انسان اور کائنات کی مقصدیت کی بحث اور مذہب، فلسفہ اور سائنس

۔

فطرت انسانی کے سوالات

فلسفہ اور سائنس کی نئی نئی چاندی دیکھ کے لوگ مذہب کا انکار کربیٹھتے ہیں لیکن جب انکا سامنا اپنی فطرت انسانی کے سوالات سے ہوتا ہے تو انہیں پتا چلتا ہے کہ ہماری اصل ضرورت اور سوالات تو یہ تھے ۔۔ ان سوالات کا جواب نا سائنس کے پاس ہے اور نا فلسفہ انکا کوئی معقول جواب دیتا ہے۔ حقیقت میں ان کا جواب انسانی علم دے ہی نہیں سکتا تھا اس لیے وحی کے راستے سے اس ضرورت کا سامان کیا گیا ، وہ سوالات یہ ہیں:
1. عالم بحیثیت مجموعی کیا ہے؟
2. اس کی ابتداء کیسے ہوئی؟
3. انتہاء کیا ہوگی؟
4. ذہن اور موجودات کی خارجی کی اصل حقیقت کیا ہے؟
5. ہم کیا ہیں؟
6. کہاں سے آئے ہیں؟
7. ہم نے کہاں جانا ہے؟
8. ہمارا آنے جانے کا مقصد کیا ہے؟
یہ انسانی فطرت کے بنیادی سوالات ہیں،آدمی ایک ایسی دنیا میں آنکھ کھولتا ہے ،جہاں سب کچھ ہے مگر یہی ایک چیز نہیں،سورج اس کو روشنی اور حرارت پہنچاتا ہے مگر وہ نہیں جانتا کہ وہ کیا ہے اور کیوں انسان کی خدمت میں لگا ہوا ہے،ہوا اس کو زندگی بخشتی ہے مگر انسان کے بس میں نہیں ہے کہ وہ اس کو پکڑ کر پوچھ سکے کہ تم کون ہو اور کیوں ایسا کررہی ہو،وہ اپنے وجود کو دیکھتا ہے،اور نہیں جانتا کہ میں کیا ہوں اور کس لئے اس دنیا میں آگیا ہوں؟
ان سوالات کا جواب متعین کرنے سے انسان کا ذہن قاصر ہے،مگر بہرحال ان کو معلوم کرنا چاہتا ہے،یہ سوالات خواہ لفظوں کی شکل میں متعین ہو کر ہر شخص کی زبان پر نہ آئیں مگر وہ انسان کی روح کو بے چین رکھتے ہیں،اور کبھی کبھی اس شدت سے ابھرتے ہیں کہ آدمی کو پاگل بنادیتے ہیں۔یہی وہ سوالات ہیں جنہوں نے بڑے بڑے فلاسفہ اور سائنسدانوں کو اپنے شعبے سے ہٹ کے تحقیق کرنے پر مجبور کیا۔ کچھ نے ان سوالات سے مجبور ہوکے اپنا ایک عقلی خدا کا تصور تیار کیا، کچھ ہندومت، بدھ مت کے روحانی فلسفوں میں کھو گئے، کچھ اس تحقیق کے بعد اس سچائی کو پاگئے جو خالق کائنات نے اپنے آخری نبی کے ذریعے پیش کی۔ یہی حال مسلم فلسفیوں کا ہے، چند دن پہلے ایک مسلم فلسفی کے متعلق پڑھ رہا تھا، ان سے پوچھا گیا کہ فلسفے اور منطق کے اتنے گہرے علم کے بعد بھی آپ مذہب کی ضرورت کے کیسے قائل ہوئے ؟ انہوں نے اسکا جواب دیا کہ فلسفہ اور سائنس اپنی پوری کوشش کے بعد بھی انسان اور کائنات کی مقصدیت بیان نہیں کرسکتے۔ یہ کائنات اور ہم کیا ہیں، ہمارا مقصد کیا ہے، ہم کیوں آئے ہیں، ہم نے کہاں جانا ہے۔اسکا معقول جواب صرف مذہب اسلام دیتا ہے۔
جواہر لال نہرو دنیا کے تیسرے سب سے بڑے ملک کے وزیر اعظم تھے ،جنوری 1964ء کے پہلے ہفتے میں مستشرقین کی بین الاقوامی کانگریس نئی دہلی میں ہوئی جس میں ہندوستا ن اور دوسرے ممالک کے بارہ سو ڈیلی گیٹ شریک ہوئے ،پنڈت نہرو نے اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے کہا:”میں ایک سیاست داں ہوں اور مجھے سوچنے کے لئے وقت کم ملتا ہے پھر بھی بعض اوقات میں یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہوں کہ آخر یہ دنیا کیا ہے،کس لئے ہے،ہم کیا ہیں اور ہم کیا کررہے ہیں،میرا یقین ہے کہ کچھ طاقتیں ہیں جو ہماری تقدیر بناتی ہیں۔” (National Herald, Jan, 6, 1964)
یہ ایک عدم اطمینان ہے ،جو ان تمام لوگوں کی روحوں پر گہرے کہر کی طرح چھایا رہتا ہے جنہوں نے خدا کو اپنا الہٰ اور معبود بنانے سے انکار کیا،دنیا کی مصروفتوں اور وقتی دلچسپیوں میں عارضی طور پر کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ اطمینان سے ہم کنار ہیں،مگر جہاں یہ مصنوعی ماحول ختم ہوا،حقیقت اندر سے زور کرنا شروع کردیتی ہے، اور انہیں یاد دلاتی ہے کہ وہ سچے اطمینان سے محروم ہیں۔۔۔
ان سوالات کا جواب دینا ناگزیر ھے۔کوئ چاھے یا نہ چاھے، اسے پسند ھو یا نا پسند، خاموش رھے یا چلا کر بولے،ہر حال میں اس سوال کا جواب لازما دے کر رھے گا۔اب اسکا ایک جواب وہ ھے جو انبیائے کرام نے تسلسل کے ساتھ بتایا (اور اس جواب پر انسان اپنے نفس کے اندر بہرحال ایک اثباتی داعیہ بھی محسوس کرتا ھے گوکہ وہ قول فیصل کی حیثیت نہیں رکھتا) اور دور جدید میں اسکا دوسرا جواب وہ ھے جو چند ملحد سائنس دان اور فلسفی دیتے ہیں۔یہ بات خوب اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے کہ ان ملحدین کا جواب کسی مجرد، آفاقی یا معروضی عقلیت نہیں بلکہ انکے ماقبل عقل احساسات و خواہشات پر مبنی ھوتا ھے جنکے لئے انکی عقل کوئ جواز پیش نہیں کرسکتی۔
الغرض اس سوال کے جواب میں بہرحال انسانی عقل کو ایمان ہی لانا پڑتا ھے۔یعنی معاملہ یہ نہیں ھے کہ ایک جگہ تو ایمان ھے اور دوسری جگہ عقل وغیرہ۔ ہرگز نہیں، ان دونوں ڈسکورس میں سے ہر دو میں اپنی نوعیت کے اعتبار سے معاملہ ایک ہی ھے کہ ان میں سے کس کی بات پر ایمان لایا جاۓ، انبیاء کی یا انسانی خواہشات کی۔لہذا ملحدین کا یہ اعتراض کہ مذھب اس لئے ڈاگمیٹک ھوتا ھے کیونکہ وہ ایمان کا تقاضا کرتا ھے جبکہ ھم ایمان کی بجائے عقل کی بات کرتے ہیں فریب کاری اور نا سمجھی کے سواء اور کچھ نہیں۔ اس تحریر میں اس موضوع کو ہم فلسفہ اور سائنس کے پہلو سے تفصیل سے زیر بحث لارہے ہیں۔

فطرت انسانی کے سوالات اور سائنس

انسان-سائنس جسے دریافت نا کرپائی

کائنات کی اتفاقی اور خودکار پیدائش کا نظریہ

ملحدو!اتفاقات نہیں، قوانین اور سسٹمز!

سائنس ہماری’کیوں’ کا جواب نہیں دیتی

‘کیوں’ اورلادینیت کی بے بسی

قوانین فطرت اور خدا کی ضرورت

فطرت انسانی کے سوالات اور سائنس –خلاصہ

فطرت انسانی کے سوالات اور فلسفہ

مشہور فلسفی برٹرنڈ رسل کے انکار مذہب کا جائزہ

مذہب کیخلاف جدید سائنسی مقدمہ اور پسند نا پسند کا اثر

فطرت انسانی کے سوالات اور فلسفہ اور سائنس کی بے بسی

فطری جذبے کی تسکین کے لیے فطری مذہب کی ضرورت۔!

فطرت انسانی کے سوالات اور سائنس

فطرت انسانی کی ان بے چینیوں اور اضطراب کا جواب سائنس کے پاس نہیں کیونکہ سائنس کی حجت و تحقیق کا تعلق تمام تر فطرت کے ان واقعات اور مشاہدات سے ہے جو ہمارے زیر تجربہ آسکیں ۔لیکن جو چیزیں ہمارے احساس اور مشاہدے کے دائرے سے خارج ہیں سائنس کوان کے اقرار و انکار سے کچھ بحث نہیں۔ یہ حوادث و واقعات کے مخص ان حلقوں کو ترتیب کے ساتھ ہمیں بتانے کی کوشش کرتی ھے جو اس کے دایرہ احساس و مشاہدے میں آجاتے ہیں۔
ہمارے سامنے جو قدرتی قوانین پھیلے ہوے ہیں ہم ان کو بنا نہیں سکتے بلکہ جان سکتے ہیں۔ اور سائنس اس پر اتنا اور اضافہ کرتی ھے کہ اسی حد تک جان سکتے ہیں جس حد تک مشاہدہ ہمارا ساتھ دے گا۔لیکن یہ سوال کہ ان قوانین کا مقنن کون ھے؟ان کا نقطہ اغاز کیا ھے اور ان کا آخری انجام کیا ہو گا؟ سائنس کی حدود سے اس کا جواب خارج ھے۔ سائنس صرف عالم شہادت”عالم محسوس” کے چند واقعات محسوسہ کو کلیات کی شکل میں پیش کر کے اپنے بازو ڈال دیتی ھے۔محسوسات کے آگے قدم رکھتے ہی اس پر رعشہ طاری ہو جاتا ھے۔وہ کچھ نہیں کہہ سکتی کہ آگے کیا ھے؟اور مذہب انسان کا یہی سے ہاتھ پکڑتا ھے اور غیب”عالم محسوس” کے سہارے اسرار کو اس کے سامنے بے نقاب کرتا چلا جاتا ھے۔ سائنس کچھ نہیں بتا سکتی کہ دنیا کی ابتدا کیوں کر ہوئی۔ مذہب آتا ھے اور اس حقیقت سے پردہ اٹھا دیتا ھے۔انسان مرنے کے بعد کہاں جاتا ھے اور اس پر کیا گزرتی ھے؟ سائنس اس کے جواب سے عاجز ھے اور مذہب اس کی تفصیل پیشں کرتا ھے۔دنیا کا آخری انجام کیا ہو گا؟ سائنس متحیر کے کہ اس کا کیا جواب دے؟ مذہب آتا ھے اور اس حیرت کو مٹا دیتا ھے۔ سائنس یہ تو بتاتی ھے کہ عالم کس کے لیے ھے۔لیکن خود انسان کس کے لیے ھے اس مقصد کو متعین کرنے سے وہ عاجز ھے۔ مذہب آتا ھے اور اس مسلے کو بھی صاف کر دیتا ھے۔یہی وہ سوالات ہیں جو ہماری فطرت کی گہراہیوں سے ابل ابل کر ہمیں مذہب کے قریب لانے اور اپنی بے یقین و بے حس روح کو مذہب کی حقیقت آفرینیوں اور بصیرت افروزیوں میں آسودگی و آرام حاصل کرنے کی طرف کشاں کشاں لیے جاتے ہیں۔

