کیااجتہادکادروازہ بندہوچکاہے؟

صحابہ کرامؓ چونکہ براہ راست چشمہ نبوت سے فیض یاب تھے اور جناب نبی اکرم ﷺ کے مزاج اور سنت کو اچھی طرح سمجھتے تھے اس لیے اجتہاد کے حوالہ سے کسی واضح درجہ بندی، اصول وضوابط اور دائرہ کار کے تعین کی زیادہ ضرورت محسوس نہیں کی گئی البتہ بعد کے ادوار میں ’’اجتہاد‘‘ کے اس عمل کو ہرکس وناکس کی جولان گاہ بننے سے بچانے کے لیے یہ ضرورت محسوس ہوئی کہ اس کے اصول وقوانین طے کیے جائیں، دائرہ کار کی وضاحت کی جائے، درجہ بندی اور ترجیحات کا تعین کیا جائے اور اہلیت وصلاحیت کا معیار بھی طے کر لیا جائے تاکہ قرآن وسنت کی تعبیر وتشریح اور نئے پیش آمدہ مسائل کے شرعی حل کا یہ مقدس عمل بازیچہ اطفال بننے کے بجائے صحیح رخ پر منظم ہو اور امت کی فکری وعملی راہ نمائی کا موثر ذریعہ ثابت ہو، چنانچہ بیسیوں مجتہدین اور ائمہ کرامؒ نے اس کے لیے انفرادی واجتماعی محنت کی اور کم وبیش تین سو برس تک عالم اسلام کے مختلف حصوں اور امت کے مختلف گروہوں میں جاری رہنے والے متنوع علمی مباحث کے نتیجے میں وہ منظم فقہی مکاتب فکر وجود میں آئے جنہیں آج حنفی، مالکی، شافعی ، حنبلی اور دوسرے عنوانات کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے اور جو بعد کی صدیوں میں کم وبیش ساری امت کو اپنے دائروں میں سمیٹتے چلے آ رہے ہیں۔
کیا اجتہاد کا دروازہ بند ہو چکا ہے؟
آج کل عام طور پر ایک بات تسلسل کے ساتھ کہی جا رہی ہے کہ علماء کرام نے ’’اجتہاد‘‘ کا دروازہ بند کر دیا ہے اور جمود کو امت پر مسلسل مسلط کر رکھا ہے جس کی وجہ سے امت پر ترقی کے دروازے مسدود ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ اجتہاد کے دو حصے ہیں اور دونوں کی نوعیت اور احکام الگ الگ ہیں۔
اجتہاد مطلق:
اس کا دائرہ اجتہاد کے اصولوں کی تشکیل و تدوین اور قواعد و ضوابط کی ترتیب تک محدود ہے۔ صحابہ کرامؓ چونکہ براہ راست بارگاہ نبوتؐ سے فیض یافتہ تھے اس لیے انہیں قواعد و ضوابط مرتب کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ البتہ ان کے بعد تابعین کے دور میں اصول و قواعد کی ضرورت پڑی تو تابعین اور اتباع تابعین کے دور میں بیسیوں اصحاب علم نے اس پر کام کیا اور اپنے اپنے طور پر اصول وضع کیے، قواعد و ضوابط ترتیب دیے اور ان کی روشنی میں عملی اجتہادات بھی کیے۔ پھر فقہی مکاتب فکر کے منظم ہونے کے بعد اجتہاد کے اصول وضوابط طے کرنے کا کام جاری نہ رہا اور انہی کے واضح کردہ اصول وقوانین کی پابندی کرتے ہوئے عملی دائروں میں اجتہاد کا سلسلہ بدستور چلتا رہا۔ یہ ایک فطری عمل ہے کہ کسی بھی علم کے بنیادی اصول وضوابط کے تعین کا ایک خاص وقت ہوتا ہے، یہ وہی وقت ہوتا ہے جب وہ تشکیل وتدوین کے مراحل سے گزر رہا ہو۔ اور جب وہ تشکیل وتدوین کے ایک خاص مرحلہ تک پہنچتا ہے تو بنیادی اصول وضوابط کے وضع کرنے کا عمل ضرورت پوری ہو جانے کی وجہ سے خود بخود رک جاتا ہے اور اس کے بعد اس علم نے ہمیشہ انہی بنیادی اصولوں کے دائرے میں آگے بڑھنا ہوتا ہے جو اس کے لیے ابتدا میں طے کر دیے جاتے ہیں۔ ان اصول کے دائرہ میں اس علم کا ارتقا جاری رہتا ہے لیکن اس کے بنیادی اصولوں کو نہ کبھی چیلنج کیا جاتا ہے اور نہ ہی انہیں جامد قرار دے کر تبدیل کرنے کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے۔
مثال کے طور پر علم صرف کے اصول اور بنیادی قوانین انسانوں نے ہی وضع کیے ہیں اور ماضی، مضارع، فاعل، امر، نہی اور ظرف وغیرہ کے صیغوں کی تشکیل اور دیگر ضوابط ایک دور میں صرف کے اماموں نے طے کیے ہیں، ان میں جزوی ترمیمات وتوضیحات ہر دور میں ہوتی رہی ہیں لیکن بنیادی قواعد کا ڈھانچہ وہی چلا آ رہا ہے جو اس کے ابتدائی ائمہ نے طے کر دیا تھا۔ اسے نہ تو کسی بھی دور میں چیلنج کرنے کا کوئی جواز ہے اور نہ ہی یہ سوال اٹھانا عقل مندی کی بات ہوگی کہ ڈیڑھ ہزار سال قبل کے لوگوں کو قواعد وضوابط بنانے کا حق تھا تو آج کے ترقی یافتہ دور میں یہ حق ہمیں کیوں حاصل نہیں ہے؟ ہم ان قواعد وضوابط میں اضافہ کر سکتے ہیں، ان کی ضرورت کے مطابق نئی تشریحات کر سکتے ہیں لیکن اس کے بنیادی ڈھانچہ کی نفی نہیں کر سکتے اور نہ ہی اس کی نسبت تبدیل کر سکتے ہیں کہ یہ اعزاز تقدیر وتاریخ میں جن کے لیے طے تھا، ان کو مل چکا ہے اور اب قیامت تک ان سے یہ کریڈٹ چھینا نہیں جا سکتا۔
اس کی ایک اور مثال ایسے ہے جیسے ’’علم حدیث‘‘ میں محدثین نے اصول و قواعد وضع کیے، رجال کے حالات جمع کیے اور ان پر نقد و جرح کی۔ اور پھر احادیث کی چھان پھٹک کر کے صحیح، ضعیف اور موضوع احادیث کے درمیان حد فاصل قائم کر دی۔ اس عمل کا ایک خاص دور تھا جب پہلے پہل اس کی ضرورت پیش آئی تھی تب اکابر محدثین نے محنت و مشقت کے ساتھ اس ضرورت کو پورا کر دیا تھا۔ اب قیامت تک جتنے محدثین بھی آئیں گے وہ اصول و قواعد اور راویوں کی چھان پھٹک کے حوالہ سے سابقہ محدثین کے کام سے ہی استفادہ کریں گے۔ اور پہلے سے مکمل ہو جانے والے علمی کام سے ہٹ کر نئے سرے سے اصول و قواعد کی ترتیب اور راویوں کے حالات جمع کرنے کے تکلف میں کوئی نہیں پڑے گا۔یہ ہو سکتا ہے کہ کسی حدیث کے درجہ کے تعین میں کسی نئے محدث کی رائے پہلوں سے مختلف ہو جائے۔ لیکن جن اصول و ضوابط اور راویوں کے حالات کی بنیاد پر وہ مختلف رائے اختیار کرے گا وہ سابقہ محدثین کے جمع کردہ ہی ہوں گے۔ آج کے دور میں احادیث کی تخریج اور ذخیرۂ احادیث کی چھان پھٹک کے حوالہ سے جو وسیع اور قابل قدر کام ہو رہا ہے اس کی بنیاد اسی اصول پر ہے۔ اور کہیں سے بھی یہ سوال نہیں اٹھ رہا کہ احادیث کی صحت و ضعف اور راویوں پر جرح و تعدیل کے جو قاعدے اور ضابطے امام بخاریؒ ، امام مسلمؒ ، امام ترمذیؒ ، امام نسائیؒ ، امام ابن ماجہؒ ، امام طحاویؒ اور دیگر محدثین نے وضع کیے ہیں، اور راویوں کے حالات جو امام ذہبیؒ اور حافظ ابن حجرؒ جیسے اصحاب علم نے جمع کیے ہیں ان پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ اور آج اگر اس درجے کا کوئی ’’محدث‘‘ پیدا ہو جائے تو اسے یہ حق تو حاصل ہوگا کہ وہ اپنے قواعد و ضوابط خود طے کرے، راویوں کے حالات بھی نئے سرے سے جمع کرے، اور پھر اس کی روشنی میں احادیث کی صحت و ضعف کے فیصلے کرے۔ لیکن ایسا کوئی بھی نہیں کرے گا اور اگر کسی کو یہ شوق ہو جائے تو وہ اپنی ’’دماغی صحت‘‘ کے بارے میں لوگوں کی دعائیں اور ہمدردیاں حاصل کرنے کے سوا کچھ نہیں کر پائے گا۔
مختصر یہ کہ اصول سازی اور قواعد و ضوابط کی ترتیب و تدوین کا فطری دور وہی پہلا دور تھا اور اسی دور میں یہ عمل مکمل ہوگیا تھا۔ اس کے بعد اس کی ضرورت باقی نہ رہی اور اس اجتہاد کا دروازہ کسی کے اعلان کیے بغیر فطری طور پر خود بخود بند ہوگیا۔ اس لیے جب یہ کہا جاتا ہے کہ ’’اجتہاد‘‘ کا دروازہ بند ہوگیا ہے تو اس سے یہی بات مراد ہوتی ہے کہ ’’اجتہاد مطلق‘‘ کا دروازہ بند ہوگیا ہے۔

عملی اجتہاد:
اجتہاد کا دوسرا حصہ ’’عملی اجتہاد‘‘ ہے۔ یعنی روزہ مرہ پیش آمدہ مسائل کا قرآن و سنت اور ائمہ کرامؒ کے مقرر کردہ اصولوں کی روشنی میں حل تلاش کرنا۔ اسے آپ دستور کی روشنی میں قانون سازی سے تعبیر کر سکتے ہیں۔ چونکہ انسانی سوسائٹی میں ہر وقت نئے مسائل پیدا ہوتے رہتے ہیں اور حالات کا تغیر و تبدل انسانی معاشرت کا لازمی حصہ ہے اس لیے ’’عملی اجتہاد‘‘ کا دروازہ کبھی بند نہیں ہوا اور نہ ہی قیامت تک کبھی بند ہوگا۔
چنانچہ جو فقہ جس دور میں بھی کسی اسلامی مملکت کا قانون رہی ہے، اس میں وقت کی رفتار اور ضرورت کے مطابق اجتہاد کا عمل بھی جاری رہا ہے۔ اس اجتہاد میں نئے پیش آمدہ مسائل کا حل تلاش کرنے کے ساتھ ساتھ پرانے فقہی فتاویٰ پر نظر ثانی کا عمل بھی شامل ہے۔ خلافت عثمانیہ اور جنوبی ایشیا کی مغل حکومت دونوں کا قانون فقہ حنفی پر مبنی تھا۔ خلافت عثمانیہ میں ’’مجلۃ الاحکام العدلیہ‘‘ کی تدوین اور مغل حکومت میں ’’فتاویٰ عالم گیری‘‘ کی ترتیب کے کام پر نظر ڈال لیجیے، آپ کو سابقہ فقہی فتاویٰ پر نظر ثانی اور نئے مسائل کے حل کی اجتہادی کاوشیں دونوں جگہ یکساں دکھائی دیں گی۔ موجودہ دور میں سعودی عرب میں حنبلی فقہ کی عمل داری ہے، آپ اس کا جائزہ لیں گے تو سعودی قضاۃ کے فیصلوں میں آپ کو حنبلی فقہ اب سے دو سو برس قبل کی جزئیات کی شکل میں نہیں بلکہ آج کی ضروریات اور تقاضوں کے حوالے سے جدید اجتہادات کی روشنی میں آگے بڑھتی نظر آئے گی۔ اسی طرح اہل تشیع نے ایران میں فقہ جعفری کو ملکی قانون کا درجہ دیا ہے تو یقیناًانہوں نے صدیوں پہلی کتابیں اٹھا کر انہیں عدالتی قانون کی حیثیت نہیں دے دی بلکہ آج کے حالات اور تقاضوں کے مطابق انہیں جدید اجتہادات کے ساتھ جدید قانونی زبان اور اصطلاحات کے ذریعہ نافذ العمل بنایا ہے۔
یہ فقہی مذاہب کے اس کردار کی بات ہے جو انہوں نے مختلف ممالک میں سرکاری مذاہب کے طور پر ادا کیا ہے اور اب بھی کر رہے ہیں۔ اس سے ہٹ کر پرائیویٹ سیکٹر میں دیکھ لیجیے۔ ہمارے ہاں جنوبی ایشیا میں مغل اقتدار کے خاتمہ کے بعد اجتہاد اور افتا کا یہ عمل عدالت اور سرکار کے دائرہ سے نکل کر عوامی حلقوں میں آ گیا تھا۔ اس خطے میں گزشتہ دو صدیوں کے دوران سینکڑوں دار الافتا قائم ہوئے ہیں جو اب بھی کام کر رہے ہیں اور ان میں سے بیسیوں کو علمی وعوامی حلقوں میں اس درجہ کا اعتماد حاصل ہے کہ دینی معاملات میں ان کی بات کو حرف آخر سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے بلا مبالغہ لاکھوں فتاویٰ جاری کیے ہیں جو کئی ضخیم کتابوں کی صورت میں مارکیٹ میں موجود ہیں۔ اگر اہل علم کی کوئی ٹیم اس کام کے لیے مقرر کی جائے کہ وہ ان فتاویٰ کا جائزہ لے کر یہ تجزیہ کرے کہ ان میں کتنے فتوے ایسے ہیں جن میں ان مفتیان کرام نے اجتہادی صلاحیت سے کام لیتے ہوئے قرآن وسنت کی روشنی میں جدید مسائل کے نئے حل پیش کیے ہیں تو ہمارے محتاط اندازے کے مطابق ان کا تناسب مجموعی فتاویٰ کے بیس فی صد سے کسی طرح کم نہیں ہوگا۔ آپ ان کے فتاویٰ سے اختلاف کر سکتے ہیں لیکن اس بات سے اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ انہوں نے نئے مسائل کا سامنا کیا، ان کے حل کے لیے اجتہاد کا عمل اختیار کیا اور جدید مسائل میں مسلمانوں کی راہ نمائی کی ہے۔

البتہ اس ضمن میں ایک بات سمجھنا ضروری ہے کہ کیا ہر مسئلہ پر ہر مجتہد نے نیا اجتہاد کرنا ہے؟ اس سلسلہ میں سابقہ مضمون میں راہنما اصول کے طور پر ہم حضرت عمر بن الخطابؓ کا یہ طرز عمل بیان کر چکے ہیں کہ وہ کسی مسئلہ کا فیصلہ کرتے وقت قرآن و سنت کے ساتھ ساتھ اپنے پیش رو خلیفہ حضرت ابوبکرؓ کے فیصلوں کا بھی لحاظ رکھتے تھے اور ان کا کوئی فیصلہ مل جاتا تو اس کی پیروی کرتے تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن و سنت میں کوئی واضح حکم نہ ملے تو نیا اجتہاد کرنے سے پہلے یہ دیکھ لینا چاہیے کہ اس سے قبل اس مسئلہ پر کوئی اجتہاد ہو چکا ہے یا نہیں۔ اگر اجتہاد ہو چکا ہے تو اس کی پیروی کرنی چاہیے اور بلاوجہ کسی ’’نئے اجتہاد‘‘ کی ذمہ داری اپنے سر پر نہیں لینی چاہیے۔ کیونکہ یہ بہت بڑی ذمہ داری اور شرعاً بہت بڑا بوجھ ہے، اس سے جتنا بچا جا سکے بہتر ہے۔ ہاں اگر اس مسئلہ پر کوئی اجتہاد اس سے قبل نہیں ہوا تو نیا حکم حاصل کرنے کے لیے اجتہاد ہو سکتا ہے۔ یا اگر اس مسئلہ پر اجتہاد تو ہوا ہے لیکن مختلف مجتہدین کے اجتہادات مختلف ہیں تو ان میں سے کسی ایک کو ترجیح دینے کے لیے اجتہاد ہو سکتا ہے۔ چنانچہ آج کے دور میں اجتہاد کا صحیح مفہوم اور دائرہ یہی ہے۔
ماضی کے اجتہادات میں سے کسی اجتہاد پر حالات کے تغیر کے باعث نظر ثانی کی ضرورت پیش آجاتی ہے تو اس میں ترمیم کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔ مگر صرف اجتہاد کا دائرہ وسیع کرنے کے خبط میں ماضی کے تمام اجتہادات کو ’’ری اوپن‘‘ کرنے کی حمایت نہیں کی جا سکتی۔چنانچہ اب اجتہاد کے حوالہ سے ترتیب یہ قائم ہوئی کہ:
• اجتہاد کے اصول و قواعد تشکیل دینے کا دور گزر چکا اور یہ کام مکمل ہو چکا ہے۔ اس لیے ’’اجتہاد مطلق‘‘ کا دروازہ فطری طور پر بند ہوگیا ہے۔
• ’’عملی اجتہاد‘‘ میں ماضی کے اجتہادات کو ترجیح حاصل ہے۔ اس لیے جن مسائل پر سابقہ مجتہدین اجتہاد کر کے احکام مرتب کر چکے، ان میں سے حالات کے تغیر و تبدل کی وجہ سے جن مسائل میں ترمیم و تبدل کی ضرورت پیش نہیں آئی ان پر نئے اجتہاد کی ضرورت نہیں ہے۔
• اب اجتہاد کا دائرہ ان امور تک محدود ہے جو بالکل نئے پیش آمدہ ہیں، یعنی جن امور پر کوئی فیصلہ اس سے قبل سامنے نہیں آیاان میں قرآن و سنت کی روشنی میں اجتہاد کیا جائے گا۔ یا وہ معاملات جن میں سابقہ مجتہدین کے اجتہادات مختلف ہیں، ان میں سے کسی ایک کو ترجیح دینے کے لیے آج کا مجتہد اپنا اجتہاد کا حق استعمال کرے گا۔
استفادہ تحریر مولانا زاہد الراشدی

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *