سائنسی تصور علم (Scientific Method of Knowledge)-خلاصہ

22

گزشتہ تحریر میں ہم نے سائنسی طریقہ علم [scientific method of knowledge]کی وہ تشریحات و توجیہات جو مغربی مفکرین نے پیش کی ہیں اس کی ایک تلخیص پیش کرنے کی کوشش کی تھی۔یہاں ہم برسبیل تذکرہ ایک جامع خلاصہ بیان کیے دیتے ہیں۔ اس ساری تفصیل کے مطابق سائنس کے چار بڑے فرقے ہیں یعنی اس سوال کہ ’ سائنسی نظریات کا ارتقاء کیسے ہوتاہے‘ کے جواب میں مفکرین سائنس درج ذیل چار بڑے گروہوں میں تقسیم ہو گئے ہیں :
۱] فر قہ استقرائیت [Inductivism]اس فرقے کے مطابق سائنسی علم کی بنیاد تجربہ اور مشاہدہ ہے ،یعنی انسانی حواس کے ذریعے حاصل ہونے والے انفرادی نوعیت کے تجربات [singular propositions]کی بنیاد پر ایسے آفاقی نظریات [Universal propositions]کی تعمیر کرنا ممکن ہے جنکی مدد سے حوادثات عالم کی تشریح و پیشن گوئی کی جاسکے۔اس نظرئیے کے مطابق سائنس کا مقصد نظریات کو ثابت کرنا ہے۔
۲] فر قہ تردیدیت [falsificationism]: چونکہ کسی نظرئیے کے بغیر تجربہ اور مشاہدہ ممکن العمل ہی نہیں نیز کسی نظرئیے کا اثبات منطقی اعتبار سے ناممکن الوقوع ہے،لہذااس فرقے کے مطابق سائنسی علم کی بنیاد ایسے نظریات ہیں جو تجربے کی روشنی میں غلط ثابت کیے جا سکتے ہوں۔ اس فرقے کے مطابق سائنسی نالج کی تعمیر نظریات کو غلط ثابت کرنے سے ہوتی ہے اور سائنس نفی کے اصول پر آگے بڑھتی ہے۔ سائنس کا یہی نظریہ زیادہ تر یونیورسٹیوں میں قبولیت عام کا حامل ہے۔
۳] فر قہ ساختیت [Structuralists]: چونکہ عقلاً تجربے کی روشنی میں کسی نظرئیے کا حتمی اثبات و ابطال ممکن نہیں ، لہذااس فرقے کے مطابق ہر مضمون [Discipline]میں سائنسی علم کی تعمیرچند خاص مابعد الطبعیاتی حقائق کے ماتحت روبہ عمل ہوتی ہے جسے اس مضمون کا خاص تحقیقی منہاج [Paradigm یا Structure] کہا جاتا ہے۔جب کوئی ایسا تجربہ مشاہدے میں آئے جو پیر منہاج علم کے واضح اصولوں سے ٹکراتا ہو توسائنس دان مختلف قسم کے اضافی نظریات[ جنہیں اس پیراڈائیم کے auxiliary hypothesis یا Protective Beltsکہا جاتا ہے]قائم کر تے ہیں جن کا مقصد منہاج کے اصولوں میں رہتے ہوئے ایسے تجربات کی تشریح کوممکن بنانا ہوتا ہے۔کسی پختہ [Mature]سائنس میں اپنی خاص منہاج پرتنقید کرنے کی اجازت نہیں ہوتی البتہ جب کسی وجہ سے سائنس دانوں کا کسی منہاج کے ما بعد الطبعیاتی حقائق پر سے ایمان ختم ہو جاتا ہے تو اس کی جگہ ایک دوسری منہاج لے لیتی ہے جو نئے قسم کے ایمانیات پر مشتمل ہوتی ہے۔چنانچہ ہر دوسری صورت میں کسی مضمون میں تعمیر ہونے والا سائنسی علم چند ما بعد الطبعیاتی حقائق پر ایمان کا مرہون منت ہوتا ہے۔
۴] فر قہ انارکسٹ[Anarchists]: چونکہ ہر سائنسی علم کی بنیاد چند ما بعد الطبعیاتی حقائق پر ایمان لانے پر منحصر ہے، لہذا سائنسی علم کو کسی خاص ڈھانچے [Structure]کا پابند نہیں بنایا جاسکتا۔نیز کسی خاص سائنسی طریقہ سے حاصل ہونے والی معلومات کو کسی دوسرے طریقہ سے حاصل ہونے والی معلومات پر فوقیت دینے کے لیے کوئی عقلی دلیل نہیں ہوسکتی۔ مزید یہ کہ مغرب میں سائنسی معلومات کی برتری کا راز خود سائنس کے طریقہ کے تجزیے سے نہیں بلکہ ان معاشرتی و تہذیبی تبدیلیوں کے پس منظر میں ہی سمجھا جاسکتا ہے جو سترہویں اور اٹھارویں صدی عیسوی کے یورپ میں رونما ہوئیں۔
اس مضمون کو تحریر کرنے کامقصد ان خطرات اور گمراہیوں کا جائزہ لینا ہے جو اسلام کی سائنسی تعبیرات پیش کرنے نیز سائنس کو اسلامیانے کے ضمن میں پائی جاتی ہیں۔ان خطرات اور گمراہیوں سے آگاہی اس لیے ضروری ہے کہ یہ ایک مومن کے ایمان کا معاملہ ہے جو اس کے لیے ہر قیمتی شے سے زیادہ اہم ترمتاع ہے۔ان گمراہیوں کے فہم کے لیے ضروری ہے کہ آپ وہ پس منظر اپنے سامنے رکھیں جومغربی مفکرین کی مذہبی عقلیت کے حوالے سے فکری بے اطمینانی کے ضمن میں ہم نے اپنے پچھلے مضمون میں بیان کیا تھا ۔
ان مفکرین کو اس بات پر اصرار تھا کہ چونکہ وحی کے ذریعے حاصل ہونے والے علم میں عقل آزاد [یعنی انسانی خواہشات کے تابع] نہیں ہوتی اور اس علم کی بنیاد ’’انسان سے باہر‘‘ ہے [یعنی خدا کی طرف سے] ،لہذا یہ صحیح معنوں میں علم کہلانے کا مستحق نہیں۔اس کے ساتھ ہی انھوں نے یہ فرضی اور مضحکہ خیز دعوی بھی کرڈالا کہ آزاد عقل [ جو وحی کے تابع ہونے کے بجائے انسانی خواہشات کے تابع ہو] کے ذریعے انسان ایک ایسا نظام علم تعمیر کرسکتا ہے جو مفروضوں سے پاک اور آفاقی ہواور جس کی بنیاد ایسی شے پر ہو جسے ہر ’ ’انسان‘‘ اپنے خیالات ،خواہشات اور امیدوں سے ماوراء رہ کر بھی اپنے وجود کے احساس کے ساتھ جانچ سکے۔ مذہبی معیار علم سے خفگی اور کسی دوسرے منبع علم کی تلاش کے پیچھے جو اصل خواہش سرگرم عمل تھی وہ طلب آزادی ، یعنی عبدیت سے بغاوت ، تھی اور یہی آزادی [Autonomy] جدیدیت [modernism] کی بنیادی قدر اور مقصد ہے۔ یعنی جب انسان اپنے رب سے بغاوت کا اعلان کرکے اپنے آزاد [یعنی انا ربکم الاعلی] ہونے کا جھوٹا فرعونی دعوی کرتا ہے تب ہی اس کے دل میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ حقیقت وہ نہیں جو انبیاء علیہم السلام نے بتائی، بلکہ حقیقت تو میں خود جان سکتا ہوں بلکہ حقیقت وہ ہے جسے میں خود تخلیق اور تعمیر کرسکوں۔ اس کفر کے بعد جو شے انسان کو ذریعہ علم کے طور پر نظر آتی ہے وہ آزاد عقل ہوتی ہے۔ آزاد عقل سے مراد ایسی عقل ہے جو وحی اور مرضی رب کے نہیں بلکہ انسانی خواہشات کے تابع ہو۔ چنانچہ کافرانہ جنون کے بعد انھوں نے ایک ایسے معیار علم کی تلاش شروع کی جو [۱]معروضی [Objective]، [۲] آفاقی [Universal] اور [۳] مفروضوں سے پاک ہو [presuppostions less]۔ مناسب ہوگا کہ مختصراً یہاں ان اصطلاحات کے وہ معنی بیان کردئیے جائیں جو اہل مغرب نے بیان کیے تھے۔ یاد رہے کہ یہ محض دعوے ہی دعوے ہیں جن کے کوئی معنی نہیں۔
معروضیت [Objectivity]سے مراد حقیقت کی بابت کسی دعوے کا انسانی خواہشات، ارادوں ، تجربات یاخیالات وغیرہ سے ماوراء [impersonal] ہونا ہے۔یعنی معروضی دعوی ایک ایسے دعوے کو کہتے ہیں جسکا تعلق کسی خاص فاعل [subject]سے نہیں بلکہ اس شے [object]سے ہوجس کے بارے میں دعوی کیا جارہا ہے۔مثلاًفرض کریں کہ کوئی کہتا ہے کہ ’جلتی ہوئی ٹیوب لائٹ سے خوف پیدا ہوتا ہے ‘۔اب یہ طے کرنے کے لیے کہ آیا یہ ایک معروضی دعوی ہے یا نہیں آپ یہ دیکھیں کہ کیا دنیا کے ہر شخص کو جلتی ہوئی ٹیوب لائٹ کے نظارے سے خوف محسوس ہوتا ہے یا نہیں؟ اگر نہیں،تو اسکا مطلب یہ ہے کہ یہ دعوی ایک غیر معروضی یا subjectiveدعوی ہے کیونکہ اسکا تعلق ٹیوب لائٹ سے نہیں بلکہ کسی خاص شخص کے ذاتی احساسات کیساتھ ہے۔اس کے مقابلے میں یہ دعوی کہ ’جلتی ہوئی ٹیوب لائٹ سے روشنی نکلتی ہے‘ ایک معروضی حقیقت کا بیا ن ہے کیونکہ دنیا کا ہر صحیح الحواس شخص جب بھی جلتی ہوئی ٹیوب لائٹ دیکھے گا اسے روشنی دکھائی دے گی۔چنانچہ اشیاء کے بارے میں ایک ایسا دعوی یا حکم جسکا وجود یا عدم وجود کسی انسان کے ساتھ نہیں بلکہ اشیاء کے ساتھ ملحق ہو تو وہ ایک معروضی دعوی [objective fact] یا حکم کہلائے گا۔انہیں معنوں میں ٹیوب لائٹ دیکھنے سے ’روشنی کا نظارہ‘ ایک معروضی جبکہ ’خوف کا احساس ‘ ایک غیر معروضی حقیقت ہے کیونکہ ثانی الذکر کا تعلق ٹیوب لائٹ سے نہیں بلکہ کسی خاص شخص سے ہے۔ایسے ہی ’کشش ثقل کی وجہ سے گیند کا زمین کی طرف گرنا ‘ ایک معروضی حقیقت ہے کیونکہ دنیا کا جو بھی شخص گیند ہوا میں پھینکے گا گیند زمین کی طرف گرے گی، اس کے مقابلے میں اگر معاملہ ایسا ہوتا کہ میرے گیند پھینکنے پر تو وہ زمین پر آ گرتی مگر آپ کے پھینکنے سے نہیں گرتی تو کشش ثقل ایک غیر معروضی حقیقت کہلاتی کیونکہ اس صورت میں گیند کے گرنے کا تعلق کشش ثقل سے نہیں بلکہ میری ذات سے ہوتا۔ چنانچہ مغربی مفکرین نے معروضیت کے ذریعے حقیقت جاننے کا دعوی کیا [اس کی اسلامی تنقید آگے آرہی ہے]۔ یہاں اس دعوے کی داخلی تنقید بیان کرنے کا موقع نہیں، ورنہ کانٹ کے Transcendental Subjectivism کے بعد تو حصول معروضیت کے سارے دعوے ہی خاک میں مل گئے ہیں [اسکا خلاصہ یہ ہے عقل محض [pure reason] کا کوئی وجود نہیں، اور نہ ہی عقل کے ذریعے اشیاء کی حقیقت [جسے کانٹ nomenonکہتا ہے] جانی جاسکتی ہے بلکہ عقل کے ذریعے انسان اشیاء کے بارے میں جو کچھ بھی جان سکتا ہے وہ اس کے اپنے نفس کی ساخت [structure] ہی کا عکس ہے اور وہ ساخت کہیں باہر نہیں بلکہ خودانسان میں موجود ہے، لہذا معروضیت کے سارے دعوے محض دیوانے کی بڑ ہیں]۔ اس ضمن میں سب سے مزے کی بات تو یہ ہے کہ جس عقل محض کے امکان کو مغرب میں اٹھارویں صدی میں ہی رد کیا جا چکا تھا، آج ہمارے مفکرین اسی عقل محض کے گیت گاکر خود کو ’عقل مند سمجھ رہے ہیں یہ عقل مند مغربی فلسفے اور سائنس کی حقیقت نہیں جانتے۔
آفاقیت [Universality] سے مرادحقیقت کی بابت کسی دعوے کا زمان و مکان کی قیود سے ماوراء ہو نا ہے۔یعنی اگر کسی دعوے کے وجود یا عدم وجود کا حکم کسی خاص زمان یا مکان کیساتھ خاص نہ ہو تو وہ ایک آفاقی دعوی کہلائے گا۔ انہیں معنوں میں ’ کشش ثقل کا ہونا ‘ عام طور پر ایک آفاقی دعوی سمجھا جاتا ہے کیونکہ دنیا کے ہر مقام اور زمانے میں اس کا مشاہدہ گیند کے گرنے کی صورت میں کیا جاسکتاہے۔ اس کے مقابلے میں پانی کے نقطہ ابال کا درجہ حرارت زمین کی سطح سمندرسے بلندی کی تبدیلی سے بدلتا رہتا ہے۔ لہذا ’پانی کا نقطہ ابال ‘ ایک غیر آفاقی یا دوسرے لفظوں میں مقام میں مقیدحقیقت ہے کیونکہ دنیا کے ہر مقام پر یہ حقیقت یکساں کیفیت کے ساتھ قابل مشاہدہ نہیں۔اسی طرح ’زمین کا درجہ حرارت ‘ بھی ایک غیر آفاقی دعوی ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زمین کے درجہ حرارت میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے،یعنی ’زمین کا درجہ حرارت کتنا ہے‘ اسکا کوئی ایسا جواب نہیں جو ہر زمانے کے لیے درست ہو۔ یہاں بھی یاد رہے کہ عقل کی بنیاد پر آفاقیت کی تلاش محض ایک فریب ہے جو مغربی مفکرین آفاقیت کے نام پر دنیا کو دیتے رہے۔ پس جدیدی [post-modern]مفکرین نے ان تمام دعووں کی حقیقت واضح کر دی ہے ۔ اسی طرح فزکس کی دنیا میں آئن سٹائن کے بعد اب کوئی مغربی مفکر معروضیت اور آفاقیت کی بات زبان پر نہیں لاتاکیونکہ مغرب میں آفاقیت کی بات کرنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص یہ کہتا ہو کہ دنیا گائے کے سینگ پر قائم ہے۔
مفروضیت سے پاک [pre-suppositionless] ہونے سے مراد حقیقت کی بابت کسی دعوے کا ماقبل تجربے سے ماوراء ہونا ہے، یعنی اس دعوے کو قبول کرنے کے لیے پہلے سے کچھ فرض نہ کرنا پڑے۔دوسرے لفظوں میں اگر کسی دعوے کے وجود یا عدم وجود کا حکم کسی اور دعوے کے وجود یا عدم وجود پر منحصرنہ ہو تووہ دعوی مفروضیت سے پاک یا ماوراء کہلائے گا۔مثلاً اس مثال پر غور کریں کہ ’دنیا کی تمام اشیاء بہت سے خطوط مستقیم سے مل کر بنتی ہیں۔ اس دعوے میں ٹھوس اشیاء کی حقیقت کے بارے میں کہی گئی بات اس وقت تک نہیں سمجھی جا سکتی جب تک خط مستقیم کی حقیقت واضح نہ ہوجائے،لہذا یہ مفروضیت سے پاک دعوی نہیں ہے۔ اب اگر خط مستقیم کی حقیقت کوئی اس طرح بیان کرے کہ ’ایک خط مستقیم کئی نقاط کا مجموعہ ہوتا ہے‘ ، تو یہ دعوی بھی مفروضیت سے پاک نہیں کیونکہ اس میں کیے گئے دعوے کی حقیقت اس وقت تک نہیں سمجھ آ سکتی جب تک کہ ’نقطے‘ کی حقیقت واضح نہ ہو جائے، یعنی اس دعوے کی صحت اور بطلان نقطے کے وجود و عدم وجوداور اس کی حقیقت پر منحصر ہے۔اس کے مقابلے میں ریاضی دانوں کا یہ دعوی کہ ’نقطہ ایک ایسا وجود ہے جسکامقام [Position] توہے مگرسمت [Dimension] نہیں‘ یا ’نقطہ ایک ایسا دائرہ ہے جسکا قطرصفر ہے ‘ ایک ایسا دعوی ہے جس کے ثبوت کے لیے کو ئی مزید دلیل نہیں دی جاسکتی کیونکہ سمت کا تصور بذات خود نقطے ہی کے وجود کا مرہون منت ہے ۔ایسے ہی دائرے کا تصور بھی نقطے کا محتاج ہے۔عملاً نہ تو نقطہ بنایا جاسکتا ہے کیونکہ جیسے ہی آپ قلم کی مدد سے اسے بنائیں گے تو اس کی کوئی سمت لازماًظاہر ہو گی اور نہ ہی اس بات کو عقلاً سمجھا جا سکتا ہے کہ غیر سمتی شے کیسی ہوگی ، مگر اس کا وجود ماننا بھی ضروری ہے کیونکہ اسکا وجود مانے بغیر کسی بھی ٹھوس شے کا وجود ہرگز ثابت نہیں کیا جاسکتا، انہیں معنوں میں اسے مفروضیت سے پاک دعوی سمجھا جاتا ہے۔ اس سے واضح ہوا کہ مفروضیت سے پاک ہونے سے مراد کسی دعوے کا کسی خارجی دلیل کا محتاج نہ ہونا ہے ،یعنی جو اپنے وجود کا جوازاز خود [self-contained یا self-proved]ہوں۔دوسرے لفظوں میں جو سب چیزوں کے لیے تو وجہ جواز ہو، مگر خود اسے ثابت کرنے کے لیے اس کے علاوہ کسی مزیدخارجی حقیقت کو نہ ماننا پڑے۔ یاد رہے کہ یہ دعوی بھی کہ عقل کے ذریعے کوئی ایسی بات جانی جاسکتی ہے جو مفروضیت سے پاک ہو ایک لایعنی دعوی ہے کیونکہ ہر علم کی بنیاد ایک مابعد الطبعیاتی ‘ایمان‘ پر ہی قائم ہوتی ہے [جیسا کہ نقطے والی مثال سے بھی واضح ہے]۔
مغربی مفکرین کے خیال میں حقیقت کے ادراک کا معتبر ذریعہ علم وہی ہوسکتا ہے جو ان تینوں فرضی شرائط پر پورا اترتا ہوجنکا تذکرہ ہم نے گزشتہ تحریر میں کیا۔[۱]معروضی [Objective]، [۲] آفاقی [Universal] اور [۳] مفروضوں سے پاک ہو [presuppostions less]۔
ان کے خیال میں چونکہ مذہبی علم صفت معروضیت اور مفروضیت سے پاک ہونے کی شرائط پر پورا نہیں اترتا لہذا یہ حقیقت کے ادراک کا معتبر ذریعہ نہیں ہوسکتا۔ اس کی بنیادی وجہ انھوں نے یہ بتائی کہ مذہبی علم کی بنیاد وحی پر قائم ہے اور وحی چونکہ ایک ایسی خارجی حقیقت ہے جسکا تجربہ اور مشاہدہ کسی انسان کے لیے ممکن ہی نہیں کیونکہ یہ صرف ایک نبی پر نازل ہوتی ہے،لہذا وحی سے حاصل ہونے والا علم معروضی نہیں ہوتااوریہی وجہ ہے کہ وحی پر ایمان لانے کے سوا کوئی دوسرا چارہ کار نہیں ہوتا ۔اور چونکہ وحی کے ذریعے حاصل ہونے والا حقیقت کا ادراک خود وحی پر ایمان لائے بغیر سمجھا ہی نہیں جاسکتا، لہذا یہ مفروضیت سے پاک بھی نہیں۔مثلاً، ’ایک نبی کا یہ دعوی کہ مرنے کے بعد زندگی کا وجود ہے اور مجھے اس کی خبر بذریعہ وحی ہوئی ہے ‘ اس وقت تک درست نہیں ہوسکتا جب تک اس بات پر ایمان نہ لایا جائے کہ وحی بھی کوئی شے ہے۔
علم اور حقیقت کے ادراک کا معتبر ذریعہ کیا ہے؟ جیسا کہ اوپر اشارہ کیا گیا کہ اس بات کا انکار کردینا جتنا آسان تھا کہ علم وہ نہیں جو کتا ب الہی [قرآن یا بائبل وغیرہ]میں ہے ،مگر اس کے بعد پیدا ہونے والے علمی مسائل کا حل اتنا آسان نہیں تھا۔چنانچہ اس انکار کے ساتھ کہ وحی علم کا معتبر ذریعہ نہیں ہے دو علمی سوالات کا جواب دینا ضروری لازم آتاہے
[الف] علم کہا ں سے آئے گا؟یعنی اگر علم کتاب الہی سے نہیں ملے گا تو پھر انسان کے پاس حقیقت کے ادراک کے لیے حصول علم کا اور ایسا کونسا ذریعہ ہے جو ان تینوں شرائط پر پورا اترتا ہو ،
[ب] اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ اس ذریعہ علم سے حاصل ہونے والا علم صحیح ہے؟ یعنی حقیقت کا جو بھی ادراک اس ذریعہ علم سے ہورہا ہے اس کے صحیح اور غلط ہونے کا معیا ر کیا ہوگا۔
المختصر،دونوں سوالوں کا خلاصہ یہ کہ حقیقت کے ادراک کا معتبر ذریعہ علم کیا ہوگا۔یہ ہیں وہ دو اہم سوالات جو علمیات کے میدان میں زیر بحث لائے جاتے ہیں۔سائنس یا سائنسی طریقہ علم در حقیقت انہی دو سوالات کے جوابات کے طور پر پیش کیے گئے تھے یعنی وحی سے بھی بر ترذریعہ حصول علم اگر کوئی ہے تو وہ جدید سائنس کا طریقہ ہے۔ جدید سائنس [Modren Science] در حقیقت وحی سے علی الرغم اور بغاوت خداوندی پر مبنی علمیت کا نام ہے۔ پچھلے مضمون میں ہم نے ان دلائل اور ان کی کم زوریوں کا تفصیلی خاکہ پیش کیا تھا جو مغربی مفکرین نے اپنے اس دعوے کی حقانیت کو ثابت کرنے کے لیے اب تک وضع کیے ہیں۔اس تحریر کا نفس مضمون اجازت نہیں دیتا ورنہ ہم مغربی مفکرین کے ان دعووں کی علمی کمزوریاں خود انکی زبانی کئی اور جہات سے واضح کرتے جس کی روشنی میں یہ بات تقریباً پایہ تکمیل کو پہنچ چکی ہے کہ انسانی عقل پر مبنی کسی ایسے علم کی تشکیل ممکن ہی نہیں جو مندرجہ بالا تین شرائط پر پورا اتر سکے۔ایمانیات کے بغیر عقل محض پر مبنی معروضی علم کی تشکیل ایک ایسا خواب ہے جو کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *