مولانا دریابادی کے سفر دہریت کی داستان

۔

پیدائش مذہبی گھرانے میں ہوئی ، ماں اور بڑی بہن تہجد گزار، والد صوم صلاۃ کے پابند،  دادا مفتی  اورنانا ایک مشہور عالم ، گھر میں   دینی تربیت  کا  ماحول تھااس کے علاوہ ایک مولوی صاحب بھی  پڑھانے آتے ، بارہ تیرہ سال کی عمر میں تو گویا پورے ملا بن گئے تھے، نویں جماعت میں تھے  قرآن کے موضوع پر  ایک مضمون تیار کر کے صوبے کے سب سے بڑے اخبار”اودھ اخبار”میں بھیج دیا ۔ مضمون پرچہ کی زینت بنا  اور یہاں سے  ان کی ادبی زندگی کا آغاز ہو گیا ۔کالج کے لئے انہیں کیتگ کالج لکھنؤ میں داخل کرایا گیا۔ اختیاری مضامین کے طور پر منطق ، تاریخ اور عربی لئے۔یہ وہ مضامین تھے جن میں ان کی اہلیت کالج کے معیار سے کہیں زیادہ تھی۔انگریزی لازمی مضمون تھا  لیکن اس مضمون میں بھی  کوئی   پریشانی نہ ہوئی ایک تو  اس سے طبعی مناسبت تھی دوسرا انگریزی اخبار و جرائد مطالعے میں  بھی رہا کرتے تھے ۔

ایک روز شام کی سیر  کے دوران نگاہ “رفاہ عام لائبریری “پر پڑی ،  قدم لائبریری کی جانب اٹھ گئے ۔اندر کتابو ں کا بازار نظر آیا،  ایک  کتاب نکلوائی اور پڑھنے بیٹھ گئے ،  اس دن کے بعد جب  بھی  سیر کو نکلتے تو  یہیں کتابوں کی سیر کرتے رہتے۔مطالعہ کی کثرت نے ان کے اندر کے ادیب کو بیدار کرنا شروع کر دیا تھا ۔کالج کے ابتدائی سال تھے عمر نا پختہ تھی مگر کتابوں کے شغف نے اتنی معلومات فراہم کر دی تھی کہ تصنیف و تالیف کی جانب مائل ہو گئے۔ “محمود غزنوی ” پر مفصل مقالہ لکھ ڈالا  ،اس مقالہ میں تاریخ یمنی سے استفادہ کرتے ہوئے یہ بتایا کہ غزنوی پر بخل کا الزام لغو ہیں یہی کام مولانا  شبلی بھی انہی دنوں کر رہے تھے کہ فرزندان اسلام پر مغرب کے  لگائے گئے الزامات کی تردید تاریخی حوالوں سے کر رہے تھے۔ کتاب ایک پبلشر نے شائع کر کے ان  کا نام بھی مصنفوں کی فہرست میں ڈال دیا، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان  کے تعلقات دیگر اہم ادیبوں سے بھی استوار ہوتے چلے گئے۔

ایک دن  اک عزیز کے پاس ا یک انگلش کتاب  محض اتفاقا  دیکھنے میں آئی ، ہر چیز کے پڑھنے اور پڑھ ڈالنے کا مرض تو شروع ہی سے تھا، بے تکان اس کتاب کو بھی پڑھنا شروع کردیا، جوں جوں آگے بڑھتے گئے ، گویا اک نیا عالم عقلیات کا کھلتا گیا اور عقائد و اخلاق کی پوری پرانی دنیا جیسے زیروزبر ہوتی چلی گئی!۔۔Element  of  Social Science کتاب کا نام تھااور مصنف ڈاکٹر ڈریسیڈیل جس کے بارے میں بعد میں پتا چلا کہ یہ  اپنے وقت کا ایک کٹر ملحد تھا۔  کتاب مذہب پر نہ تھی اور نہ بظاہر اسکا کوئی تعلق  ابطال مذہب سے تھا ، اصول معاشرت اور آداب معاشرت پر تھی ، لیکن ایک بارود بچھی ہوئی سرنگ تھی ۔اس کا اصل حدف وہ  اخلاقی بندشیں تھیں جنہیں مذہب اب تک علوم متعارفہ کے طو ر پر پکڑے ہوئے تھااور ان پر اپنے احکام کی بنیاد رکھے ہوئے تھا۔مثلاً عفت و عصمت، کتاب کا اصل حملہ انہی  بنیادی اخلاقی عقائد پر تھا۔۔کتاب کے مطابق یہ جنسی خواہش تو جسم کا ایک طبعی مطالبہ ہے اسے مٹاتے رہنا اور اس کے لئے باضابطہ عقد کا منتظر رہنا ایک فعل عبث ہے،بلکہ صحت اور جنسی قوتوں کی بالیدگی کے لئے سخت مضر ہے۔اس لئے ایسی پابندیوں کو توڑ ڈالو اور مذہب و اخلاق کے گڑھے ہوئے ضابطہ زندگی کو اپنے پیروں سے روند ڈالو۔ایسے ہی  کتاب کی زد ہر ایسی قدر پر  پڑتی جو مذہب اور اخلاق کو ہمیشہ عزیز  رہے ۔ کوئی پختہ کار مرد ہوتا تو وہ ان باتوں کو محض باتیں سمجھ کر نظر انداز کر دیتا مگر  یہ  سولہ سال کا نوجوان طفل نادان تھا اس سیلاب کی تاب نہ لا سکا۔ مذہب کی حمایت و نصرت میں اب تک جو قوت جمع تھی ، وہ اتنی شدید بمباری کی تاب نہ لاسکی اور شک و بدگمانی کی تخم ریزی مذہب و اخلاقیات کے خلاف خاصی ہوگئی۔ یہ سوچنے لگ گئے کہ  اب تک کس دھوکے میں پڑے رہے، تقلیدا ابتک جن چیزوں کو جزو ایمان بنائے ہوئے تھے  وہ عقل و تنقید کی روشنی میں کیسی بودی ، کمزور اور بے حقیقت نکلیں،اس کتاب میں “ایمان” پر براہ راست حملہ نہیں کیا گیا تھا مگر ان چیزوں کو کمزور بنا دیا گیا تھا جو ایمان کو قائم رکھتی ہیں۔پروپیگنڈے میں  یہی   کوشش کی جاتی ہے  کہ براہ راست حملہ نہ ہو بلکہ اطراف و جوانب سے گولہ باری کرکے قلعے کی حالت مخدوش کردی جائے ۔ عبد الماجدا بھی اس کتاب کو پڑھ کر پوری طرح گرے نہیں تھے مگر سنبھل بھی نہ سکے تھے ۔

