اعتراض : دعا مانگنے والوں کی قبول نہیں ہوتی اورنا مانگنے والے کافر مزے کرتے ہیں

8

اعتراض : یہ عجیب ہے کہ جو لوگ اسکی عبادت کریں انکی تو دعا بھی قبول نا ہو اور جو اسکا انکار کریں ، کفر کریں وہ دن رات مزے میں ہوں ۔
یہ اعتراض ایسے بھی کیا جاتا ہے کہ نیک لوگ مصیبت میں ہوں اور بدکار کافر عیاشیوں میں ۔۔
جواب :
اعتراض چونکہ چونکہ مذہب پر ہے اس لیے پہلے مذہبی موقف واضح کرناضروری ہے … دنیا کی زندگی کے متعلق مذہب اسلام کا بنیادی مقدمہ/ نظریہ آزمائش کا ہے۔ اس نظریے کو سمجھے بغیر ایسے سوالات اور دنیا میں موجود اونچ نیچ کے متعلق کسی سوال کا معقول جواب نہیں مل سکتا۔ اس لیے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ بنانے والے نے یہ کائنات بنائی کیوں؟ یہ نظام ترتیب کیوں دیا گیا؟ اسکا منصوبہ کیا ہے؟
ورنہ کوئی سرا نہیں ملے گا۔ …! فلسفیوں نے کائنات میں موجود ان تضادات امیری غریبی صحت بیماری خوشی غمی وغیرہ کی مذہبی نظریے سے ہٹ کر محض عقلی توجیہہ پیش کرنے کے لیے سارا زور لگا لیا لیکن آج تک معقول وجہ نہیں بیان کرسکے کہ دنیا میں یہ ڈفرینسیز کیوں ہیں ؟ ۔
اسلامی نظریے کی تفصیل قرآن بیان کرتا ہے جیسا کہ سورۃ الملک میں ہے
الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا : اسی نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں کون اچھے عمل کرتا ہے۔
بنیادی بات یہی ہے. یہاں کی’ ہر چیز’ اسی آزمائش کے ایک سپورٹیو عنصر کے طور پر بنی ہے، یہاں خوشی بھی ہے غم بھی، محرومیاں بھی ہیں آسائشیں بھی، کہیں ظلم فقر و فاقہ ہے کہیں امن سکون چین۔ کہیں بیماری ہے کہیں صحت فراخی ، تندرستی، کوئی پرفیکٹ نہیں، ہر کوئی اپنے اپنے اچهے برے حالات میں ایک آزمائش میں ہے۔۔
آزمائش کے لیے ضروری تھا کہ انسان کو اچھا یا برا کرنے کا مکمل موقع دیا جاتا۔۔
دو نوں راہیں اور ان کا انجام واضح کرکے چوائس اور چھوٹ دی جاتی۔ ..
دونوں میں ایٹریکشن بھی رکھی جاتی.. دونوں طرف بلانے والے بھی موجود ہوتے۔۔
یہاں ایسا ہی ہے. .
ایسے میں اچھے برے دونوں قسم کے لوگ سامنے آئے۔۔۔ کچھ ماننے والوں کے لیے دنیا قید خانہ بن گئی اور کچھ ناماننے والوں کے لیے جنت ۔ ۔
جن لوگوں نے یہاں ہر حال میں بھلائی کا دامن پکڑے رکھا آزمائش ختم ہونے کے بعد انکے لیے جزا اور اجر اور ایسے لوگ جنہوں نےمن مانیاں کیں ، قوانین کی پابندی نا کی ، ظلم سے چلے ، فساد مچائے رکھا ، نفسانی خواہسات اور برائی کی راہ اپنائی انکے لیے سزا ۔۔
دوسرے لفظوں میں دنیا برائی کا راستہ اختیار کرنے والوں ، ناماننے والوں کے لیے دارالاجزاء ہے اور مسلمانوں کے لیے دارالامتحان۔۔!!
انکے لیے یہان عیاشیاں ۔۔۔ ان لیے کہیں خوشیاں ، ذیادہ تر سختیاں/ پابندیاں / آزمائشیں۔۔۔

2. عام طور پر اللہ سے لو لگانے والے فقر میں نظر آتے ہیں اور فاسق و فاجر عیش کرتے ہیں ۔ ۔
تبصرہ : بنیادی بات تو وہی ہے جو ہم نے اوپر بیان کی. اس سے ہٹ کر ایک دوسرے رخ سے اس مسئلے کو دیکهتے ہیں وہ یہ کامیابی خوشی کی ایک صورت ہوتی ہے اور ایک اسکی حقیقت اورروح ۔
مال اور صحت اور جاہ یہ کامیابی کی صورت ہے اور راحت قلب چین سکون اسکی حقیقت اور روح ۔
مال و دولت اور صحت سے مقصود اطمینان اور راحت ہوتی ہے، اگر سب کچھ ہو لیکن قلب پریشان ہو تو اس کو اہل دنیا بھی کامیابی شمار نہیں کرتے چنانچہ اطمینان اور راحت اصل ہے۔
مثال کے طور پر اگر ایک شخص کے یہاں مال و دولت،حشمت و شوکت سب کچھ ہو اور اس کو پھانسی کا حکم ہو جائے اور اس کا مقابلہ میں ایک شخص فرض کیا جائے کہ جس کے پاس ایک پیسہ نہیں ہے اور مزدوری کر کے اطمینان کے ساتھ اپنا پیٹ پالتا ہے’ اس کو اگر یہ کہا جائے کہ فلاں شخص کی تمام دولت تم کو ملے گی، اگر بجائے اس کے تم پھانسی پر چڑھ جاو اور یہ اقرار کر لو کہ میں قاتل ہوں۔وہ ہر گز منظور نہیں کرے گا اور کہے گا کہ میں دولت کو لے کر جھو لے میں ڈالوں گا جب میری جان ہی نہ ہو گی تو ایسی دولت کو کیا کروں؟اور اس دولت مند سے اگر پوچھا جائے کہ تم کو خلاصی ہو جائے مگر اس شرط پر کہ اس کا فقروفاقہ تم کر ملے گا تو وہ خوشی سے راضی ہو جائے گا ۔
معلوم ہوا کہ کامیابی کی حقیقت اصل مال و جاہ و صحت نہیں ہے بلکہ اسکی حقیقت اطمینان اور راحت قلب ہے..
اہل اللہ کو ذکر و اذکار تقوی عبادات کی وجہ سے یہ سکون چین کی دولت سب سے ذیادہ میسر ہوتی ہے وہ مال و دولت میں ہوں یا فقر وفاقہ تکلیف میں ان کا قلب پریشان نہیں ہوتا اور دوسری طرف نافرمان کتنی ہی عیش وعشرت میں ہو ، اس کا قلب ہمیشہ پریشان رہتا ہے، مسلمانوں کو تو نافرنانی میں بالکل آرام نہیں ملتا،کیونکہ ان کو آگے کے خسارے کا بھی کھٹکا لگا رہتا ہے اس لیے اس کا گناہ اور بھی بے لذت ہوتا ہے۔
ایک حکایت مشہور ہے ایک درویش کہیں چلے جا رہے تھے،ایک شہر میں پہنچے تو وہاں پھاٹک بند دیکھا۔پوچھا کہ بھائی پھاٹک بند کیوں ہے؟معلوم ہوا کہ بادشاہ کا باز چھوٹ گیا ہے،اس نے حکم دیا ہے کہ شہر پناہ کے دروازے بند کر دے جاہیں تاکہ باز باہر نہ چلا جاے۔درویش کو بادشاہ کی حماقت پر بہت تعجب ہوا، یہ ناز میں آ کر کہنے لگا کہ اللہ میاں نے اچھے کو بادشاہی دے رکھی ہے ایک ہم ہیں کہ پاؤں میں جوتیاں تک سالم نہیں۔ ارشاد ہوا کہ کیا تم اس پر راضی ہو کہ اس کی سلطنت مع اس کی حماقت کے تم کو دیں؟ اور تمہاری صلاحیت اور عقل مع تمہارے فقر و فاقہ کے اس کو دے دیں؟ وہ توبہ کرنے لگے۔
اسی طرح جو لوگ کفار کی ثروت اور عیش کو دیکھ کر اپنی مصیبت ، تکلیف پر نظر کر کے للچاتے اور خدا تعالی کی شکایتیں کرتے ہیں،ان کو سمجھنا چاہیے کہ اگر حق تعالی کفار کا کفر اور ثروت و عیش ان کو دے دیں اور ان کا فقر و فاقہ و ایمان ان کر دے دیں،تو کیا وہ اس پر راضی ہوں گے؟ یقینا کوئی مسلمان اس پر راضی نہیں ہو گا۔تو ان کو خدا تعالی کی شکایت کرتے ہوئے ڈرنا چاہیے اور اپنے ایمان کی دولت پر خدا کا شکرادا کرنا چاہیے۔
خلاصہ یہ ھے کہ مقبولین پر کلفیتں آتی ہیں۔ظاہر پر ستوں کو اس سے شبہ ہوجاتا ھے کہ اگر گناہوں کی وجہ سے مصیبتیں آتی ہیں تو انہوں نے کیا گناہ کیا تھا؟ مگر یہ شبہ لغو ھے،کیونکہ آخرت میں درجات کی بلندی کے علاوہ دینا میں عادۃ اللہ یہ ہے کہ سب نعمتیں ایک شخص کو نہیں دی جاتیں، کسی کو ظاہری عیش نصیب ہوتا ھے ،کسی کو باطنی عیش عطا فرماتے ہیں،ایسے بندے بہت کم ہیں جن کو دونوں عیش نصیب ہوں۔

جوابات مکالمہ :محمد شہزاد قریشی ، انجان مسافر، مزمل بسمل، سلمان شیخ، محمد اسامہ، ایڈمن پیج فلسفہ مذہب اور سائنس

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *