مغرب کی ایجادات کا استعمال بھی اوران پر تنقید بھی ۔ ۔ !!

10635952_1533509900218970_5188552075455058419_n

یہ جملہ نہ صرف سچ بلکہ پہلی نظرمیں تو واقعی میں زوردار معلوم ہوتا ہے۔ لیکن اس نادر نکتے پر ذرا گہرائی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
پہلے تو یہ یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ ہم نے یہ وسائل مانگ کر نہیں لئے۔ بلکہ ہمیں اگر کچھ بھی ملتا ہے تو وہ مغرب کے اپنے سرمایہ دارانہ نظام کی مجبوری ہے کہ ان کو مستقل طور پر نئی مارکٹ کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ دنیا کے کونے کونے میں اپنی منڈیاں کھولے ہوئے بیٹھے ہیں۔
دوسری بات مغرب ہمیں جو کچھ دے رہا ہے ہم سے اس کی پوری قیمت وصول کر رہا ہے۔ اس لئے ہم پر احسان جتانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
تیسری بات یہ کہ مغرب کی ترقی کی بنیاد بڑی حد تک استعماری دور میں پڑی ہے جس میں واقعتاً مسلمانوں کی زمینوں سے لوٹے ہوئے وسائل نے ہی مغرب کی مادی ترقی کو مہمیز دی۔ اگر مغرب اپنی کامیابیوں کو مفت بھی ہم سے شیر کرتا ہے تو بھی کسی حد تک ہمارا یہ حق تھا چہ جائیکہ ہم سے پورا معاوضہ وصول کر کے اپنی پراڈکٹ اور خدمات ہمیں بیچ کر ہم پر اپنا احسان جتانے لگے۔
چوتھی بات یہ ہے کہ جب مسلمان مغرب کے وسائل استعمال کرنے سے قاصر تھا اور نہ ہی استعمال کرنا چاہتا تھا اور ان وسائل کے استعمال سے معاشرے میں جو تبدیلیاں پیدا ہورہی تھیں اس کا سامنا کرنے کی اس میں استعداد ہی نہیں تھی ایسے میں مغرب نے اپنی سیاسی قوت اور معاشی قوت کو بروئے کار لاکر ہم پر بزور ان وسائل کو مسلط کیا۔ ایسے میں ان وسائل کے لئے ہم پر احسانات جتانامغرب کو تو زیب دیتا ہی نہیں.

اصل بات اور ہے وہ یہ کہ مغربی وسائل میں جو ترقی ہورہی ہے اسکے نتیجے میں آج ہماری تعلیم یافتہ نسل اس قابل ہوچکی ہے کہ انہی وسائل کو اسلام کیلئے بروئے کار لاسکے بلکہ اب صورت حال یہ ہے کہ ہر قسم کی اسلامی تحریکیں انہیں وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے مغرب کے خلاف ایک باقاعدہ مقدمہ کھڑا کرنے کی کوشش میں کامیاب نظر آتی ہیں۔۔
دراصل مغرب کے جدید وسائل کو اسلام کی حفاظت، اشاعت اور اقامت کےلئے استعمال ہونا ایک زبردست پیش رفت۔ اس کو آپ مکافات عمل بھی کہہ سکتے ہیں یا جدید زبان میں بقائے اصلح بھی۔ مغرب کے اپنے ایجاد کردہ وسائل کا اسی کے خلاف استعمال ہونا اور مغرب کا اس معاملے میں اپنے آپ کو بے بس پانا خود اس بات کی دلیل ہے کہ دھیرے دھیرے مغرب وقت کے رفتار میں پیچھے پڑ رہا ہے۔ ایسی تہذیب جو ان جدید وسائل کو جھوٹ پھیلانے، منطقی انداز میں ڈائیلاگ کے بجائے کارٹون بنانے، آزادی کے نام پر بدگوئی کرنے، فحش نگاری (pornography) پھیلانے، وغیرہ میں استعمال کرنے میں ہی پرجوش ہو اور دوسری طرف مسلمانوں کی ایک بڑی تعدادمسلمانوں اور غیر مسلم اقوام کو اسلامی معلومات فراہم کرنے، شرق تا غرب اسلامی اتحاد کا جال (network) پھیلانے، مغربی اقوام کے خلاف ایک معروضی اور منطقی مقدمہ کھڑا کرنے، توحید کے شفاف چشمے سے نکلے ہوئے اسلامی علوم کی ترویج کرنے میں استعمال کر رہے ہوں تو مغرب اور ان کے پروردہ دانشوروں کو جو پریشانی لاحق ہے وہ تو ہوگی ہی۔
تحریر ابوزید

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *