جدیددورکوقرون اولی سے بہتر سمجھنےوالی ذہنیت کا المیہ

موجودہ دور میں نظر آنے والے بے شمار پروفیشنل خیراتی اداروں اور این جی اوز کا مارکیٹ (لبرل سرمایہ دارانہ) نظم سے جنم لینے والے مظالم کے ساتھ نہایت گہرا تعلق ھے۔ مارکیٹ یا سول سوسائٹی (جیسا کہ پہلے وضاحت کی گئی) اغراض پر مبنی تعلقات کے تانے بانے کا نام ھے، ھیومن رائٹس پر…

اسلامک ماڈرنزم اور روژن ازم کا فرق

۔ مسلم ماڈرنزم کی بنیادی صفت ‘اجماع کا رد’ کرناہے،یعنی یہ حضرات تاریخی اسلامی علمیت کو رد کرتے ہیں۔چنانچہ ہر ماڈرنسٹ بااختلاف شدت یہ دعوی کرتا ہے کہ ‘آج تک کوئ اصل اسلام نہیں سمجھا’،اور پھر ان میں سے ہر ایک اسلام کی تعبیر و تشکیل نوع (reconstruction and reinterpretation)کا بیڑا اپنے سر اٹھاتا ہے۔انکی…

اسلامک ماڈرنزم (مغربی اور اسلامی ڈسکورس میں مطابقت پیدا کرنے) کی فکری بنیادیں

یورپ میں جدید الحادی (یعنی تنویری، بشمول سائنسٹفک) ڈسکورس اور عیسائی مذھب کی تاریخی کشمکش یہ بتاتی ھے کہ عیسائیت اس الحاد کے آگے شکست و ریخت کا شکار ھوگئ۔ البتہ جدید مسلم مفکرین نے جدید تنویری الحاد اور مذھب کی اس کشمکش کو ‘تنویری فکر بمقابلہ مذھب’ کے بجاۓ ‘تنویری فکر بمقابلہ عیسائیت’ سے…

قرون اولی کی طرف مراجعت سے وحشت کی وجہ

آج اگر کسی سے کہا جائے کہ ”ھم قرون اولی کی طرف مراجعت چاھتے ہیں کہ یہی ھمارا آئیڈئیل ھے” تو اس تصور سے اسے وحشت ھونے لگتی ھے اور وہ اسے غیر عقلی و غیر فطری تصور کرتا ھے۔ اسکا مفروضہ یہ ھوتا ھے کہ زمانہ تبدیل ھوتا رھتا ھے اور یہ دعوی کرتے…

جدیددورکوقرون اولی سےبہترسمجھنےوالی ذہنیت کی درماندگی

آج دنیا میں جس پیمانے پر غربت، افلاس، عدم مساوات و استحصال پایا جاتا ھے اسکی نظیر انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ اس قدر بڑے پیمانے پر پائے جانے والی غربت، افلاس و عدم مساوات کوئی حادثہ نہیں بلکہ غالب سرمایہ دارانہ (مارکیٹ) نظم کا منطقی نتیجہ ھے۔ مگر جدید انسان کا المیہ یہ ھے…

مسلم ماڈرنسٹ کے فکری رویے کی بنیاد

مارکیٹ پر مبنی معاشرتی نظم یا سول سوسائٹی چونکہ ہر فرد کو ”ذاتی اغراض (آزادی) کا متلاشی اکیلا” انسان تصور کرتی ھے لہذا یہ اسی انفرادیت کے پنپنے کے امکانات ممکن بناتی ھے، سول سوسائٹی اسکے سواء کسی دوسری انفرادیت کے عمومی فروغ کاذریعہ نہیں بن سکتی (جو ایسا سمجھتے ہیں وہ اسکی حقیقت سے…

انیسوی/بیسویں صدی کا کامیاب ترین اجتہاد ۔۔

انیسوی/بیسویں صدی کا کامیاب ترین اجتہاد :۔ جنگ آزادی میں ناکامی کے بعد جب سرمایہ دارانہ استعماری ریاست نے خلافت اسلامیہ کے اجتماعی نظم کو تحلیل کردیا، اس موقع پر علماء کرام کے سامنے تین آپشنز تھے (1) استعمار کے خلاف مسلح جدوجہد برپا کی جاۓ (مگر جنگ آزادی کی ناکامی سے بظاھر اسکا غیر…

تجدد اور الحاد کا باہمی تعلق۔۔۔۔

عیسائیت کی شکست و ریخت اور جدید تنویری الحاد کے غلبے کی تاریخ بتاتی ھے کہ لوگ یک دم مذھب ترک کرکے الحاد قبول نہیں کرلیتے بلکہ یہ ایک طویل عمل کا نتیجہ ھوتا ھے جسکا آغاز تجدد پسندی سے ھوتا ھے۔ اسکا مختصر نقشہ کچھ یوں ھے: الف) پہلے (ایک مخصوص تناظر میں) مذھب…

ماڈرنسٹ مفکرین سے کون متاثر ھوتا ھے؟

ایک روح پرور تبدیلی ایک دور تھا جب مغربی علمیت سے مرعوبیت کے زیر اثر ہمارے یہاں مسلم ماڈرنزم نے جنم لیا۔ اس فکر نے دعوی کیا کہ آج تک کوئ اسلام کو درست سمجھا ہی نہیں، اصل اسلام وہ ہے جو مغرب برت رہا ہے۔ انہوں نے ‘اسلام کی مغرب کاری’ کا بیڑا اٹھایا۔…

سائنسی تفاسیر-قرآن کے موضوع کو خلط ملط کردینا

  قرآن کی سائنسی تفسیر ات کے ضمن میں ایک عام گمراہی الفاظ قرآنی کی دور ازکار تاویلات کرکے فی زمانہ مروج سائنس کے ہر مشہور نظرئیے کو قرآن سے ثابت کرنے کی کوشش کرنا بھی شامل ہے ۔ اس سعی کے پیچھے یہ مفروضہ کارفرما ہے کہ قرآن مجید سے کسی سائنسی نظرئیے کا…

قرآن کی سائنسی تفاسیر – کیا دل بھی سوچتا ہے

ایک وقت ایسا بھی تھا کہ جب مغرب سے آنے والی خام سائنسی معلومات سے مرعوب ہو کر بعض لوگوں نے قرآن مجید کی واضح اور صریح تعلیمات کو ایسی ایسی تاویلات کی خراد پر چڑھا یا کہ خدا کی پناہ۔ چنانچہ جس زمانے میں نیوٹن کے ’میکانکی نظریہ کائینات‘ [Mechanical world view]کا غلغلہ عام…

سائنسی علمیت کو قرآن پر منطبق کرنے کے نتائج

1. عقل وحی پر حاکم ہے سائنس کا تصور حقیقت قبول کرلینے کا دوسرا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ ہم یہ مان لیں کہ علم کا اصل منبع وحی نہیں بلکہ عقل انسانی ہے، نیز یہ کہ وحی تب ہی معتبر ہوگی کہ جب وہ سائنس کے اصولوں کے مطابق ہو۔ دوسرے لفظوں میں وحی…

مسلمانوں کو اپنا دین چھوڑنا ہوگا۔(2)

چونکہ مسلمان چودہ سو سال تک اسلام کو ”دین“ ہی مانتے چلے آئے ہیں اور ان کے سب علمی ذخیرے، ان کے سب فقہاء، ان کی سب فقہیں اور ان کے سب علمی مراجع جگہ جگہ اِس ’گمراہی‘ میں الجھے رہے ہیں جو اسلام کا تعارف معاشرے کے جملہ امور پر حاکم بن کر رہنے…

پسمانندہ مسلم معاشرے اور پڑھے لکھے بھیڑیے

ایک جانب دو سو سال سے مار کھاتی چلی آنے والی ایک بیچاری اَن پڑھ قوم، جس کو شعور کی آخری رمق تک سے محروم کر دینے کیلئے دنیا بھر کے چور اس کے گھر میں نقب لگا کر بیٹھے ہیں.. دوسری جانب، نئی نویلی ’ٹائیوں‘ کے ساتھ میڈیا سکرینوں پر نمودار ہونے والے شاطر…

12