فہم حدیث میں خرابی کیوجہ اوراسکاعلاج

آج کل جو متجددین احادیث صحیحہ کو بظاہر مانتے تو ہیں لیکن ان کے مطالب و مفاہیم کسی پر اعتماد کئے بغیر اپنی عقل نارسا سے طے کرتے ہیں، انہیں فہمِ حدیث میں جب دشواری پیش آتی ہے تو قرآن کریم اور احادیث مبارکہ کا آپس میں تعارض و تضاد پیش کر دیتے ہیں اور…

حدیث اورعوامی اشکالات کی بنیادی وجوہات

اہل علم جانتے ہیں کہ صحیحین، سنن اور دیگرمفصل کتب حدیث نہ تو عوام الناس کیلئے لکھی گئی ہیں اورنہ ہی عوام کو پڑھائی جاتی تھیں۔یہ مجموعات مختلف اصولوں کے پیش نظرمختلف مقاصد کے لئے مرتب کیئے گئے۔بعض کی ترتیب میں صرف سند کی مضبوطی کا اہتمام کیا گیا تو سخت شرائط کے التزام کی…

فہم حدیث میں مقام اورعرف کےدرست تصورکی اہمیت

معترضین کے خیال میں ایسی روایات جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملات زن وشو کا ذکر ہے (جنہیں یہ اپنی خبیث اصطلاح میں نعوذباللہ جنسی روایات کا نام دیتے ہیں)آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کے خلاف ہیں اسلئے ناقابل قبول ہیں اور انکا روایت کرنا امہات المومنین رضی اللہ…

اصولِ حدیث اور صحابہ-ایک اعتراض کا جواب

ایک ملحد نے اصول حدیث کے رد میں ایک تحریر لکھی جسکا خلاصہ یہ ہے کہ “کسی خبر یا روایت کی تحقیق کیوں کی جائے اس کے لئے مسلمان علماء قرآن کی ایک آیت سے استدلال کرتے ہیں جو کچھ یوں ہے:”اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمھارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو…

تحقیقِ حدیث کا درایتی معیار

حدیث کے ثبوت واستناد کے لیے جہاں نقدِ رجال یعنی راویانِ حدیث کا ثقہ اور عادل ہونا ضروری ہوتا ہے وہیں اس کا بھی معلوم کرنا ضروری ہے کہ درایتِ متن یعنی حدیث معارضہ، نسخ یاعلت خفیہ وغیرہ سے محفوظ ہے یانہیں ؛ کیونکہ یہ دونوں چیزیں حدیث پرعمل کرنے سے مانع ہوتی ہیں، قرآنِ…

تحقیقِ حدیث کا روایتی معیار

صحیح وثابت احادیث کی جہاں ایک بڑی تعداد ہے؛ وہیں ایک بھاری تعداد غیرصحیح وغیرثابت وضعیف احادیث کی بھی ہے اور اس میں شبہ نہیں کہ محدثینِ کرام نے بہت سی احادیث کواپنے اصولِ روایت کی کسوٹی پرپرکھ کر ان کا صحیح اور غیرصحیح ہونا واضح کردیا ہے؛ تاہم ایک بڑی تعداد ان احادیث کی…

احادیث پر جرح و تعدیل کا طریقہ

۔ احادیث پر جرح و تعدیل اگرچہ حفاظت حدیث کا فریضہ پہلے ذکر کئے گئے چاروں طریقوں (بشمول کتابت حدیث) کی مدد سے ابتدائی چاروں صدیوں میں متواتر اور پوری تندھی کے ساتھ ادا کیا جاتا رہا ہے لیکن پھر بھی اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ اس عرصے میں روایت کردہ یا…

اسنادِحدیث کےنقدوتحقیق کےاصول

نقد اسناد کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ سلسلۂ اسناد کے تمام رجال کا کتبِ رجال کی مدد سے تحقیق کرکے یہ معلوم کیا جائے کہ آیا یہ راوی ضعیف ہے یاقوی؟ اس کے قوی یاضعیف ہونے کی کیا وجہ ہے؟ اس شخص کی ملاقات جس سے روایت کررہا ہے ثابت بھی ہے یانہیں؟ یااس…

علم اصولِ جرح وتعدیل

. علم اصولِ جرح وتعدیل حدیث پر حکم لگانے کے لیے علم اصولِ جرح وتعدیل میں کامل ادراک اور مہارت حاصل ہونے کی ضرورت ہے، اس علم کے مقدمات واصول کی جانکاری اور اس کے تطبیق کا ملکہ حاصل ہو؛ تاکہ نقدِ اسناد کے دوران ہرراوی کواس کا مستحقہ مقام دیاجا سکے؛ کہیں ایسا نہ…

فن اسماء الرجال- ایک تعارف

فن اسماء الرجال: یہ علم راویانِ حدیث کی سوانحِ عمری اورتاریخ ہے، اس میں راویوں کے نام، حسب ونسب، قوم ووطن، علم وفضل، دیانت وتقویٰ، ذکاوت وحفظ، قوت وضعف اور ان کی ولادت وغیرہ کا بیان ہوتا ہے، بغیراس علم کے حدیث کی جانچ مشکل ہے، اس کے ذریعہ ائمہ حدیث نے مراتب روات اور…

حدیث کی قبولیت کے اصول و قواعد

بات کی قبولیت کے فطری اصول: حدیث قبول کیسے کی گئی؟ وہ کون سے اصول تھے جن پر حدیث قبول کی جاتی رہی؟ کیا جوکچھ کسی نے کہہ دیا بس لے لیا جاتا رہا یاروایت قبول کرنے کے لیے واقعی کچھ اصول کارفرمارہے؟ اور کہاں کہاں ان قواعد میں نرمی اختیار کرنے کی گنجائش رہی؟…

حدیث کی اقسام

حدیث وہ آسمانی روشنی Divine guidance ہے جوحضوراکرمﷺ کے قلب مبارک میں بنی نوعِ انسان کی ہدایت کے لیے ودیعت کی گئی، اس کا مصدر ذات الہٰی تھی، آنحضرتﷺ نے اسے اپنے الفاظWords اپنے عمل Actions یااپنی تائید Confirmation سے آگے پھیلایا۔ آنحضرتﷺ نے اپنی زبانِ مبارک سے حدیث کی کسی طرح تقسیم نہیں کی؛…

احادیث کی کتابوں کے درجات اورانکے احکام

کچھ عرصہ پہلے ایک ممبر نے ایک ملحدہ سونیا فیر کاوس جی کے پیج کی اک پوسٹ میسج میں بھیجی جس میں ایک حدیث کی کتاب کا پیج پوسٹ کیا گیا تھا ، اس میں جنت کی حور کی شرمگاہ وغیرہ کا ذکر تھا۔ وہ پکچر بمعہ ٹائٹل کے ہماری پوسٹ بینر میں موجود ہے۔…

ترتیبِ حدیث کا تدریجی ارتقاء

ملحدین و منکرین حدیث کا طبقہ جب حدیث پر طعن و تشنیع کے تیر برسا رہا ہوتا ہے تو عموما یہ بات اسکے حاشیہء خیال میں نہیں رہتی کہ ہر پیٹرن کی طرح فن حدیث کے بھی اکیڈمک پیرامیٹرز ( علمی معیارات ) ہیں، جو خطیبانہ، عامیانہ بلکہ سوقیانہ استدلال کے بھینٹ نہیں چڑھائے جا…