 یہ ایک نیا موضوع تھا جو اب تک ان کی نظر سے نہیں گذرا تھا ۔ شک  وراتباب کی تخم ریزی ہوہی چکی تھی اور  ملحد اور نیم ملحد فلسفیوں کی  انگریزی میں کمی نہیں تھی ۔ لکھنؤ کی “ورما لائبریری “ قریب ہی تھی  ، وہاں سے چارلس بریڈلا، بوشنر، انگرسول، ہیوم، اسپنر  کی کتابیں پڑھنے کو  ملتی رہیں اور  تشکیک کو غذا اور الحاد کو خوب تقویت پہنچتی رہی ۔ ایک ضخیم کتاب   جو کئی جلدوں پر مشتمل تھی   International Library of Famous Literature  کے نام سے دکھائی ، یہ کتاب بھی مذہبیات کی نہیں ادب محاضرہ  کی  تھی ، ساری دنیا کے ادبیات کے بہترین انتخابات کو اس  میں جمع کیا گیا تھا،  اس کی ایک پوری    جلد قرآن اور اسلام کےذکر پر مشتمل تھی  ۔اس میں ایک پورے صفحے کا فوٹو “بانی اسلام” کے نام سے شامل کیا گیا تھا  اور نیچے مستند حوالہ کہ فلاں قلمی تصویر کا عکس ہے ‘درج کیا گیا تھا، گویا ہر طرح سے صحیح و معتبر ۔ جسم پر عبا،  سرپر عمامہ اور چہرہ مہرہ پر بجائے  کسی قسم کی نرمی کے غصیلہ پن، تیوروں پر خشونت کے بل پڑے  ہوئے، ہاتھ میں کمان، شانہ پر ترکش ، کمر میں تلوار۔ ۔ گویا تمام تر  ایک ہیبت ناک و جلاد قسم کے بدوی سردار قبیلہ کی  شبیہ ۔ ۔ نوجوانی میں  فرنگیت سے مرعوب ذہنیت اس کا تصور بھی نہیں کرسکتی تھی کہ خود اس فوٹو میں  کوئی جلعسازی بھی ہوسکتی ہے اور انکی کوئی بات غلط بھی ہوسکتی  ہے ۔۔ جو  رہی سہی کسر  تھی  وہ اس تصویر نے نکال دی ، ذات رسالت سے اعتقاد دیکھتے دیکھتے دل سے  مٹ گیا۔رئیسانہ ٹھاٹ کے باوجود ان کی تربیت دینی خطوط پر ہوئی تھی ،آباؤ اجداد سے ایک دینی روایت ساتھ چلی آرہی تھی، لیکن کچھ فائدہ نہ ہوا دین کی آغوش میں پلا بڑھا یہ نوجوان پہلے ، دوسرے حملے میں ہی چت ہوگیا،  گمراہی کے کتنے دروازے ہیں اور شیطان کی آمد کے لئے  کتنے راستے کھلے ہوئے  ہیں، یہ کون جانتا ہے۔۔؟! نماز اب بھلا کہاں باقی رہ سکتی تھی، پہلے وقت سے بے وقت ہوئی، پابندی گئی،  پھر ناغے اور کئی کئی ناغے ہونے لگے، یہاں تک کہ بالکل غائب ہوگئی، وضو، تلاوت، روزہ وغیرہ سے کوئی واسطہ ہی نہ رہا، شروع شروع میں کچھ خوف اور لحاظ والد  کا رہا  لیکن یہ کب تک کام دیتا، جو اسوقت  اللہ اور اسکے رسول سے بغاوت پر آمادہ تھا وہ باپ بیچارے کو کیا خاطر میں لاتا۔

مذہبی مطالعہ اس وقت بھی کچھ ایسا کم نہ تھا  لیکن فرنگی الحاد کے جس سیلاب عظیم سے ٹکراؤ تھااس سے مقابلے کے لئے وہ مطالعہ ہرگز کافی نہ تھا،کفر کے اندھیروں میں اترنا ہی تھا کہ ایسے ہی دوستوں کی تلاش بھی شروع ہوگئی ۔کالج کے ایک ساتھی طالب علم محمد حفیظ سید سے یارانہ بڑھا ۔وہ بھی ملحد ہو چکا تھا اور ہندوانہ تصوف و فلسفے کا گردیدہ تھا۔فرق صرف اتنا تھا کہ عبدالماجد ملحد یا منکر اور حفیظ تین چوتھائی ہندو ۔ملاقاتیں بڑھتی گئیں اور ملحدانہ رنگ چڑھتا گیا۔ دبے دینی کی لے بڑھ رہی تھی ،عبدالماجد نے کسی کے پاس لنکن کی ریشنلسٹ پریس ایسوسی ایشن کی ارزاں قیمت مطبوعات کی فہرست  دیکھی ،  مسلک عقلیت (ریشنلزم ) کے پرچار کے نام سے یہ سب کتابیں رد مذہب و تبلیغ الحاد کے لئے تھیں ، پہلے یہ کتابیں مانگ مانگ کر پڑھیں ، پھر جب لت پڑگئی اور نشہ اور تیز ہوگیا تو فیس ادا کرکے انجمن  کا باضابطہ ممبر بن گئے، فخر سے اپنے آپ کو ریشنلسٹ کہتے اور اپنے اس ننے منے کتب خانے کو دیکھ کر خوش ہوتے۔ہندوستان میں اس  ایسوسی ایشن کی کو ئی شاخ نہیں تھی  اس کے پندرہ روزہ نقیب ‘ ریشنلسٹ ریویو’   کو قیمت بھیج کر اسکے خریدار بن گئے۔ رفتہ رفتہ اب اسلام کے نام سے  بھی شرم آنے لگی۔

اسی دوران علامہ شبلی کی کتاب “الکلام”منظر پر آئی، عبدالماجد نے مطالعہ کیا ۔ان کے مطابق کچھ خامیاں تھیں سو تنقید کے لئے قلم اٹھا لیا ۔ ایک رسالہ”الناظر”جو  لکھنؤ سے شائع ہوا کرتا تھااس کے ایڈیٹر ظفر الملک کو شبلی سے کد تھی ، عبدالماجدکو اس سے بہتر دوسرا کوئی رسالہ دکھائی نہ دیا ۔رسالے نے بھی خوش آمدید کہا۔ عبدالماجدکا ایک طویل مقالہ چھے اقساط میں شائع ہوا۔یہ قسطیں ایک طالب علم کے نام سے شائع کروائیں۔(شبلی سمجھتے رہے کہ یہ کام مولوی عبدالحق کا ہے،مگر یہ راز بعد میں کھل گیا)۔ مختلف مضامین کی ترتیب و تسوید جاری رہی اور اس میں عبدالماجد کی عقل  ہی ان کی امام  اور رہبر تھی۔ جو بھی مذہبی عقیدہ ان کی عقل کے معیا ر پر پورا نہ اترتا وہ بقول عبدالماجد ناقص تھا۔ مضامین میں عبدالماجد کا لہجہ کڑوااور مسموم  ہوتا حتی کہ مذہب و سائنس کے اختلافات کی تفصیل درج کرنے کے بعد یہ نتیجہ نکال لائے کہ مذہب اب چند روزہ مہمان ہے۔ جوں جوں سائنس کی تعلیم عام ہوتی جائے گی اسی نسبت سے مذہب کا اثر بھی زائل ہوتا جائے گا۔ان تمام مضامین کا مقصود دراصل مذہب کو مجموعہ توہمات ظاہر کرنا تھا۔ان کا خیال تھا کہ اکثر مسائل میں بانیان مذہب غلطیوں اور غلط فہمیوں کا شکار رہے۔ وہ تعلیمات مذاہب کو اللہ کی نہیں بلکہ انبیاء  کی خودساختہ سمجھتے  تھے ۔عبدالماجد کےان مضامین کا ردّعمل بھی ہوا۔جن کا خلاصہ یہ تھا  کہ استدلال نہایت سطحی ہے، قرآن کریم کی بعض آیات کو سمجھنےمیں ٹھوکر کھائی ہیں۔مصنف کا قلم اندھے کی لکڑی کی طرح ہے جو چاروں طرف گھوم رہی ہے کسی کے بھی لگ جائے۔

عبدالماجدکا الحاد اپنی جگہ لیکن “الکلام” پر تنقیدی اقساط اور دوسرے کئی مضامین کے ذریعے وہ اپنے آپ کو ایک ادیب تسلیم کروا چکے تھے۔بعض ادیبوں سے ان کے تعلقات بھی استوار ہو چکے تھے جو ان کے خاندان سے واقف تھے انہیں دکھ ہوا کرتا تھا کہ کیسے اشرف خاندان کا چراغ کن ہواؤں کے سامنے ہے۔ان کی تہجد گزار ماں کو جب علم ہوا تو دل پر قیامت گذر گئی۔وہ جو دوسروں کو نماز و روزے کی تلقین کیا کرتی تھیں ان کا اپنا بیٹا منکر نماز و روزہ تھا۔  والد عبدالقادر صاحب وقت سے پہلے بوڑھے ہو چکے تھے۔سب نے خوب سمجھایا ،پر سب بے سود۔ عبدالماجدکا مطالعہ  وسیع تھا ،  الحاد بھی استدلال پر مبنی تھا،منطق و فلسفہ ان کے خاص مضامین تھے ،کوئی ان سے نہ جیت سکا،کوئی قائل نہ کر سکا۔سب نے انہیں ان کے حال پر چھوڑ کر دعاؤں کا سہارا پکڑ لیااور معاملہ اللہ کے سپرد کر دیا۔ ایک جگہ  لکھتے ہیں :

” ذہنی ،فکری، عقلی اعتبار سے تو تماتر ایک فرنگی تھا، مسلمانوں سے میل جول بہت کم ہوگیا تھالیکن ابھی بھی جذباتی حیثیت سے ایک مسلمان ہی  تھا، ایک روشن خیال مسلمان ، مسلم قومیت سے میری جڑیں کٹنے نہ پائی تھیں، مسلم قومیت دین اسلام کے بعد ایک بڑی نعمت ہے ، کوئی صاحب اسے بے وقعت  وبے قیمت نہ سمجھیں، مجھے آگے چل کر اس کی بڑی قدر معلوم ہوئی۔ حالت یہ تھی کہ کوئی غیر مسلم  جب کبھی اسلام پر معترض  ہوا، ارتداد کامل کے باوجود  اپنا دل اسکی تائید کے بجائے  اسکو جواب دینے پر ہی  آمادہ کرتا۔  اکتوبر 1911 کا ذکر ہے، ایک بڑی مسیحی کانفرنس میں شرکت کے لیے مشہور معاند اسلام پادری زویمر بھی بحرین سے آئے ، انکی شہرت عداوت اسلام کی ، ان سے قبل  یہاں پہنچ چکی تھی۔ میں بی اے کا طالب علم تھا اور عقیدۃ تما م تر منکر اسلام۔ اپنے ایک دوست مولوی عبدالباری ندوی  کو ساتھ لے ‘ جھٹ ان سے ملنے پہنچا، پادری  صاحب اخلاق سے پیش آئے لیکن حسب عادت چوٹیں اسلام پر کرنا شروع کردین۔ آپ یقین کیجیے  کہ جوابات جس طرح ندوی صاحب نے عربی میں دینا شروع کئے اسی طرح میں نے بھی انگریزی میں ۔ پادری صاحب پر یہ کسی طرح کھلنے نہ پایا کہ میں تو خود ہی اسلام سے برگشتہ و مرتد ہوں، کسی پادری یا آریہ سماجی یا کسی اور کھلے ہوئے دشمن اسلام کا اثر مطلق مجھ پر نہ تھا۔ متاثر جو کچھ بھی  میں ہوا تھا، وہ تمام تر  اسلام کے مخفی دشمنوں سے اور انکی تحقیقات سے ہوا تھا ، جو زبان پر دعوی کمال بے تعصبی کا رکھتے تھے ، لیکن اند ر ہی اندر زہر کے انجکشن دیتے جاتے۔”(آپ بیتی صفحہ ، 243)

 دوسری طرف اپنی سوچ میں شدت پسند ی کا یہ حال تھا کہ کالج کے سالانہ امتحان کے فارم میں مذہب کے فارم میں اسلام کے بجائے “ریشنلسٹ”لکھنا باعث فخر سمجھتے۔انٹر کے بعد اسی کالج میں بی اے میں داخلہ لیا،مضامین  بھی وہی خاص تھے،عربی اور فلسفہ ۔مذہب کی مخالفت کے لئےفلسفہ ہی بڑا سہارا ہو سکتا ہےکیونکہ تمام تر تکیہ  “عقل”پر کرتا ہے۔کالج کی لائبریری میں جتنی کتابیں فلسفے کی تھیں سب پڑھ ڈالیں۔ملحد وں و نیم ملحدوں کی کتابوں کے ساتھ وہ کتابیں بھی سامنے آئیں جنکا موضوع نفسیات تھا ان سے الحاد کو مزید تقویت ملی۔ آب بیتی میں لکھتے ہیں:

  ” اسلام اور ایمان سے برگشتہ کرنے اور صاف و صریح ارتداد کی طرف لانے میں ملحدوں اور نیم ملحدوں  کی تحریریں ہرگز اس درجہ موثر نہیں ہوئیں  جتنی وہ فنی کتابیں  ثابت ہوئی جو نفسیات کے موضوع پر اہل فن کے قلم سے نکلی ہوئی تھیں۔ بظاہر مذہب سے کوئی تعلق نہیں رکھتی تھیں، نہ نفیا  نہ اثباتا، لیکن   اصلی زہر انہی  بظاہر بے ضرر کتابوں کے اندر گھلا ہوا ملا۔ مثلا ایک شخص گزرا ہے ڈاکٹر ماڈسلی اسکی دو موٹی  موٹی کتابیں اس زمانہ میں خوب شہرت پائے ہوئے تھیں، ایک مینٹل  فزیالوجی (عضویات دماغی) اور دوسری  مینٹل  پیتھالوجی ( مرضیات دماغی)۔ اس دوسری کتاب میں  اختلال دماغی اور امراض نفسیاتی کو بیان کرتے کرتے یک بیک وہ بدبخت مثال میں وحی  محمدی کو لے  آیا اور اسم مبارک کی صراحت کے ساتھ ظالم لکھ گیا کہ مصروع شخص کے لیے  یہ بالکل ممکن ہے کہ وہ اپنا  کوئی بڑا کارنامہ دنیا کے لئے چھوڑ جائے۔۔! ایمان کی بنیادیں کھوکھلی تو پہلے ہی ہوچکی تھیں اب ان کم بخت ‘ ماہرین فن’ کی زبان سے اس قسم کی تحقیقات عالیہ سن کر رہا سہا ایمان بھی رخصت ہوگیا اور الحاد و ارتداد کی منزل تکمیل کو پہنچ گئی۔!

ایمان کو عزیز رکھنے والے خدا کے لئے ان تصریحات کو غور سے پڑھیں ۔”(آب بیتی  صفحہ 240)

  اس دوران ایک آنریری مجسٹریٹ جو  عبدالقادر صاحب  کے قرابت دار بھی  تھے ‘کی صاحبزادی عفت النساء سے عبدالماجد کی   ملاقات ہوئی اور اس  سے محبت کرنے لگے ۔آتش عشق بڑھی تو شاعر بھی بن گئے ،غزلوں پر غزلیں ہونے لگیں ۔ان کچھ دنوں کے لئے وہ نہ مسلمان تھے  نہ ملحد بس عاشق بن گئے تھے ۔کچھ غزلیں جمع ہوئیں تو سوچا کہ اکبر الٰہ آبادی کو دکھا دیں ۔اکبر کی جانب سے حوصلہ افزا جواب آیا تو دوسری غزل روانہ کی جس کا شعر تھا:

جانبازیوں کو خبط سے تعبیر کر چلے

تم یہ تو خوب عشق کی توقیر کر چلے

اکبر نے خوب داد دی اور خوشی اور تعجب کا اظہار کیا ۔محبت میں دیوانگی کی حد عبدالماجد ضرور چھو رہے تھے مگر اپنے علمی مرتبے سے بھی غافل نہ تھے ۔ ان کی دو کتابیں ۔”سائیکالوجی آف لیڈر شپ “اور “فلسفہ اجتماع “آگے پیچھے شائع ہوئیں۔ انہوں نے ان کتابوں میں پیغمبران عظام پر تعریضات کی  تھیں اور ان پر خود غرضی کے الزامات لگائے تھے۔ یہ ایسی جسارت تھی کہ اخبارات و رسائل خاموش نہ رہ سکے۔ایک ہنگامہ برپا ہو گیا۔مخالفانہ تبصرے شائع ہوتے چلے گئے۔سب سے اہم فتویٰ وہ تھا جو احمد رضا خان بریلوی کی جانب سے شائع ہوا اور عبدالماجدکو کافر قرار دیا گیا۔اس کے ساتھ بہت سے فتوے ان کی عدم تکفیر میں بھی شائع ہوئے۔جن میں مولانا عبدالباری فرنگی محلی ، سید سلمان ندوی اور مولانا شیر علی جیسے جید نام بھی تھے۔یہ  حضرات  سمجھتے تھے کہ عبدالماجد غلط راستے پر پڑ گیا ہے اگر نرمی کا برتاؤ کیا جائے تو جلد ہی راستے پر آجائے گا اگر سختی کی گئی تو مزید ضد پر آجائے گا ۔علما کا یہ برتاؤ اس بات کا ثبوت تھا کہ وہ عبدالماجد کی علمی وقعت کے قائل تھے۔وہ دھیرے دھیرے نرمی کے ساتھ انہیں اسلام کی طرف لانا چاہ رہے تھے۔ ان کتابوں کی وجہ سے انکے خاندان میں بھی چہ مگویاں بڑھ گئی تھیں ماں نے یہ حل سمجھا کہ اس کی شادی کر دی جائے ۔چنانچہ 2جون1916؁ کو اس کا نکاح لکھنؤ میں انجام پا گیا۔ممتاز شعرانے تاریخیں نکالیں اور سہرے لکھے۔

منکر ہو نہ کوئی اپنی ہمتائی کا

یہ کام کبھی نہیں ہے دانائی کا

اللہ نے اب غرور ان کا توڑا

دعوی تھا مرے دوست کو یکتائی کا

(سید سلیمان ندوی)

انہی دنوں عبدالماجد سخت معاشی پریشانیوں کا شکار  بھی ہوئے ، والد فوت ہوچکے تھے ، پیسہ جس  بنک میں تھا وہ دیوالیہ ہوگیا۔ آخر  دار المصنفین اعظم گڑھ ان کے کام آگیا۔ دارالمصنفین کی فرمائش پر جارج برکلے کی مشہور انگریزی کتاب کا ترجمہ”مکالمات برکلے”کے نام سے کیا جو اس خوبی سے ہوا کہ ہمیشہ کے لئے زندہ ہو گیا۔اس کے ساتھ ہی “معارف”کے لئے معاوضے پر لکھنا شروع کر دیا اور گزر بسر ہوتی رہی۔1919؁ کے اوائل میں نظام حیدر آباد سے ان شرائط پر وظیفہ کی منظوری ہوئی کہ وہ سال میں 1تصنیف پیش کیا کریں گےاور اسکے خاکے کا مسودہ محکمہ احتساب کی نظر سے گزارنا ہوگا ،محکمے کی منظوری کے بعد وہ کتاب مکمل کریں گے۔شرائط شائد اسی لئے لگائی گئی  تھی  کہ عبدالماجدکے الحادی نظریات کو جانچ سکیں ۔125روپے ماہانا تا حیات منظور  ہوگئےجو گھر بیٹھے انہیں ہر ماہ ملنے لگے۔اس دور میں متعدد ترجمے ان کے قلم سے نکلے جن میں “تاریخ ،تمدّن ، تاریخ اخلاق یورپ”اور ناموران سائنس”بڑی اہم ثابت ہوئیں۔

مد کے بعد جزر

نظریات و افکار  کی جنگ جو دس سال سے ان کے باطن میں چھڑی ہوئی تھی اس کے خاتمے کا دور آنے ہی والا تھا ۔ایک ہلچل  جو  مچی تھی اس کو قرار ملنے ہی والا تھا۔تشکیک و الحاد کے اس حملے سے جس سے وہ مغلوب  ہوئے  تھے  اب اس سے نجات کا دن قریب آرہا تھا۔ان کی عقل پر ابر جہالت  پھاڑ کر ایک نیا سورج طلوع ہونے اور  ان کے اندر ایک نیا انسان بیدار ہونے والا تھا۔ اور اس نئے انسان کی بیداری میں ان  مسلمان دوستوں کا بڑا ہاتھ تھا جو ان  کے دور الحاد میں بھی ان کے ساتھ ہی رہے۔  اپنی آپ بیتی میں لکھتے ہیں ”

“مخلصانہ کوششیں   اگر تھوڑی بہت کسی کی چپکے چپکے کارگر ہوتی رہیں ان دو ہستیوں کی: ایک نامور ظریف شاعر اکبر الہ آبادی، بحث و مناظرہ کی انہوں نے کبھی چھاؤں بھی نہیں پڑنے دی اور نہ کبھی پندو موعظت ہی کی طرح ڈالی۔ بس موقع بہ موقع اپنے میٹھے انداز میں کوئی بات چپکے سے ایسی کہہ گزرتے، جو دل میں اتر جاتی  اور ذہن کو جیسے ٹھوکے دے دیتے کہ قبول حق کی گنجائش  کچھ تو بحرحال پیدا ہو کر رہتی۔ ایک روز بولے’ کیوں صاحب ، آپ نے تو کالج میں عربی لی تھی، پھر اب بھی اس سے کچھ مناسبت قائم ہے؟ علم و زبان کوئی بھی ہو ، بحرحال اسکی قدر تو کرنی ہی چاہیے’۔ میں نے کہا’ اب اس کے لکھنے پڑھنے کا وقت کہاں ملتا ہے’۔ بولے’  نہیں کچھ ایسا مشکل تو نہیں، قرآن کی بے مثل ادبیت کے تو اہل یورپ بھی قائل ہیں، اور سناہے کہ  جرمن یونیورسٹیوں میں   قرآن کے آخری پندرہ پارے عربی ادب  کے کورس میں داخل ہیں، آپ عقائد نہیں، زبان ہی کے اعتبار سے قرآن سے ربط قائم رکھئے اور جتنے منٹ بھی روزانہ نکال سکتے ہوں اسے پڑھ لیا کریں، جتنے حصے آپ کی سمجھ میں نہ آئیں، انہیں چھوڑتے جائیے اور یہ سمجھ لیجیئے  کہ وہ آپ کے لیے نہیں  لیکن آخر کہیں تو کچھ فقرے آپ کو پسند آہی جائیں گے،  بس انہی فقروں کو دو چار بار پڑھ لیا کیجیے ، آپ کے لیے کوئی قید باوضو ہونے کی بھی نہیں”۔ یہ ایک نمونہ تھا انکی تبلیغ کا ۔ دوسری ہستی مولانا محمد علی جوہر تھے، بڑی زور دار شخصیت تھی انکی ۔۔ کبھی خط میں اور کبھی زبانی، جہاں ذرا بھی موقع پاتے، ابل پڑتے اور جوش خروش کے ساتھ، کبھی ہنستے ہوئے، کبھی گرجتے ہوئے اور کبھی آنسو بہاتے ہوئے تبلیغ کرڈالتے ۔ انکی عالی دماغی ، ذہانت، علم اور اخلاص کا پوری طرح قائل تھا اس لیے کبھی کوئی گرانی دونوں کی تبلیغ سے نہ ہوئی ۔ ایک تیسرا نام اور سن لیجیے ، یہ اپنے ایک ساتھی  مولوی عبد الباری ندوی تھے  ۔ دھیما دھیما انکا اچھا ہی اثر پڑتا رہا۔”

اس تبدیلی میں کافی حصہ  ان کتابوں کا بھی تھا جو ان کے مطالعے میں رہتی تھیں ۔کتابوں ہی نے  انہیں  بھٹکایا اور اب کتابیں ہی انہیں راہ راست پر لا رہی تھیں۔ مذہبی یا نیم مذہبی قسم کے فلسفیوں کا مطالعہ شروع ہو ا ،حکیم کنفیو شس   کو پڑھا ، پھر   بدھ مت  ، پھر تھیاسوفی  جو ہندو فلسفہ تصوف  پر مشتمل کتاب ہے اوراس میں سارا زور روح اور اسکے تقلبات پر  اور رنگ کچھ حاضرات و عملیات سے ملتا ہے’ پڑھی ، اسکے علاوہ  ہندو فلسفہ کے بڑے  شارح و ترجمان ڈاکٹر بھگوان داس کی ساری  تحریریں  پڑھ گئے ، کرشن جی کی بھگوت گیتا کے بھی جتنے نسخے انگریزی میں مل سکے سب پڑھ ڈالے۔۔  ان کتابوں نے جیسے آنکھیں کھول دیں اور ایک بالکل ہی نیا عالم روحانیات یا مارواء مادیات کا نظر آنے لگا۔ خود لکھتے ہیں :

” ڈیڑھ دو سال کے اس مسلسل مطالعہ کا حاصل یہ نکلا کہ فرنگی اور مادی فلسفہ کا جو بت دل میں بیٹھا ہوا تھا، وہ شکست ہوگیا اور ذہن کو یہ صاف نظر آنے لگا کہ اسرار کائنات سے متعلق آخری توجیہہ اور قطعی تعبیران فرنگی مادیین کی نہیں بلکہ دنیا میں ایک سے ایک اعلی و دل نشین توجہیں  اور تعبیریں اور بھی موجود ہیں اور روحانیات کی دنیا  سراسر وہم وجہل اور قابل مضحکہ و تحقیر نہیں ، بلکہ حقیقی اور ٹھوس دنیا ہے ، عزت و توقیر  ، عمق اور تحقیق و تدقیق کے اعتبار سے گوتم بدھ   اور سری کرشن کی تعلیمات ہرگز کسی مل، کسی اسپنسر سے کم نہیں، بلکہ کہیں بڑھی ہوئی ہیں اور حکمائے فرنگ انکے مقابلے میں  بہت پست و سطحی نظر آنے لگے۔ اسلام سے ان تعلیمات کو بھی  خاصہ بعد تھا لیکن بحرحال اب مسائل حیات ، اسرار کائنات سے متعلق نظر کے سامنے ایک بالکل نیا رخ آگیا  اور مادیت ، لاادریت و تشکیک کی جو سربفلک عمارت برسوں میں تعمیر ہوئی تھی، وہ دھڑام سے زمین پر آرہی۔ دل اب اس عقیدہ پر آگیا کہ مادیت کے علاوہ اور اس سے کہیں ماورا و مافوق ایک دوسرا عالم روحانیت کا بھی ہے ، حواس مادی محسوسات ،  مغیبات و مشہودات ہی  سب کچھ نہیں ، انکی تہہ میں اور ان سے بالا تر ‘ غیب’ اور مغیبات کا بھی ایک مستقل عالم اپنا وجود رکھتا ہے۔”

الحاد و اتداد کا  یہ دور دس سال تک رہا ، پھر  ان تدریجی تبدیلیوں  کے ساتھ آہستہ آہستہ اسلام کی طرف آنا شروع ہوئے۔ ابھی ابتداء ہی تھی کہ مولانا شبلی کی سیرۃ النبی کی جلد اول پریس سے  باہر آگئی، دل کا اصلی چور تو یہیں تھا اورنفس شوم کو جو سب سے بڑی ٹھوکر لگی تھی وہ سیرت اقدس  کی ہی تو تھی اور خاص طور پر غزوات و محاربات کا سلسلہ۔ظالموں نے نجانے کیا کچھ ان کے دل میں بٹھا دیا تھا اور ذات مبارک کو نعوذباللہ ایک ظالم فاتح دکھایا تھا۔  خود لکھتے ہیں :

” شبلی  نے اصل دوا اسی دردکی کی، مرہم اسی زخم پر رکھا ۔ کتاب جب بند کی تو چشم تصور  کے سامنے رسول عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی تصویر ایک بڑے مصلح ملک و قوم اور ایک رحم دل و فیاض حاکم کی تھی، جس کو اگر جدال و قتال سے کام لینا پڑا تھا تو پھر بالکل آخری درجہ میں ، ہر طرح پر مجبور ہو کر، یہ مرتبہ یقیناآج ہر مسلمان کو رسول و نبی کے درجہ سے کہیں فروتر نظر آئے اور شبلی کی کوئی قدروقیمت نظر نا آئے گی  لیکن اس کا حال ذرا اسکے دل سے پوچھئے جس کے دل میں نعوذبااللہ پورا بغض و عناد اس ذات اقدس کی طرف جما ہوا تھا ۔ شبلی کی کتاب کا یہ احسان میں کبھی بھولنے والا نہیں”۔(آپ بیتی)

 اسکے بعد  مثنوی مولانا روم  مطالعہ  میں آئی ، پڑھنا شروع  کی تو  ایسا محسوس ہوا جیسے  کسی نے جادو کردیا  ہو، کتاب چھوڑنا چاہیں بھی تو کتاب نہیں چھوڑ رہی ، ایسی کشش و جاذبیت کہ دیوانوں کی طرح ایک مستی  کا عالم طاری ہے ، نہ کھانے کا ہوش نہ پینے کا ، بس کمرہ بند کرکے خلوت میں کتاب پڑھے جارہے ہیں  کہیں  آنسو  نکلے اور کہیں چینخ بھی پڑے ،   ادھر کتاب  ختم ہوئی  ادھرشکوک و شبہات  بغیر کسی ردو قدح میں پڑے اب دل سے کافور تھے،پھر یہی حال مکتوبات مجدد سرہندی کو پڑھ کر ہوا ۔الحاد کی گرہ کھل چکی تھی۔ مدتوں بعد وضو کر کے مصلے پر آئےاور خدا کے حضور کھڑے ہو گئے کہ جسے وہ بھول چکے تھے۔گناہوں کا خیال آیا تو چینخیں نکل گئیں۔ عفت کی آنکھ کھلی شوہر کو اس حال میں دیکھا تو شکر ادا کیا ،  شوہر کے آنسوؤں میں پھر اس کے آنسو بھی شامل ہو گئے،رات بھر یہی حالت رہی اور  فجر کی نماز مسجد میں  جاکر پڑی۔ایک دن گھر پر بیٹھے بیٹھے اپنے نکاح کا خیال آگیا کہ میں تو اس وقت کسی اسلامی رسم کا قائل ہی نہ تھا جب نکاح ہو رہا تھا تو میں دل میں ہنس رہا تھا، بس نمائش میں بیٹھا تھا ۔دل سے تو قبول نہیں کیا تھا ۔بس تجدید نکاح کی ٹھان لی بیوی سے ذکر کیا تو ًبولیں یعنی آپ مجھے بیوی بنانے پر آمادہ نہ تھے؟ کہا بالکل تھا ،مگر ایسے جیسے کہ ایک ہندو ہوتا ہے ،نکاح کے وقت جب آیات پڑھی جارہی تھیں تب میں یہی سوچ رہا تھا کہ یہ کلام الہی نہیں ہے۔ ایک مولوی صاحب کو  بلوایا اور دوبارہ نکاح پڑھوایا ۔

تجدید اسلامی کے بعد جوش اٹھا تو آستانہ اجمیری پر حاضری دی۔ قوالیوں کی آوازیں چہار سو تھیں ، عرس کا زمانہ تھا، ہر جانب لوگ ہی لوگ تھے ۔عبدالماجد کھدر کا لباس پہنے ہوئے تھے ، گورا رنگ،داڑھی سفید گول اور نورانی، نکلتا ہوا قد،آنکھوں پر چشمہ، سر پر ٹوپی۔عارفانہ کلام پڑھا  جانے لگا تو عبدالماجد  بھی جھوم اٹھے۔لوگ حیران تھے مگر ان کے قلب کی کیفیت کو کوئی سمجھ نہیں پا رہا تھا۔پھر چشم فلک نے انہیں درگاہ خواجہ بختیار کاکی رحمتہ اللہ علیہ ، شاہ مینا ، خواجہ نظام الدین اولیاء کے  چکر کاٹتے دیکھا۔ دولت ایمان تو اب بلا شبہ نصیب ہوگئی تھی لیکن ابھی تک رواجی تصوف و خانقاہی مشیخیت میں ٹھوکریں کھارہے تھے ۔ اپنی اصلاح کے لیے  کسی سے باقاعدہ  بیعت  ہونے کی ضرورت محسوس کررہے تھے  لیکن عام آدمی تو نہ تھے کہ آنکھ بند کر کے کسی کے بھی مرید ہو جائیں ان کا مرشد بھی انہی کے معیار کا ہونا چاہیئے تھا۔کبھی سوچا کہ مولانا  محمد علی جوہر سے بیعت کریں  تو کبھی کسی دوسرے کا خیال آتا۔ خود لکھتے ہیں :

” مرشد کی تلاش ایک عرصہ سے جاری تھی، تصوف  اور سلوک کا ذخیرہ جتنا کچھ بھی فارسی ، اردو اور ایک حد تک عربی میں ہاتھ  لگ سکا تھا، پڑھ لیا گیا تھا، اتنی کتابیں پڑھ ڈالنے اور اتنے ملفوظات چاٹ جانے کے بعد اب آرزو اگر تھی تو ایک زندہ بزرگ کی۔ حیدر آباد اور دہلی  اور لکھنو جیسے مرکزی شہر اور اجمیراورکلیر، دیوہ اور بانسہ، رودلی اور صفی پور ، چھوٹے بڑے ‘ آستانے ‘ خدا معلوم  کتنے دیکھ ڈالے اور سن گن جہاں کہیں کسی بزرگ کی بھی پائی، حاضری میں دیر نہ لگائی ، حال والے بھی دیکھنے میں آگئے اور قال والے بھی، اچھے اچھے عابد ، زاہد ، مرتاض  بھی اور بعض دوکاندار قسم کے گیسو دراز بھی، آخر فیصلہ یہ کیا کہ انتخاب کے دائرے کو محدود کرکے حلقہ دیوبند کا تفصیلی جائزہ  لیجیے۔ ۔ وصل بلگرامی بولے کہ’  بہت دوڑ دھوپ آپ کرچکے ، ذرا ہمارے  مولانا (مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ)کا بھی تجربہ کیجیے، سب کو بھو ل جائیے گا، تھانہ بھون اگر دور ہے تو قصد السبیل  اور تربیت السالک وغیرہ تو میرے پاس ہی ہیں، ا نہیں تو دیکھ ڈالیے’۔اچھا ! ان خشک مولوی صاحب نے تصوف پر بھی کچھ لکھا لکھایا ہے؟ خیر، دیکھ ڈالنے میں کیا مضائقہ ہے۔ دوسری صبح کتابوں کے ساتھ وصل میرے ہاں لکھنو میں موجود۔ کتابیں پڑھ کر جب بند کیں تو عالم ہی دوسرا تھا ؛

اب نہ کہیں نگاہ ہے اب نہ کوئی نگاہ میں

اپنا جہل اپنے سامنے آئینہ معلوم ہوا کہ اب تک جو کچھ اس سلسلہ میں پڑھا  تھا، سنا تھا، جانا تھا، وہ بس جھک ماری تھی، تصوف کی حقیقت، طریق کی تعریف ، آج پہلی بار دل و دماغ کے سامنے آئی، قصد السبیل  پڑھتا جاتا تھا اور سطر سطر پر، پردے نگاہوں سے ہٹتے جاتے تھے، رہ رہ کر طبیعت اپنے ہی اوپر جھنجھلائی تھی کہ اب تک کیوں نہ پڑھا تھا ، بارہ برس کی مدت کوئی تھوڑی ہوتی ہے “۔ (حکیم الامت،صفحہ نمبر 10، 11)

 تھانوی رحمہ اللہ  سے مراسلات شروع ہوئے ، ایک   سال تک مراسلات پر دلوں کا حال بیان  ہوتا رہا پھر خود تھانہ بھون پہنچ گئے۔ طویل نشستیں رہیں ،   اتنے متاثر ہوئے  کہ ایک جگہ لکھا  کہ  اگر میں عقیدہ تناسخ کا قائل ہوتا تو کہہ اٹھتا کہ امام  غزالی رحمۃ اللہ دوبارہ تشریف لے آئے ہیں۔ بیعت کی بات کی تو حضرت تھانوی نے ان کا سیاسی میلان دیکھتے ہوئےمولانا حسین احمد مدنی رحمہ اللہ  کو کہا  کہ وہ عبدالماجد کو بیعت کر لیں۔ عبدالماجددیوبند گئے اور حضرت مدنی کے ہاتھ پر بیعت فرمائی۔بیعت مدنی رحمہ اللہ  سے  ہوئی مگر عقیدت اور اصلاح کا تعلق   تھانوی رحمہ اللہ سے  ہی رہا ۔ شیخ کی  وفات کے بعد انکی سوانح عمری ‘حکیم الامت نقوش و تاثرات ‘  لکھی  جو  پانچ سو سے زائد  صفحات  پر مشتمل ہے  کتاب کیا ہے ایک  فلسفی مرید کے اپنے مرشد و مصلح   کے ساتھ بیتے لمحات،  ملاقاتوں  کے احوال  اور عقیدت  و عشق میں ڈوبے ہوئے تاثرات کا مجموعہ  ہے  ۔  اس کے علاوہ  حضرت تھانوی کی ایک مشہور کتاب مناجات مقبول جو  قرآ نی و حدیثی دعاؤں کا خوبصورت گلدستہ ہے ۔  اسکی عام فہم زبان میں شرح لکھی ، شرح ایسی ہے کہ    قاری دعائیں پڑھنے   کے بجائے دعائیں مانگنے پر مجبور ہوجاتا ہے ، دعاؤں میں مزا آنے لگتا اورالفاظ کی چاشنی اور عاجزانہ انداز  قلب کی کیفیت بدلت دیتا ہے۔

 کچھ عرصہ بعد  دریا باد منتقل  ہوئے اور  اس  کی خاموشی میں کام کرنے کا خوب موقع ملا۔ کئی  ایسے ادبی مضامین قلم سے نکلے کہ جو ہمیشہ یاد رکھے گئے ،غالب کا ایک فرنگی شاگرد،مررزا رسوا کےقصّے،اردو کا واعظ شاعر، پیام اکبر، اردو کا ایک بدنام شاعر،گل بکاؤلی ، مسائل تصوف اور موت میں زندگی وغیرہ  ان مضامین نے تنقید کی دنیا میں ایک نئی جہت کا آغاز کیا۔ تجدید اسلام کے  بعد  ایسے دور سے گذر رہے تھے کہ  ان کا میلان زیادہ تر قرآن اور متعلقات قرآن ہی پر وقف ہو گیا تھا  ،تصوف  بھی  انکا  خاص موضوع رہا ، سو ایک کتاب “تصوف اسلام ” لکھ ڈالی اور رومی کے ملفوطات کو بھی  ترتیب دیااورقرآن کے انگریزی ترجمے اور تفسیر  جیسے بلیغ کام کا بھی  آغاز کیا ۔

بیسویں صدی کا ہندوستان “اخبارات ” کا ہندوستان تھا ،کئی اکابرین نے صحافت کے نئے باب رقم کئے تھے، ہندوستان کی سیاسی و مذہبی لہروں کی گونج اخبارات میں سنائی دے رہی تھی۔خود عبدالماجد ایک عرصہ اخبارات ورسائل سے وابستہ رہے تھے، سو جانتے تھے کہ ہنگامی اور اہم موضوعات کو عوام تک پہنچانے کے لئے اخبارات سے بہتر کوئی دوسرا ذریعہ نہیں ہے۔سوچا کیوں نہ اپنا ایک اخبار ہی نکالا جائے، ادیب دوستوں سے مشاورت کے بعد  اخبار کا نام “سچ” تجویز کیاگیا۔ تیاریاں مکمل ہوئیں اور عبدالماجد کی زیر ادارت ہفتہ وار اخبار پابندی سے نکلنا شروع ہوگیا۔ اس   وقت  ردبدعات ، معاشرے میں پھیلی فکری غلط فہمیوں   کی اصلاح،   تجدد اور ترقی پسندی کے پردے میں مغرب نقالی  کا رد اخبار کے خاص موضوعات تھے۔ یہ دور  کئی قسم کے  فرقوں کی پیدائش،  سیاسی  افراتفری اور  انتشار  کا دور تھا، اس لیے سچ کو اپنی زندگی میں بڑی بڑی لڑائیاں بھی لڑنا پڑیں، آج اس سے جنگ ہے تو کل اس سے۔شروع میں توجہ اصلاح  رسوم و ردبدعات پر ذیادہ تھی اس لیے قدرۃ اہل بدعات بھی ناراض رہے   اور وہابیت کا  ترجمان ہونے کے القاب ملے،  پھر جب سعودی شریفی  آویزش پر نکتہ چینی شروع  تو بدعتیوں کا پشت پنا کہا گیا ، بعض ہم خیال طبقات کی دشمنی بھی مول لینی پڑی  لیکن سچ لکھنے کے لئے عبدالماجد نے کبھی مصلحت کو آڑے آنے نہ دیا۔  تنقید کی تو  ہمیشہ ذاتیات کا پہلو بچا کر ، حق کو حق اور باطل کو باطل بلا  کسی مسلک ، جماعت  کے خیال   اور بغیر کسی تعصب  کے کہا ۔ اپنے سابقہ تجربہ کی وجہ سے الحاد  کی طرف جانے والے تمام راستوں سے واقف تھے اس لیے   بلاوجہ کی تجدد پسندی،  روشن خیالی ، مذہب بیزاری اور فلسفیانہ مغالطے پھیلانے والوں سے مقابلہ    ہر محاذ پر رہا ،اسی طرح  الحاد براستہ  انکار حدیث سے تو مدتوں جنگ رہی ۔  نیاز فتح پوری کے الحاد و فتنہ نگار کے  علمی رد کے لیے مہینوں اپنے کو وقف رکھا ۔

سچ کی ہنگامہ آرائیوں میں مصروف رہ کر عبدالماجد اپنے خاص علمی کاموں سے دور ہوتے جا رہے تھے،قرآن مجید کے انگریزی اور اردو ترجمے و تفسیر کے لئے کافی وقت درکار تھا اس  کے لیے آخر   “سچ”کو اس کارنامہ عظیم کی خاطر بند   کرکے  پوری جانفشانی سے تفسیر کا کام شروع کیااور  دریا باد کی تنہائیوں میں وہ کارنامہ سرانجام دینے لگے جو علوم دینی میں ایک اہم باب کا اضافہ کرنے والا تھا۔ عبدالماجد  مغربی علوم کے ماہر اور قدیم اور جدید تاریخ پر گہری نظر رکھنے والے تھے ،بائبل کے تمام ادوار انکی نظر میں  تھے اور  شروع میں پادریوں   کی علمی  یلغار  کا مقابلہ  بھی کرتے رہے تھے ۔اس کے علاوہ  فلسفہ شروع سے انکا خاص موضوع رہا   تھا،ایک عرصہ تک مغربی فلسفہ سے متاثر ہوکر الحاد و تشکیک کا شکار  رہے  تھے اس لیے اسکی حقیقت کو  بھی دوسروں سےذیادہ  سمجھتےتھے ،  شروع کی زندگی تو گزری ہی ہمہ وقت فرنگی علوم و فنون ،  فلسفہ و نظریات کی فتنہ سامانیوں  اور معاشرے میں پھیلی فکری گمراہیوں  کے علمی رد میں تھی ۔  اپنی گزری عمر کے اس سارے علم اور  تجربے کا نچور   اس تفسیر میں پیش   کیا،   تفسیر میں   مغربی مفکرین، فلسفیوں، مبلغین کے اعتراضات اور پروپیگنڈے کے  علمی جوابات بھی موجود ہیں  اور اسکے اثرات سے پیدا ہونے والے لادینیت الحاد و تشکیک کے امراض کا شافی علاج بھی ۔ مغربی فلسفہ زدہ یورپ پلٹ معاشرہ کے لیے یہ  تفسیر  آب حیات سے کم نہیں ۔   مولانا نے اس میں رسمی تعبیرات اور اختلاف اقوال کے بجائے عصر حاضر کے انسان کے ذہن کے مطابق قرآنیات کی تفہیم و تشریح پر توجہ مرکوز  رکھی اور قرآنی آیات والفاظ  کی جو  عصری تطبیق پیش کی  اس میں  تفسیر بالرائے سے  بچنے  کی کوشش میں  اکابر علمائے تفسیر  کی تحقیق  کو  بھی مدنظر رکھا اس لیے  جہاں تفسیر میں  بائبل، تورات،  وید، گیتا ، بدھ تعلیمات ، مجوسی مفکرین، قدیم و جدید فلسفیوں کے حوالہ جات اور انکے مدلل جوابات  نظر آتے ہیں وہاں عظیم مفسرین کرام کی تفاسیر کے اقتباسات کو بھی  پیش کیا گیا ہے۔ آپ کو مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کی   چونکہ ہر قدم پر ہدایات اور مشاورت  میسر رہی    اس لیے    قرآن کے فقہی اور قانونی پہلو بھی   مستند  ہیں ۔ مزید  مولانا   چونکہ اردو کے بہت بڑے ادیب اور انشاپرداز  بھی تھے  اس لیے   تفسیر   محض خشک علمی ابحاث پر مشتمل   نہیں  بلکہ یہ اردو تفسیری ادب میں بھی  بلند مقام رکھتی ہے، اس میں علم و ادب اور لفظ دانی و معنی شناسی کے حسین امتزاج نے ادب سے لگاؤ رکھنے والے کی تشنگی  بھی دور کی ہے۔

تفسیر ماجدی لکھتے لکھتے کئی  اور کتابیں  بھی ظہور میں آئیں جو بعد میں”اعلام القرآن، ارض القرآن، مشکلات القرآن”وغیرہ کے نام سے شائع ہوئیں۔  یہ کام مکمل ہوا تو خاکے لکھنا شروع کر دیئے جنہیں کتاب کی صورت ملنے لگی۔ کسی عالم دین سے کب توقع تھی کہ وہ سوانح نگاری ،خاکہ نگاری اور انشائی تحریروں میں بھی دماغ کھپائے گا لیکن عبد الماجدنے تو جیسے تہہ کر لیا تھا کہ وہ ادب کے ہر گھر میں جھانکے بنا نہیں رہیں گے۔شاعری بھی کی اور غزل کو ہاتھ لگایا، تنقید بھی کی اور تحقیق تو ان کا خیر میدان ہی تھا ۔ یوں  مسائل القصص، الحیوانات فی القرآن، ارض القرآن،اعلام القرآن، بشریت انبیاء، سیرت نبوی قرآنی،اور مشکلات القرآن جیسی کتب پڑھنے والوں کے سامنے آئیں۔

عبد الماجد کی صحت ہمیشہ سے ہی ناساز رہی تھی ۔ ملیریا کے سالانہ حملوں اور مسلسل نزلے کے باعث بینائی متاثر ہو چکی تھی ۔ 80سال پار کرنے کے بعد قوت ارادی بھی جواب دینے لگی۔ایک دن اپنی بیٹیوں  کو پاس بلا کر اپنی کتابوں کی تقسیم بھی کر وادی کہ انگریزی کی کتابیں ندوہ کے دارالمطالعے کو اور اردو،عربی اور فارسی کی کتب مسلم یورنیورسٹی کو دے دیں۔ دسمبر کا مہینے کا آخر تھا کہ نیا حملہ فالج کا ہو ا، حواس قائم نہ رہے تھے،بار بار غفلت طاری ہو جاتی تھی لیکن اس عالم میں بھی بار بار ہاتھ کان تک اٹھاتے اور اس کے بعد نیچے لا کر نماز کے انداز میں باندھ لیتے تھے۔ایک روز اپنی منجھلی بیٹی کو بلا کر کہنے لگے کہ “وہ جو آتا ہے ف۔۔۔”بیٹی نے جملہ مکمل کیا کہ”فرشتہ؟”بولے ۔”ہاں”اور داہنی جانب اشارہ کیا اور کہا “آگیا ہے۔”اس واقعے کےچار دن بعد ہی 6جنوری1977صبح ساڑھےچار بجےخاتون منزل (لکھنؤ)میں خالق حقیقی سےجا ملے۔نماز جنازہ  وصیت کے مطابق نماز ظہر کے بعد ندوۃالعلماء کے میدان میں مولانا ابو الحسن ندوی رحمہ اللہ  نے پڑھائی۔ دریا باد میں  آپ کی تدفین ہوئی۔

مستفاد :

1-جناب ڈاکٹر تحسین فراقی کی تصنیف “عبد الماجد دریا بادی ،احوال و آثار

2-عبدالماجد دریا بادی کی سوانح” آپ بیتی

3- حکیم الامت  از مولانا دریابادی

Leave Your Comment

Your email address will not be published.*

Forgot Password