انسان-سائنس جسے دریافت نا کرپائی

نوبل انعام یافتہ سائنسدان الکسس کیرل لکھتا ہے:”انسان ایک انتہائی پیچیدہ اور ناقابل تقسیم کل ہے۔ کوئی چیز بھی آسانی کے ساتھ اس کی نمائندگی نہیں کر سکتی۔ کوئی ایسا طریقہ نہیں ہے جس کے ذریعہ ہم بیک وقت اس کی پوری ذات کو اس کے اجزاء اور بیرونی دنیا کے ساتھ اس کے تعلقات کو بخوبی سمجھ سکیں۔ اپنی ذات کا تجزیہ کرنے کیلئے ہمیں مختلف فنی مہارتوں سے مدد لینی پڑتی ہے۔ اور اس طرح مختلف علوم سے کام لینا ہوتا ہے۔ فطری طور پر یہ تمام علوم اپنے کسی عام مقصد کے متعلق کسی ایک متحدہ تصور پر نہیں پہنچتے ۔ وہ انسان سے صرف انہیں چیزوں کی تجرید کرتے ہیں جو ان کے خاص طریقوں سے حاصل ہو سکتی ہے اور ان مجردات کو ایک دوسرے سے ملا بھی دیا جائے تو وہ ایک ٹھوس حقیقت سے بھی کم قیمتی ہوتے ہیں ۔ ان مجردات کے بعد بھی ایک ایسی ذات باقی رہتی ہے جو بہت ہی اہم ہوتی ہے اور اس کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ علم تشریح ، کیمیا ، فعلیات ، نفسیات، تعلیمات، تاریخ، سماجیات، سیاسی اقتصاد یات اپنے موضوع کو پورے طور پر ختم نہیں کرتے۔ وہ انسان جس سے خصوصی ماہرین آشنا ہیں ، حقیقی انسان سے بہت دور ہوتا ہے۔ وہ( انکی تحقیق) ایک مفروضہ کے سوا اور کچھ نہیں جو مختلف مفروضات پر مشتمل ہے۔ اور جن کو ہر ایک علم کی فنی مہارتوں نے پیدا کیا ہے۔
انسان بیک وقت ایک لاش ہے جس کو تشریح کا عالم چیرتا پھاڑتا ہے ،وہ ایک شعور ہے جس کا ماہر ین نفسیات اور بڑے بڑے روحانی اساتذہ مشاہدہ کرتے ہیں۔وہ ایک شخصیت ہے جس کے اندر دیکھنے سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ وہ اس کی ذات کی گہرائیوں میں پوشیدہ ہے،وہ کیمیائی مادہ بھی ہے جس سے جسم کی نسیجیں اور خلطیں بنتی ہیں وہ خلیوں اور تغذیاتی رطوبتوں کا ایک حیرت انگیز گروہ ہے جن کے جسمانی قوانین کا مطالعہ ماہرین فعلیات کرتے ہیں،وہ نسیجوں اور شعور سے مرکب ہے جس کو حفظان صحت اور تعلیمات کے ماہرین ، جب کہ وہ زمان کے اندر پھیل رہا ہو، امید افزا اترقی دینے کی کو شش کرتے ہیں ۔وہ ایک گھریلو اقتصاد یات کا حامل ہے جس کا کام پیدا کی ہوئی چیزوں کو استعمال کرتے رہنا ہے تاکہ مشینیں جن کا وہ غلام بن گیا ہے برابر کام کرتی رہیں۔لیکن اسی کے ساتھ ساتھ وہ ایک شاعر ، سو رما اور ولی بھی ہے،وہ نہ صرف ایک انتہائی پیچیدہ ہستی ہے جس کا تجزیہ سائنس کی فنی مہارتوں کے ذریعہ کیا جارہا ہے بلکہ وہ انسانیت کے رجحانات قیاسات اور آرزوؤں کا مرکز ہے۔
بلا شبہ انسانیت نے اپنی حقیقت کو معلوم کرنے کی بڑی زبردست کوشش کی ہے ، آج ہمارے پاس تمام زمانوں کے سائنس دانوں فلسفیوں ، شاعروں اور بڑے بڑے صوفیوں کے مشاہدات کا ایک انبار موجود ہے مگر ہم اپنی ذات کے صرف چند پہلوؤں کو دریافت کر سکے ہیں ، ہم انسان کو اس کی کلی حیثیت میں بخوبی سمجھ نہیں سکے ہیں۔ ہم اس کو الگ الگ حصوص سے مرکب جانتے ہیں اور یہ حصے بھی ہمارے اپنے طریقوں کے پیدا کردہ ہیں۔ ہم میں سے ہر شخص ایک خیالی پیکر ہے جس کے اندر سے ایک نامعلوم حقیقت جھلک رہی ہے۔حقیقت میں ہماری ناواقفیت بہت گہری ہے۔ وہ لوگ جو انسانی ہستیوں کا مطالعہ کرتے ہیں، اپنے آپ سے بہت سے ایسے سوالات کرتے ہیں جن کا کوئی جواب نہیں ہے۔ ہماری اندرونی دنیا کے وسیع علاقے اب تک نا معلوم ہیں۔خلیے کے پیچیدہ اور عارضی اعضاء کے بنانے کے لئے کس طرح کیمیائی مادوں کے سالمے باہم مل جاتے ہیں؟تر و تازہ بیضہ کیے نیوکلیس کے اندر کے نسلی مادے کس طرح اس فرد کی خصوصیات کا فیصلہ کرتے ہیں جو اس بیضہ سے پیدا ہوتا ہے؟کس طرح خلیے خود اپنی کوششوں سے نسیجوں اور اعضا کے جیسے گروہوں میں منظم ہو جاتے ہیں چیونٹیوں اور شہد کی مکھیوں کی طرح ان خلیوں کو پہلے ہی سے معلوم ہو جاتا ہے کہ اپنے گروہ کو زندہ رکھنے میں انہیں کیا کام کرنا ہے۔ ؟ اور چھپی ہوئی بناوٹوں کے ذریعہ وہ ایک ایسے نظام جسمانی کے بنانے کے قابل ہوتے ہیں جو سادہ اور پیچیدہ دونوں ہوتا ہے۔ہماری مدت (Duration)، فعلیاتی وقت(Physiological Time) اور نفسیاتی وقت(Psychological) کی نوعیت کیا ہے۔ ؟
ہم یہ جانتے ہیں کہ ہم نسیجوں ، اعضاء رطوبتوں اور شعور سے مرکب ہیں۔ لیکن شعور اور دماغ کے درمیانی تعلقات اب تک ایک راز بنے ہوئے ہیں۔ہمیں اعصابی خلیوں کے فعلیات کا پورا پورا علم حاصل نہیں۔ ارادی قوت کس حد تک نظام جسمانی میں تبدیلیاں پیدا کرتی ہے، کس طرح دماغٖ اعضاء کے حالات سے متاثر ہوتا ہے، طرز زندگی غذا کے کیمیائی مادوں، آب و ہوا اور فعلیاتی اور اخلاقی تربتوں کے ذریعہ کس طرح جسمانی اور دماغی خصوصیات میں جو بطور ورثت ہر ایک فرد کو ملتی ہیں ،تبدیلیاں پیدا کی جاسکتی ہیں۔۔اس طرح بہت سے دوسرے سوالات کیے جاسکتے ہیں جنکا جواب نہیں دیا جاسکتا ہے، یہ صاف ظاہر ہے کہ ایک انسان کے متعلق تمام علوم کی مہارت بھی ناکافی ہے، اور یہ کہ اپنی ذات کے متعلق ہمارا علم اب تک ابتدائی حالت میں ہے“۔(Man The Unkhown P.16,19)
یہ اقتباس یہ ظاہر کرنے کے لئے کافی ہے کہ انسان کا مکمل علم ابھی تک انسان کو حاصل نہیں ہوسکا۔ انسانی وجود کے مادی حصہ کے بارے میں تو ہم بہت کچھ جانتے ہیں۔ مگر وہ انسان جو اس مادی وجود کو کنڑول کرتا ہے اس سے ہم قطعاً لا علم ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ زندگی اب تک ہمارے لئے ایک راز بنی ہوئی ہے اور جب تک یہ راز نہ کھلے زندگی کی صحیح تعمیر و تشکیل ممکن نہیں۔
انسان کی حقیقت معلوم کرنے کی کوشش – ایک مثال
فرض کیجئے ایک شخص اپنے ذمہ یہ کام لیتا ہے کہ وہ انسانیت کی حقیقت کو معلوم کرے گا، اور انسانوں کو بتائے گا کہ زندگی کا قانون کیا ہے۔؟ اس مقصد کے لئے و ہ انسانی آبادیوں سے اپنے مطالعہ کا آغاز کرتا ہے۔ لمبے عرصہ تک مختلف سماجوں کی چھان بین کرنے کے بعد اس کو محسوس ہوتا ہے کہ سماج تو انسانوں کے مجموعہ کا نام ہے۔ اس لئے جب تک ہم فرد کو سمجھ نہ لیں، جماعت کو کس طرح سمجھ سکتے ہیں ۔اب وہ معاشرہ کو چھوڑ کر انسان کا مطالعہ شروع کر تا ہے ۔ اس سلسلہ میں وہ سب سے پہلے نفسیات کی طرف رخ کرتا ہے، یہاں وہ محسوس کرتا ہے کہ اس کا کوئی ایک فکر نہیں بلکہ اس کی بہت سی شاخیں ہیں۔ اور سب کے نتائج تحقیق الگ الگ ہیں۔
نفسیات کی ایک شاخ کا دعویٰ ہے کہ انسان کے تمام اعمال کا مرکز اس کا احساس ہے۔کسی کا کہنا ہے کہ انسان خارجی دنیا سے شعوری یا غیر شعوری طور پر جوتا ثر قبول کرتا ہے اس کا ہر کام اسی کا رد عمل ہے ،کوئی جنسی خواہشات کو اس کے تمام اعمال کا محرک بتاتا ہے ،کسی کا مطالعہ یہ ہےکہ اپنے آئیڈیل کو پالینے کا نامعلوم جذبہ انسان کو متحرک کئے ہوئے ہے۔کوئی مکتب فکر شعور کو اصل قرار دیتا ہے اور اسی کی روشنی میں انسان کی پوری ہستی کی تشریح کرتا ہے ۔اور کوئی اس بات کا قائل ہے کہ عقل اور ذہن کوئی چیز نہیں۔ انسان کے مختلف اعضا کی عنان کسی ایک مرکزی قوت کے ہاتھوں میں نہیں بلکہ انسان جس حصہ جسم پر زیادہ توجہ دیتا ہے اس کی نشو نما بہتر طریقہ سے ہو جاتی ہے ۔ اس کے نتیجہ میں کوئی اچھا رقاص بن جاتا ہے ، کوئی اچھا مفکر ۔اسی طرح ہزاروں نظریات ہیں، نفسیات کا یہ اختلاف اس حد تک بڑھا ہوا ہے کہ بعض سرے سے اس واقعہ کا انکار کرتے ہیں کہ اس نام کا کوئی علم فی الواقع موجود ہے۔
خیالات کے اس جنگل کو دیکھ کر وہ سوچتا ہے کہ انسانی وجود کے دوسرے حصے حیاتیات کا مطالعہ کرے تا کہ دونوں کے نتائج کو ملا کر کوئی رائے قائم کی جا سکے جب انسان کو وہ اس حیثیت سے دیکھتا ہے تو اسے نظر آتا ہے کہ انسانی نظاموں کی بنیاد چند کیمیاوی تبدیلیوں پر ہے جو کچھ کیمیاوی اشیاء اور ان کے آپس کے عمل اور رد عمل سے پیدا ہوتی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جسم کا سارا نظام کیمیائی تحلیل کا ہی ایک پیکر ہے۔
اب وہ غور کرتا ہے تو اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ جب جسم انسانی کا وجود اور اس کا نشونما کیمیاوی رد و بدل کا مر ہون منت ہے تو پہلے کیمیاوی تبدیلیوں کے اصولوں کو ہی اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے اس کے بغیر انسان کے بارے میں حقیقی اور قابل اطمینان معلومات نہ مل سکیں گی۔ اس لئے اب وہ کیمیا اور طبیعیات کا مطالعہ کرنے لگتا ہے اور اس میں ایک عمر کھپا دیتا ہے۔کیمیا ت اور طبعیات کا مطالعہ اسے مالیکیول اور ایٹم کے مطالعہ تک لے جاتا ہے اور پھر وہ ایٹم کے اجزائے تر کیبی الیکٹران اور پروٹان وغیرہ کا مطالعہ شروع کر دیتا ہے جس کے بعد اس کو معلوم ہوتا ہے ہے کہ ساری کائنات برقی لہروں کے سوا اور کچھ نہیں۔ اس طرح مطالعہ کرتے کرتے بالاخر وہ جدید سائنس کے آخری شعبے نیو کلیر سائنس میں داخل ہو جاتا ہے اس طرح معلومات کا عظیم دفتر جمع کرنے کے باوجود وہ کسی نتیجہ پر نہیں پہنچتا ۔۔۔
یہ وہ ہے جو خالق کی حقیقت جاننے چلا تھا وہ مخلوق کی ایک جنس کی حقیقت معلوم کرنے کی کوشش میں ہی ایک ایسی دنیا میں گم ہو گیا جو نظر آنے کے باجود نظر نہیں آتی ۔۔زندگی کے راز کو مادی علوم میں تلاشی کرنے کا یہ عبرت ناک انجام بتاتا ہے کہ زندگی کا راز زندگی کو پیدا کرنے والے کی تفصیلات سے فائدہ اٹھائے بغیر انسان کے لئے نا قابل دریافت ہے۔ جس طرح ایک بیمار شخص کی یہ معذوری کہ وہ خود اپنا علاج نہیں کر سکتا، اس کو یہ ماننے پر مجبور کرتی ہے کہ ا س کو ایک ڈاکٹر کے پاس جانا چاہئے۔ اسی طرح نظام فطرت میں انسان کا ایک چیز کے لئے ضرورت مند ہو نا اور پھر اس ضرورت کی تکمیل کے لئے کافی صلاحیت نہ رکھنا اس بات کا اشارہ ہے کہ اس کیلئے وہ اپنے اس خدا کا محتاج ہے جس نے اسے موجودہ شکل میں بنایا ۔ جس طرح خدا نے اسے آکسیجن کا محتاج بنایا ہے اور پھر آکسیجن بے حساب مقدار میں سارے کرہ ارض کے گرد پھیلا دی ۔ اسی طرح اس نے انسان کو زندگی کی حقیقت جاننے کا محتاج بنایا ۔ اور پھر اپنے نبیوں کے ذریعہ زندگی کی حقیقت واضح فرمائی۔

کائنات کی اتفاقی اور خودکار پیدائش کا نظریہ

اٹھارویں اور انیسویں صدی کی سائنس نے جب یہ دریافت کیا کہ کائنات میں علت اور معلول کا ایک نظام ہے تو اس زمانہ کے ملحد مفکرین نے اس کو ہاتھوں ہاتھ لیا۔ ان کے نزدیک یہ دریافت خدا کا سائنسی بدل تھا۔ اگر چہ اس قانون کو دریافت کرنے والے سائنس دانوں کے لئے اس کے یہ معنی نہیں تھے۔ مثال کے طور پر نیوٹن نے کہا تھا کہ یہ خدا کا طریق کار ہے۔ خدا اسباب و علل کے ذریعہ کائنات میں اپنی منشا ء کو ظاہر کرتا ہے۔ مگر وہ لوگ جو سائنسی دریافتوں کی روشنی میں فلسفہ کی تشکیل کر رہے تھے ، انہوں نے اس کے اندر الحاد کا ثبوت پا لیا۔ اور اس کی بنیاد پر ایک پورا نظام فکر بنا ڈالا۔اس طرح وہ نظریہ وجود میں آیا جس کو کائنات کی مشینی تعبیر کہا جاتا ہے۔ مسلمہ طور پر یہ مان لیا گیا ہے کہ کائنات کے تمام واقعات کسی خارجی مداخلت کے بغیر محض مادی اسباب کے تحت واقع ہوتے ہیں اور اس طرح پوری کائنات علت و معلول کی ایک مسلسل زنجیر میں بندھی ہوئی ہے۔ یہ انیسویں صدی عیسوی کا مسلمہ تھا۔ ۱۸۷۴ میں چھپنے والی ایک انسائیکلو پیڈیا کے الفاظ ملاحظہ ہوں:
”طبعی فلاسفہ کیمسٹری اور فزیالوجی کے ماہرین یقین رکھتے ہیں کہ ایک سبب سے ہمیشہ یکساں نتیجہ برآمد ہوتا ہے۔ اور ایک مثال میں اگر ایک تصور کامیاب ہو تو ان کو اطمینان ہے کہ ہمیشہ یہی کامیابی حاصل ہو گی۔ اس لئے طبعی علوم میں اب قانون تعلیل کے بارہ میں کوئی اختلاف نہیں رہ گیا ہے ۔ اس باب میں اختلاف صرف مابعد الطبیعیات حلقہ میں پایا جاتا ہے“۔Chamber’s Encyclopaedia (1874) V.II p.691
مگر ان مفکرین کی یہ خوشی زیاد دیر تک باقی نہیں رہی۔ کیونکہ بیسویں صدی کے شروع ہوتے ہی سائنس کے علم میں ایسے بہت سے حقائق وجود میں آئے جو کسی طرح مشینی تعبیر کو قبول کرنے کیلئے تیار نہ تھے۔طویل بحث و مباحثہ کے بعد اب سائنس کی دنیا میں تسلیم کر لیا گیا ہے کہ قانون تعلیل ان معنوں میں کوئی مطلق حقیقت یا توجیہہ نہیں ہے جیسا کہ انیسویں صدی میں فرض کر لیا گیا تھا۔ علم کا مسافر دوبارہ لوٹ کر وہیں پہنچ گیا ہے جہاں وہ پہلے تھا ۔ ” اس دنیا کا نظام محض اتفاقی طور پر وجود میں آجانے والے کسی علت و معلول کے قانون کے تحت نہیں چل رہا ہے بلکہ اس کے پیچھے ایک شعوری ذہ ہے جو بالا رادہ اس کو چلارہا ہے“۔ سائنس کی واپسی مذہب کی صداقت کاا یک ایسا واضح ثبوت ہے جس کے بعد کسی اور ثبوت کی ضرورت نہیں۔
پچھلے بچاس برسوں میں اس سلسلہ میں بے شمار کتابیں لکھی گئی ہیں یہاں ہم اس مسئلہ کو مختصر طور پر واضح کرنے کی کوشش کریں گے۔ اصول تعلیل کے بارے میں آگے جو باتیں درج ہیں وہ زیادہ تر سر جیمز جینز کی کتاب بر اسرار کائنات سے ماخوذ ہے۔
کائنات کو دیکھتے ہی جو سب سے پہلا سوال ذہن میں آتا ہے کہ اس کا بنانے والا کون ہے اور وہ کون ہے جو اس عظیم کارخانہ کو چلا رہا ہے۔ پچھلے زمانوں میں انسان یہ سمجھتا تھا کہ بہت سی غیر مرئی طاقتیں اس کائنات کی مالک ہیں۔ ایک بڑے خدا کے تحت بہت سے چھوٹے چھوٹے خدا اس کا انتظام کر رہے ہیں ، اب بھی بہت سے لوگ یہ عقیدہ رکھتے ہیں۔ مگر علمی دنیا میں عام طور پر یہ نظر یہ ترک کیا جا چکا ہے ۔ یہ ایک مردہ نظریہ ہے نہ کہ زندہ نظریہ ۔ موجودہ زمانہ کے لوگوں کا خیال ہے کہ کائنات کسی ذی شعور ہستی کی کار فرمائی نہیں ہے بلکہ ایک اتفاقی حادثہ کا نتیجہ ہے اور جب کوئی واقعہ وجود میں آجائے تو اس کے سبب سے کچھ دوسرے واقعات بھی وجود میں آجائیں گے۔ اس طرح اسباب و واقعات کا ایک لمبا سلسلہ قائم ہو جاتا ہے اور یہی سلسلہ اسباب ہے جو کائنات کو چلا رہا ہے۔ اس توجیہہ کی بنیاد دو چیزوں پر ہے ایک ”اتفاق“ اور دوسرے ”قانون علت“۔
یہ توجیہہ بتاتی ہے کہ اب سے تقریباً دو لاکھ ارب سال ۔ ۲۰ نیل سال پہلے کائنات کا وجود نہیں تھا ، اس وقت نہ ستارے تھے اور نہ سیارے مگر فضا میں مادہ موجود تھا۔ یہ مادہ اس وقت جمی ہوئی ٹھوس حالت میں نہ تھا بلکہ اپنے ابتدائی ذرے یعنی برقیے اور پروٹانوں کی شکل میں پوری فضا بسیط میں یکساں طور پر پھیلا ہوا تھا گویا انتہائی چھوٹے چھوٹے ذرات کا ایک غبار تھا جس سے کائنات بھری ہوئی تھی ۔ اس وقت مادہ بالکل توازن کی حالت میں تھا، اس میں کسی قسم کی حرکت نہ تھی۔چنانچہ ایسا ہوا کہ مادہ کے اس بادل میں خفیف سا خلل واقعہ ہوا ۔ جیسے کوئی حوض کے پانی کو ہاتھ ڈال کر ہلا دے۔ کائنات کی پر سکون دنیا میں یہ اضطراب کس نے پیدا کیا، اس کے بارے میں کچھ نہیں معلوم ۔ لیکن خلل بڑھتا گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مادہ سمٹ سمٹ کر مختلف جگہوں میں جمع ہونا شروع ہو گیا۔ یہی وہ جمع شدہ مادہ ہے جس کو ہم ستارے ، سیارے اور سحابیے کہتے ہیں۔
کائنات کی یہ توجہہ سائنس کی طرف سے پیش کی گئی تھی۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ اس قدد بودی اور کمزور توجیہہ ہے کہ خود سائنس دانوں کو بھی اس پر کبھی شرح صدر حاصل نہ ہو سکا۔ یہ تو جیہہ اس حقیقت کو تسلیم کرتی ہے کہ اسے نہیں معلوم کہ کائنات کو پہل بار کس نے حرکت دی ، مگر اس کے باوجود اس کا دعویٰ ہے کہ اس نے کائنات کے محرک اول کو معلوم کر لیا ہے اور اس محرک اول کا نام اس کے نزدیک اتفاق ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب کائنات میں صرف غیر متحرک مادہ تھا، اس کے سوا کوئی چیز موجود نہ تھی تو یہ عجیب و غریب اتفاق کہاں سے وجود میں آگیا جس نے ساری کائنات کو حرکت دے دی جس واقعہ کے اسباب نہ مادہ کے اندر موجود تھے اور نہ مادہ کے با ہر وہ و اقعہ وجود میں آیا تو کیسے آیا۔ اس تو جیہہ کا یہ نہایت دلچسپ تضاد ہے کہ ہر واقعہ سے پہلے ایک واقعہ کا موجود ہونا ضروری قرار دیتی ہے جو بعد کو ظاہر ہونے والے واقعہ کا سبب بن سکے مگر اس توجیہہ کی ابتدا ایک ایسے واقعہ سے ہوتی ہے جس سے پہلے اس کا سبب موجود نہیں۔ یہی وہ بے بنیاد مفروضہ ہے جس میں کائنات کی اتفاقی پیدائش کے نظریہ کی پوری عمارت کھڑی کر دی ہے۔
یہ کائنات اگر محض اتفاق سے وجود میں آئی ہے تو کیا واقعات لازمی طور پر وہی رخ اختیار کرنے پر مجبور تھے جو انہوں نے اختیار کیا ۔ کیا اس کے سوا کچھ اور نہیں ہو سکتا تھا۔ ؟
کیا ایسا ممکن نہیں تھا کہ ستارے آپس میں ٹکرا کر تباہ ہو جائیں۔ مادہ میں حرکت پیدا ہوجانے کے بعد کیا یہ ضروی تھا کہ محض حرکت نہ رہے بلکہ ایک ارتقائی حرکت بن جائے ۔ ؟اور حیر ت انگیز تسلیل کے ساتھ موجودہ کائنات کو وجود میں لانے کی طرف دوڑنا شروع کر دے۔ ؟
آخر وہ کون سی منطق تھی جس نے ستاروں کے وجود میں آتے ہی ان کو لا متنا ہی خلا میں نہایت باقاعدگی کے ساتھ پھیرا نا شروع کر دیا۔۔؟
پھر وہ کون سی منطق تھی جس نے کائنات کے ایک بعید ترین گوشہ میں نظام شمسی کو وجود دیا ؟؟
وہ کون سی منطق تھی جس سے ہمارے کرہ زمین پر وہ عجیب و غریب تبدیلیاں ہوئیں جن کی وجہ سے یہاں زندگی کا قیام ممکن ہوسکا اور جن تبدیلیوں کا سراغ آج تک کائنات کی بے شمار دنیاؤں میں سے کسی ایک دنیا میں معلوم نہ کیا جا سکا ہے۔۔؟
وہ کون سی منطق تھی جو ایک خاص مرحلہ پر بے جان مادہ سے جاندار مخلوق پیدا کرنے کا سبب بن گئی۔۔؟
کیا اس بات کی کوئی معقول توجیہہ کی جاسکتی ہے کہ زمین پر زندگی کس طرح اور کیوں وجود میں آئی اور کس قانون کے تحت مسلسل پیدا ہوتی چلی جا رہی ہے۔۔؟
وہ کون سی منطق تھی جس نے کائنات کے ایک چھوٹے سے رقبہ میں حیرت انگیز طور پر وہ تمام چیزیں پیدا کر دیں جو ہماری زندگی اور ہمارے تمدن کے لئے درکار تھیں؟؟پھر وہ کون سی منطق ہے جو ان حالات کو ہمارے لئے باقی رکھے ہوئے ہے۔؟؟
کیا محض ایک اتفاقی کا پیش آجانا اس بات کی کافی وجہ تھی کہ یہ سارے واقعات اس قدر حسن و ترتیب کے ساتھ مسلسل پیش آتے چلے جائیں اور اربوں و کھربوں سال تک ان کا سلسلہ جاری رہے اور پھر بھی ان میں کوئی فرق نہ آنے پائے ۔؟؟
کیا اس با ت کی کوئی واقعی توجیہہ کی جاسکتی ہے کہ محض اتفاق سے پیش آجانے والے واقعہ میں لزوم کی صفت کہاں سے آگئی اور اتنے عجیب و غریب طریقہ پر مسلسل ارتقاء کرنے کا رجحان اس میں کہاں سے پیدا ہو گیا۔؟؟
پھر یہ توجیہہ عین اپنی ساخت کے اعتبار سے دو خدا چاہتی ہے کیونکہ حرکت اول کی توجیہہ کے لئے تو اتفاق کا نام لیا جاسکتا ہے مگر اس کے بعد کی مسلسل حرکت کو کسی حال میں بھی اتفاق نہیں کہاسکتا ۔ اس کی توجیہہ کے لئے دوسرا خدا تلاش کرنا پڑے گا۔
اس مشکل کو حل کرنے کیلئے اصول تعلیل پیش کی گیا جس کا مطلب یہ ہے کہ حرکت اول کے بعد کائنات میں علت اور معلول کا ایک ایسا سلسلہ قائم ہو گیا ہے کہ ایک کے بعد ایک تما م و اقعات پیش آتے چلے جارہے ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے بچے بہت سی اینٹیں کھڑی کرکے کنارے کی ایک اینٹ گرا دیتے ہیں تو اس کے بعد کی تما م اینٹیں خود بخود گر تی چلی جاتی ہیں۔ جو واقعہ ظہور میں آتا ہے اس کا سبب کائنات کے باہر کہیں موجود نہیں ہے بلکہ نا قابل تسخیر قوانین کے تحت حالات ما قبل لازمی نتیجہ ہوتا ہے اور یہ سابقہ حالات بھی اپنے سے پہلے واقعات کا لازمی نتیجہ تھے۔ اس طرح کائنات میں علت اور معلول کا ایک لا متنا ہی سلسلہ قائم ہو گیا ہے ۔ ۔
اس اصول کو قدرت کا اساسی قانون مقرر کرنا ستر ہویں صدی کا ایک بہت بڑ ا واقعہ تھا چنانچہ یہ تحریک شروع ہوئی کہ تمام کائنات کوایک مشین ثابت کیا جائے انیسویں صدی کے دوسرے نصف میں یہ تحریک اپنے پورے عروج پر آگئی ۔ یہ زمانہ سائنس داں انجینئر وں کا تھا جن کی دلی خواہش تھی کہ قدرت کے مشینی ماڈل بنائے جائیں اس زمانہ میں ہیلم ہولٹز نے کہا تھا کہ ” تمام قدرتی سائنسوں کا آخری مقصد اپنے آپ کو میکانیکس میں منتقل کر لینا ہے“۔
اگرچہ اس اصول کے مطابق کائنات کے تمام مظاہر کی تشریح کرنے میں ابھی سائنس دانوں کو کامیابی نہیں ہوئی تھی مگر ان کو یقین تھا کہ کائنات کی تشریح میکانکی پیرائے میں ہو سکتی تھی۔ وہ سمجھتے تھے کہ تھوڑی سی کوشش کی ضرورت ہے اور با لاخر تمام عالم ایک مکمل چلتی ہوئی مشین ثابت ہو جائے گا۔
ان باتوں کا انسانی زندگی سے تعلق صاف ظاہر تھا ۔ اصول تعلیل کی ہر توسیع اور قدرت کی ہر کامیاب میکانکی تشریح نے اختیار انسانی پر یقین کرنا محال بنا دیا کیونکہ اگر یہ اصول تمام قدرت پر حاوی ہے تو زندگی اس سے کیوں متشنٰی ہو سکتی ہے۔ ؟
آخر انیسویں صدی کے آخر ہی میں سائنس پر یہ واضح ہو گیا تھا کہ کائنات کے بہت سے مظاہر بالخصوص روشنی اور قوت کشش میکانکی تشریح کی ہر کوشش کو ناکام بنا دیتے ہیں۔ یہ بحث ابھی جاری تھی کہ کیا ایسی مشین بنائی جاسکتی ہے جو نیوٹن کے افکار باخ کے جذبات اور مایکل انجلو کے خیالات کا اعادہ کر سکے ۔ مگر سائنس دانوں کو بڑی تیزی سے یقین ہوتا جا رہا تھا کہ شمع کی روشنی ااور سیب کا گرنا کوئی مشین نہیں د ہر ا سکتی ۔ قدیم سائنس نے بڑے و ثوق کے ساتھ اعلان کیا تھا کہ قدرت صرف ایک ہی راستہ اختیار کر سکتی ہے جو اول روز سے علت اور معلول کی مسلسل کڑی کے مطابق ابدتک کے لئے معین ہو چکا ہے۔ مگر با لاخر سائنس کو خود یہ تسلیم کرنا پڑا کہ کائنات کا ماضی اس قدر اٹل طور پر اس کے مستقبل کا سبب نہیں ہے جیسا کہ پہلے خیال کیا جاتا تھا۔ موجود ہ معلومات کی روشنی میں سائنس دانوں کی ایک بڑی اکثریب کا اب اس بات پر اتفاق ہے کہ علم کا دریا ہمیں ایک غیر میکانکی حقیقیت کی طرف لئے جا رہا ہے۔ کائنات کی پیدائش اور اس کی حرکت کے بارے میں یہ دونوں نظریئے جو سائنسی ترقیوں کے ساتھ وجود میں آئے تھے اب تک یقین کی دولت سے محروم ہیں۔ جدید تحقیقات اس کی بنیاد کو مضبوط نہیں بناتی بلکہ اور کمزور کر دیتی ہیں اس طرح گویا سائنس خود اس نظریہ کی تردید کر رہی ہے اب انسان دوبارہ اسی منزل پر پہنچ گیا ہے جس کو چھوڑ کر اس نے اپنا نیا سفر شروع کیا تھا۔

ملحدو!اتفاقات نہیں، قوانین اور سسٹمز

ملحدو!اتفاقات نہیں، قوانین اور سسٹمز!
ملحدو!
’حوادث‘کی تفسیرتوتم نےاپنی اٹکل سےجوکی سوکی،’’فزیکل لاز‘‘physical lawsکا ’سورس‘بھی کبھی ڈھونڈا…؟
تمہاری اِس مرتب منظم کائنات میں ’حوادث‘کہاں… یہاں توقدمقدم پر ’’قوانین‘‘اور ’’سسٹمز‘‘ہیں جو ’واقعات‘کواپنےآہنی شکنجے میں جکڑےہوئے ’’ہمیشہ‘‘ ایک مخصوص مطلوب جہت میں دھکیلتےہیں…!!!
جی ہاں… قوانین اورنظام!!!
’’اتفاقات‘‘ہوتےتوایک چیزکوہوامیں چھوڑنےسےکبھی وہ نیچےکی طرف جاتی توکبھی اوپرکیطرف!
مگریہاں اِس ’’تفاوت‘‘ (بےقاعدگی) اور ’’حوادث‘‘کی گنجائش کہاں؟
مَّا تَرَىٰ فِي خَلْقِ الرَّحْمَٰنِ مِن تَفَاوُتٍ ۖ
اول تاآخر… طےشدہ ٹریکس اورپیٹرنز (set patterns and tracks) ہیں؛جوایک حکمت اورقہرکےساتھ ہرچیزکواپناپابندرکھےہوئےہیں!
یہاں محض ’واقعات‘تھوڑی ہیں… باقاعدہ ’’سسٹمز‘‘ہیں جونہایت باریکیaccuracyپرمبنی ’’قواعد‘‘کی رُوسے ’’واقعات‘‘کےپیچھےکام کرتےہیں!
کچھ تفسیر اِن منضبطaccurate ’’قواعد‘‘کی بھی توہو… کہیں کہاں سےواردہوئے!!!
مقررہ خدائی ’’سنتیں‘‘جوہربارایک ہی ڈھب سےاورباقاعدہ ریاضی پیمائشوںmathematical measurementsکےساتھ اپناآپ دہراتی ہیں،
اورپوری کائنات کومسلسل اپنی جکڑمیں لےکر…اورواقعات درواقعات احوال کوجنم دےکر…کسی علم اورحکمت پرمبنی ’’ارادہ‘‘و ’’منصوبہ‘‘کی منہ بولتی زبان ہیں!!!
پھران سنتوں (قوانین) میں ایساحیرت انگیزربطinter-relation… اس قدرہم آہنگیco-ordination،نتیجہ خیزیproductivity،معنویتmeaningfulnessاورکونسس ٹنسیconsistencyجوہرنظرکوخیرہ کردے!!!
’حوادث ‘میں گم ہوگئے۔۔۔۔
اِن ’’قوانین‘‘کا ’’سورس‘‘بھی کبھی تلاش کیا؟؟؟
جب یہ لگےبندھےاورڈیزائن شدہlaws, systems, tracks and patternsہیں… تو ’حوادث‘کہاں رہے؟!!
خداکےبندو۔۔اِس تسبیح کرتی کائنات میں نظریہ ٔاٹکل کی گنجائش ہے؟؟؟!
الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ.آفتاب اورماہتاب (مقرره) حساب سےہیں۔
وَالنَّجْمُ وَالشَّجَرُيَسْجُدَانِ۔تارےاوردرخت سب اسی کاسجدہ کررہےہیں۔
وَالسَّمَاءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيزَانَ۔آسمان کواُسی نےبلندکیااورباقاعدہ میزان قائم کردی۔
أَلَّا تَطْغَوْا فِي الْمِيزَانِ۔تاکہ خودتم بھی میزان میں زیادتی نہ کرو۔
وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِيزَانَ۔اورانصاف سےتولواورتول نہ گھٹاؤ۔
وَالْأَرْضَ وَضَعَهَا لِلْأَنَامِ فِيهَا فَاكِهَةٌ وَالنَّخْلُ ذَاتُ الْأَكْمَامِ۔اوراسی نےخلقت کےلئےزمین کابچھوناکیا۔ جسمیں (ہرطرح کے) میوے ہیں اورکھجورکےغلافوںوالےدرخت۔
وَالْحَبُّ ذُو الْعَصْفِ وَالرَّيْحَانُ۔اوربھُس کےساتھ اناج اورخوشبوکےپھول۔
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ۔پس اےجن وانس،تم اپنےرب کےکن کن عجائب قدرت کوجھٹلاؤگے؟
اپنی اِن ’’نظریہ ٔاٹکل‘‘تفسیرات میں
ایک علیم،حکیم،قادرومقتدر ’’خدا‘‘سےبھاگ کرکہاں جاؤگے۔۔۔۔؟

سائنس ہماری’کیوں’ کا جواب نہیں دیتی

سائنس جب کبھی اسکا جواب دیتی ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے، اس سے درحقیقت یہ مراد ہوتی ہے کہ ایسا کیسے ہوتا ہے۔ اسباب کی سائنسی تحقیق ہمیشہ کسی امر کی تجربہ گاہ میں تصدیق و تكرار سے بحث کرتی ، تخلیق کی غیبی و روحانی وجوہات سے اسکو کوی خاص دلچسپی نہیں ہوتی ۔
جب انسان اپنے گرد ونواح پر نظر ڈالتا ہے تو اس کا یہ سوال، ایسا کیوں ہے، عموما اس جواب کا متقاضی ہوتا ہے کہ اس کارخانہ ہستی کی اصل کیا ہے، تخلیق کا مبتدا و منتہی کیا ہے، مقصد زندگانی کیا ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے بارے میں سائنسی تحقیق یا تو خاموش ہے یا اسکا خیال ہے کہ یہ سب یونہی بے کار بے سبب بے وجہ وجود میں ٓآگیا ہے۔
آپ مجھ سے سوال پوچھیں کہ سامنے کھڑی گاڑی کس نے بنائی؟ اور میں آپ کو جواب دوں کہ دراصل پہلے انجن بنا پھر اس پر گاڑی کی باڈی سجای گئی اور پھر اس میں پہیئے شیشے لگا کر اسکی تزئین کی گئی.اس جواب پر ممکن ہے آپ مجھیں ناگواری سے گھوریں ضرور، کہ بھائی سیدھا سا سوال تھا کہ گاڑی کس نے بنائی ، جواب دے دینا تھا کہ ٹویوٹا نے .. بات سمجھ آجاتی. یہ اتنی لمبی اور غیر متعلق تفصیل بتانے کی کیا ضرورت تھی ؟ کہ گاڑی ‘کیسے’ بنی ؟ یا اس میں کیا کیا اجزاء استمعال ہوئے؟ یہ تو سوال ہی نہ تھا. لہٰذا پوچھنے والا جواب سے محروم ہی رہے گا.
آپ مجھ سے دریافت کریں کہ تاج محل کس نے تعمیر کیا؟ اور میں پروفیسر انداز میں یہ جواب دینے لگوں کہ اسکی تعمیر میں پہلے اینٹیں لگائی گئیں، پھر کھڑکیاں دروازے بنے، پھر رنگ و روغن ہوا اور آخر میں باہر کا چبوترا بنایا گیا.یقیناً آپ کو میرے اس احمقانہ جواب پر شدید کوفت ہوگی. آپ نے تو آسان سا سوال پوچھا تھا کہ تاج محل کس نے بنوایا یا بنایا؟ میرا جواب ہونا چاہیئے تھا کہ مغل بادشاہ شاہ جہاں نے اپنے کاریگروں سے اسے تعمیر کروایا تھا. بات مکمل ہوجاتی. اس تقریر کی قطعی کوئی حاجت نہ تھی کہ اسکی تعمیر میں کون سا کام پہلے اور کون سا بعد میں ہوا؟ اس نامناسب تفصیل سے یہی ہوا کہ سوال جوں کا توں باقی رہا.
ملحدین کا حال بھی کچھ اس سے زیادہ بہتر نہیں ہے. آپ ان سے پوچھیں کہ اس باشعور انسان کو کس نے تخلیق کیا؟ یہ فوراً ارتقاء سمیت دس نظریات پیش کردیں گے کہ تخلیق کا عمل کن مراحل سے گزرا. انہیں کوئی عقل دلائے کہ عقلمندوں ! انسان کی تخلیق کے مراحل جو بھی رہے ہوں ، سوال یہ نہیں ہے. سوال یہ ہے کہ تخلیق ‘کس’ نے کی؟
آپ ان سے دریافت کریں کہ اس عظیم کائنات کو ایسے بہترین نظم کے ساتھ کس نے پیدا کیا ؟ اور یہ جواب میں آپ کو بگ بینگ سمیت پچاس سائنسی تھیوریاں پیش کرنے لگیں گے کہ کائنات کی تخلیق میں کون کون سے مراحل گزرے ہیں؟ انہیں کوئی سمجھائے کہ زہین فلسفیوں سوال یہ نہیں ہے. تخلیق کائنات میں کتنا ہی وقت لگا ہو یا کتنے ہے مراحل گزرے ہوں. سوال یہ ہے کہ کون ہے جس نے بے جان بے شعور مادہ سے اس پر ہیبت کائنات کو تخلیق کردیا. اسمیں بے مثال نظم اور بے نظیر توازن پیدا کردیا؟
ہم پوچھ رہے ہیں کہ ‘کس’ نے بنایا ؟؟ ..
آپ فرما رہے ہیں کہ ‘کیسے’ بنا ؟؟ ..
سوال ہمارا گندم ہے ..جواب آپ کا چنا ہے ..
یہ جان لیجیے کہ سائنسدانوں اور دیگر ہر شعبہ کے ماہر کی عزت اپنی جگہ ضروری ہے مگر ہر فن اور علم کی اپنی حدود متعین ہیں. کوئی انسانی علم اپنی حدود سے تجاوز نہیں کرسکتا. سائنس مادی علوم سے آگے نہیں دیکھ سکتی.مادہ کہاں سے وجود میں آیا ؟یا توانائی کون تخلیق کر گیا ؟یا ایک بے جان مادہ کے ڈھیر سے جیتا جاگتا باشعور انسان کون نکال لایا ؟
یہ اور ایسے بیشمار سوالوں کے سامنے مادی علوم کے پر جلنے لگتے ہیں. سائنس کا کام ہے یہ بتانا کہ کوئی مخلوق ‘کیسے’ تخلیق ہوئی ؟ مگر ‘کیوں’ ہوئی اور ‘کس نے’ اسے تخلیق کیا ؟ یہ سوالات اس کی حدود سے باہر ہیں. اس کے لئے لامحالہ وحی کی جانب ہی دیکھنا ہوگا.

کیوں’ اورلادینیت کی بے بسی

اللہ کو ماننا ایک ڈسپلن کو قبول کرنا ہوتا ہے۔
اگر کوئی نہ ماننا چاہے تو نہ مانے۔۔۔ مگر،
جو خدا کو نہیں مانتا وہ یہ بتادے کہ:
کائنات کیوں بنی؟
زندگی کا ظہور کیوں ہوا؟
زندگی لاکھوں کروڑوں شکلیں بدل کر انسان کے روپ میں کیوں عیاں ہوئی؟
ارتقاء کے عمل میں ابتدائی اور پچھلے آثار ِزندگی کیوں معدوم نہیں ہوئے اور آبی حیات آج بھی کیوں زندہ ہے۔
حشرات الارض معدوم کیوں نہیں ہوئے؟
شعور کیا اورکیوں ہے؟
اچھائی اور برائی ہیں ہی کیوں؟
زندگی باہر کے ماحول کی محتاج کیوں ہے، خود روزندگی آزاد کیوں نہیں؟ کیوں ہر نفس سانس لیتا ہے؟
کیوں درخت زندہ رہنے کے لیئے آکسیجن نہیں لیتے؟
کیوں رات اور دن ایک نظام کے تحت آتے اور جاتے ہیں؟
کیوں سب انسان تمام رنگ ایک سا دیکھتے ہیں؟
کیوں ہر پھل اور سبزی اپنا بیج لیکر پیدا ہوتے ہیں؟
کیوں سب انسانوں کا خون سرخ ہوتا ہے؟
کیوں خون کے گروپ ہوتے ہیں؟
کیوں ہر انسان کا دل ایک ہی طرح دھڑکتا ہے؟
کیوں ہر انسان کا دماغ بھی ایک جیسا ہوتا ہے؟ مگر کیوں انسان مختلف طرح سوچتے ہیں؟
کیوں ہر انسان جین میں وراثت لیکر پیدا ہوتا ہے؟
جذبات کیوں ہوتے ہیں؟
کیوں حیوان اور انسان کی مادہ میں ممتا کا جذبہ موجزن ہوتا ہے؟
انسان اور ہر جاندار کے جوڑے کیوں ہوتے ہیں اور ان میں آپس میں کشش کیوں ہوتی ہے؟
۔۔۔۔۔۔
یہ ہزاروں سوالات میں سے چند ہیں، جن کے جوابات کے لیئے ایک منکر خدا مجبور ہے کہ سائنس کا سہارا لے۔
کیونکہ سائنس ہی ہمارے اطراف موجود عظیم تر سائنس کی تشریح کرتی ہے،
لیکن سب جان لیں کہ سائنس صرف ‘کیا’ یعنی واٹ اور ‘کیسے’ یعنی ہاؤ کا جواب دے سکتی ہے مگر کیوں کاحتمی جواب نہیں۔۔۔۔
اسکی وجہ یہ ہے کہ ہر کیوں کے جواب کے اندر مزید کیوں بھی چھپے ہوتے ہیں۔
گویا سائنس کے پاس ‘کیوں’ کے جوابات نہیں ہوتے بلکہ کیا اور ‘کیسے’ کے ہوتے ہیں۔!
لیکن متجسّس ذہن صرف کیا اور کیسے کا ہی نہیں بلکہ کیوں کے جواب کا بھی متلاشی ہوتا ہے،
اب سوال یہ ہے کہ کیا ہم سائنس پر انحصار کرکے ہر ‘کیوں’ سے کنارہ کش ہوجائیں؟
تو ادھورے جوابات ،مغالطوں، وسوسوں اور شک کی بنیاد پر اندھی زندگی گزارنی ہے تو سائنس کو رہبر بنائیں ورنہ اپنی عقل استعمال کریں۔
کیا ہم ا پنی ز ندگیوں سے ‘کیوں’ کو خارج کرسکتے ہیں؟ نہیں!
پھرآخر کیوں کا جواب کس کے پاس ہے؟
اسلام ایمان بالغیب کی تعلیم دیتا ہی اسی لیئے ہے کہ انسان کو ہر طرح سے مطمئین کیا جائے۔
انسان کے اطراف موجود سپر سائنس ایک خالق کی تخلیق ہے اور ہر’ کیوں’ کا جواب اس سپر سائنس کے خالق کے پاس ہے۔۔۔۔
وہ خالق ۔۔۔ جو حواس سے تو اوجھل مگر شعور میں جگمگاتا ہے۔
جو اللہ ہے۔۔۔۔۔
اور لادینیت کے پرچارک دوستوں!
اور اگر خدا نہیں ہے تو پھر خالق کا متبادل بتلادیں! بے شک آپ سائنس کا سہارا بھی لے لیں۔۔
اور اگر آپ نہ بتا سکیں تو یہ خیال رہے کہ کہ اس میں بیچ کی کوئی راہ ہے نہیں۔ یا تو خالق کو قبول کرو یا دلیل سے مسترد کرو۔
اور یہ بھی واضح رہے کہ۔۔اللہ کو خالق قبول کرنا۔۔ پورا پیکج لینا ہوتا ہے، ادھورا نہیں۔
لو تو پورا ۔۔۔پیکج ۔۔ورنہ ادھورے میں نقصان ہی نقصان۔۔۔۔
سیکولر ازم، لبرل ازم، سوشلزم اورروشن خیالی وغیرہ ۔۔ یہ سب ادھورے پیکج ہیں جن کی نظریاتی بنیادیں ہیں ہی نہیں۔
اگر تخلیق کے حوالے سے سائنس ، لبرلز اور سیکولرز کے پاس پختہ نظریات ہیں تو سامنے لائیے ۔
ورنہ سادہ لوح مسلمانوں اور کم علم نوجوانوں کو ورغلائیں نہیں۔
روشن خیالی کے نام پر دین کو مسخ نہ کریں اور نہ اپنی خواہشات کا غلام بنائیں۔
اللہ کے دین میں پورا کا پورا داخل ہو نے کی کوشش کریں۔۔۔
اگر نہ کرسکیں تو اپنی اس کمزوری کا انتقام اسلام سے نہ لیں۔ اسکا حلیہ نہ بدلیں اپنے آپ کو بدلیں۔
اپنی خواہشات کو خدا کے دین کا نام نہیں دیں۔ قرآن کے احکامات کہ متنازعہ نہ بنائیں۔
کچھ کہنے اور لکھنے سے پہلے سوچیں کہ اللہ کیا چاہتا ہے، اسکی خواہش جاننے کا ذریعہ یا واسطے کیا ہیں۔
ان واسطوں کو تلاش کیجئے۔
بے دین ہونے سے بچیں کیونکہ جو نظریہ اللہ کو نظر انداز کرے وہی لادینیت کاٹھکانہ ہے۔

قوانین فطرت اور خدا کی ضرورت

مذہب کی مخالفت میں کئی استدلالات اس بات کے ثبوت کے لئے پیش کئے جاتے ہیں اور انکی بنیاد پر یہ دعوی کیا جاتا ہے کہ دور جدید نے مذہب کے لئے کوئی گنجائش باقی نہیں رکھی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ محض ایک بے بنیاد دعویٰ ہے ، جدید طریق فکر نے مذہب کو کسی بھی درجہ میں کوئی نقصان نہیں پہنچایا ہے،. یہاں مذہب کے خلاف مقدمے میں پیش کیے گئے دلائل پر ایک عمومی تبصرہ پیش کیا جاتا ہے۔
۱۔ اس سلسلہ میں سب سے پہلے اس دلیل کو لیتے ہیں جو طبعیاتی تحقیق کے حوالے سے پیش کی گئی ہے یعنی کائنات کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوا کہ یہاں جو واقعات ہو رہے ہیں وہ ایک متعین قانون فطرت کے مطابق ہو رہے ہیں اس لئے ان کی توجیہہ کرنے کیلئے کسی نامعلوم خدا کا وجود فرض کرنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ معلوم قوانین خود اس کی توجیہہ کیلئے موجود ہیں اس استدلال کا بہترین جواب وہ ہے جو ایک عیسائی عالم نے دیا ہے اس نے کہا ہے۔
“Nature is the fact not an explanation”
یعنی فطرت کا قانون کا ئنات کا ایک واقعہ ہے وہ کائنات کی توجیہہ نہیں ہے تمہارا یہ کہنا صحیح ہے کہ ہم نے فطرت کے قوانین معلوم کرلئے ہیں مگر تم نے جو چیز معلوم کی ہے وہ اس مسئلے کا جواب نہیں ہے جس کے جواب کے طور پر مذہب وجود میں آیا ہے مذہب یہ بتاتا ہے کہ وہ اصل اسباب و محرکات کیا ہیں جو کائنات کے پیچھے کام کر رہے ہیں جب کہ تمہاری دریافت صرف اس مسئلہ سے متعلق ہے کہ کائنات جو ہمارے سامنے کھڑی نظر آتی ہے اس کا ظاہری ڈھانچہ کیا ہے .جدید علم جو کچھ ہمیں بتاتا ہے وہ صرف واقعات کی مزید تفصیل ہے نہ کہ اصل واقعہ کی توجیہہ سائنس کا سارا علم اس سے متعلق ہے کہ جو کچھ ہے وہ کیا ہے؟ یہ بات اس کی دسترس سے باہر ہے کہ جو کچھ ہے وہ کیوں ہے؟ جب کہ توجیہہ کا تعلق اسی دوسرے پہلو سے ہے۔
اس کو ایک مثال سے سمجھئے مرغی کا بچہ انڈے کے مضبوط خول کے اندر پرورش پاتا ہے اور اس کے ٹوٹنے سے باہر آتا ہے یہ واقعہ کیوں کر ہوتا ہے کہ خول ٹوٹے اور بچہ جو گوشت کے لوتھڑے سے زیادہ نہیں ہوتا وہ باہر نکل آئے پہلے کا انسان اس کا جواب یہ دیتا تھا کہ خدا ایسا کرتا ہے مگر اب خوردبینی مشاہدہ کے بعد معلوم ہوا کہ جب ۲۱ روز کی مدت پوری ہونے والی ہوتی ہے اس وقت ننھے بچے کی چونچ پر ایک نہایت چھوٹی سی سخت سینگ ظاہر ہوتی ہے اس کی مدد سے وہ اپنے خول کو توڑ کر باہر آجاتا ہے سینگ اپنا کام پورا کرکے بچہ کی پیدائش کے چند دن بعد خود بخود چھڑ جاتی ہے۔
مخالفین مذہب کے نظریے کے مطابق یہ مشاہدہ اس پر انے خیال کو غلط ثابت کر دیتا ہے کہ بہ کو باہر نکالنے والا خدا ہے کیونکہ خوردبین کی آنکھ ہم کو صاف طور پر دکھا رہی ہے کہ ایک ۲۱ روزہ قانون ہے جس کے تحت وہ صورتیں پیدا ہوتی ہیں جو بچہ کو خول کے باہر لاتی ہیں یہ مغالطہ کے سوا اور کچھ نہیں جدید مشاہدہ نے جو کچھ ہمیں بتایا ہے وہ صرف واقعہ کی چند مزید کڑیاں ہیں اس نے واقعہ کا اصل سبب نہیں بتایا اس شاہدہ کے بعد صورت حال میں جو فرق ہوا ہے وہ اس کے سوا اور کچھ نہیں ہےکہ پہلے جو سوال خول کے ٹوٹنے کے بارے میں تھا وہ سینگ کے اوپر جا کر ٹھہر گیا بچہ کا اپنی سینگ سے خول کو توڑنا واقعہ کی صرف ایک درمیانی کڑی ہے وہ واقعہ کا سبب نہیں ہے واقعہ کا سبب تو اس وقت معلوم ہو گا جب ہم جان لیں کہ بچہ کی چونچ پر سینگ کیسے ظاہر ہوئی دوسرے لفظوں میں اس آخری سبب کا پتہ لگائیں جو بچہ کی اس ضرورت سے واقف تھا کہ اس کو خول سے باہر نکلنے کیلئے کسی سخت مدگار کی ضرورت ہے اور اس نے مادہ کو مجبور کیا کہ عین وقت پر ٹھیک ۲۱ روز بعد وہ بچہ کی چونچ پر ایک ایسی سینگ کی شکل میں نمودار ہو جو اپنا کام پورا کرنے کے بعد چھڑ جائے۔ گویا پہلے یہ سوال تھا کہ خول کیسے ٹوٹتا ہے اور اب سوال یہ ہو گیا کہ ” سینگ کیسے بنتی ہے“ ظاہر ہے کہ دونوں حالتوں میں کوئی نوعی فرق نہیں اس کو زیادہ سے زیادہ حقیقت کا وسیع تر مشاہدہ کہہ سکتے ہیں حقیقت کی توجیہہ کا نام نہیں دے سکتے۔
یہاں میں ایک امریکی عالم حیاتیات ”سیسل بوائے حامانن“ کے الفاظ نقل کروں گا
”غذا ہضم ہونے اور اس کے جزو بدن بننے کے حیرت انگیز عمل کو پہلے خدا کی طرف منسوب کیا جاتا تھا اب جدید مشاہدہ میں ہو کیمیائی رد عمل کا نتیجہ نظر آتا ہے مگر کیا اس کی وجہ سے خدا کے وجود کی نفی ہو گئی آخر وہ کون طاقت ہے جس نے کیمیائی اجزا کو پابند کیا کہ وہ اس قسم کا مفید رد عمل ظاہر کریں غذا انسان کے جسم میں داخل ہونے کے بعد ایک عجیب و غریب خود کار انتظام کے تحت جس طرح مختلف مراحل سے گزرتی ہے اس کو دیکھنے کے بعد یہ بات بالکل خارج از بحث معلوم ہوتی ہے کہ یہ حیرت انگریز انتظام محض اتفاق سے وجود میں آگیا ۔حقیقت یہ ہے کہ اس مشاہدہ کے بعد تو اور زیادہ ضروری ہو گیا ہے کہ ہم یہ مانیں کہ خدا اپنے ان عظیم قوانین کے ذریعہ عمل کرتا ہے جس کے تحت اس نے زندگی کو وجود دیا ہے“۔The evidence of God in Expanding Universe p221

قوانین فطرت کی توجیہہ کا مسئلہ
یہ صحیح ہے کہ سائنس نے کائنات کے بارے میں انسان کے مشاہدے کو بہت بڑھا دیا ہے اس نے دکھا دیا ہے کہ وہ کون سے فطری قوانین ہیں جن میں یہ کائنات جکڑی ہوئی ہے اور جس کے تحت وہ حرکت کر رہی ہے مثلاً پہلے آدمی صرف یہ جانتا تھا کہ پانی برستا ہے مگر اب سمندر کی بھاپ اٹھنے سے لے کر بارش کے قطرے زمین پر گرنے تک کا وہ پورا عمل انسان کو معلوم ہو گیا ہے۔جس کے مطابق بارش کا واقعہ ہوتا ہے مگر یہ ساری دریافتیں صرف واقعہ کی تصویر ہیں وہ واقعہ کی توجیہہ نہیں ہیں سائنس یہ نہیں بتاتی کہ فطرت کے قوانین کیسے قوانین بن گئے وہ کیسے اس قدر مفید شکل میں مسلسل طور پر زمین و آسمان میں قائم ہیں اور اس صحت کے ساتھ قائم ہیں کہ ان کی بنیاد پر سائنس میں قوانین مرتب کئے جاتے ہیں حقیقت یہ ہے کہ وہ فطرت جس کو معلوم کر لینے کی وجہ سے انسان یہ دعوی کرنے لگا ہے کہ اس نے کائنات کی توجیہہ دریافت کر لی وہ محض دھوکا ہے یہ ایک غیر متعلق بات کو سوال کا جواب بنا کر پیش کرنا ہے یہ درمیانی کڑی کو آخری کڑی قرار دینا ہے یہاں پھر میں مذکورہ عالم کے الفاظ دہراؤں گا۔
Nature does not explain, she her self is in need of an explanation
یعنی فطرت کائنات کی توجیہہ نہیں کرتی وہ خود اپنے لئے ایک توجیہہ کی طالب ہے۔
اگر آپ کسی ڈاکٹر سے پوچھیں کہ خود سرخ کیوں ہوتا ہے تو وہ جواب دے گا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ خون میں نہایت چھوٹے موٹے سرخ اجزا ہوتے ہیں (ایک انچ کے سات ہزارویں حصے کے برابر) یہی سرخ ذرات خون کو سرخ کرنے کا سبب ہیں۔
”درست مگر یہ ذرات سرخ کیوں ہوتے ہیں“
”ان ذرات میں ایک خاص مادہ ہوتا ہے جس کا نام ہیمو گلوبن ہے یہ مادہ جب پھیپھڑے میں آکسیجن جذب کرتا ہ تو گہرا سرخ ہو جاتا ہے“۔
”ٹھیک ہے مگر ہیموگلوبن کے حام سرخ ذرات کہاں سے آئے ہیں“
”وہ آپ کی تلی میں بن کر تیار ہوتے ہیں “
”ڈاکٹر صاحب ! جو کچھ آپ نے فرمایا وہ بہت عجیب ہے مگر مجھے بتایئے کہ ایسا کیوں ہے کہ خون سرخ ذرات تلی اور دوسری ہزاروں چیزیں اس طرح ایک کل کے اندر باہم مربوط ہیں اور اس قدر صحت کے ساتھ اپنا اپنا عمل کر رہی ہیں“
”یہ قدرت کا قانون ہے“
”وہ کیا چیز ہے جس کو آپ قدرت کا قانون قدرت کہتے ہیں“
اس سے مراد
Blind interplay of physical and chemical forces
طبیعی اور کیمیائی طاقتوں کا اندھا عمل ہے۔
مگر کیا وجہ ہے کہ یہ اندھی طاقتیں ہمیشہ ایسی سمت میں عمل کرتی ہیں جو انہیں متعین انجام کی طرف لے جائے ؟ کیسے وہ اپنی سر گرمیوں کو اس طرح منظم کرتی ہیں کہ ایک چڑیا اڑنے کے قابل ہو سکے، ایک مچھلی تیر سکے ایک انسان اپنی مخصوص صلاحتیوں کے ساتھ وجود میں آئے ۔؟
میرے دوست مجھ سے یہ نہ پوچھو سائنس داں صرف یہ بتا سکتا ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ کیا ہے ؟ اس کے پاس اس سوال کا جواب نہیں ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ کیوں ہو رہا ہے۔؟
یہ سوال وجواب واضح کررہا ہے کہ سائنسی دریافتوں کی حقیقت کیا ہے بلا شبہ سائنس نے ہم کو بہت سی نئی نئی باتیں بتائی ہیں مگر مذہب جس سوال کا جواب ہے اس کا ان دریافتوں سے کوئی تعلق نہیں اس قسم کی دریافتیں اگر موجودہ مقدار کے مقابلے میں اربوں کھربوں گنا بڑھ جائیں تب بھی مذہب کی ضرورت باقی رہے گی کیوں کہ یہ دریافتیں صرف ہونے والے واقعات کو بتائی ہیں یہ واقعات کیوں ہو رہے ہیں اور ان کا آخری سبب کیا ہے اور اس کا جواب ان دریافتوں کے اندر نہیں ہے یہ تمام کی تمام دریافتیں صرف درمیانی تشریح ہیں جبکہ مذہب کی جگہ لینے کے لئے ضروری ہے کہ وہ آخری اور کلی تشریح دریافت کر لے۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ کسی مشین کے اوپر ڈھکن لگا ہوا ہو تو ہم صرف یہ جانتے ہیں کہ وہ چل رہی ہے اگر ڈھکن اتار دیا جائے تو ہم دیکھیں گے کہ باہر کا چکر کس طرح ایک اور چکر سے چل رہا ہے اور وہ چکر کسی دوسرے بہت سے پرزوں سے کر حرکت کرتا ہے۔ یہاں تک کہ ہو سکتا ہے کہ ہم اس کے سارے پرزوں اور اس کی پوری حرکت کو دیکھ لیں مگر کیا اس علم کے معنی یہ ہیں کہ ہم نے مشین کے خالق اور اس کے سبب حرکت کا راز بھی معلوم کر لیا کیا کسی مشین کی کارکرردگی کو جان لینے سے یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ وہ خود بخود بن گئی ہے اور اپنے آپ چلی جارہی ہے اگر ایسا نہیں ہے تو کائنات کی کارکردگی کی بعض جھلکیاں دیکھنے سے یہ کیسے ثابت ہو گیا کہ یہ سارا کارخانہ اپنے آپ قائم ہوا اور اپنے آپ چلا جارہا ہے ہیریز نے یہی بات کہی تھی جب اس نے ڈارو نزم پر تنقید کرتے ہوئے کہا۔
“nature selection may explain the survival of fittest, but cancnot explain the arrival of the fittest”
Revolt Against Reason by A.lunn p.133
یعنی انتخاب طبیعی کے قانون کا حوالہ صرف زندگی کے بہتر مظاہر کے باقی رہنے کی توجیہہ کرتا ہے وہ یہ نہیں بتاتا کہ یہ بہتر زندگیاں خود کیسے وجود آئیں۔

فطرت انسانی کے سوالات اور سائنس –خلاصہ

سائنس کی منہاج(Paradigm) مظاہرکائنات سے علاقہ رکھتی ہے۔ کائنات خالق کے طے کردہ کچھ طبیعی اصولوں کے تحت چلی جا رہی ہے، اور ابتدائے آفرینش سے ہی یہ اصول و قوانین انسان کی عقل سے اتصال کرتے اور اس کے مشاہدے میں آتے رہے ہیں تو انسان کے ہاں اِن اصولوں کے مطالعہ کے کسی ایسے طریقے کا وضع ہو جانا جو اِن کی ٹھیک ٹھیک دریافت پر منتج ہوتا ہو، قیاس کا عین تقاضا ہے۔یہ طریقۂ مطالعہ سائنس کہلاتا ہے۔ مختصراً، انسانی عقل وحواس کو بروئے کار لاتے ہوئے ان فطری اصولوں کو طبیعی طور پر معلوم کرلینے کا نام سائنس ہے۔سائنس کا دائرۂ کار یہی ہے کہ وہ مادے کے برتاؤ اور اس کے عمل کرنے کے طبیعی اصولوں سے بحث کرتی ہے، اور بس۔ اس دائرے سے ہٹ کر کوئی گفتگو کرنا سائنس کے بس کی بات ہی نہیں ہے، کجایہ کہ وہ اپنے دائرے سے باہر کسی شے کے ہونے یا نہ ہونے کا دعوٰی کرتی پائی جائے، اور لوگ اسے سائنس کی دخل درمعقولات ماننے پر مجبور ہوں۔!
عالم غیب (کہ جہاں ”حقیقت “ چھپی ہوئی ہے!) کے بارے میں سائنس جو ہمیشہ سے خاموش ہے تو کوئی اس لیے نہیں کہ وہ اس عالم کی منکر ہے، بلکہ درحقیقت سائنس کا یہ میدان ہی نہیں ہے کہ وہ عالم غیب کی بابت مثبت یامنفی کوئی بات کرسکے۔ وہ تو اس کا انکار کرسکتی ہے نہ اقرار، کہ وہ اس کے حیطۂ انکار واقرار سے ہی باہر ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ سائنس خدا کا انکار نہیں کرتی۔ البتہ کچھ ملحد فلسفیوں نے سائنس کو انکار خدا کی دلیل کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی ہے اس سے سائنس کا مذہب مخالف ہونا لازمی نہیں آتا۔اگر کوئی سائنسدان اگر اپنے طور پر اس موضوع پر اظہارِ خیال کر دیتا ہے تو اِس میں سائنس کا کوئی قصور نہیں۔ سائنسی طریقۂ مطالعہ تو اپنی حدود سے باہر کسی موضوع پر لب کشائی کی ذمہ داری اپنے سر لینے کا رودار نہیں ہے۔ نہ یہ اپنے علاوہ کسی اور دائرے کا اِحاطہ کرنے والے،کسی دوسرے طریقۂ مطالعہ وتفکیر کا انکار یا اس سے تصادم ہی کرتا ہے۔ لیکن اگر سائنس عالمِ غیب سے بحث ہی نہیں کرتی تو کیا اس سے اس کا کفر اور الحاد پر مبنی ہونا لازم آتا ہے؟جس طرح مادے کا وجود تسلیم کرنے سے ماورائے مادّہ کا انکار لازم نہیں آتا۔ ایک شے کا اثبات دوسری کی نفی کو مستلزم نہیں ہوتا۔سائنسی طریقۂ مطالعہ میں ایک مؤمن اور ایک ملحد شخص برابر ہوسکتے ہیں ۔ اس فرق کے ساتھ کہ ممکن ہے کہ آخرالذکر شخص سائنسی دریافتوں سے اپنے کفر والحاد پر شواہد لیتا ہو جبکہ پہلا شخص انہیں اپنے ایمان بالغیب کے لئے ایک نشانی کے طور پر لیتا ہو جس کی وجہ خود سائنس نہیں بلکہ وہ نظر (Vision) ہوگی جس کے تحت سائنس بلکہ ہر ایک شے کو دیکھا اور برتا جارہا ہو ، اور جو قلب وذہن میں پہلے سے پائی جاتی ہو۔

فطرت انسانی کے سوالات اور فلسفہ

گزشتہ بحث سے یہ بات واضح ہوئی کہ سائنس کی چمک تاریکی کے ان بادلوں کو چھانٹ ہی نہیں سکتی، اس کا چراغِ ہدایت اس بحرِ ظلمات میں داخل ہوتے ہی گل ہوجاتا ہے۔ان سوالات کے پیدا ہوتے ہی آدمی سائنس کی چار دیواری سے نکل کر مذہب اور فلسفہ یا صحیح معنیٰ میں مابعد الطبعیات (میٹافزکس) کی لا محدود فضاء میں داخل ہوجاتا ہے، یہاں علوم طبیعیہ (فزیکل سائنس) کی یقینیات و قطعیات کا دامن ہاتھ سے چھوٹ جاتا ہے۔
صرف فلسفہ (میٹافزیکل) مذہب سے ٹکراتا ہے اور جنگ و صلح کا جو کچھ امکان ہے وہ ’’مذہب و فلسفہ‘‘ میں ہے، نہ کہ ’’مذہب و سائنس‘‘ میں۔صرف فلسفہ ہی ایک ایسا علم ھے جس میں غیبی حقایق یا مذہبی امور کوعقل کی گرفت میں لانے کی کوشش کی جاتی ھے اور اس کوشش میں وہ اکثر مذہب سے متصادم بھی رہا ھے اور جس کی بنا پر اب بھی کہا جاتا ھے اور فلسفے سے مرغوب ذہنیتوں نےپہلے بھی کہا ھے کہ فلسفہ نے مذہب کی بنیادیں ہلا دیں،اپنی تحقیقات سے مذہبی حقایق کے سارے تانے بابے کو اڈھیر کر رکھ دیا اور اس انسان کے آٓغاز وانجام کے متعلق مذہب نے جھوٹ کے جو پلندے باندھ باندھ کر رکھے تھے فلسفے نے اپنے دست قوی سے ان سب کو کھول کر پھینک دیا۔
حالانکہ یہ بالکل غلط ھےاس لیےکہ انسان کی ہستی و عدم کے متعلق فلسفے کے سارے بیانات صرف اس کے اندازے، تخمینے اور ظنون پر مشتمل ہیں۔ہر فلسفی مخص اپنی دماغی خصوصیت،موروثی اثرات اور ماحول کے غیر شعوری رحجانات کے تحت ہر چیز سوچتا ھے جو دوسرے سوچنے والوں سے بالکل مختلف ہوتی ھے۔اس اختلاف کا صحیح اندازہ فلسفے کی تاریخ اور فلسفے کے مختلف اسکولوں کے ذخیرہ کتب کے پڑھنے سے بہ خوبی ہوتا ھےاور معلوم ہوتا ھے کہ فلسفہ کی ساری موشگافیاں صرف مہم انسانی کی پے درپے الجھنیں،فرضی احتمالات اور وساوس ہیں جن میں یقین و اذغان کو کوئی داخل نہیں بلکہ دوسرا وہ سرا سر شک رارتیاب ھے۔اگلی تحاریر سے یہ بات واضح ہوگئی۔
فلسفہ و مذہب کی منزلِ مقصود بیشک ایک کہی جاسکتی ہے، لیکن دونوں کی راہیں اس قدر مختلف اور الگ ہیں کہ اگر غلط فہمیوں اور غلط مبحث کو صاف کردیا جائے تو تصادم کا کوئی احتمال و اندیشہ ہی باقی نہیں رہ جاتا۔ اصل بحث ’’فلسفہ و مذہب‘‘ کے باہمی تعلقات کی توضیح و تصحیح کی ہے، اس کو سمجھنے کے لئے فلسفہ کی ڈھائی ہزار سال کی تاریخ ہمارے سامنے موجود ہے، دیکھنا یہ ہے کہ واقعیت کے لحاظ سے اس طویل مدت میں فلسفہ کس حد تک مذہب کا حریف رہا ہے؟
فلسفہ کے چار مذاہب:
تاریخ فلسفہ کا دفتر یوں بے پایاں ہے، لیکن اس کا نچوڑ چار مذاہب (اسکول) ہیں۔(۱) ثنویت یا دوئی۔ (۲) تصوّریت یا روحیت۔ (۳) مادّیت۔ (۴) ارتیابیت۔
اِن میں سے دونوں اوّل الذکر تو براہِ راست یا بالواسطہ مذہب کے مؤید و حامی ہیں، تیسرا معاند ہے اور چوتھا نہ دوست نہ دشمن۔
1۔ثنویت یا دوئی
ثنویت کا ماحصل یہ ہے کہ کائنات میں دو بالکل مختلف و متضاد چیزیں موجود ہیں، جسم و روح۔ ایک قطعاً بے بس و حرکت مادہ کا ڈھیر ہے، دوسری مجرد اور عقل و شعور کا مصد رہے، عہدِ قدیم کے سب سے بڑے فلسفی و حکیم ارسطوؔ کا مسلک یہی تھا، دورِ جدید کے آغاز تک دنیا کے فلسفہ کا بیشتر حصہ اسی کا پیرو رہا ہے، فلسفۂ جدیدہ کا ابولا آباء ڈیکارٹ بھی ارسطو ہی کا ہم مسلک ہے۔ دیکھا جائے تمام مذاہب کی ظاہری تعلیمات کا بھی یہی خلاصہ ہے؛ بلکہ روح ہی کا عقیدہ مذہب کی جڑ ہے، باقی جزاء و سزاء حشر و نشر وغیرہ اسی کی تعریفات ہیں۔
2۔تصوّریت یا روحیت
تصوریہ (آئیڈیلیسٹس) کا یہ دعویٰ ہے کہ اصل الاصول ایک ہی شئے ہے اور وہ روح، عقل یا ذہن ہے، باقی تمام عالم جسمانیات، اسی کا تصور، یا کسی نہ کسی طرح سے اسی سے پیدا و مستنبط ہے، مادیات کا مستقل وجود محض ایک قسم کا فریب (الیوژن) ہے، اس مسلک کا پرانا رہبر افلاطونؔ مانا جاتا ہے، جس کی جگہ خالص فلسفہ کی بزم میں ارسطوؔ سے بھی بلند تر ہے اور بہت سے اساطین فلسفہ اسی ایک علم کے نیچے جمع ہوگئے ہیں، اسپنوز، لبنز، برکلے، مختے، شیلنگ، ہیگل، برگن سب کے سُر اسی ایک تان پر آکے ٹوٹتے ہیں۔ مذہب میں صوفیہ اور اربابِ باطن سے ان قائلین تصوریت کے ڈانڈے اس قدر مل جاتے ہیں کہ صرف حال اور قال کا پردہ رہ جاتا ہے۔
3.مادّیت
فلسفیانہ مکاتب خیال میں یہی ایک ایسا مسلک ھے جسے مذہب کا صیح معنوں میں حقیقی حریف و مد مقابل قرار دیا جا سکتا ھے۔طبل مادّیت کی یہ صدا ہے کہ بے شک اصل الاصول ایک ہی شئے ہے، لیکن یہ روح نہیں ہے بلکہ مادّہ ہے، عقل و شعور وغیرہ جن کو افعالِ روح خیال کیا جاتا ہے یہ ذرّات مادی ہی کے اجتماع، ترکیب اور تعامل کی نتائج ہیں، یہ مادّہ اور اس کی قوت یا انرجی دونوں ازلی اور غیر مخلوق ہیں، اور اس لحاظ سے دونوں ایک ہی ہیں کہ ایک کا دوسرے سے جدا ہونا ناممکن ہے۔مادّہ ہی کے بندے ہوئے مقررہ طریق عمل اور اصولِ عمل کا نام فطرت (نیچر) اور قوانینِ فطرت (لاز آف نیچر) ہے، ساری کائناتِ ارضی و سماوی اسی فطرت اور مادہ سے پیدا ہے، کسی خارج مستقل الوجود، صاحب الامر، خالق اور خدا کی احتیاج نہیں ہے، ’’فطرت خود بخود خداؤں کی مداخلت کے بغیر سب کچھ کرلیتی ہے‘‘، (لیوکریٹس کا مقولہ) ’’مادہ خالی ہیولیٰ یا محض منفعل ذات نہیں ہے، جیسا کہ فلاسفہ اس کی تصویر کھینچتے ہیں بلکہ وہ مادرِ کائنات ہے جو خود اپنے ہی رحم سے تمام نتائج بر آمد کرتی ہے‘‘۔ (برنو کا مقولہ)
الغرض فلسفہ کے اس مکتب فکر میں عالم کا سر چشمہ ایک بے حس و بے جان مردہ کو مانا جاتا ھے۔اس خیال کی بنیاد آج سے تقریبا ڈھائی تین ہزار سال پشتیر حکیم دیمقراطیس نے رکھی اور اس وقت تک یورپ کے جن لوگوں کو مسلک مادیت پر اصرار ھے وہ دیمقراطیس ہی کے خیالات کی آواز بازگشت ھے۔بلاشبہ فلسفیانہ مکاتب خیال میں یہی ایک ایسا مسلک ھے جسے مذہب کا صیح معنوں میں حقیقی حریف و مد مقابل قرار دیا جا سکتا ھے۔کیونکہ اسی میں خدا کو ہٹا کر اس کی جگہ مادہ کو تخت نشین کرنے کی کوشش(العیاذ باللہ ) کی گی ھے۔اس گروہ کا یہ اعلان ھے کہ مادہ اور قوانین مادہ نے عالم کو پیدایش کے مسلے سے بے نیاز کر دینا،یعنی اب اس کو کسی خالق کی ضرورت نہیں رہی۔
اس نظریۂ مادیت کو الحاد و انکار مذہب کا سرچشمہ بنانے میں سب سے زیادہ حصہ جس کا چیز ہے وہ پچھلی دو صدیوں میں سائنس کے عظیم الشان انکشافات و تحقیقات کے نتائج ہیں، ان میں سے چار ہماری موجودہ بحث کے لئے زیادہ اہم ہیں: (۱) استمرار مادہ و قوّت، (۲) نظریۂ ارتقاء، (۳) کیمیائی موادِ حیات کا علم (۴) افعالِ ذہنی و جسمی کا تعلق۔
4- لا ادریت(اگناسٹزم):
لا ادریت کا خلاصہ اعترافِ لا علمی ہے، یہ اسکول بھی اگرچہ فلسفہ کے دوسرے اسکولوں کی طرح زمانۂ قدیم ہی میں پیدا ہوچکا تھا اور تشکیک یا ارتبابیت (سپٹزم) کے نام سے پکارا جاتا ہے، مگر پرانے زمانہ میں اس کا مفہوم اس قدر مطلق و وسیع تھا کہ خود شک میں بھی شک کیا جاتا تھا، عصرِ جدید میں اس کو ہیومؔ نے زندہ کیا اور کینت نے اس کی بنیاد کو اس قدر مستحکم بنادیا کہ فلسفہ کیا علماء سائنس کو سرتابی کی مجال نہ رہی، لیکن اب مفہوم کی وہ پرانی وسعت اور اطلاق ٍنہیں باقی ہے، بلکہ واقعات و حوادث (فنامنا) ظواہر اشیاء ((اپیرنسز) اور مسائل طبعیہ کو عالم شک و لاعلمی سے نکال لیا گیا ہے، البتہ دوات داعیان (نامنا) حقائق اشیاء (ریلیٹیز) اور ما بعد الطبعیاتی مسائل کے دروازوں کو انسانی عقل و علم کے لئے ہمیشہ کے واسطے مقفل سمجھ لیا گیا ہے۔لا ادریت کے لقب کا موجد ہکسلے ہے،وہ روح اور خدا وغیرہ الہٰیاتی مسائل کی نسبت ایک لا ادری کی کیا پوزیشن ہے، چارلس کنگ سلےؔ کو ایک خط میں لکھتا ہے کہ:
’’میں انسان (روح) کے غیر فانی ہونے کا نہ مدعی ہوں نہ منکر، میرے پاس اس کے یقین کے لئے کوئی دلیل نہیں، لیکن ساتھ ہی دوسری طرف اس کے ابطال کا بھی میرے پاس کوئی ذریعہ نہیں‘‘۔
ایک اور موقع پر ’’اصول و نتائج‘‘ (میتھڈس ایڈ رزلٹس) میں لکھتا ہے کہ:
’’وجود کی علت اولیٰ کا مسئلہ میرے حقیر قویٰ کی دسترس سے باہر ہے، جتنی لا یعنی ہرزہ سرائیوں کے پڑھنے کا موقع مجھ کو ملا ہے ان میں سب سے بدتر ان فلاسفہ کے دلائل ہوتے ہیں جو خدا کی حقیقت کے بارے میں موشگافی کرتے ہیں، مگر ان فلاسفہ کے مہملات ان سے بھی بڑھ جاتے ہیں جو یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کوئی خدا نہیں‘‘۔
ایک اور جگہ کہتا ہے:
’’چاہے حوادث و واقعاتِ مادہ کو روح کی اصطلاحات میں بیان کرو اور چاہے حوادثِ روح کو مادہ کی اصطلاحات سے تعبیر کرو، یہ بجائے خود کوئی اہمیت نہیں رکھتا، ہاں اتنا ہے کہ سائنس کے لئے مادیانہ اصطلاح تعبیر زیادہ موزوں اور قابلِ ترجیح ہے‘‘۔
اوپر کی تفصیل سے یہ واضح ہے کہ صرف ایک سکول مادیت اور کسی حد تک لاادریت ایسا ہے جو مذہب کے مقابلے میں آتاہے۔ ان میں سے مادیت کے دلائل پر ہم مذہب اور سائنس کی بحث میں تفصیل پیش کرچکے آگے تحاریر میں مزید تفصیل بھی آئے گی۔ یہاں بعض غلط فہمیوں سے بچنے کے لئے لاادریت کی حقیقت و مدعا کی توضیح پیش کی جاتی ہے، علمائے سائنس کے اس فلسفیانہ مسلک کا منشاء صرف اس قدر ہے کہ ہماری سائنٹیفک تحقیقات و عقلی استدلالات کا گذر واقعات و ظواہرِ اشیاء سے آگے نہیں، یعنی جس قسم کے استقرائی تجربات و عقلی دلائل و قیاسات سے ہم علوم طبعیہ کے مسائل کو قطعی طور پر ثابت کرسکتے ہیں اور طرح طرح کے انکشافات تک پہنچ سکتے ہیں، ان کے ذریعے سے حقائق اشیاء اور مابعد الطبعیات کے مسائل کو ثابت یا باطل نہیں کیا جاسکتا اور نہ ان رموز کو بے نقاب کیا جاسکتا ہے۔۔
یہاں اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ جو شے انسان کی عقل و فہم سے خارج ہے وہ اس کی زندگی سے بھی خارج ہے یا انسان فقط انہیں چیزوں کو مانتا اور قبول کرتا ہے، جو سائیٹیفک دلائل سے ثابت ہوچکی ہیں، غیر معقول بات ہوگی، اس پر تفصیل سائنس کی تحاریر میں تحقیقی طریقہ کار کی بحث میں گزر چکی ۔
بہرحال سائنس اور فلسفہ کی حدود متعین کرتے ہوے ہم اس نتیجے تک خود بہ خود پہنچ جاتے ہیں کہ فطرت انسانی کے مطالبات اور یہ سوالات یعنی “ہم اور ہمارے احساسات (عالم) کی ابتدا کیا ھے” خود ہمارا،ہماری قوم ، ہماری جنس،ہماری گزشتہ اور ایندہ نسلوں کا اور اس عالم کا انجام کیا ھے؟یہاں ہم کیوں ہیں؟ ہماری فطری ارزو مثلا بقاے دوام کی خواہش، غیر محدود ہونے کی تمنا زندگی کی مجودہ کش مکش سے نجات پانے کوشش وغیرہ کا لحاظ کرتے ہوے کس دستور العمل کی پابندی ہمیں کرنی چاہیے؟ ۔۔۔ ان سوالات کو علم کے معمولی ذرایع (عقل وحواس) کی رہنمائی میں ہم کسی طرح حل نہیں کر سکتے ۔
جب انسان کی ذہنی طاقت بجاے سمٹنے کے وسیع ہو رہی ھے تو یقینا سوالات کی تڑپ اور بے چینی بھی اسی نسبت سے بڑھتی چلی جاے گی، انسان جب تک حیوان نہیں بلکہ انسان ھے اس کی ذہنی وسعت اور دماغی بلندی باقی ھے وہ مجبور ھے کہ ان سوالات کو پیدا کرے۔ان کے حل کی راہیں ڈھونڈے۔فطرت کے اس زور ہی کا اندازہ کرتے ہوئے مذہبی سوالات کے متعلق ایک فرنچ فلسفی کسکر نے لکھا تھا۔
” مذہب ابدی چیز ھے کیونکہ مذہب جس سوال کا جواب ھے وہ کسی زمانے میں کبھی کہیں معدوم نہیں ہو سکتا(الکلام)
یہ سوالات نہ فطرت انسانی سے نکل سکتے ہیں نہ علم کے عام ذرایع یعنی عقل و حواس سے ان کو ہم حل کر سکتے ہیں۔فلسفہ اور مذہب میں یہی بنیادی فرق ھے کہ اول الذکر ان سوالات کو عقل و حواس کے زور سے حل کرنا چاہتا ھے اور مذہب بجاے ان معمولی ذرایع کے ایک جدید ذریعے کو سامنے لاتا ہے۔یہ نا ممکن ھے کہ ہم میں پیاس ہو لیکن اس کے بجھانے کے لیے پانی کا سامان نہ کیا گیا ہو۔ان سوالات کی بے چینی جب انسانی فطرت میں پیدا کی گی ھے تو ان کے حل کرنے اور جاننے کی راہ بھی فطری ہونی چاہیے وہ ہمیشہ سے ھے۔علم کے اسی جدید ذریعے کا نام مذہبی زبان میں “وحی” اور “نبوت” ھے۔جب سے دنیا قایم ھے انسانی فطرت کو ان سوالات کا جواب اسی راہ سے ملا۔گو وقتا فوقتا مختلف قرون و ممالک میں فلسفیوں کا گروہ بھی پیدا ہوتا رہا جس نے ان جوابات کے لیے حواس وعقل کی قوتوں کو استعمال کرکے پیش کیا لیکن اکثریت نا اس سے مطمئن ہوئی اور نہ انہوں نے اس طرف کبھی توجہ کی۔ فلسفیوں نے پورا زور لگا لیا کہ نبوت اور وحی کے توسط کے بغیر ان سوالات کے جوابات حاصل کر کے بنی آدم کو مطمئن کر دیا جاےلیکن بجائے سلجھانے کے انہوں نے مسئلے کو مزید الجھا دیا اور انکی اس کوشش سے غلط اور بے فائدہ بحث اور تشکیک اور وساوس ہی انسانیت کو ملے۔

مشہور فلسفی برٹرنڈ رسل کے انکار مذہب کا جائزہ

رسل اپنے دور کا سب سے بڑا ملحد تھا ،اپنے زمانہ کے فلسفیوں میں رسل کا مطالعہ سب سے ذیادہ وسیع تھا، کہا جاتا ہے کہ اگر کوئی استثناء ممکن ہے تو وہ صرف وہائٹ ہڈ کو۔ رسل کی زندگی تقریبا ایک صدی پر پھیلی ہوئی ہے ۔ اپنے بیان کے مطابق وہ ساری عمر دو چیزوں کی تحقیق میں مصروف رہا ” ہم کتنی چیزوں کے بارے میں کہہ سکتے ہیں کہ ہم جانتے ہیں اور یہ کہ ہمارے علم کا کتنا حصہ یقینی ہے اور کتنا حصہ مشتبہ ہے”۔
رسل کے نزدیک علم کی دو قسمیں ہیں۔چیزوں کا علم (knowledge of things) اور صداقتوں کا علم (knowledge of truths) چیزوں کا علم دوسرے الفاظ میں حسی واقعات (sensible facts) کا علم ہے۔مگر حسی واقعات ہی سب کچھ نہیں ہیں بلکہ ان کے پیچھے بھی کچھ صداقتیں چھپی ہوئی ہیں جو بذاتِ خود ہمارے حواس میں نہیں آتیں۔ان صداقتوں کا معلموم کرنے کا ذریعہ استنباط (inference) ہے جو حسی واقعات کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔رسل کے نزدیک استنباط صحیح (valid) ہوسکتا ہے۔البتہ اس کو سائنسی استنباط (Scientific inference) ہونا چاہئے۔
رسل کے نزدیک سائنس حقیقی دنیا (real world) اور اعتقادی دنیا (believed world) دونوں پر مشتمل ہے۔اور سائنس میں جتنی زیادہ ترقی ہوتی ہے ، اس میں اعتقادات کا جز بڑھتا جاتا ہے۔سائنس میں کچھ چیزیں تو مشہور حقائق (observed facts) ہیں اور اس سے اوپر کی تمام چیزیں سائنسی مجردات (Scientific abstractions) ہیں جو مشاہدہ کی بنیاد پر مستنبط کئے گئے ہیں۔کلی تشکیک (universal skepticism) کا انکار نہیں۔مگر کلی تشکیک کو اختیار کرنا بھی مشکل ہے۔وہ لکھتا ہے:
“میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ حسی حقائق (facts of sense) کو،اور اس کے ساتھ عمومی طور پر سائنس کی سچائی کو ایک ایسی چیز کی حیثیت سے قبول کرلوں جو فلسفی کے لئے ابتدائی مواد کا کام دے سکے۔اگرچہ ان کا سچ ہونا قطعی یقینی (quite certain) نہیں ہے۔یہ کسی اور چیز کے مقابلہ میں صرف ایک اونچا امکانی درجہ (higher degree if possibility) ہے،جو فلسیفانہ قیاس کے لئے حاصل کی جاسکتی ہے۔”
اب ہم رسل کا ایک اقتباس نقل کریں گے جس سے رسل کے خیالات کی وہ تصویر مکمل ہوجاتی ہے جو ہم یہاں بنانا چاہتے ہیں:
“اس کو ہمیشہ سمجھا نہیں گیا ہے کہ نظری طبیعیات جو معلومات دیتی ہے،وہ کس قدر زیادہ مجرد (exceedingly abstact) ہیں۔وہ چند خاص بنیادی مساوات (equations) مقرر کرتی ہے جو اس کو اس قابل بناتی ہیں کہ وہ واقعات کے منطقی ڈھانچہ کو بیان کرسکے،جب کہ واقعات کی باطنی حالت (intrinsic character) بالکل نامعلوم (completely unknown) ہو۔نظری طبیعیات میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو ہمیں اس قابل بنائے کہ ہم واقعات کی باطنی حالت کے بارے میں بول سکیں۔طبیعیات جو کچھ ہمیں دیتی ہے وہ تمام تر صرف کچھ مخصوص مساواتیں (equations) ہیں جو ان کی تبدیلیوں کی مجرد خاصیتیں (abstract properties) بتاتی ہیں۔مگر یہ کہ وہ کیا چیز ہے جو تبدیل ہوتی ہے اور کہاں سے تبدیل ہوتی ہے،اس کے بارے میں طبیعیات خاموش ہے۔”
رسل اپنی کتاب “میرا فلسفیانہ ارتقاء” کے باب(non-demonstrable inference) کو حسب ذیل الفاظ پر ختم کرتا ہے:
…there is no such claim to certainty as has to often and too uselessly, been made by rash philosophers. (1,p.207)
یعنی اس قسم کا دعویٰ کرنے کی گنجائش نہیں ہے کہ ہم کو صداقت کا یقینی ذریعہ معلوم ہوگیا ہے جیسا کہ اکثر بے فائدہ طور پر جلد باز فلسفی کرتے ہیں۔
اس مطالعہ کے مطابق رسل کے لئے صرف دو راستے باقی رہ جاتے ہیں۔یا تو وہ تشکیک کی پناہ گاہ میں چلا جائے یا پھر مذہب کی صداقت کا اعتراف کرلے۔کیونکہ جب صورتحال یہ ہے کہ ہم حقیقت کا صرف ظاہری ڈھانچہ سیکھ سکتے ہیں،اس کی اندرونی صداقت سے براہ راست طور پرو اقف ہونا ہمارے لئے ناممکن ہے تو دو ہی صورتیں آدمی کے لئے باقی رہ جاتی ہیں۔یا تو وہ اصرار کرے کہ وہ اسی وقت کسی بات کو مانے گا جب وہ آخری اور براہ راست طور پر اس کے ذاتی علم میں آجائے۔چونکہ اب تک کی تحقیقات کے مطابق اس قسم کا علم ناممکن ہے،اس لئے اسے یہ کہہ کر بیٹھ جانا چاہئے کہ”میں کچھ نہیں جانتا”۔مگر رسل اس پوزیشن کو قبول نہیں کرتا۔وہ کہتا ہے کہ ظاہری ڈھانچہ کی بنیاد پر اندرونی حقیقت کے بارے میں جو استنباط کیا جائے وہ بھی جائز علم کا ایک ذریعہ ہے،یہ کہہ کر وہ مذہب کی عین سرحد کے قریب پہنچ جاتا ہے۔کیونکہ مذہب کا کہنا بھی یہی ہے کہ انسان اپنے محدود حواس سے حقیقت کا آخری ادراک نہیں کرسکتا۔البتہ ظاہر کائنات میں وہ جن چیزوں کا مشاہدہ کرتا ہے،ان سے یہ قیاس کرسکتا ہے کہ وہ کون سی حقیقت ہے جو اس کے پیچھے مستور ہے۔مگر عجیب بات ہے رسل جیسا ذہین شخص تشکیک کا بھی انکار کرتا ہے اور مذہب کا بھی اور اسے یاد نہیں رہتا کہ اس طرح وہ خود اپنے مسلمات کے مطابق ایک کھلے ہوئے تضاد کا مظاہرہ کررہا ہے۔
رسل واضح طور پر تسلیم کرتا ہے کہ ایسے عقیدے (belief) بھی صحیح (valid) ہوسکتے ہیں جن کا تجربہ (experience) نہ کیا گیا ہو۔رسل خود بھی ایسے “عقائد” کو مانتا ہے۔مثال کر طور پر زمین کا قدیم ماظی،کائنات کے بعید ترین علاقے جن کا فلکیات میں مطالعہ کیا جاتا ہے،وغیرہ۔یہاں میں اس کے چند فقرے اس کے اپنے الفاظ میں نقل کروں گا:
I commit myself to the view that there are valid processes of inference from events to other events….more particularly, from events of which I am aware without inference to events of which I have no such awareness.(p.10)
یعنی میں اس نقطہ نظر کا حامی ہونے کا اعتراف کرتا ہوں کہ استنباط کے ایسے معقول طریقے ہیں جن میں بعض واقعات سے کچھ دوسرے واقعات پر استنباط کیا جاتا ہے۔زیادہ متعین طور پر،ایسے واقعات سے جن سے میں کسی استنباط کے بغیر باخبر ہوں،ایسے واقعات پر جن کے بارے میں میں اس قسم کی واقفیت نہیں رکھتا۔
رسل نے اسی بات کو دوسری جگہ ان الفاظ میں کہا ہے:
I do think that there are forms of probable inference which must be accepted although they cannot proved by experience.(p.132)
میں خیال کرتا ہوں کہ ایسے قریب بہ صحت استنباط کے طریقے کو تسلیم کیا جاتا چاہئے،اگرچہ وہ تجربہ سے ثابت نہیں کئے جاسکتے۔
اس صریح اعتراف کے مطابق ،کم ازکم رسل کے نزدیک،مذہب ایک ایسی چیز کی حیثیت نہیں رکھتا جس کو دلیل سے ثابت نہ کیا جاسکتا ہو۔کیونکہ یہاں وہ جس معیار استدلال کے جواز (validity) کو تسلیم کررہا ہے،یہ عین وہی معیار استدلال ہے جس کے مطابق مذہب کے صداقتوں کو ثابت کیا جاتا ہے۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ رسل نے بالواسطہ طور پر یہاں تک تسلیم کیا ہے کہ مذہب کے حق میں اس نوعیت کے استنباطی دلائل بھی موجود ہیں جن کو وہ سائنٹیفک استنباط کہتا ہے،مگر اس کے باوجود وہ نہایت سرسری وجود کا نام لےکر ان دلائل کو رد کردیتا ہے۔یہاں میں برٹرینڈ رسل کا ایک اقتباس نقل کروں گا جو اس کی کتاب”میں عیسائی کیوں نہیں” سے لیا گیا ہے:
دنیا کےتمام بڑے مذاہب-بدھ ازم،ہندومت،عیسائیت،اسلام اور کمیونزم- سب کو غلط (untrue) بھی سمجھتا ہوں اور مضر (harmful) بھی۔یہ صحیح ہے کہ متکلمین نے کچھ ایسی دلیلیں ایجاد کی ہیں جن کے متعلق دعویٰ کیا جاتا ہے کہ منطقی دلائل (logical arguments) ہیں اور ان سے خدا کا وجود ثابت ہوتا ہے۔مگر وہ منطق جس پر ان روایتی استدلالات کی بنیاد قائم ہے،وہ ارسطو کی قدیم منطق ہے جس کو عملاً اب تمام علمائے منطق رد کرچکے ہیں سوائے مذہبی لوگوں کے۔”
اس کے بعد رسل لکھتا ہے :
“ان دلائل میں ایک دلیل ایسی ضرور ہے جو خالص منطقی (purely logical) نہیں ہے۔میری مراد نظم کائنات کی دلیل (argument from design) مگر ڈارون اس دلیل کو بالکل ختم کرچکا ہے۔Why I am not a Christian. (P.IX)
اس اقتباس کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ نظم کائنات کی دلیل رسل نے منطقی طور پر ایک جائز دلیل (valid argument) تسلیم کیا ہے۔مگر اصولی طور پر اس کی منطقی معقولیت تسلیم کرتے ہوئے رسل کا کہنا ہے کہ ڈارونزم نے اس کی استدلالی حیثیت کو برباد کردیا ہے یا کم از کم اس کی اہمیت بہت گھٹا دی ہے۔رسل کے اس بیان پر ہم کسی قدر وضاحت سے روشنی ڈالنا چاہتے ہیں۔
رسل کے اس جملہ کا مطلب یہ ہے کہ مذہب کا دعویٰ ہے کہ کائنات میں ایک نظم (design) پایا جاتا ہے اور یہ نظم اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کے پیچھے کوئی شعور ہو جس نے اس کو “نظم”کی صورت دی ہو۔اگر ایسا نہ ہوتا تو کائنات بے ترتیب انبار کی شکل میں نظر آتی۔رسل کے نزدیک یہ استدلال اصولی طور پر صحیح ہے۔مگر پھر وہ کہتا ہےکہ”ڈارون نے حیاتیاتی مظاہر کے مطالعہ سے ثابت کیا ہے کہ زندگی کی مختلف اقسام جو منظم اور بامعنی شکل میں زمین پر نظر آتی ہیں وہ دراصل کروڑوں برس میں مادی حالات کے نتیجہ میں پیدا ہوئی ہیں۔مثلاً زرافہ کو کسی نے پیدا نہیں کیا بلکہ بکری جیسے جانور نے طویل فطری عمل کے بعد بخوبی لمبی گردن والے زرافہ کی شکل اختیار کرلی ہے۔
یہاں مجھے ڈارونزم پر کوئی تفصیلی گفتگو نہیں کرنی ہے۔البتہ میں یہ کہوں گا کہ رسل نے استدلال کی اصولی معقولیت تسلیم کرتے ہوئے جس بنیاد پر اس کو رد کیا ہے وہ نہایت کمزور ہے۔
پہلی بات یہ کہ ڈارونزم سے کچھ ثابت ہوا ہے تو صرف یہ کہ زندگی کی مختلف اقسام بیک وقت وجود میں نہیں آئیں بلکہ مختلف اقسام مختلف وقتوں میں پائی گئی ہیں۔نیز یہ ایک خاص طرح کی زمانی ترتیب ہے۔یعنی زندگی کی سادہ اقسام پہلے اور پیچیدہ اقسام اس کے بعد۔مگر یہ بات آج بھی قطعی طور پر غیر ثابت شدہ ہے کہ زیادہ پیچیدہ اور بامعنی اقسام دراصل پچھلے زمانہ کی سادہ اقسام حیات ہی کی ترقی یافتہ صورتیں ہیں جو مادی عمل کے نتیجہ میں ان کے اندر سے خود بخود وجود میں آگئیں۔پہلی بات تو بلاشبہ مشاہدہ سے اخذ کی گئی ہیں۔مگر یہ دوسری بات قطعی طور پر علماء ارتقاء کا اپنا مفروضہ ہے جس کی بنیاد نہ حقیقۃً کسی مشاہدہ پر ہے اور نہ کسی بھی درجہ میں اس کو (demonstrate) کیا جاسکتا ہے۔جب کہ رسل کے استدلال کا جواز اسی دوسرے پہلو کے ثبوت پر موقوف ہے۔
نظریہ ارتقاء کی یہ کمزوری خود ارتقاء پسند علماء تسلیم کرتے ہیں۔مثال کے طور پر سر آرتھر کیتھ نے کہا ہے:
Evolution is unproved and unprovable. We believe it only because the only alternative is special creation, and that is unthinkable.
اسی لئے ارتقاء کے مسئلہ کو دو اجزاء میں تقسیم کیا گیا ہے۔ایک نظریہ ارتقاء اور دوسرے سبب ارتقاء۔کہا جاتا ہے کہ نظریہ ارتقاء تو یقینی ہے۔البتہ سبب ارتقاء ابھی تک لامعلوم ہے۔اس تقسیم کو ہم زیادہ بہتر طور پر نظریہ ارتقاء ،دلیل ارتقاء کے الفاظ میں بیان کرسکتے ہیں۔کیونکہ جب تک اسباب معلوم نہ ہوں۔ایک نظریہ یقینی کیسے ہوجائے گا۔گویا نظریہ ارتقاء ایک ایسا نظریہ ہے جس کی دلیل تو ابھی دریافت نہیں ہوئی مگر اس کے باوجود ارتقاء پسند علماء کے نزدیک ثابت شدہ نظریہ کے طور پر تسلیم کرلیا گیا ہے۔۔۔ایسا کمزور نظریہ کے حوالہ سے یہ کہنا کہ اس نے مذہب کے استدلال کو برباد کردیا ہے کس قدر بےبنیاد بات ہے۔
دوسرے یہ کہ بالفرض انواع حیات ارتقاء کے عمل ہی کے تحت وجود میں آئی ہوں،جب بھی اس سے رسل کا دعویٰ ثابت نہیں ہوتا،کیونکہ رسل کے دعویٰ کو صحیح ماننے کے لئے مفروضہ کو ماننا بھی ضروری ہے کہ خدا کوئی ایسا ہی وجود ہوسکتا ہے جو یکا یک پھونک مار کر پیدا کردیا کرے۔اس کا طریق تخلیق یہ نہیں ہوسکتا کہ وہ لمبی مدت کے اندر کسی چیز کو وجود بخشے۔حالانکہ نہ صرف یہ کہ اس مفروضہ کے لئے کوئی بنیاد موجود نہیں ہے،بلکہ اس سے خود خدا کی قدرت مطلقہ کی نفی بھی نہیں ہوتی۔
انسان ہمیشہ سے یہ مانتا رہا ہے کہ درخت اور انسان کو پیدا کرنے والا قادر مطلق خدا ہے۔مگر یہ مشاہدہ اس کے اس عقیدہ کو متزلزل کرنے والا ثابت نہ ہوسکا کہ بچہ چالیس برس میں پورا انسان بنتا ہے اور درخت آدھی صدی اور ایک صدی میں مکمل ہوتا ہے۔خدا کی قدرت کاملہ پر ایمان لانے کے لئے اس نے کبھی ضروری نہیں سمجھا کہ درخت اور انسان یکا یک پورے درخت اور پورے انسان کی شکل میں ظاہر ہوجایا کریں۔اسی طرح اگر آئندہ کوئی تحقیق یہ ثابت کرے کہ زندگی کے مظاہر اچانک دنیا میں وجود نہیں ہوگئے ہیں بلکہ لمبے ارتقائی عمل سے گزرنے کے بعد وجود میں آئے ہیں تو ا س میں مذہب پر نظر ثانی یا اس کی تردید کا سوال آخر کس لئے پیدا ہوجائے گا۔
آخری بات
برٹرینڈ رسل کا مذکورہ بالا بیان ایک ملحد کی زبان سے مذہب کی اصولی صداقت کا اعتراف ہے۔وہ تسلیم کرتا ہے کہ کائنات میں ڈیزائن ہے۔اسے یہ بھی تسلیم ہے کہ ڈیزائن سے ڈیزائنر کا وجود ثابت کیا جاسکتا ہے۔ مگر جب وہ اس کو نہ ماننے کے لئے ڈارونزم کا حوالہ دیتا ہے تو گویا وہ نہایت کمزور بنیاد پر خود اپنے تسلیم شدہ مقدمہ کو رد کررہا ہے،کیونکہ ڈیزائن کا وجود تو متفقہ طور پر ایک ثابت شدہ حقیقت ہے۔مگر ڈارونزم کوئی ثابت شدہ حقیقت نہیں۔اس کا یہ پہلو یقینی طور پر اب بھی مفروضہ ہے کہ مادی عوامل سے انواع حیات میں بامعنی “ڈیزائن” پیدا ہوجاتا ہے۔اس لئے ڈیزائن کے واقعہ کی بنیاد پر ڈیزائنر کے حق میں استدلال تو خود رسل کے اعتراف کے مطابق صحیح ہے۔مگر ڈارونزم ابھی اس قابل نہیں ہوسکا ہے کہ اس کی بنیاد پر کوئی رسل اس دلیل کو رد کردے۔

مذہب کیخلاف جدید سائنسی مقدمہ اور پسند نا پسند کا اثر

دھٹکر چیمبرز نے اپنی کتاب شہادت میں اپنے ایک واقعہ کا ذکر کیا ہے جو بلا شبہ اس کی زندگی کے لئے ایک نقطہ انقلاب بن سکتا تھا وہ اپنی چھوٹی بچی کی طرف دیکھ رہا تھا کہ اس کی نظر بچی کے کام پر جا پڑی اور غیر شعوری طور پر وہ اس کی ساخت کی طرف متوجہ ہو گیا اس نے اپنے جی میں سوچا یہ کتنی غیر ممکن بات ہے کہ ایسی پیچیدہ اور نازک چیز محض اتفاق سے وجود میں آجائے یقیناً یہ پہلے سے سوچئ سمجھے نقشے کے تحت ہی ممکن ہوئی ہو گی مگر اس نے جلد ہی اس خیال کو اپنے ذہن سے نکال دیا کیونکہ اسے احساس ہوا کہ اگر وہ اس کو ایک منصوبہ مان لے تو اس کا منطقی نتیجہ یہ ہو گا کہ اسے منصوبہ سا ز (خدا) کو بھی ماننا ہو گا اور یہ ایک ایسا تصور تھا جسے قبول کرنے کیلئے اس کا ذہن آمادہ نہیں تھا۔
اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے ٹامس ڈیوڈ پارکس لکھتا ہے۔
” میں اپنے پروفیسروں اور ریسرچ کے سلسلے میں اپنے رفقاء کار میں بہت سے سائنسدانوں کے بارے میں جانتا ہوں کہ علم کیمیا اور طبعیات کے مطالعہ و تجربہ کے دوران میں انہیں بھی متعد و مرتبہ اس طرح کے احساسات سے دو چار ہونا پڑا“۔
)The evidence of God in an expanding Universe Edited by john clover monsma p.73-74 (
کس قدر حیرت انگیز بات ہے کہ ایک ایسا موڈ جو خدا کی رہنمائی کی طرف اشارہ کرتا ہے وہیں سےآدمی الٹی سمت میں مڑجاتا ہے۔ ظاہر ہے اس کی وجہ کوئی علمی دریافت نہیں بلکہ محض ذاتی پسند کو فوقیت دینا ہے.
نظریہ ارتقا کی مثال ہمارے سامنے ہے ، اس کا تصور یک طرفہ تمام علمی شعبوں پر چھاپا جارہا ہے ہر وہ مسئلہ جس کو سمجھنے کے لئے خدا کی ضرورت تھی اس کی جگہ بے تکلف ارتقا کا ایک خو بصورت بت بنا کر رکھ دیا گیا ہے مگر دوسری طرف عضویاتی ارتقا کا نظریہ جس سے تمام ارتقائی تصورات اخذ کئے گئے ہیں اب تک بے مشاہد اور بے دلیل ہے حتی کہ بعض ریسرچرز نے صاف طور پر کہہ دیا ہے کہ اس تصور کو ہم صرف اس لئے مانتے ہیں کہ اس کا کوئی بدل ہمارے پاس موجود نہیں ہے ، سر آرتھ کیتھ نے ۱۹۵۳ء میں کہا تھا۔
“Evolution is unproved and unprovable We believe it only because the only alternative is special creation and that is unthinkable”
Islamic Thought, dec 1961)
یعنی ارتقاء ایک غیر ثابت شدہ نظریہ ہے اور وہ ثابت بھی نہیں کیا جاسکتا ہم اس پر صرف اس لئے یقین کرتے ہیں کہ اس کا واحد بدل تخلیق کا عقیدہ ہے جو سائنسی طور پر ناقابل فہم ہے۔ گویا سائنسداں ارتقاء کے نظریے کی صداقت پر صرف اس لئے متفق ہو گئے ہیں کہ اگر وہ اسے چھوڑ دیں تو لازمی طور پر انہیں خدا کے تصور پر ایمان لانا پڑے گا۔
ظاہر ہے کہ جو لوگ مادی طرز تعبیر کے حق میں اس قسم کے تعصبات رکھتے ہوں وہ انتہائی کھلے ہوئے واقعات سے بھی کوئی سبق نہیں لے سکتے تھے اور ہمیں اعتراف ہے کہ ایسے لوگوں کو مطمئن کرنا ہمارے بس سے باہر ہے۔
اس تعصب کی بھی ایک خاص وجہ یہ بھی ہے بقول ایک امریکی عالم طبعیات :
”خدا پرستی کی معقولیت اور انکا ر خدا کا پھسپھا پن بجائے خود ایک آدمی کے لئے عملاً خدا پر ستی اختیار کرنے کا سبب نہیں بن سکتا لوگوں کے دل میں یہ شبہ چھپا ہوا ہے کہ خدا کو ماننے کے بعد آزادی کا خاتمہ ہو جائے گا وہ علماء جو ذہنی آزادی کو دل و جان سے پسند کرتے ہیں آزدی کی محدودیت کا کوئی بھی تصور ان کے لئے وحشتناک ہے “۔
The Evidence Of God p.130
چنانچہ جو لین ہکسلے نے نبوت کے تصور کو نا قابل برداشت اظہار برتری قرار دیا ہے کیونکہ کسی کو نبی ماننے کا مطلب یہ ہے کہ اس کویہ حیثیت دی جائے کہ اس کی بات خدا کی بات ہے اور اس کو حق ہے کہ وہ جو کچھ کہے تمام لوگ اس کو قبول کر لیں۔ لیکن جب انسان کی حیثیت یہی ہے کہ وہ خالق نہیں مخلوق ہے وہ خدا نہیں بلکہ خدا کا بندہ ہے تو اس صورت واقعہ کو کسی خود ساختہ تصور کی بنا پر ختم نہیں کیا جاسکتا۔ ہم حقیقت کو بدل نہیں سکتے ہم صرف اس کا اعتراف کر سکتے ہیں۔ ۔اگر تو انسان بالکل کسی کی اظہار برتری کو خاطر میں نا لاتا ہو پھر تو اس معاملے میں یہ کہا جاسکتا تھا کہ ہم صرف انکی برتری کو قبول کیوں کریں، جب قوانین کو قبول کرنا ہی پڑتا ہے تو بہترین عقلمندی یہ ہے کہ جو حقیقت ہے اور سچ ہے اسے مان لیں، نہ کہ چند حیلوں سے اس کا انکار کر دیں۔ حقیقت کا انکار کرکے آدمی صرف اپنا نقصان کرتا ہے وہ حقیقت کا کچھ نہیں بگاڑتا۔
یہ امر واقعہ ہے کہ سائنس کا آخری حقیقت کے پتہ لگانے میں بے بسی کے واضح ہوجائے کے باوجود ، عملی طور پر منکرین خدا کے ذہن میں کوئی نمایاں فرق پیدا نہیں ہوا.بلکہ اس کے برعکس انکارخدا کے وکیل نئے نئے ڈھنگ سے اپنے دلائل کو ترتیب دینے میں لگے ہوئے ہیں . تاریخ بے شمار مثالوں سے بھری ہوئی ہےکہ حقیقت ظاہر ہوجانے کے باوجود انسان نے محض اس لئے اس کو قبول نہیں کیا کہ تعصب اس کی اجازت نہیں دیتا تھا. یہی تعصب تھا جب انیسویں صدی کے آخر میں برلن کے پروفیسر ماکس پلانگ نے روشنی کے متعلق بعض ایسی تشریحات پیش کیں جو کائنات کے نیوٹنی تصور کو غلط ثابت کر رہی تھیں تو وقت کے ماہرین نے اس کو تسلیم نہیں کیا اور عرصہ تک اس کا مذاق اڑاتے رہے.حالانکہ آج وہ کو انٹم تھیوری کی صورت میں علم طبیعات کے اہم اصولوں میں شمار کیا جاتا ہے. اگر کسی کا یہ خیال ہے کہ تعصب دوسرے لوگوں میں تو ہوسکتا ہے مگر سائنس دانوں میں نہیں ہوتا،تو اس میں ایک سائنس دان کا قول یاد دلاؤں گا ۔ڈاکٹر ہلز (A.V. Hills) لکھتے ہیں
I should be the last claim that we scienctific men, are less liableto prejudice than other educated men. Quoted by A.N Gilkes, Faith for modren man,p.109
یہ میں آخری شخص ہوں جو اس بات کا دعوی کرتا ہوں گا کہ ہم سائنس دان دوسرے تعلیم یافتہ لوگوں کے مقابلہ کم تعصب رکھنے والے ہوتے ہیں . اب ایک ایسی دنیا کی کار فرمائی ہو،یہ امید کیسی کی جاسکتی ہے کہ کوئی تصور محض اس لیے قبول کرلیا جائے کہ وہ علمی طور پر ثابت ہوگیا ہے .
تاریخ کا طویل تجربہ ہے کہ انسان کے رہنما اس کے جذبات رہے ہیں ، نہ کہ اس کی عقل . اگرچہ علمی اور منطقی طور پر عقل ہی کو بلند مقام حاصل ہے .مگر زیادہ تر ایسا ہوا ہے کہ عقل خود جذبات کی آلہ کار ررہی ہو. بہت کم ایسا ہوا کہ وہ جذبات کو اپنے قابو میں کر سکی ہو. عقل نے ہمیشہ جذبات کے حقائق میں دلائل تراشے ہیں . اور اسی طرح اپنے جذباتی رویہ کو عقلی رویہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے ،خواہ حقیقت واقعہ انسان کا ساتھ نہ دے مگر جذبات سے لپٹا رہنا وہ اپنے لئے ضروری سمجھتا ہے . ہم کو یاد رکھنا چاہئے کہ ہمارا معاملہ کسی مشین سے نہیں جو بٹن دبانے کے بعد لازما اس کے مطابق عمل ظاہر کرتی ہے ، بلکہ ہمارا مخاطب انسان ہے اور اس وقت کسی بات کو مانتا ہے جب وہ خود بھی ماننا چاہے. اگر وہ خود ماننا نہ چاہتا ہو تو کوئی دلیل محض دلیل ہونے کی حیثیت سے اسے قائل نہیں کرسکتی . دلیل کو برقی بٹن (electric switch ) کا قائم مقام نہیں بنایا جا سکتا . اور بلا شبہ انسانی تاریخ کی یہ سب سے بڑی ٹریجڈی ہے.

فطرت انسانی کے سوالات اور فلسفہ اور سائنس کی بے بسی

جدید سائنس نے کائنات کی جو تصویر بنائی ہے وہ ایک حد درجہ محکم اور منظم کائنات ہے۔ اس سے اولاً یہ قیاس کیا گیا کہ یہ ایک قسم کا مشینی نظام ہے جو اسباب و علل کے زور پر اپنے آپ چل رہا ہے لیکن گہرے مطالعہ نے اس مفروضہ کو بے بنیاد ثابت کر دیا۔ معلوم ہوا کہ کائنات کا نظام محکم ہونے کے ساتھ ساتھ مکمل طور پر غیر مشینی ہے۔ وہ ہر آن ایک محرک اور منتظم کی طلب کرتا ہے۔ اسی طرح معلومات کے اضافہ سے یہ فرض کر لیا گیا کہ انسان کا اپنا علم ہی ساری حقیقتوں کو جاننے کیلئے کافی ہو جائے گا ، وحی الہام کا سہارا لینے کی ضرورت نہ ہو گی۔ مگر تحقیق نے اس کو بھی بے بنیاد ثابت کر دیا ۔ معلوم ہوا کہ کائنات کے کلی علم تک پہنچنے کے لئے انسانی علوم اور صلاحیتیں فیصلہ کن طور پر نا کافی ہیں۔فطرت انسانی کے سوالات کے جواب کے لیے ہمارے لئے خارجی معلم کا سہارا لینے کے سوا کوئی چارا نہیں۔
جدید مطالعہ سے یہ بات بھی ثابت ہوئی ہے کہ مذہب کا جذبہ انسان کا فطری جذبہ ہے، کسی طرح اس کو انسان سے جدا نہیں کیا جاسکتا۔ کائنات اور اسکے قوانین کی اصل توجیہہ ، آغاز وانجام عالم کے متعلق انسانی عقل کے معرکہ آرا سوالات کا تسلی بخش جواب سائنس اور فلسفہ کے بس کی بات ہی نہیں ۔ اسکا جواب صرف مذہب ہی دے سکتا ھے کہ اس کی نگہ بصیرت پرمحسوسات و غیر محسوسات کے سب اسرار پہناں ظاہر ،ہستی و عدم کی سب تفصیلات عیاں اور ماضی اور مستقبل کا ہر جز روشن ہے۔اس کی نظر اس عالم غیب کے کاروبار کو بھی اس یقین و اعتبار سے دیکھ پاتی ہے۔جس طرح وہ اس دنیائے شہادت کے نظارہ ہاے نوبہ اور جلوہ ہاے رنگ بہ رنگ سے مزہ لیتی ہے۔

فطری جذبے کی تسکین کے لیے فطری مذہب کی ضرورت۔!

لیکن صرف کوئی سا مذہب ہونا بھی کافی نہیں ۔ انگلس جس کا گزشتہ ایک تحریر میں ہم نے حوالہ دیا تھااس کو دنیا ایک ملحد انسان کی حیثیت سے جانتی ہے، اس کا الحاد اس کے غلط ماحول کا ردعمل تھا جو بہت بعد کو اس کی زندگی میں ظاہر ہوا،اس کی ابتدائی زندگی مذہبی ماحول میں گزری مگر جب وہ بڑا ہوا اور نظر میں گہرائی پیدا ہوئی تو اپنے عیسائی مذہب کی متضاد تعلیمات سے بے اطمینانی پیدا ہوگئی،اپنے اس دور کا حال وہ ایک دوست کے خط میں اس طرح لکھتا ہے:“میں ہرروز دعا کرتا ہوں اور تمام دن یہی دعا کرتا رہتا ہوں کہ مجھ پر حقیقت آشکار ہوجائے جب سے میرے دل میں شکوک پیدا ہوئے ہیں یہی دعا کرنا میرا مشغلہ ہے،میں تمہارے عقیدے کو قبول نہیں کرسکتا،میں یہ سطریں لکھ رہا ہوں اور میرا دل آنسوؤں سے امڈا چلا آرہا ہے،میری آنکھیں رو رہی ہیں لیکن مجھے یہ احساس ہورہا ہے کہ میں راندہ درگاہ نہیں ہوں،مجھے امید ہے کہ میں خدا تک پہنچ جاؤں گا جس کے دیدار کا میں دل و جان سے متمنی ہوں، اور مجھے اپنی جان کی قسم! یہ میری جستجو اور عشق کیا ہے،یہ روح القدس کی جھلک ہے،اگر انجیل مقدس دس ہزار مرتبہ بھی اس کی تردید کرے تو میں نہیں مان سکتا۔”
یہ وہی حقیقت کی تلاش کا فطری جذبہ ہے جو نوجوان انکلس میں ابھرا تھا،مگر اس کو تسکین نہ مل سکی اور مروجہ مسیحی مذہب سے غیرمطمئن ہو کر وہ معاشی اور سیاسی فلسفوں میں گم ہوگیا۔
اس طلب کی حقیقت یہ ہے کہ انسان کی فطرت میں ایک خالق اور مالک کا شعور پیدائشی طور پر پیوست ہے،وہ اس کے لاشعور کا ایک لازمی جزو ہے،”خدا میرا خالق ہے،اور میں اس کا بندہ ہوں”یہ ایک خاموش عہد ہے جو ہر شخص اول روز سے اپنے ساتھ لے کر اس دنیا میں آتا ہے،ایک پیدا کرنے والے آقا و محسن کا تصور غیر محسوس طور پر اس کی رگوں میں دوڑتا رہتا ہے، اس کے بغیر وہ اپنے اندر عظیم خلا محسوس کرتا ہے،اس کی روح اندر سے زور کرتی ہے کہ جس مالک نے اسے پیدا کیا ،اسے پالے،اس سے لپٹ جائے اور اپنا سب کچھ اس کے حوالے کرے۔ ہر شخص اپنے اندر یہ خواہش رکھنے پر مجبور ہے کہ کوئی ہو جس کے آگے وہ اپنے بہترین جذبات کو نذرکردے۔
خدا کی معرفت ملنا گویا اس جذبے کے صحیح مرجع کو پالینا ہے،اور جو لوگ خدا کو نہیں پاتے ان کے جذبات کسی دوسری مصنوعی چیز کی طرف مائل ہوجاتے ہیں، یہ جذبہ چونکہ ایک فطری جذبہ ہے،اس لئے ابتداًء وہ ہمیشہ فطری شکل میں ابھرتا ہے،اس کا پہلا رخ اپنے اصلی معبود کی طرف ہوتا ہے،مگر حالات اور ماحول کی خرابیاں اس کو غلط سمت میں موڑدیتی ہیں،اور کچھ دنوں کے بعد جب آدمی ایک مخصوص زندگی سے مانوس ہوجاتا ہے تو اس میں اس کو لذت ملنے لگتی ہے۔
مشہور فلسفی برٹررنیڈرسل اپنے بچپن میں ایک کٹر مذہبی آدمی تھا،وہ باقاعدہ عبادت کرتا تھا، لیکن جب رسل تیرہ برس کی عمر کو پہنچا تو اس کی عبادت چھوٹ گئی اور مذہبی روایات اور پرانی قدروں سے باغیانہ ماحول کے اندر رہنے کی وجہ سے خود اس کے اندر بھی ان چیزوں سے بغاوت کے رحجانات ابھرنے لگے،اور اب وہ ایک ملحد انسان تھا جس کی محبوب ترین چیزیں ریاضی اور فلسفہ تھیں ،1959ء کا واقعہ ہے،بی بی سی لندن پر ایک بات چیت پروگرام میں فری مین نے رسل سے پوچھا “کیاآپ نے مجموعی طور پر ریاضی اور فلسفے کے شوق کو مذہبی جذبات کا نعم البدل پایا ہے؟” رسل نے جواب دیا”جی ہاں” یقیناً میں چالیس برس کی عمر تک اس اطمینان سے ہم کنار ہوگیا تھا،جس کے متعلق افلاطون نے کہا ہے کہ آپ ریاضی سے حاصل کرسکتے ہیں،یہ ایک ابدی دنیا تھی وقت کی قید سے آزاد دنیا،مجھے یہاں مذہب سے ملتا جلتا ایک سکو ن نصیب ہوگیا۔”
برطانیہ کے اس عظیم مفکر نے خدا کو اپنا معبود بنانے سے انکار کردیا مگر معبود کی ضرورت سے پھر بھی وہ بے نیاز نہ رہ سکا،اور جس مقام پر پہلے اس نے خدا کو بیٹھا رکھا تھا،وہاں ریاضی اور فلسفے کو بٹھانا پڑا،اور صرف یہی نہیں بلکہ ریاضی اور فلسفے کے لئے وہ صفات بھی تسلیم کرنے پڑیں جو صرف خدا ہی کی صفت ہوسکتی ہے۔ابدیت اور وقت کی قید سے آزادی ! کیونکہ اسکے بغیر اسے مذہب سے ملتا جلتا وہ سکون نہیں مل سکتا تھا جو دراصل اس کی فطرت تلاش کررہی تھی۔
اس قسم کے واقعات ہرسال اور ہر روز ساری دنیا میں ہوتے ہیں،لاکھوں ایسے لوگ جو خدا کو نہیں مانتے اور پرستش کو بے معنی سمجھتے ہیں وہ اپنے خود ساختہ بتوں کے آگے جھک کر اپنے اندرونی جذبہِ عبودیت کو تسکین دیتے ہیں یہ حقیقت ہے کہ “الہٰ” انسان کی ایک فطری ضرورت ہے اور یہی اس کا ثبوت ہے کہ وہ حقیقی ہے،انسان اگر خدا کے سامنے نہ جھکے تو اس کو دوسرے الہٰوں کے سامنے جھکنا پڑے گا کیونکہ”الہٰ” کے بغیر اس کی فطرت اپنے خلا کو پُر نہیں کرسکتی۔
مگر بات صرف اتنی نہیں ہے،اس سے آگے بڑھ کر میں کہتا ہوں کہ جو لوگ خدا کے سوا کسی اور کو اپنا معبود بناتے ہیں،وہ ٹھیک اسی طرح حقیقی سکون سے محروم رہتے ہیں جیسے کوئی بھی بچے کی ماں پلاسٹک کر گڑیا خرید کر بغل میں دبالے اور اس سے تسکین حاصل کرنا چاہے،ایک ملحد انسان خواہ وہ کتنا ہی کامیاب کیوں نہ ہو،اس کی زندگی میں ایسے لمحات آتے ہیں جب وہ سوچنے پر مجبور ہوتا ہے کہ حقیقت اس کے سوا اور ہے جو میں پائی ہے۔

دین فطرت کی پہچان کیسے؟
سچے مذاہب کو جھوٹے مذاہب سے جدا کرنے کا عام اور سادہ معیار یہ ہے کہ اسے انسانی فطرت پر پیش کرنا چاہیے اور دیکھنا چاہیے کہ اس مذہب کی تعلیمات کو ماننے کے لیے ہماری فطرت کس حد تک تیا ر ہے؟ اگر عقل و فطرت میں اس کو ماننے کی گنجایش ہے تو یہی مذہب “دین الفطرۃ” ہے اور جس مذہب کی تعلیمات اور نظریات کو ایک سلیم فطرت اور معقول عقل قبول نہیں کرتی تو اس مذہب کے بطلان کی یہی دلیل ھے۔لاروس(فرانسیی) نے مذہب کے متعلق یہ لکھا تھا کہ“مذہب آتا ہے اور کہتا ہے کہ گردن ڈال دو،کس کے آگے؟کیا عقل کے آگے؟فطری خواہش کے آگے؟ احساسات اندرونی کے آگے؟”
کاش اسے معلوم ہوتا کہ دنیا کا جو فطری مذہب ہے وہ ان تمام سوالات کے جواب میں “ہاں” کے بجائے”نہیں” کا اعلان کرتا ھے اور اسی کو اپنی صداقت کی دلیل قرار دیتا ہے اس نے اپنا نام ہی “دین فطرت” رکھا ہے اور وہ ہمیشہ اپنی تعلیم کو پیشں کرنے کے بعد عقل انسانی کو جگاتا ہے اور اعلان کرتا ہے کہ تمہاری عقل جس حد تک گہری اور فطرت بیدار ہوتی جائے گی ، مذہبی امور کے ماننے کی صلاحیت بھی تم میں بڑھتی جاے گی۔ اس نے اپنا فرض ہی یہ ٹھہرا یا ہے کہ لوگ اپنی فطرت کے نقطے سے ہٹ کر جس طرح غیر فطری زندگی بسر کر رہے ہیں، غیر فطری احساسات اور معلومات میں الجھ کر پریشان ہو رہے ہیں، ان کو فطری نقطے تک لایا جاے، جہاں انکی روح غذا پائے ۔ یہی اس کا حقیقی کام ہے۔ قرآن اسی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
ترجمہ : “لیکن ظالم لوگ کسی علم کے بغیر اپنی خواہشات کے پیچھے چل پڑے ہیں۔ اب اس شخص کو کون ہدایت دے سکت ہے جسے (اسکی ضد اور ہٹ دھرمی کے نتیجے میں )اللہ نے ہدایت کی توفیق نہ دی ہو، اورایسے لوگوں کا کوئی مددگار نہیں ہوگا (29) لہذا تم یکسو ہو کر اپنا رخ اس دین کی طرف قائم رکھو ، اللہ کی بنائی ہوئی اس فطرت پر چلو جس پر اس نے تمام لوگوں کو پیداکیا ہے(خالق و مالک کو پہچاننے اور اسکی عبادت کی فطرت)۔ اللہ کی تخلیق میں کوئی تبدیلی نہیں لائی جاسکتی (یعنی اس فطرت کو ختم نہیں کیا جاسکتا )۔یہی بالکل سیدھا راستہ ہے ، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے”۔ (سورت الروم آیت 29، 30، پارہ اکیس)
ہمیں اس وقت دنیا کے دوسرے مذاہب سے بحث نہیں لیکن محمد رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے وحی کے ذریعے سے جو معلومات انسانی بستیوں میں تقسیم فرمائی ہیں اور جو چیزیں ہم تک پہنچائی ہیں اس کا ایک ایک جز ایک ایک مسئلہ اس فطرتی معیار پر اترتا ہے۔ تفصیل کے لیے ہماری یہ تحریر ملاحطہ فرمائیں۔

استفادہ تحریر
الدین القیم از مولانا مناظر احسن گیلانی
مذہب فلسفہ اور سائنس از شہاب الدین ندوی
مذہب اور سائنس از وحید الدین خان
مذہب اور جدید چیلنج از وحید الدین خان
تحاریر:حامد کمال الدین، محمد بن مالک، مجیب الحق حقی، مزمل شیخ بسمل، عظیم الرحمان عثمانی

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *