اسنادِحدیث کےنقدوتحقیق کےاصول

نقد اسناد کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ سلسلۂ اسناد کے تمام رجال کا کتبِ رجال کی مدد سے تحقیق کرکے یہ معلوم کیا جائے کہ آیا یہ راوی ضعیف ہے یاقوی؟ اس کے قوی یاضعیف ہونے کی کیا وجہ ہے؟ اس شخص کی ملاقات جس سے روایت کررہا ہے ثابت بھی ہے یانہیں؟ یااس کی ملاقات مروی عنہ سے بالکل ثابت نہیں ہے؛ لیکن وہ ڈھٹائی کے ساتھ صیغہ سماع کے ذریعہ روایت کررہا ہے۔ اس تحقیق کے ذریعہ سند کے انقطاع واتصال اور راوی کے عن سے روایت کرنے کی صورت میں جب کہ اس مروی عنہ کا زمانہ ہی نہ پایا ہو، تدلیس وغیرہ کا پتہ چلتا ہے اور سند کی یہ تحقیق کا کام کتبِ رجال کی مدد سے ہوپاتا ہے، جس میں اُن کی سنِ ولادت، وفات اور اس کے تعلق سے علماء جرح وتعدیل کے اقوال وتصریحات مل جاتے ہیں۔
نقدِ اسناد کی ضرورت کن احادیث میں؟
کچھ حدیثیں تووہ ہیں جن کے سند کی تحقیق وتفتیش کی بالکل ضرورت ہی نہیں؛ چونکہ بڑے بڑے ائمہ ونقادِ حدیث نے ان کے بارے میں نہایت ہی باریک بینی اوردقت نظری کے ساتھ ان پراحکام نافذ کردیئے ہیں؛ لہٰذا ہمیں ان احادیث کے بارے میں مغز ماری کی بالکل ضرورت نہیں۔ہاں اگرکوئی ایسی حدیث ہو جس کے بارے میں ائمہ محدثین نے اس کے صحت وضعف کے تعلق سے بالکل کوئی فیصلہ نہ کیا ہویاائمہ حدیث میں سے کسی کی تصریح توموجود ہو؛ لیکن وہ جمہور علماء کے نزدیک ناقابل اعتبار یامتساہل مانے جاتے ہوں تو سند کی تحقیق ضروری ہوتی ہے۔
ائمہ حدیث نے جن احادیث کی حوالے سے اس کی صحت وضعف کے حوالے سے فیصلے کردیئے ہیں وہ اس طرح ہیں:
مثلاًصحیحین کی حدیثیں، امام بخاریؒ اور مسلمؒ نے اپنی کتابوں میں صرف صحیح احادیث کا اخراج کیا ہے، اس کی اسانید میں کوئی ضعیف یامتروک راوی نہیں اور نہ ہی اس میں کوئی علتِ خفیہ قادحہ ہے، جس سے حدیث کی صحت پراثرپڑے؛ اس لیے کسی حدیث کا صحیحین میں ہونا ہی یہ اس کی صحت کے لیے کافی ہے۔
یاوہ کتابیں جن کے مصنفین نے صحیح احادیث کی تخریج کا التزام کیا ہے۔
مؤطا امام مالکؒ: اس کتاب کے متعلق بھی امت کا اتفاق ہے کہ اس میں جوبھی مرفوع متصل روایات ہیں اور اس کے بلاغاات ومراسیل بھی سندِ متصل کے ساتھ تخریج شدہ ہیں۔
مستخرجات صحیحین: جوکتابیں صحیحین پربطورِ مستخرج کے ہیں وہ بھی صحت کے وصف سے متصف ہیں۔
صحیح ابنِ خزیمہ: اسی طرح محمد بن اسحاق بن خزیمہ نیساپوری (۲۱۱ھ) یہ کتاب بھی صحت کے وصف کے ساتھ متصف ہے؛ اس لیے حدیث کا اس کتاب میں موجود ہونا یہ اس کی صحت کے لیے کافی ہے، یہ بات حافظ ابنِ صلاح نے علوم الحدیث:۱۷ اور علامہ سیوطیؒ نے تدریب الراوی:۱/۱۰۹ پر لکھی ہے۔
صحیح ابنِ حبان: شیخین کے بعد صحیح احادیث ابن حبان کے پاس بھی ہیں؛ البتہ ابنِ حبان اس حوالے سے متساہل شمار کئے جاتے ہیں؛ لیکن ان کا یہ تساہل حاکم کی طرح نہیں ہے، کم از کم ان کی روایات حسن درجہ کی ہوتی ہیں۔
صحیح ابن السکن: ابوعلی سعید بن عثمان بن سعید بن السکن البغدادی (۳۵۳ھ) کی تصنیف ہے، اس کا پورا نام صحیح المنتقی فی الحدیث ہے، یہ صحیح احادیث کا انتخاب ہے گرچہ یہ کتاب مفقود ہے۔
(و)المستدرک علی الصحیحین یہ امام حکم ابوعبداللہ نیساپوری کی کتاب ہے جس میں انہوں نے ان احادیث کی تخریج کی ہے جوشیخین یاان دونوں میں سے کسی ایک کی شرط پر ہیں؛ گویا یہ بھی صحیح احادیث کا مجموعہ ہے؛ لیکن حاکم کا تساہل معروف ہے، اس لیے صرف حاکم رحمہ اللہ کی تصحیح پراعتماد نہ کیا جائے، اس کے ساتھ دیگر ائمہ نقاد کا بھی اس حوالے سے نقطۂ نظر دیکھا جائے۔

نقد حدیث:

نقدِ حدیث کا علم نہایت حساس اور دشوار گزار ہوتا ہے،اس لیے ضروری ہے کہ باحث کوفنِ اصولِ حدیث کے تمام اصول پرکامل عبور ومہارت حاصل ہو؛ خصوصاً یہ دوعلم اس میں اہمیت کے حامل ہوتے ہیں: (۱)علم اصولِ جرح وتعدیل (۲)علم اسماء الرجال۔

نقدِ اسناد کے مراحل

نقدِ اسناد کے لیے باحث کوپانچ مراحل سے گزرناپڑے گا:

(۱)نقدِ اسناد کے لیے جوبات سب سے پہلے پیشِ نظر رکھنی ہوگی وہ یہ ہے کہ رجال اسناد کی تعیین وتشخیص کرلی جائے؛ کیونکہ ایسا بھی ہوتا ہے ایک ہی طبقے کے راویوں کے نام، کنیت اور ان کی نسبت کبھی ایک  ہوتی ہے، جس کی بناء پران کے درمیان امتیاز کرنا دشوار ہوجاتا ہے، اس کے لیے کتبِ رجال کی مدد لی جائے گی؛ پھراس راوی کے شیخ یاشاگرد وغیرہ کے احوال کے ذریعہ اس راوی کی تشخیص کی جائے گی، اس کے بعدیہ معلوم ہوکہ یہ کتب ستہ کا راوی یاضعیف راوی یااس کا تعلق کسی خاص شہر سے یاخاص طبقہ سے تومتعلقہ فنون کی کتاب سے؛ ورنہ عام کتب رجال کے ذریعہ جوحروف معجم پرترتیب دی گئی ہیں راوی کی تشخیص وتعیین کی جائے گی۔

(۲)دوسرا مرحلہ  رجالِ اسناد کی عدالت اور ضبط کی تحقیق کا ہے؛ چونکہ کسی بھی حدیث کے اصطلاحی اعتبار سے صحیح ہونے کے لیے اس میں پانچ شرطوں کا متحقق ہونا ضروری ہوتا ہے:(۱)راوی کا عادل ہونا (۲)راوی کا ضابط یعنی حدیث کو محفوظ رکھنے والا ہونا (۳)اسی طرح راوی اور اس کے شیخ اور راوی اُس کے شاگرد کے درمیان سند کا متصل ہونا (۴)حدیث کا شذوذ سے محفوظ ہونا (۵)حدیث کا کسی باطنی علت سے محفوظ ہونا۔

راوی کے عادل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ راوی مسلمان، عاقل، بالغ ہو، فسق اور انسانی شرافت کے خلاف امور اور بدعات سے اجتناب وپرہیز کرتا ہو۔

ضابط ہونے کا مطلب یہ ہے کہ حدیث کوجیسے سنی تھی بغیر کسی کمی زیادتی کے ویسے ادا کرے؛ خواہ سینے میں محفوظ کرے یاسفینے (نوشتہ) میں، جس راوی میں یہ دونوں اوصاف جس کمال درجہ کے ہوں گے وہ اسی قدر ثقہ درجہ کا حامل ہوگا۔راوی کے اوصاف پر ایک نہایت جامع اور وجیز (وجیز کہتے ہیں جلدی سے سمجھ میں آنے والےمختصر کلام کو) بحث  پیش ہے۔

“راوی کے وہ تمام اوصاف جوبلحاظ روایت اس کی قبولیت کا معیار بن سکتے ہیں دواصولی صفات کی طرف راجع ہوتے ہیں، عدالت اور ضبط؛ اگرروایت کے راوی عادل ہوں جن میں عدالت کا فقدان یانقصان نہ ہو اور ادھر وہ ضابط ہوں جن میں حفظ وضبط اور تیقظ وبیداری کانقصان وفقدان نہ ہو اور قلت عدالت وضبط سے جوکمزوریاں راوی کولاحق ہوتی ہیں ان سے راوی پاک ہوں اور ساتھ ہی سندمسلسل اور متصل ہو تووہ روایت صحیح لذاتہ کہلائے گی، جواوصاف راوی کے لحاظ سے روایت کااعلی مرتبہ ہے؛ کیونکہ اس میں عدالت وضبط مکمل طریق پر موجود ہے، جوراویوں کوثقہ اور معتبر ثابت کرتا ہے؛ اس لیے اس دائرہ میں حدیث کی یہ قسم بنیادی اور اساسی کہلائے گی، اس کے بعدجوقسم بھی پیدا ہوگی وہ ان اوصاف کی کمی بیشی اور نقصان یافقدان سے پیدا ہوگی، اس لیے وہ اسی خبر کی فرع کہلائے گی، مثلاً اگرراوی ساقط العدالت ہوتو اس نقصانِ عدالت یافقدانِ عدالت سے پانچ اُصولی کمزوریاں پیدا ہوتی ہیں؛ جنھیں مطاعن حدیث کہا جاتا ہے:

(۱)کذب (۲)تہمت کذب (۳)فسق (۴)جہالت (۵)بدعت: یعنی راوی کاذب ہویاکذب کی تہمت لیئے ہوئے ہو یافاسق ہو یاجاہل ونادان ہو یابدعتی ہو توکہا جائے گا کہ وہ عادل نہیں، اس لیے اس کی روایت کا کوئی اعتبار نہیں؛ اسی طرح اگرراوی ضابط نہ ہوتو اس نقصان حفظ یافقدانِ حافظہ سے بھی پانچ ہی کمزوریاں پیدا ہوتی ہیں جوروایت کوبے اعتبار بنادیتی ہیں:

(۱)فرطِ غفلت (۲)کثرتِ غلط (۳)مخالفتِ ثقات (۴)وہم (۵)سوء حفظ: یعنی راوی غفلت شعار اورلااُبالی ہو، جس میں تیقظ اور احتیاط اور بیدار مغزی نہ ہو یاکثیرالاغلاط ہو یاثقہ لوگوں سے الگ نئی اور مخالف بات کہتا ہو یاوہمی ہو اسے خود ہی اپنی روایت میں شبہ پڑجاتا ہو یاحافظہ خراب ہو، بات بھول جاتا ہو توکہا جائے گا کہ یہ راوی ضبط وحفظ میں مضبوط نہیں، اس لیے اس کی روایت کا کچھ اعتبار نہیں؛ لیکن اس نقصانِ عدالت وضبط یاان دس مطاعن کے درجات ومراتب ہیں؛ اگران صفاتِ عدل وضبط میں کوئی معمولی سی کمی ہو؛ مگرروایت کے اور طریقوں اور سندوں کی کثرت سے ان کی کمزوریوں کی تلافی ہوجائے تواس حدیث کوصحیح لغیرہ کہیں گے؛ اگریہ تلافی اور جبر نقصان نہ ہو اور وہ معمولی کمزوریاں بدستور قائم رہ جائیں توحدیث حسن لذاتہ کہلائے گی؛ اگراس حالت میں بھی کثرتِ طرق سے تلافیٔ نقصان ہوجائے توحدیث حسن لغیرہ کہلائے گی اور اسی نسبت سے اُن کے اعتبار اور حجیت کا درجہ قائم ہوگا؛ پس اوصاف رواۃ کے لحاظ سے حدیث کی چار اساسی قسمیں نکل آئیں:

(۱)صحیح لذاتہ (۲)صحیح لغیرہ (۳)حسن لذاتہ (۴)حسن لغیرہ اور ان میں بھی بنیادی قسم صرف صحیح لذاتہ ہے جواپنے دائرہ میں سب سے اُونچی قسم ہے”۔(فضل الباری، مولانا شبیراحمدعثمانیؒ:۱/۹۸۔ مقدمہ ، از مولانا قاری محمدطیب صاحبؒ)

(۳)تیسرے مرحلہ میں ہمیں یہ تحقیق کرنا ہوگا کہ راوی کا اس کے شیخ سے سماع ثابت ہے یانہیں ہے کہ جس کے ذریعہ سند کے اتصال کا پتہ چل سکے، حدثنا، اخبرنا اور سمعت وغیرہ کے صیغے صراحتہ سماع پر دلالت کرتے ہیں، اس سے سند کے اتصال کا ثبوت ہوجائے گا، عَنْ وغیرہ سے روایت کرنے کی صورت میں اگرراوی معتمد ہے توکوئی بات نہیں؛ ورنہ کتبِ رجال کی مراجعت سے راوی اور شیخ کے درمیان سماع وعدمِ سماع کا ثبوت ہوجائے گا۔

(۴) چوتھا مرحلہ حدیث پرحکم لگانے کا ہے کہ راوی کی عدالت وضبط اور سند کے اتصال وغیرہ کی جانچ کے بعد یہ فیصلہ کیا جائے کہ آیا یہ روایت صحیح درجہ کی ہے یاحسن کی یایہ حدیث ضعیف یاموضوع وغیرہ ہے،؟

حدیث پر احکام کے نفاد کا  طریقہ:

 اس کے لیے حافظ ابنِ حجرؒ نے تقریب التہذیب میں جوروات کی درجہ بندی کی ہے، ثقہ وضعیف ہونے کے اعتبار سے درجات قائم کیے ہیں، اِن الفاظِ جرح وتعدیل کوپیشِ نظر رکھ کرحدیث پراحکام کے نافذ کرنے کا طریقہ بیان کیا ہے اور کتب ستہ اور ان جیسی کتابوں کے روات کی درجہ بندی کی گئی ہے وہ درج ذیل ہے:

۱۔پہلےدرجہ کو حافظ نے صحابہ کرامؓ کے لیے مختص کیا ہے کہ ان کی تحقیق یاتفتیش کی کوئی ضرورت نہیں یہ بالکل اس سے ماوراء ہیں۔

۲۔دوسرادرجہ ان لوگوں کے لیے مختص کیا ہے جوعلماء جرح وتعدیل اور ائمہ نقد کی حیثیت رکھتے ہیں، ان لوگوں کوحافظ أوثق الناس، ثقۃ ثقۃ ثقۃ متقن جیسے مبالغہ کے صیغے یاتاکیدی تعبیر استعمال کرتے ہیں۔ اِن لوگوں کی حدیث نمبر ایک کی صحیح لذاتہ ہوتی ہے۔

۳۔تیسرا درجہ ان لوگوں کا ہے جن کوثقہ کہنے پردوسرے لوگ یعنی ائمہ جرح وتعدیل متفق ہوں؛ چنانچہ ان لوگوں کوحافظ صاحبؒ ثقۃ، متقن، حجۃ، حافظ، ثبت وغیرہ بغیرتکرار کے صیغوں کا استعمال کرتے ہیں؛ انھیں لوگوں میں وہ بھی شامل ہیں، جن کے صحابی ہونے میں اختلاف ہوا ہے۔ اس مرتبہ والوں کی حدیث نمبردو کی صحیح لذاتہ ہوتی ہے۔

۴۔چوتھا مرتبہ ان لوگوں کا ہے جن کے ثقہ کہنے پردوسرے درجہ کے ائمہ جرح وتعدیل تقریباً متفق ہوتے ہیں، کسی ایک دو نے اختلاف کیا ہوا ہوتا ہے، اس اختلاف کے پیشِ نظر حافظ صاحب انھیں کچھ ہلکی تعبیر سے موسوم کرتے ہیں صدوق، لاباس بہ، لیس بہ بأس۔ اس مرتبہ والوں کی حدیث نمبر تین کی صحیح لذاتہ ہوتی ہے۔

۵۔پانچواں درجہ ان لوگوں کا ہے جن کے بارے میں ائمہ جرح وتعدیل نے اختلاف کیا ہوا ہے، بعض توثیق اور بعض تضعیف کرتے ہیں، تضعیف کی بھی کوئی بنیاد ہوتی ہے، ایسے لوگوں کوحافظ صاحب صدوق یھم، صدوق یخطئی، صدوق لہ أوھام، صدوق یخطیٔ کثیراً جیسے الفاظ سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس مرتبہ والوں کی حدیث نمبر ایک کی حسن لذاتہ ہوتی ہے۔

۶۔چھٹا مرتبہ ان رجال کے لیے ہے جوقلیل الحدیث ہوتے ہیں (یعنی ان کی احادیث ایک سے دس کے درمیان ہوتی ہے) اور ان پرکوئی ایسی جرح بھی نہیں ہوتی کہ جس کی وجہ سے ان کی احادیث چھوڑی جائیں؛ اگرایسے لوگوں کوکوئی متابعت مل جاتی ہے توان کوحافظ صاحب مقبول اور جن کی متابعت نہیں کی گئی ہوتی ہے ان کو لین الحدیث کہتے ہیں۔ اس مرتبہ میں دوشقیں ہیں مقبول اور لین الحدیث مقبول کی حدیث نمبردوکی حسن لذاتہ ہوتی ہے اورلین الحدیث کی نمبر تین کی حسن لذاتہ ہوتی ہے۔

۷ ۔ساتواں مرتبہ ان لوگوں کے لیے جن سے روایت کرنے والے ایک سے زائد ہوتے ہیں؛ مگران کی توثیق کسی نے نہیں کی ہوتی، ایسے لوگوں کو حافظ صاحب مستور، مجھول الحال، لایعرف حالہ سے تعبیر کرتے ہیں، اس مرتبہ میں حافظ صاحب نے عموماً ان لوگوں کوشامل کیا ہے جن کوامام بخاریؒ نے اپنی تاریخ اور ابن ابی حاتم نے الجرح والتعدیل میں ذکر کیا ہوتا ہے اور وہ تابعین سے نیچے کے طبقے کے ہوتے ہیں، یااُن کے تعلق ابن ابی حاتم، ابن مدینی اورابن القطان نے مجہول کہا ہوتا ہے؛ کیونکہ یہ لوگ مجہول العین اور مجہول الحال دونوں پر مجہول کا اطلاق کرتے ہیں۔ اس مرتبہ کے لوگوں کی احادیث کے بارے میں توقف کیا جائے؛ تاآنکہ ان کا حل واضح ہوجائے؛ بایں طور کہ اس کا کوئی متابع یاشاہد مل جائے؛ لہٰذا یہ حدیث حسن لغیرہ کی نمبر ایک شمار ہوگی۔

۸۔اٹھواں مرتبہ ان لوگوں کا ہے جن کے متعلق کسی امام معتبر کی توثیق نہیں  ہوئی ہے؛ بلکہ ائمہ جرح وتعدیل کی جانب اس کے ضعیف ہونے کا اطلاق موجود ہوتا ہے، یہ تضعیف مبہم ہی کیوں نہ ہو؛ اُن کوحافظضعیف، لیس بالقوی کے لفظ سے تعبیر کرتے ہیں۔  اس مرتبہ  کی حدیث ضعیف کہلاتی ہے اور تعدد طرق کی صورت میں بلند ہوکر حسن لغیرہ تک پہونچ جاتی ہے اس وقت یہ نمبردو کی حسن لغیرہ ہوگی۔

۹۔نواں درجہ ان رجال کا ہے جن سے روایت کرنے والا صرف ایک راوی ہوتا ہے اوران کی کسی نے توثیق نہیں کی ہوتی ہے، دراصل یہ لوگ اصحابِ حدیث ہوتے ہی نہیں۔ اس مرتبہ کے لوگوں کی حدیث بھی ضعیف ہوتی ہے اور تعدد طرق کی صورت میں بلند ہوکر حسن لغیرہ تک پہونچ جاتی ہے؛ مگریہ نمبرتین کی حسن لغیرہ ہوتی ہے

۱۰۔یہ درجہ ان لوگوں کا ہے جن کے متعلق ائمہ جرح وتعدیل نے سخت جرحیں کی ہوئی ہیں؛ یہاں تک کہ ان کے حدیث کے لکھنے یاان سے روایت کرنے سے بھی منع کرتے ہیں، ایسے لوگوں کو حافظ متروک کے لفظ سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس مرتبہ کے لوگوں کی حدیث ضعیف جدا (بہت ضعیف) کہلاتی ہے۔

۱۱۔گیارہواں مرتبہ ان لوگوں کا ہے جوکذب کے ساتھ متہم ہوتے ہیں، یعنی حدیثِ رسول میں توان کا کذب ثابت نہیں ہوتا؛ البتہ عام بول چال میں وہ دروغ گوئی کے مرتکب ہوتے ہیں، ان لوگوں کوحافظ متھم بالکذب سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس مرتبہ کے لوگوں کی حدیث متروک کہی جاتی ہے۔

۱۲۔یہ ان بدبختوں کا درجہ ہے جوحدیثِ رسولﷺ  میں جھوٹ کے مرتکب ہوتے ہیں؛ چنانچہ حافظ ان کووضاع یا کذاب کہتے ہیں۔ ان کی روایات موضوعات واباطیل کہلاتی ہیں؛ اگرایسا شخص توبہ بھی کرے توتوبہ کےبعد بھی اس کی حدیث قبول نہیں کی جاتی۔

حافظ ابنِ حجرؒ کی مذکورہ بالا ترتیب کوپیشِ نظر رکھ کر اسی کے مطابق حکم لگایا جاسکتا ہے، مثلاً اگرسند کے تمام روات دوسرے، یاتیسرے، یاچوتھے مرتبہ سے تعلق رکھتے ہیں تو آپ کہہ سکتے ہیں اسنادہ صحیح اس کی سند صحیح ہے اور اگرسند میں کوئی راوی پانچویں یاچھٹے مرتبہ کا ہے توآپ کہہ سکتے ہیں اسنادہ حسن اس کی سند حسن ہےاور اگرسند میں کوئی راوی ساتویں یاآٹھویں مرتبہ کا ہے تو آپ کہیں گے اسنادہ ضعیف اس کی سند ضعیف ہے؛ اگر سند میں کوئی راوی دسویں مرتبہ کا ہے توآپ کہیں گے اسنادہ ضعیف جداً اس کی سند بہت ضعیف ہے؛ اگرسند میں کوئی راوی گیارہویں مرتبہ کا ہے توکہیں گے اسنادہ متروک اس کی سند متروک ہے؛ اگرسند میں کوئی راوی بارہویں مرتبہ کا ہے توکہیں گے اسنادہ موضوع۔

اس سے پتہ چلا کہ نتیجہ ہمیشہ کمزور کے تابع ہوتا ہے؛ پھراگر پانچویں اور چھٹے مرتبہ والے راویوں کوان ہی جیسا یااُن سے اچھے روات کی متابعت مل جائے توان پربھی صحیح کا حکم لگایا جائے گا، یہ صحیح لغیرہ ہوگی؛ اگرساتویں آٹھویں اور نویں مرتبہ والوں کومتابعت مل جائے تواُن کی سند ضعیف سے اٹھکر حسن لغیرہ کوپہونچ جائے گی؛ لہٰذا یہ کہا جاسکتا ہے اسنادہ حسن۔

دسویں سے لےکر بارہویں مرتبہ تک کے لوگوں کوتعدد طرق سے کوئی فائدہ نہیں پہونچتا، ان کی سند میں کوئی قوت نہیں ہوتی؛ اگر راوی کےذکرتقریب التہذیب میں (جو کہ کتب ستہ اور اس کے بعض ملحقات کے راویوں کی درجہ بندی پرمشتمل ہے ) نہ ہوتو پھرکتبِ رجال سے اس راوی کے احوال کونکال کروہ راوی حافظ کےقائم کردہ مراتب میں سے جس مرتبہ سے میل کھاتا ہواس کے مطابق اس راوی کے حدیث کا درجہ متعین کیا جائے گا۔

(۵) پانچواں مرحلہ حدیث کا شذوذ اور علت سے محفوظ ہونے کا ہے۔شدوذ کہتے ہیں کہ کوئی ثقہ راوی اپنی روایت میں اپنے سے زیادہ ثقہ یااپنے جیسے یااپنے سے فروتر متعدد ثقات کی حدیث کی مخالفت کرے اور علت سے مراد یہ ہے کہ سند کے بظاہر صحیح ہونے کے باوجود اس میں باطنی طور سے کوئی ایسی علت ہو جوحدیث کوناقابل قبول بناتی ہو، یہ علت کبھی سند میں ہوتی ہے اور کبھی متن میں اور کبھی دونوں میں، شذوذبھی درحقیقت علت ہی کی ایک صورت ہے، علت کی شناخت ہونے کے بعد اس کی مختلف صورتیں ملتی ہیں، جن کوالگ الگ نام سے موسوم کیا جاسکتا ہے، مثلاً شاذ، منکر، مرسل خفی، مزید فی متصل الاسانید، مقلوب، مصحف، مدرج، مضطرب وغیرہ اور کچھ ایسی صورتیں بنتی ہیں جن کوکوئی نام نہیں دیاجاسکتا، علماءِ علل کا ضمیر اس کے معلول ہونے کی گواہی دیتا ہے؛ مگروہ اس کی نوعیت بیان نہیں کرسکتے، علت کی شناخت دشوار گزار کام ہوتا ہے علمِ علل کا موضوع ثقہ محدثین کی روایات ہوتی ہیں، ثقہ کی حدیث عموماً صحیح ہوتی ہے، اس میں  وہم کا پکڑنا  ماہرینِ علل کا ہی کام ہوسکتا ہے، ہرکس وناکس کے بس کی یہ چیز نہیں، بس احادیث کی علت وغیرہ کوجاننے کے لیے ان کتابوں سے رجوع کیا جائے گا جنہیں اس فن کے ماہر علماء نے لکھا ہے، اس طرح کی احادیث کا سب سے بڑا مجموعہ امام دارِقطنی (۳۸۵ھ) کی کتاب العلل الواردۃ فی الاحادیث النبویۃ ہے اس کی ترتیب مسانید صحابہ پر ہے۔

اس کے علاوہ اس فن کی اہم ترین کتاب ابن ابی  حاتم کی علل الحدیث ہے جس میں فقہی ترتیب پراحادیث کوجمع کیا گیا ہے، اس میں ابن ابی حاتم نے اپنے والد ابوحاتم رازی اور ماموں ابوزرعہ راوی سے پوچھ کراحادیث کی علتوں کوجمع کیا ہے۔تیسری بہت اہم کتاب امام ترمذی کی کتاب العلل الکبیر ہے جس کوقاضی ابوطالب نے جامع ترمذی کے ابواب پرمرتب کردیا ہے، اس میں امام ترمذی خود بھی علتیں بیان کرتے ہیں اور عموماً امام بخاریؒ اور امام دارمی کے حوالہ سے علتیں بیان کرتے ہیں؛ اس کے علاوہ امام احمد کی کتاب العلل امام بخاری کیالتاریخ الکبیر ابوبکر بزار کی المسند المعلل اور طبرانی کی المعجم الأوسط وغیرہ کی بھی مراجعت کرلینی چاہئے، اس بارے میں نصب الرایہ للزیلعی اور التلخیص الحبیر لابن حجر وغیرہ کوبھی پیشِ نظر رکھنا چاہیے۔

یہ مختصرقواعدِ حدیث ہروقت ذہن میں رہنے چاہئیں، انسانی بساط اور عام بشری سوچ کے تحت جواحتیاطی تدابیر ہوسکتی تھیں وہ محدثین کرام نے طے کیں اور یہ اصول بھی تقریباً استقرائی ہیں جوائمہ فن نے قواعدِ شریعت کی روشنی میں طے کیئے ہیں، ان میں کئی پہلو اختلافی بھی ہیں، جن میں ائمہ کی رائے مختلف رہی ہے؛ لیکن یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ تنقید کے بنیادی اصولوں میں سب ائمہ فن متفق رہے ہیں؛ بلکہ بجاطور پر کہا جاسکتا ہے کہ مسلمانوں نے تحقیق روایات اور تنقیح اسناد میں دنیا کو ایک نئے علم سے آشنا کیا اور وہ اصول بتائے جن کی روشنی میں پچھلے پہلووں کی باتوں کے جائز طور پر وارث ہوسکیں اور اُن کی صحت پر پوری طرح سے اعتماد کیا جاسکے۔

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *