دو جداگانہ کتب (الوہی…

حضرت عمرپرلائبریری جلانے کے اعتراض کا جواب

سکندر اعظم کے بعد بطلیموس ثانی (Ptolemy II) مصر کے علاقہ کا حکمراں بنا،اس کا زمانہ تیسری صدی ق م ہے۔ وہ ذاتی طور پر علم کا قدر داں تھا۔ اس نے اسکندریہ میں ایک کتب خانہ بنایا جس میں مختلف علوم کی تقریباً 5 لاکھ (500،000) کتابیں تھیں۔ یہی وہ کتب خانہ ہے جو…