عقلی توجیہہ و تحقیق کے دو سائنسی طریقے

11035322_1602320796671213_2359519591925732694_n

ایک قسم کا علم وہ ہوتا ہے جس کی تحقیق تجربات اور مشاہدات کے ذریعے سے ممکن ہو اور دوسری قسم کا علم وہ ہے جس میں اصل حصہ ظن و تخمین کا ہی ہوتا ہے۔ان دونوں قسم کے علوم میں فرق نہ کرنے کی وجہ سے مسلمانوں میں عقل اور نقل کے سلسلے میں ایک معرکہ برپاہو گیا۔ نتیجتاً مسلمانوں میں معتزلہ کا فرقہ پیدا ہوا جس کی وجہ سے علمائے اہل سنّت کو طرح طرح کی ابتلاءو آزمائش سے گزرنا پڑا۔
یہاں پر یہ بات واضح رہے کہ موجودہ دور میں سائنس کا لفظ تقریبا ً تحقیق یا علم کے ہم معنی ہے۔یہاں تک کہ انگریزی کے اسلامی لٹریچر میں جرح و تعدیل اور اسماءالرجال کے علم کو بھی سائنس سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
چونکہ مغرب میں یہ بات بہت پہلے ہی سمجھ لی گئی تھی کہ علمی تحقیق میں ہرچیز کا مطالعہ مشاہدات اور تجربات سے کرنا قطعاً ناممکن ہے اسی بنا پر سائنس کو دو انواع میں منقسم کیا گیا ہے:
1۔ طبعی سائنس (Natural science): اس سے مراد فطرت کے ان حقائق کا علم حاصل کرنا ہے جس کی تحقیق مشاہدات اور تجربات سے کی جاسکتی ہے۔اس سائنس کا تعلق ان فطری قواعد اور کلیوں سے ہے جس کے تحت مادہ (Matter)اور قوت (Energy) تعامل کرتے ہیں۔اس زمرے کے تحت طبعیات (Physics)، کیمیا(Chemistry) حیاتیات (Biology) وغیرہ آتے ہیں۔
2۔سماجی سائنس (Social science): اس سے مراد علم و تحقیق کا وہ میدان ہے جس میں انسان کے انفرادی اور اجتماعی مزاج اور برتاؤ اور اُس سے منتج صورتحال کا تجزیہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس قسم کی تحقیقات میں ظن و تخمین اور قیاسات کے بغیر ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھا جاسکتا۔یہاں پر اگر آپ تجربات کرنا چاہیں تو کئی نسلوں کے بعد مشکل سے کوئی نتیجہ اخذ ہوسکتا ہے۔ ان علوم میں علم نفسیات(Psychology)، عمرانیات (Sociology) ، معاشیات (Economy) علم بشریات (Anthropology) وغیرہ آتے ہیں ۔
اب ظاہر ہے کہ سائنسی تحقیق کو ان دو حصوں میں تقسیم کرنے کا مقصد یہی تو ہے کہ سماجی سائنس کے معاملے میں دو اور دو چار طرح کے اصول وضع کرنا ناممکن ہے۔ یہ علوم ایک طرح سے سائنس میں استثناءکی حیثیت رکھتے ہیں۔اور یہ علوم ہیں بھی درحقیقت استثناءکے لئے۔ ان علوم میں جو بھی اصول وضع کئے جائیں گے اس کی حیثیت بہرحال تجرباتی ہوگی۔ دراصل یہ علوم انسان کی کم علمی اور بے بسی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ انسانی فطرت انتہائی پیچیدہ ہے اور اس پیچیدہ فطرت کے انسان کیلئے خوداپنی فطرت کا مکمل ادراک کرنا قطعاً ممکن نہیں ہے۔
موجودہ دور کی نسبت سے آپ یہ کہہ سکتے ہیں اس دنیا میں سرمایہ داری کا جو تجربہ کیا گیا تھا اب جا کر اس کا کچھ کچھ نتیجہ معلوم پڑ رہا ہے اور وہ بھی بالکل واضح نہیں ہے۔جو اس تجربے کو غلط کہہ رہے ہیں وہ بھی اس میں اصل غلطی کی نشاندہی کرنے سے قاصر ہیں اور آ جا کر اس وحی کی حامل امت بچی جو اس سلسلے میں کچھ کہنے کی پوزیشن میں ہے لیکن یہ امت بھی اگر سنانے سے زیادہ سننے لگ گئی ہو اور سننے بھی وحی کو نہیں (الذین یستمعون القول فیتبعون اَحسنہ) بلکہ وحی سے جاہل قوموں کو، تو پھر باقی کیا رہ جاتا ہے؟ ہاں سنانے والے ہیں مگر سننے والوں نے اگر کانوں میں انگلیاں ٹھونس رکھی ہوں تو کوئی کیا کرسکتا ہے۔
شریعت میں جو اسلامی احکام دیے جاتے ہیں وہ ظاہرہے کہ انسانوں کے لئے ہی دیے جاتے ہیں اور انسان کوئی مشین یا بے جان چیز تو نہیں۔ جب کسی شرعی احکام کی حکمت معلوم کرنے کی کوشش کی جاتی تو یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ انسان صرف گوشت اور ہڈیوں کا مجموعہ ہی نہیں بلکہ ایک روحانی مخلوق بھی ہے اور نفسیاتی لحاظ سے دنیا کی پیچیدہ ترین ہستی بھی۔
ان محققین کے سلسلے میں یہ ایک عجیب معمہ ہے کہ مغرب جس کو مطمئن کرنے کے لئے یہ سب تحقیق کی جاتی ہے وہ تو ہار مان کر سماجی سائنس (social science) کو کب کا منظوری دے چکا ہے بلکہ اس کا داعی بن چکا ہے اور ہمارے مسلمان محققین ابھی تک شرعی احکامات کی تشریح طبعی سائنس(Natural science) میں تلاش کر تے پھر رہے ہیں!!!
تحریر ابو زید

 

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *