قرآن کی موجودگی میں حدیث کی ضرورت ہی کیا ہے؟

کسی چیز کی ضرورت کا احساس اپنے موجود سرمائے کو سامنے رکھنے کے بعد ہی ہوسکتا ہے،جب تک یہ معلوم نہ ہوکہ ہمارے پاس کیا کچھ ہے ہم کسی اورچیز کے ضرورت مند نہیں ہوسکتے،حدیث کی ضرورت اسی صورت میں محسوس ہوگی کہ علم کا موجود سرمایہ ہمارے سامنے واضح ہو اوروہ ہماری ضروریات پوری نہ کرسکے،ضرورت حدیث پر بحث کرنے سے پہلے ہمیں اپنے موجود علمی سرمائے کو دیکھنا چاہئے اوراپنی موجودہ صورت حال کا پوری طرح جائزہ لینا چاہئے۔
ہم اس لحاظ سے اس موضوع پر غور کررہے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں اور ہمارے پاس اللہ تعالی کی آخری کتاب قرآن مجید موجود ہے، یہ پوری کتاب محفوظ اورزندگی کی ہر ضرورت میں رہنمائی بخشنے والی ہے ہمارا موجود سرمایہ علم یہی ہے، اس کے ہوتے ہوئے ہمیں اور کسی چیز کی ضرورت ہوسکتی ہے؟
اس سوال کا جواب دینے کے لیے ہمیں خود قرآن کریم میں ہی غور کرنا چاہئے کہ اس کے مطالعہ سے کوئی اور احساس ضرورت ابھرتا ہے،اگر یہ ضرورت محسوس ہوتی ہے تو پھر یہ اگلا مرحلہ ہے کہ اسے کس طرح پورا کیا جائے؟ حدیث سے یا رائے سے یا کسی کے مشورے سے؟ ہم ابھی پہلے مرحلے میں ہیں کہ قرآن کریم کے ہوتے ہوئے کیا کسی اور چیز کی ضرورت بھی ہے یا نہیں؟
اس کے جواب میں یہ چار عنوان بہت اہم ہیں.
(۱)قرآن کریم کے مسائل.
(۲)زندگی کے مسائل .
(۳)قرآن کی جامعیت.
(۴)قرآن کریم کی دعوت؛
اگر ہم ان پر غور کرلیں،تو پھر اس کا جواب کہ قرآن کریم کے ہوتے ہوئے ہمیں کسی اور چیز کی ضرورت بھی ہے یا نہیں ہمارے لیے بہت آسان ہوجائے گا۔
قرآن کریم کے مسائل
قرآن کریم نے کچھ احکام نہایت وضاحت اورصراحت سے بیان کئے ہیں جیسے قانون وراثت، قانون شہادت، قانون حدود، ایمانیات اوراخلاقیات؛ مگر کچھ احکام ایسے بھی ہیں اور یہ بہت سے ہیں جنہیں قرآن کریم نے مجمل طور پر بیان کیا ہے،قرآن کریم میں ان کی پوری کیفیت ادا نہیں ملتی؛ پھر قرآن پاک میں کچھ ایسے اشارات ہیں جن کی تفصیل اس میں نہیں ہے اور پھر کچھ مشکلات ہیں جن کی وضاحت کی اشد ضرورت محسوس ہوتی ہے اور پھر اصول قرآنی کی ایسی توسیعات بھی ہیں جن کی پوری جزئیات کا بیان یہاں نہیں ملتا اورنہ یہ عملاً ممکن  ہے(تفصیل آگے آئے گی)۔

زندگی کے مسائل
پھر زندگی کے کچھ مسائل ایسے ہیں کہ قرآن کریم میں ان کے بارے میں کوئی تصریح نہیں ملتی جیسے۔ (۱)پانی کے پاک اورناپاک ہونے کے مسائل۔ (۲)کون سی بیع درست ہے اور کون سی نہیں اور یہ کہ کس کس بیع میں سود کی جھلک پائی جاتی ہے۔ (۳)بیع جنس بالجنس کی کیا صورت ہے۔(۴) جو جرائم حدود کے تحت نہیں آتے ان کی سزا کیا ہے۔ (۵)زمینوں کے مسائل میں مضارعت کے احکام وغیرہ۔ (۶)مساجد کے تفصیلی شرعی احکام۔(۷)مختار نامہ کے ذریعہ نکاح کی صورتیں وغیرھا۔ان جیسے زندگی کے ہزاروں مسائل ہیں جو ہمیں قرآن کریم میں واضح طورپر نہیں ملتے؛لیکن انسانی زندگی ان ابواب میں راہنمائی تلاش کرتی ہے اوران ضرورات میں بھی دینی حل ڈھونڈتی ہے۔

قرآن کریم کی جامعیت کا دعویٰ
اللہ تعالی نے قرآن کریم میں ہدایت انسانی کے پورے نقشے پھیلادیئے ہیں، یہ کتاب خداکی آخری کتاب ہے اوراس میں ہر انسانی ضرورت کا حل موجود ہے۔
“وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ تِبْيَانًا لِكُلِّ شَيْءٍ وَهُدًى وَرَحْمَةً وَبُشْرَى لِلْمُسْلِمِينَ”۔(النحل:۸۹)
ترجمہ: اور ہم نے آپ پر ایسی کتاب اتاری جو ہر چیز کا کھلا بیان ہے ہدایت اوررحمت ہے اورماننے والوں کے لیے خوشخبری ہے۔
قرآن کریم کی مذکورہ بالاآیت اور یہ روایات بتارہی ہیں کہ قرآن کریم نہایت جامع اور مکمل کتاب ہے اور اس میں ہر انسانی ضرورت کا پورا پورا حل موجود ہے،قرآن کریم کی جامعیت کا یہ دعویٰ کہاں تک حالات سے ہم آہنگ ہے؟اورزندگی کے تمام مسائل کیا اپنی پوری تفصیل کے ساتھ ہمیں اس میں ملتے ہیں یا نہیں؟ اس پر ذرا اور غور کیجئے، یہ حقیقت ہے اور اس کے تسلیم کرنے سے چارہ نہیں کہ بہت سے قرآنی احکام ایسے مجمل ہیں کہ جب تک اور کوئی ماخذ علم ان کی تفصیل نہ کرے ان کی عملی تشکیل نہیں ہوسکتی اور زندگی کے لا تعداد مسائل ایسے بھی ہیں جن کے متعلق واضح جزئی ہمیں قرآن کریم میں نہیں ملتی،پس قرآن کریم کی جامعیت کی تشریح ایسی ہونی چاہئے جس سے یہ دعویٰ واقعات سے ہم آہنگ بھی ہوسکے۔

قرآن کریم کی جامعیت کا مفہوم
کسی نے قرآن کریم کی جامعیت کا یہ مفہوم نہیں لیا کہ اس کی کسی آیت میں کوئی اجمال (Brevity) یا کسی بیان میں کوئی تقیید (Particularisation) نہیں اس نے ہر باب کی غیر متنا ہی جزئیات کا احاطہ کرلیا ہے اور ہر حکم کی تمام حدود اور تفصیلات (Details) اس نے بیان کردی ہیں نہ یہ کسی کا دعویٰ ہے نہ اس کا کوئی قائل ہے،
قرآن کریم کی جامعیت کا مفہوم یہ ہے کہ اس میں تمام انسانی ضرورتوں کا حل ملتا ہے اور لا تعداد جزئیات کے احکام کے اصول وکلیات اورضوابط کی شکل میں اس میں موجود ہیں، علامہ شاطبیؒ (۷۹۰ ھ) لکھتے ہیں:
ترجمہ: قرآن مجید مختصر ہونے کے باوجود ایک جامع کتاب ہے اور یہ جامعیت تبھی درست ہوسکتی ہے کہ اس میں کلیات کا بیان ہو۔ (الموافقات:۳/۱۳۲)
پس جب قرآن پاک میں ایسے اصول و کلیات ہیں جن کے تحت لا تعداد جزئیات کا فیصلہ قرآن کریم کی جامعیت کی تصدیق کرے تو یہ جاننے کی اشد ضرورت ہے کہ ان مواقع پر قرآن کریم کی اصولی دعوت کیا ہے؟ اس ضرورت میں وہ ہمیں کدھر لے جاتا ہے؟

قرآن کی دعوت:

 دیکھا جائے تو قرآن کریم نے اپنے احکام وارشاد کے ساتھ ساتھ ایک عظیم شخصیت کا تعارف بھی کرایا ہے اوراس کو اپنے ساتھ لازم کیا ہے، قرآن کریم مسلمانوں کو اس کے عمل سے اسوۂ حسنہ کی دعوت دیتا ہے، یہ ایک ایسی اصل عظیم ہے جس کے تحت ہزاروں مجملات کی تفصیل اور لاکھوں جزئیات کا حل مل جاتا ہے،قرآن کریم کی اس دعوت کے تحت اس اسوہ حسنہ کی تعمیل عین قرآن پاک کی تعمیل شمار ہوگی،یہ کلیدی آیات ہیں جن کے تحت لا تعداد مسائل حل ہوجاتے ہیں.
چند آیات ملاحظہ کیجئے۔
(۱)”لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ”۔ )الاحزاب:۲۱)
ترجمہ: بے شک تمہارے لیے رسول اللہﷺ کی ذات میں بہترین نمونہ موجود ہے۔
پس چاہئے کہ ہر معاملہ ہر ایک حرکت و سکون اور نشست و برخاست میں اس ذات گرامی کے نقش قدم پر چلیں۔
(۳)”یَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ”۔ (النساء:۵۹)
ترجمہ: اے ایمان والوحکم مانو اللہ کا اورحکم مانو(اس کے) رسول کا۔
قرآن کریم کی اس دعوت کے تحت رسول اللہﷺ کی پیروی کرنے والا خود خدا تعالی کے حکم ہی کی پیروی کررہا ہے۔
(۴)”مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ”۔ (النساء:۸۰)
ترجمہ: جو اللہ کے رسول کی اطاعت کرتا ہے پس بیشک وہ اللہ کی اطاعت کرچکا۔

یہاں رسول کی اطاعت صیغہ مضارع (Present) سے بیان فرمائی جو رہتی دنیا تک جاری رہے گی اوراللہ کے اطاعت کو ماضی (Past) سے تعبیر فرمایا کہ مومن ایمان لانے کے ساتھ ہی اسی اصول کو تسلیم کرچکا تھا کہ زندگی کی ہر ضرورت میں رسول کی اطاعت کی جائے گی اوراسی کے تحت وہ اطاعت رسول کررہا ہے، یہ وہ کلیدی آیات (Key Verses) ہیں جن کے تحت جمیع جزئیات حدیث آجاتی ہیں اورقرآن کریم جمیع تعلیمات رسول پر حاوی قرار پاتا ہے۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جلیل القدر صحابی حضرت عمران بن حصینؓ (۵۲ھ) کے ہاں علمی مذاکرہ ہورہا تھا کہ ایک شخص نے کہا “لاتحدثوا الابما فی القرآن” (قرآن کے سوا اوربات نہ کیجئے) حضرت عمرانؓ نے اسے کہا کہ:”تو احمق ہے، کیا قرآن میں ہے کہ ظہر اور عصر کی چار رکعتیں ہیں اوران میں قرآن جہری نہیں؟ مغرب کی تین رکعتیں ہیں پہلی دو میں قرات جہری ہے اور تیسری میں آہستہ؟ عشاء کی چار رکعتیں ہیں دو میں قرات جہری ہے اور دو میں آہستہ؟ کیا یہ قرآن میں ہے”۔ (المصنف عبد الرزاق:۱۱/۲۵۵)
خطیب بغدادی (۴۶۳ ھ) روایت کرتے ہیں کہ آپ نے اسے یہ بھی کہا:
“اگر تم اور تمہارے ساتھی واقعی صرف قرآن پر ہی اعتماد کرتے نہیں توکیا تمہیں قرآن میں ملتا ہے کہ ظہر، عصر اور مغرب کی چار چار اور تین (فرض) رکعت ہیں اور یہ کہ(سورت فاتحہ کے بعد) صرف پہلی دو رکعتوں میں قرآن کریم پڑھا جاتا ہے ؟ کیا تمہیں قرآن کریم میں ملتا ہے طواف کعبہ کے سات چکر ہیں؟ اوریہ کہ صفا و مروہ کے درمیان سعی ضروری ہے”۔ (الکفایہ فی علوم الروایہ:۱۵)
حضرت عمران بن حصینؓ نے یہاں ایک نہایت اہم اصول کی طرف توجہ دلائی ہے، عمل رسالت صرف نماز اوراس کی رکعات یا حج اور اس کے اشواط کا ہی بیان نہیں، پورا دائرہ شریعت عمل رسالت کے گرد گھومتا ہے،صحابہ کرام کے سامنے راہ عمل صرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات تھی جس طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم کرتے یا فرماتے صحابہ اس راہ پر چل پڑتے، کبھی کسی نے آپ سے نہ پوچھا تھا کہ اس باب میں اللہ کا حکم کیا ہے، ان کا پختہ عقیدہ تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بھی قرآنی اجمال کی تفصیل ہے (مرقات:۱/۲۴۰) آپ زندگی کے ہر قدم میں الہٰی حفاظت کے سائے میں ہیں، آپ کے عمل کی اگر کوئی شرعی حیثیت نہ ہو تو سینکڑوں اجمالات ِقرآن عملاً معطل ہوکر رہ جاتے ہیں۔

مجملات قرآنی میں حدیث کی  ضرورت :

(۱)”وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ”۔ (البقرۃ:۴۲)
نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو. نمازوں کی رکعات ترتیب، کیفیت ادا اور وسعت وقت یہ وہ مباحث ہیں جو قرآن کریم میں نہیں ملتے،زکوٰۃ کن کن چیزوں میں ہے سالانہ ہے، یا ماہانہ،اس کا نصاب اور مقدار کیا ہے؟ یہ تفصیل قرآن کریم میں نہیں ملتی؛ حالانکہ ان تفصیلات کے بغیر ان قرآنی حکموں پر عمل نہیں ہوسکتا۔
(۲)”وَلْيَطَّوَّفُوا بِالْبَيْتِ الْعَتِيقِ”۔ (الحج:۲۹)
اور طواف کریں اس قدیم گھر کا طواف کے چکر سات ہیں یا کم و بیش؟ طواف حجر اسود کے کونے سے شروع ہوگا یا رکن عراقی وشامی یا یمانی سے؟ یہ تفصیل قرآن کریم میں نہیں ملتی، صفا و مروہ کے درمیان سعی کتنی دفعہ ہے؟ سعی کی ابتداء کوہِ صفا سے ہے یا کوہِ مروہ سے طواف پہلے کیا جائے گا یا سعی پہلے کرنا ہوگی؟ ان تفصیلات کے جانے بغیر ان احکام قرآنی کی عملی تشکیل نہیں ہوسکتی۔
(۳)”کُلُوا مِمَّا فِي الْأَرْضِ حَلَالًا طَيِّبًا”۔ (البقرۃ:۱۶۸)
“…….وَالطَّيِّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ”۔ (الاعراف:۳۲)
قرآن کریم نے حلال طیبات کو جائز قرار دیا اورخبائث اور ناپاک چیزوں کو حرام کہا، اب یہ موضوع کہ درندے اورشکاری پرندے طیبات میں داخل ہیں یا خبائث میں یہ تفصیل قرآن پاک میں نہیں ملتی،حدیث میں ارشاد ہے کہ “ذی ناب من السباع” کچلیوں والے درندے اور “ذی مخلب من الطیر” پنچوں سے کھانے والے پرندے مسلمان کے پاکیزہ رزق میں داخل نہیں۔
(۴)”أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ”۔ (المائدہ:۹۶)
حلال کیا گیا تمہارے لیے دریائی شکار؛لیکن یہ بات کہ مچھلی کو پکڑنے کےبعد اس کو ذبح کرنے کی ضرورت ہے یا نہیں،قرآن کریم میں اس کی وضاحت نہیں ملتی،حدیث میں ہے کہ دریا کے شکار کو ذبح کرنے کی ضرورت نہیں،سمک طافی(مری مچھلی جو تیر کر اوپر آجائے) کو حدیث میں ناجائز بتلایا گیا ہے،قرآن پاک نے خون کو مطلقا حرام کہا تھا،حدیث نے تفصیل کی اوربتایا کہ کلیجی اور تلی (کی صورت میں جما ہوا خون) حلال ہے۔
(۵)”وَمَا عَلَّمْتُمْ مِنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِينَ تُعَلِّمُونَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ اللَّهُ”۔ (المائدہ:۴)
ترجمہ: اور جو سدھاؤ شکاری جانور شکار پر دوڑانے کو سکھاتے ہو تم انہیں جو اللہ نے تم کو سکھایا۔
اس آیت سے پتہ چلا کہ وہ کتا جو سکھایا ہوا نہ ہو اس کا پکڑا ہوا اور مارا ہوا شکار حرام ہے؛ لیکن شکاری کتا اگر اپنے شکار کو خود کھانے لگے تو اس کا حکم قرآن کریم میں نہیں ملتا، حدیث میں بتلایا گیا کہ یہ شکار کھانا جائز نہیں،کتے کا کھانا بتلارہا ہے کہ اس کی تعلیم صحیح نہیں ہوئی اوروہ کلب معلم ثابت نہیں ہوا ہے۔
ان جیسے اور سینکڑوں مسائل ہیں جن کی عملی تشکیل اور تفصیل قرآن پاک میں نہیں ملتی، ان موضوعات میں قرآن پاک کے ساتھ جب تک کوئی اور چیز شامل نہ کی جائے قرآن پاک کے یہ مجمل احکام منت پذیر عمل نہیں ہوسکتے۔
اس جزو لازم کی ضرورت سبھی نے محسوس کی ہے، کسی نے اس ضرورت کو حدیث سے پورا کیا، کسی نے اپنی رائے سے اور کسی نے قانون ساز اسمبلی کو اختیار دے کر اس خلاء کو پورا کرنے کی کوشش کی، تاہم اس احساس ضرورت میں سب متفق رہے کہ جب تک قرآن کریم کے ساتھ کوئی اور چیز نہ ملائی جائے،ان مجملاتِ قرآنی کی عملی تشکیل ممکن نہیں۔

محتملاتِ قرآنی میں حدیث کی ضرورت :

قرآن پاک میں جو امور مذکور ہیں ان میں بھی بہت سے ایسے مقامات بھی ہیں جہاں آیات قرآنی کئی کئی وجوہ کی محتمل ہیں، ان کی تعیین بھی بدون اس جزولازم کے کسی طرح قطعی واضح اورآسان نہیں اور اس پہلو پر بھی ہر مکتب خیال کی شہادت موجود ہے، سیدنا حضرت عمررضی اللہ عنہ نے فرمایا:ترجمہ: بیشک تمہارے پاس کچھ ایسے لوگ بھی آئیں گے جو قرآنی شبہات پیش کر کے تم سے جھگڑنے لگیں گے، ایسے وقت میں تم سنتوں سے تمسک کرنا؛ کیونکہ اصحاب سنن ہی کتاب اللہ کو زیادہ جانتے ہیں۔(سنن الدارمی،باب التورع عن الجواب فیما،حدیث نمبر:۱۲۱)
قرآن کریم کی آیات جہاں کئی کئی وجوہ کی محتمل ہوں وہاں ان کا حل پائے بغیر ہم دین کی پوری سمجھ پا نہیں سکتے۔جو لوگ اس ضرورت کو حدیث سے پورا کرنا نہیں چاہتے وہ اس ضرورت کا حل مرکز ملت اور قوم کی پنچایت تجویز کرتے ہیں،گویہ بات غلط ہے ؛لیکن اس میں بھی اس بات کا اقرار ہے کہ قرآن پاک کے ساتھ ایک جز و لازم کی بہرحال ضرورت باقی تھی، جسے وہ اب اس طرح پورا کررہے ہیں۔
پیغمبرﷺ کی مرکزی حیثیت
یہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس ہے جو مسلمانوں کو خواہ وہ کسی ملک کے ہوں، کسی دور کے ہوں، کسی نسل کے ہوں، کسی رنگ کے ہوں اور کسی طبقے کے ہوں ایک لڑی میں پروتی ہے،یہ حدیث کا فیضان ہے کہ ہندوستان، انڈونیشیا، ترکی، مصر، شام، انگلستان، افغانستان، جرمنی اورامریکہ کے رہنے والے سب مسلمان ایک طرح نماز پڑھتے ہیں، ایک طرح روزے رکھتے ہیں،سب ایک نصاب سے زکوٰۃ دیتے ہیں، نکاح و طلاق اورپیدائش واموات میں سب ایک ہی راہ پر چلتے ہیں، مادیت کے اس دور میں یہ تو ہو رہا ہے کہ کئی لوگ عملاً مذہب سے دور چلے گئے؛ لیکن اگر کوئی دین کی طرف رجوع کرے اوراس پر عمل کرنا چاہے تو راہ وہی ملے گی جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اورآپ کے صحابہؓ نے قائم کی اوراس راہ کے چراغ وہی ہوں گے،جو حضور اکرمﷺ نے روشن کئے، تاریخ میں نہیں ملتا کہ ان نجوم ہدایت کے بغیر کسی طبقے یا فردنے اسلام کی کوئی راہ عمل طے کی ہو۔
جو لوگ قرآن پاک کے ساتھ مرکز ملت کے فیصلوں کو جزو لازم ٹھہراتے ہیں اور وہ اس طرح قرآنی مجملات کی تشکیل چاہتے ہیں، ان کی یہ رائے محض ایک نظری درجے میں ہے جس نے اسلام کی پوری تاریخ میں کبھی حقیقت واقعہ کا لباس نہیں پہنا اور نہ تاریخ کے کسی دور میں کبھی اس طرح قرآنی معاشرے کی تشکیل ہوئی ہے، اس کی تائید مزید اس سے بھی ہوتی ہے کہ اس تجویز کےحامیوں نے اسے اشاعت اسلام کے عنوان سے نہیں، ہمیشہ طلوع اسلام کے نام سے پیش کیا ہے،جو اسلام آج سے چودہ سو سال پہلے طلوع ہوا تھا، اس میں قرآن کریم کے ساتھ جزو لازم حضوراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت اورصحابہ کرام کی عملی راہیں تھیں اور اب اسلام کے نئے طلوع میں یہ تجویز ہے، کہ قرآن کریم کے ساتھ مرکز ملت کو جزولازم ٹھہرایا جائے اور حدیث سے جان چھڑا لی جائے۔
یہ نئی تجویز محض نظری بات ہے، اس نئے تخیل سے اسلام کی چودہ سو سالہ عملی تاریخ کو چھوڑا نہیں جاسکتا، جب اسلام کے سنہری زمانے Golden Age (خلافت راشدہ) میں بھی حدیث ہی قرآن کے ساتھ جزو لازم تھی تو آج کے بے عمل دور میں وہ کون سانیا چراغ ہوگا جو قوم میں زندگی کی حرارت پیدا کرسکے گا۔

اشارات قرآنی میں حدیث کی ضرورت

مجملاتِ قرآنی ہی نہیں جن کے لیے حدیث کے جزو لازم کی ضرورت ہے،قرآن کریم میں ایسے اشارات بھی ملتے ہیں جنھیں روایات کو ساتھ ملائے بغیر سمجھنا بہت مشکل ہے ؛پھر یہ اشارات کبھی عدد ی صورت میں ہوتے ہیں کبھی واقعاتی صورت میں اور ہر جگہ اس کی وضاحت ضروری ہے۔
عددی اشارات
(۱)”وَجَاءَ مِنْ أَقْصَى الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعَى”۔ (یٰسن:۲۰)
اس آیت میں وہ ایک شخص کون تھا جو کسی دور مقام سے دوڑتا ہوا آیا تھا؟ قرآن میں اس کی طرف اشارہ ہے؛ مگراس کا نام وپتہ کہیں نہیں ملتا۔
(۲)”ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ”۔ (التوبہ:۴۰)
اس آیت میں دو کون تھے جن میں سے ایک دوسرے کو کہہ رہا تھا اللہ ہم دونوں کے ساتھ ہے، نام کہاں ہیں؟۔
(۳)”وَعَلَى الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُوا”۔ (التوبہ:۱۸)
اس آیت میں تین کون تھے جن پر زمین اپنی ساری وسعتوں کے باوجود تنگ کردی گئی تھی۔
(۴)”مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ”۔ (التوبہ:۳۶)
اس آیت میں چار مہینے کون سے تھے جن میں لڑائی لڑنا عہد جاہلیت میں ممنوع تھا؟ ان حرمت کے مہینوں کے نام کیا ہیں؟۔
(۵)”خَمْسَةٌ سَادِسُهُمْ كَلْبُهُمْ”۔ (الکہف:۲۲)
اس آیت میں پانچ کون تھے جن میں چھٹا ان کا کتا تھا؟۔
(۶)”سِتَّةِ أَيَّامٍ”۔ (الاعراف:۵۴)
اس آیت میں چھ دن کون سے تھے جن کے بعد رب العزت نے عرش پر اجلال فرمایا۔
(۷)”وَسَبْعَةٍ إِذَا رَجَعْتُمْ۔(البقرۃ:۱۹۶)
اس آیت میں سات روزے کس ترتیب سے عمل میں آئیں گے؟ اور رجعتم سے مراد مطلق واپسی ہوگی یا گھر کو واپسی۔
(۸)”يَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ يَوْمَئِذٍ ثَمَانِيَةٌ”۔ (الحاقہ:۱۷)
اس آیت میں آٹھ فرشتے کون ہیں جو حشر کے دن عرش باری تعالی اٹھائیں گے۔
(۹)”فِي الْمَدِينَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ”۔ (النمل:۴۸)
اس آیت میں نو قبیلے کون سے تھے؟۔
(۱۰)”فَأْتُوا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِثْلِهِ”۔ (ھود:۱۳)
اس آیت میں دس سورتیں کون سی تھیں جن کے مثل انہیں دس سورتیں لانے کا چیلنج دیا گیا تھا۔
(۱۱)”إِنِّي رَأَيْتُ أَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا”۔ (یوسف:۴)
اس آیت میں گیارہ ستارے کون تھے۔
(۱۲)”وَلَقَدْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَبَعَثْنَا مِنْهُمُ اثْنَيْ عَشَرَ نَقِيبًا”۔ (المائدہ:۱۲)
اس آیت میں بارہ نقیب کون تھے،جو اللہ تعالی نے بنی اسرائیل میں اٹھائے تھے۔

واقعاتی اشارات
(۱)”فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا قَوْلًا غَيْرَ الَّذِي قِيلَ لَهُمْ”۔ (البقرۃ:۵۹)
اس آیت میں صورت واقعہ کیا تھی، ان لوگوں نے کون سی بات بدلی تھی اورکس بات کے عوض؟
(۲)”وَإِذْأَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا”۔ (التحریم:۳)
اس آیت میں وہ حدیث پیغمبر کیا تھی جو آپ نے اپنی کسی بیوی کو بطور راز کہی تھی؟
(۳)”مَاقَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ أَوْتَرَكْتُمُوهَا قَائِمَةً عَلَى أُصُولِهَا”۔ (الحشر:۵)
اس آیت میں کن درختوں کے کاٹنے اورکن کو اپنی بنیادوں پر چھوڑنے کا واقعہ یہاں مذکور ہے۔
(۴)”عَبَسَ وَتَوَلَّى، أَنْ جَاءَهُ الْأَعْمَى”۔ (عبس:۱)
اس آیت میں وہ کون تھا جس کی پیشانی پر ایک نابینا خادم کے چلے آنے سے بل آگئے؟ اس نے تیور چڑھالی اورمنہ موڑلیا کہ اس کے پاس نابینا آیا، تیور کس نے چڑھائی؟ نابینا کون تھا اور یہ واقعہ کیا تھا؟۔
(۵)”إِذْهُمَا فِي الْغَارِ إِذْيَقُولُ لِصَاحِبِهِ لَاتَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا”۔ (التوبہ:۴۰)
ترجمہ:جس وقت وہ دونوں غار میں تھے جب وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا تو غم نہ کر بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔
غار میں کون سب تھے؟ کب کا واقعہ ہے؟ کون سے غار کی بات ہے؟۔
(۶)”إِذْأَنْتُمْ بِالْعُدْوَةِ الدُّنْيَا وَهُمْ بِالْعُدْوَةِ الْقُصْوَى وَالرَّكْبُ أَسْفَلَ مِنْكُمْ”۔(الانفال:۴۲)
جس وقت تم تھے ورلے کنارے پر اور وہ پرلے کنارے پر اور قافلہ نیچے اتر گیا تھا تم سے۔
(۷)”وَإِذْيَعِدُكُمُ اللَّهُ إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ أَنَّهَا لَكُمْ وَتَوَدُّونَ أَنَّ غَيْرَ ذَاتِ الشَّوْكَةِ تَكُونُ لَكُمْ”۔(الانفال:۷)
ترجمہ:اورجس وقت وعدہ کررہا تھا تم سے خدا دو جماعتوں میں سے ایک کا کہ وہ تمہارے ہاتھ لگے گی اور تم چاہتے تھے کہ جس میں کانٹا نہ لگے وہ تم کو ملے۔
اس قسم کے اشارات روایات کو ساتھ ملائے بغیر نہ سمجھے جاسکتے ہیں اورنہ سمجھائے جاسکتے ہیں۔

مشکلات قرآنی میں حدیث کی ضرورت

قرآن پاک اپنی اصولی دعوت میں بہت آسان ہے، اس میں نصیحت کے ابواب ایسے پیرائے میں لائے گئے ہیں کہ جو شخص بھی دل رکھتا ہو اورکان دھرے،اس سے اثر لیے بغیر نہیں رہ سکتا۔”وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ”۔ (القمر:۱۷)ترجمہ: اور بیشک ہم نے قرآن نصیحت لینے کے لیے آسان کردیا ہے سو ہےکوئی سمجھنے والا؟۔”إِنَّ فِي ذَلِكَ لَذِكْرَى لِمَنْ كَانَ لَهُ قَلْبٌ أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ”۔ (ق:۳۷)ترجمہ: بے شک اس میں نصیحت ہے ہر اس شخص کے لیے جس کے پاس دل ہو یا وہ کان لگا سکے اور گواہی دے سکے۔
لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ قرآن کریم میں حقائق غامضہ موجود نہیں ہیں۔اس کتاب الہٰی میں حقائق کا سمندر موجیں ماررہا ہے، بڑے بڑے فضلاء اس سے موتی چنتے رہے اورچن رہے ہیں،لیکن اس کی اتھاہ گہرائیوں پر از خود کوئی قابونہیں پاسکتا، صحابہ کرامؓ جن کے سامنے قرآن نازل ہوا تھا اوران کی اپنی زبان بھی عربی تھی، حضورﷺ کے فیض تربیت سے ان کے قلوب تزکیہ اورتصفیہ پاچکے تھے؛پھر بھی انہوں نے بعض آیات قرآنی کے سمجھنے میں دقت محسوس کی اورجب تک حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی وضاحت نہ فرمائی وہ آیات ان کے لیے آسان نہ ہوسکیں،قرآن کریم کے ساتھ حدیث ایک جز ولازم کے طورپر ہمیشہ کار فرما اورہدایت پیرا رہی ہے۔
(۱)”الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ أُولَئِكَ لَهُمُ الْأَمْنُ وَهُمْ مُهْتَدُونَ”۔(الانعام:۸۲)ترجمہ:جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمانوں میں کوئی ظلم شامل نہ کیا ہو، وہ لوگ ہیں جنہیں ہمیشہ کا امن ہے اور وہی ہدایت یافتہ ہیں۔
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ (۳۴ھ) کہتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ کرامؓ سہم گئے اورانہوں نے حضورؐ سے عرض کیا۔”وَاینا لم یظلم؟”۔ ترجمہ:ہم میں سے کس نے ظلم نہ کیا۔اس پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اس آیت میں ظلم سے مراد شرک ہے، جیسا کہ ارشاد ہے”إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ “۔
(بخاری،باب ظلم دون ظلم،حدیث نمبر:۳۱)
اس حدیث سے قرآن پاک کی یہ آیت حل ہوگئی اورصحابہ کرامؓ کے دل مطمئن ہو گئے اوران کا تردد جاتا رہا، مراد آیت کی یہ ہے کہ جو شخص ایمان لائے اورپھر اس میں اللہ تعالی کی ذات وصفات میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائے،وہ عذاب سے مامون اورہدایت یافتہ ہے۔(معارف القرآن:۳/۳۸۷)

(۲)”وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ”۔(التوبہ:۳۴) ترجمہ: اور جو لوگ سونا اور چاندی جمع کئے رکھتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کردیتے،آپ ان کو دردناک عذاب کی خبر دیجئے۔
حضرت امیر معاویہؓ نے فرمایا کہ یہ آیت ہم مسلمانوں کے بارے میں نہیں اہل کتاب کے بارے میں ہے،حضرت ابوذر غفاریؓ نے فرمایا کہ نہیں ہمارے اوران کے دونوں کے بارے میں ہے۔ (بخاری:۶/۸۲)
حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے فرمایا: یہ صورت اس پہلے دور سے متعلق ہے جب کہ زکوۃ کا حکم نہیں اترا تھا جب زکوٰۃ کا حکم آگیا تو خدا تعالی نے اسے (زکوٰۃ کو) سارے مال کی پاکیز گی کا سبب بنادیا۔(بخاری،بَاب مَا أُدِّيَ زَكَاتُهُ فَلَيْسَ بِكَنْزٍ،حدیث نمبر:۱۳۱۶)
سو حدیث نے فرمایا کہ یہاں جمع کرنے کا معنی یہ ہے کہ اس کی زکوٰۃ نہ دی جائے، زکوٰۃ دینے سے وہ اکتناز (مال جمع رکھنا) کے ذیل میں نہیں آتا، اب اس کا مال پاک ہوچکا ہے۔ حضرت عمربن الخطابؓ کہتے ہیں کہ میں نے خود حضوراکرمﷺ سے اس بارے میں پوچھا آپ نے فرمایا: (اللہ تعالی نے زکوٰۃ اس لیے فرض کی ہے کہ اس سے تمہارے باقی اموال پاک کردیئے جائیں۔
ابو داؤد،باب فی حقوق المال، حدیث نمبر:۱۴۱۷)
اسلام میں اگر کسی صورت میں بھی مال جمع کرنے کی اجازت نہ ہوتی تو شریعت محمدی میں مال کی زکوٰۃ اورمیراث کی تقسیم کا قانون نہ ہوسکتا تھا، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مذکورہ بالا ارشاد سے صحابہؓ کے دل مطمئن ہوگئے اوران کا تردد جاتا رہا۔

(۲)”وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ”۔ (البقرۃ:۱۸۷)ترجمہ: اورکھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ سفید اور سیاہ دھاگے میں تمھیں فرق معلوم ہونے لگے۔
حضرت عدی بن حاتمؓ (۶۷ھ) نے سفید اورسیاہ دھاگے اپنے تکئے کے نیچے رکھ لیے؛ تاکہ جب دونوں ایک دوسرے سے ممتاز ہونے لگیں تو اس سے وہ اپنے روزے کی ابتداء کرلیا کریں، حضرت سہل بن سعدؓ (۹۸۱ھ) کہتے ہیں: کچھ لوگ جنہوں نے روزے کی نیت کی ہوتی وہ اپنے دونوں پاؤں سے سفید اورسیاہ دھاگے باندھ رہتے اور برابر سحری کھاتے رہتے؛یہاں تک کہ وہ دونوں دھاگے آپس میں ممتاز نہ ہوجائیں۔(بخاری،باب قولہ وکلوا واشربوا حتی یتبین،حدیث نمبر:۴۱۵۱)
اس سے پتہ چلا کہ صرف عدی بن حاتمؓ ہی نہ تھے جو یہاں مراد قرآنی نہ سمجھ پائے ؛بلکہ اور بھی کئی لوگ تھے جنہوں نے سفید اور سیاہ دھاگوں کو ان کے ظاہر پر رکھا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عدی بن حاتمؓ کو سمجھا یا کہ یہاں سفید اورسیاہ دھاگے سے مراد دن کی سفیدی اورشب کی سیاہی ہے۔
اللہ تعالی نے اس کے بعد من الفجر کے الفاظ نازل فرمائے، بخاری شریف میں ہے:
“فَأَنْزَلَ اللَّهُ بَعْدَهُ {مِنْ الْفَجْرِ}”۔ (بخاری، بَاب أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَام،حدیث نمبر:۴۱۵۱)۔اس سے سب سمجھ گئے کہ یہاں دن اور رات کا ایک دوسرے سے ممتاز ہونا مراد ہے۔
اس سے جہاں یہ معلوم ہوا کہ حضورﷺ نے جس طرح اس آیت کی وضاحت فرمائی وہی مراد ربانی تھی اور بعد کی وحی قرآنی نے واضح طور پر وہی بات کہی جو آپ نے پہلے بطور تفسیر کہی تھی وہاں یہ بھی پتہ چلا کہ قرآن پاک اگر پیغمبر پر نازل نہ ہوتا کہیں دھرامل جاتا تو اس کے کئی مقامات عربوں میں بھی اپنے معنی مراد کے ساتھ واضح نہ ہوتے۔

توسیعات قرآن میں حدیث کی ضرورت

قرآن پاک کی بعض آیات میں کچھ بنیادی اصول ہوتے ہیں،جب یہ دریافت ہوجائیں تو ان کا پھیلاؤ اپنی لپیٹ میں کچھ اورجزئیات کو بھی لے آتا ہے، یہ ساری ذمہ داری مجتہدین پر نہیں چھوڑی گئی ؛بلکہ حضور رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بعض قرآنی اصول کی توسیعات فرمائی، قرآنی توسیعات میں حدیث کی رہنمائی یقین کا فائدہ بخشتی ہے۔
(۱)”أَنْ تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ إِلَّامَاقَدْ سَلَفَ”۔ (النساء:۲۳)
ترجمہ: اوریہ حرام ہے کہ تم دو بہنوں کو ایک نکاح میں جمع کرو، ہاں جو پہلے ہوچکا، ہوچکا۔
ایک شخص کے نکاح میں جمع ہوکر دو بہنوں میں کھچاؤ پیدا ہونے کا قوی مظنہ تھا،قرآن کریم کے اس حکم میں یہ حکمت تھی کہ وہ صلہ رحمی جو بہنوں میں ہونی چاہئے پامال نہ ہو اور ایک خاندان (بیوی کے خاندان) سے دو متقابل رشتے قائم نہ ہو اورنہ باہم مودت پامال ہو۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اصل شرعی کی پوری حفاظت فرمائی اوراس علت کو پھوپھی بھتیجی اورخالہ بھانجی تک پھیلادیا کہ یہ بھی ایک شخص کے نکاح میں جمع نہیں ہوسکتیں، آپ نے اس قرآنی اصل “أَنْ تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ” کی توسیع فرمادی،محدث ابن حبان (۳۵۴ھ) روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”انکن اذا فعلتن ذلک قطعتن ارحامکن”۔ (نیل الاوطار:۶/۱۵۷) ترجمہ: اگر تم نے ایسا کیا تو تم نے قطع رحمی کی۔
قرآنی اصل کی توسیع میں حدیث کا فیصلہ قطعی اور یقینی ہوتا ہے،مجتہد اصل حکم دریافت کرکے اسے کتنی ہی جزئیات پر پھیلائے، ظنیت پھر بھی قائم رہتی ہے،حدیث صریح والی قطعیت اس میں نہیں آتی ۔قرآنی احکام کی توسیع میں صرف حدیث قطعی ہے۔
(۲)شریعت اسلامی میں نسب و صہر کے رشتوں کے ساتھ دودھ کے رشتے حرام کئے گئے ہیں،ان سے نکاح جائز نہیں، قرآن کریم میں ہے:
“وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ مِنَ الرَّضَاعَةِ”۔
(النساء:۲۳)
ترجمہ: تمہاری دودھ کی مائیں اور بہنیں بھی تم پر حرام کی گئی ہیں،یعنی تم ان سے نکاح نہیں کرسکتے۔
قرآن کریم نے دودھ کے رشتوں میں صرف ماں اور بہن کا ذکر کیا ہے،اس قرآنی اصل کی توسیع میں رضاعی خالہ اور رضاعی پھوپھی بھی آجاتی ہیں، حدیث نے اسے بیان کرکے قرآنی اصول کو پھیلادیا اورایک بڑی ضرورت پوری کردی، رضاعی حرمت کا تعلق صرف اس دودھ پلانے والی ہی سے نہیں رہے گا؛ بلکہ اس کا خاوند بھی دودھ کے رشتے میں باپ تسلیم کیا جائے گا اور اس کے لیے یہ دودھ پینے والی بچی حکماً بیٹی ہوگی، اس قسم کے مسائل جو اصول و علل پر مبنی ہوں اپنی توسیع میں کئی جزئیات کو شامل ہوتے ہیں، ان توسیعات قرآنی میں حدیث کی اشد ضرورت ہے۔
(۳)قرآن کریم نے سود کی حرمت بیان کی،اس حکم کے تحت اور کئی کاروبار بھی آتے تھے، حدیث نے اس حکم کی علت کو پھیلادیا،قرآن کریم نے تو اتنا فرمایا:
“وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا”۔ (البقرۃ:۲۷۵)
ترجمہ: اللہ تعالی نے تجارت کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام۔
یہ سود کی حرمت کا بیان ہے،لیکن اس حکم کی علت اورحرمت اپنی لپیٹ میں کئی تجارتوں کو بھی شامل تھی،حضوراکرمﷺ نے سونا، چاندی، گندم، جو، کھجور اور نمک چھ چھ چیزوں کی بیع و شراء میں حکم دیا کہ اگر ان کا باہمی تبادلہ کیا جائے تو برابر سرابر اورنقد دست بدست ہونا چاہئے، ان میں ادھار کیا گیا یا مقدار میں کمی بیشی کی گئی تو وہ بھی سود ہوجائے گا، آنحضرتﷺ نے درخت پر لگے پھلوں اورٹوٹے پھولوں کے مابین اورکئے ہوئے صاف غلے اورکھڑی فصلوں کے باہمی سودے کو بھی سود میں داخل کیا ؛کیوں کہ ان میں صورتوں میں کمی بیشی کا امکان بہر صورت موجود رہتا تھا، قرآن کریم میں جس سود کا ذکر ہے اس سے جلی طور پر وہی سود مراد ہے جو قرض پر لیا جاتا تھا، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سے ایک دوسری قسم کے سود کا علم ہوا جو عنواناً سود نہ تھا، لیکن اس میں سود کی اصل لپٹی تھی،امام طحاویؒ (۳۲۱ھ) لکھتے ہیں:
“اس سود کے حرام ہونے پر بھی حضورﷺ کی متواتر احادیث وارد ہیں،اس قسم کے سود کی تفصیل پہلے موجود نہ تھی،اس لیے صحابہ کرامؓ کو اشکال ہوا اور فقہاء کے بھی اختلاف ہوئے”۔(شرح معانی آلاثار:۲/۲۳۲)
جاہلیت میں سود کا لفظ پورا متعارف تھا اور اس سے وہ زیادتی مراد تھی جو قرض ادھار پر لی جاتی تھی، حدیث نے اس کی علت اورسبب کی نشاندہی بھی کردی اورجس جس بیع و شراء میں اس کا اثر آتا تھا اسے بھی حرام قرار دے دیا،حدیث قرآنی اصل کی توسیع میں بنیادی کام کرتی ہے اوراس سے مسئلہ میں قطیعت بھی آجاتی ہے جو صرف اجتہاد و مجتہد سے نہیں آتی۔

خلاصہ:

اس ساری بحث (Discussion) کا حاصل یہ ہے کہ قرآن پاک کے لیے ایک ایسے جز ولازم کی ضرورت ہے جو اس کے مجملات کی عملی تشکیل کرے،اشارات کی تفصیل کرے،مشکلات کی توضیح کرے،اصول و علل کی توسیع کرے اور زندگی کے ان ہزار ہا مسائل کو جو قرآن پاک میں منصوص نہیں،ایسا استناد مہیا کرے جس کے تحت ہزاروں جزئیات قرآن پاک کے تحت جمع ہوجائیں اوران کا واضح اورکامیاب حل سامنے آجائے اور قرآن پاک کی شان جامعیت اپنی جگہ قائم رہے۔ یہی جزو کلام و تشریحات نبوت (حدیث) ہے،حضور اکرم صلیﷺ کی ذات گرامی نے اپنی حدیث/ سنت اورقرآنی معاشرے کے پاکیزہ افراد صحابہ کرامؓ کے ذریعہ اسلام کووہ استناد مہیا کیا کہ اس میں ہر ضرورت کا حل ہر سوال کا جواب، ہرالجھن کا سلجھاؤ ملا اورہر اضطراب کو شفاء ملی،آنحضرتﷺ قیامت تک کے لیے نبی بنا کے بھیجے گئے،آپ کی تعلیمات کی قیامت تک حفاظت حدیث ہی کے ذریعے ہی ہوئی۔ آپ کی بعثت کا مقصد قرآن پاک پہچانا ہی نہ تھا، کتاب الہٰی کی تعلیم بھی تھی اوراللہ تعالی کی نگرانی میں ایک قرآنی معاشرے کی تشکیل بھی تھی، آپ نے قرآن وحکمت کی تعلیم اورصحابہؓ کے تزکیہ باطن سے ایک اچھا معاشرہ بھی تشکیل دیا،آپ نے زندگی کے لا تعداد مسائل کو ایسا استناد بخشا کہ ہم زندگی کے کسی گوشے میں بھی اپنے آپ کو تشنہ کام نہیں پاتے،یوں کہیے حدیث علم کے ہر باب میں ہمیں شفا بخشتی ہے۔یہ صحیح ہے کہ قرآن کریم شریعت کا اول علمی ماخذ ہے؛ لیکن قرآن کریم کی کسی آیت میں اگر مفہوم کا کہیں اختلاف ہو اوروہاں دورائیں قائم ہوسکتی ہوں اور صاحب قرآن ﷺ کسی ایک معنی کی تعیین کردیں تو یہ بات  حرف آخر  ہوگی۔  قرآن پاک میں بیان قرآن کا حق آپ کوہی دیا گیا ہے۔
“وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَانُزِّلَ إِلَيْهِمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ”۔(النحل:۴۴)
ترجمہ:اور(اے پیغمبر!)ہم نے تم پر بھی یہ قرآن اس لیے نازل کیا ہے تاکہ تم لوگوں کے سامنے اُن باتوں کی واضح تشریح کردو جو اُن کے لیے اتاری گئی ہیں اور تاکہ وہ غور وفکر سے کام لیں۔
:

فیس بک تبصرے

قرآن کی موجودگی میں حدیث کی ضرورت ہی کیا ہے؟“ پر 2 تبصرے

  1. پنگ بیک قرآن تفصیلا لکل شیء (ہرچیزکی تفصیل)ہےاسکےبعدحدیث ضرورت ؟ | الحاد جدید کا علمی محاکمہ

  2. پنگ بیک آرٹیکل لسٹ (حدیث) | الحاد جدید کا علمی محاکمہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *