‘حنفاء’کاحج وقربانی اور’انتھروپالوجسٹوں کا’شرک’

ہمارا حج… عشرہ ذوالحج، قربانی اور ایامِ تشریق کی ہماری یہ تکبیریں… ملتِ ابراہیمؑ کی یاد آوری کا یہ پورا سیزن… بتکدے گرانے اور مورتیوں کی نفرت دلوں میں بٹھانے کے یہ مِلّی اسباق… خدا کی توحید اور عظمت پر مر مٹنے اور قوم قبیلے اور دھرتی کو خدا کی محبت پر قربان کر ڈالنے کے یہ فضائل… ابراہیمؐ کی قربانی اور محمدﷺ کی ہجرت، جنگ اور جہاد کے یہ دل آویز تذکرے، اور پھر ان واقعات کی یاد دلاتے مقامات کی قدم قدم زیارت اور وہاں پر اشک گرا کر آنے کا ایک شعوری روحانی عمل… ہر سال… وقت کی ایک ’انتھروپالوجسٹ‘ تحریک کے عالم اسلام میں تمام ایجنڈا کو دریابرد کروا دیتا ہے۔ کوئی تصور کرے، ہمارا یہ وِرد اُن کےلیے کس قدر سوہانِ روح ہے: لَا إلٰهَ إلا اللهُ، وَلَا نَعْبُدُ إلَّا إيَّاهُ، مُخۡلِصِیۡنَ لَهُ الدِّيْنَ، وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُوْن…!’’نہیں کوئی خدا مگر اللہ۔ ہم نہیں پوجنے کے مگر ایک اُسی کو، پورا دین اور عبادت اُسی ایک کےلیے خالص کرتے ہوئے، چاہے کافروں کو یہ کتنا ہی برا لگے‘‘۔(بعض روایات میں ہے، نبیﷺ ہر فرض نماز کے بعد یہ مذکورہ بالا وِرد فرماتے)۔
کرۂ ارض کے چپے چپے سے حُنَفاء کا جذب و کیف کے ساتھ توحید کے اِس قدیمی منبع پر پہنچنا… یہاں؛ لاکھوں انسانوں کا ایک تکبیر پر خدائے واحد کے آگے سجدے میں گر پڑنے کا یہ دل گیر منظر… شیاطینِ جن و انس کو انگاروں پر لوٹاتا ہے۔اپنے اولمپیا کے ’’زیوس‘‘ کو دو ہزار سال بعد دوبارہ نکال لانے والے ان کھنڈرات پرستوں کا بس چلے… تو آج وہ ہمیں ’’ھُبل‘‘ اور ’’لاۃ‘‘ اور ’’مناۃ‘‘ اور ’’گندھارا‘‘ اور ’’بدھا‘‘ اور ’’سومناتھ‘‘ کے میلے کروا کے دیں، ہمارے بےحال نوجوانوں سے ان پر دھمال ڈلوائیں اور ہمارے یہاں بتوں کا پورا کلچر بحال کروا دیں (جس کی کسی وقت ’کلچر‘ تو کسی وقت ’ٹورزم‘ اور نہ جانے کن کن دلفریب ناموں اور بظاہر بےضرر عنوانات کے تحت کوشش ہو بھی رہی ہے، اور جس کے پیچھے ایک نہایت دُوررَس ایجنڈا اور واضح تہذیبی اہداف کارفرما ہیں)… زمین میں اوندھی پڑی بت پرست تہذیبوں کا احیاء… اِس بار ’پوجا‘ کے نام پر نہیں تو ’ثقافت‘ کے نام پر؛ کہ جاننے والے جانتے ہیں ’کلچر‘ اور ’سوسائٹی‘ بذاتِ خود آج ’پوجا‘ کی ایک بہت بڑی صورت اور بجائےخود ایک معبود ہے!
اِدھر… کوہِ صفا پر چڑھ کر ہر حاجی جس اعلانیہ کا وِرد کرتا ہے وہ ملتِ شرک کو قلوب اور اذہان میں باربار دفن کرواتا ہے:لا إله إلا الله وحدَه ، أنجز وعدَه ، ونصر عبدَه ، وهزم الأحزاب وحدَه۔۔’’نہیں کوئی عبادت کے لائق ہستی مگر اللہ، وہی یکتا، اُس نے اپنا وعدہ پورا فرمایا، اپنے بندے (محمدﷺ) کو جیت دلوائی، اور (اس سے دشمنی کرنے والے) سب اتحادی لشکروں کو شکستِ فاش دی، یکتا اُسی نے‘‘۔
غرض توحید کے پھریرے چہار دانگ عالم لہرانے پر فخر کرنے اور بت پرستی کو ہر سُو شکست ہونے کے اس جہانی واقعہ کو اِن شعائر اور مناسک کا ایک باقاعدہ مضمون بنا دیا گیا؛ جس کی خود اِن کے اِس دور اور اِس جہان میں ایک عظیم الشان دلالت ہے:
یہ تہذیبیں ہم نے بڑی محنت اور جان جوکھوں سے ختم کی ہیں۔ ایک طویل جہاد کے بعد ان کو اللہ کے فضل سے نیست و نابود کیا ہے۔ اِن کو موت کے گھاٹ اتارنے میں ہمارے اسلاف کا خون پسینہ لگا ہے۔ اِن پُر رونق و آباد بتکدوں کو ہمارے ’’وَرَأیۡتَ النَاسَ یَدۡخُلُونَ فِی دِینِ اللہِ أفۡوَاجاً‘‘ کے براعظموں پر محیط ایک تاریخی عمل نے ہی بالآخر ویران کیا ہے۔ اِن ملکوں کا محمدﷺ کے دین میں آنا، نصف معمورۂ ارض میں یہ اذانوں کی گونج اور تکبیرات کا شور یہاں مورتیوں اور دیویوں کی منتا ختم کر دینے کے بعد ہی ایک جہانی واقعہ بنا ہے؛ کہ جس کے بعد روئے زمین پر اِس بڑی سطح پر ’’ابراہیمؑ کے رب‘‘ کی عبادت ہونے لگی ہے۔ اِس امت کےلیے اس سے بڑا کوئی اعزاز نہیں۔ ورنہ اس سے پہلے شرک اور بت پرستی کی یہ تہذیبیں زمین میں اوندھی پڑی صرف آسمانی عذاب کے نتیجے میں ہی دیکھی جاتی تھیں۔ مگر تاریخ کے اِس عہد میں خدا نے یہ کام امتِ محمدؐ کے زورِ بازو سے کروایا اور اِن کی تلواروں کو یہ شرف بخشا؛ جس پر ہم جس قدر خدا کا شکر کریں کم ہے۔ اِس سے بڑا اعزاز ہم سے پہلے کسی امت کو ملا ہی نہیں۔ بت پرست تہذیبوں اور مشرک ملتوں سے ہماری اِس بیزاری کے تذکرے ہمارے حج و عمرہ کے اذکار کا جزوِ لاینفک ہیں۔ حتیٰ کہ ہمارے صبح شام کے اذکار میں شامل ہیں۔ بتوں سے ہماری وہ جنگ اور عداوت ہماری عبادت کا حصہ ہے۔ قیامت تک ہم اور وہ ایک دوسرے کے ساتھ آزمائے گئے ہیں۔ یعنی ان بتوں کو ماننے والے ہمیں مٹانے کےلیے زور لگائیں اور ہم ان کو مٹانے کےلیے۔
اِدھر ہمارے کچھ نابغوں کا زمین میں اوندھی پڑی اِن بت پرست تہذیبوں کو مٹی سے نکال لانا…؟ عالم اسلام کے بہت سے گوشوں میں مختلف عنوانات کے تحت آج اِن کی پروموشن… اور سرپرستی؟؟؟ عبادتِ غیراللہ کے ساتھ سازگاری… اور اس کےلیے نرم گوشہ پیدا کروانا، ’پرستش‘ کے نام پر نہیں تو ’کلچر‘ کے تقدس کے نام؟؟؟ جبکہ دعویٰ ملتِ ابراہیم کا اور محمدﷺ کے مشن پر ایمان رکھنے کا؟؟؟!… سبحان اللہ!
بلاشبہ آج ہمیں ملتِ ابراہیمؑ کے یہ اسباق ازسرنو اپنی نسلوں کو ازبر کروانے ہیں۔ مناسک کے یہ اذکار اور وظائف بلا سوچے سمجھے پڑھنے کے بہرحال نہیں ہیں۔
*****
ہم عالم اسلام پر اللہ کا یہ فضل ہے کہ اپنے تہذیبی وفکری وجود کا آغاز ہم ”اسلام“ سے ہی کرتے ہیں اور اپنی تاریخی شناخت انبیاءِ کرام سے ہی وابستہ رکھتے ہیں۔ نبیِ آخر الزمان ﷺ کی بعثت سے ماقبل عرب زندگی کا مطالعہ کرتے ہیں تو صرف اور صرف ’زمانۂ جاہلیت‘ کے عنوان کے تحت۔ خود اِس برصغیر میں اپنے ہندو آباء کے نام تک شاید آج ہمیں یاد نہیں۔ کچھ یاد ہے تو بو بکرؓ و عمرؓ اور عثمانؓ و علیؓ۔ کہیں اپنی جڑیں نظر آتی ہیں تو اُس ملتِ ابراہیمؑ میں جس کا تیشہ (فَجَعَلَھُمۡ جُذَاذًا إلَّا کَبِیۡرًا لَّھُمۡ۔ سورۃ الانبیاء) ہماری تلاوت میں ’’وإذ بَؤّأنَا لِإبۡرَاھِیمَ مَکَانَ الۡبَیۡتِ‘‘ (سورۃ الحج) سے پہلے آتا ہے۔ اپنا ’’آغاز‘‘ کہیں نظر آتا ہے تو محمدﷺ کے برپا کیے ہوئے اِس خالص آسمانی تہذیبی واقعے میں۔’’حج‘‘ کا انسٹی ٹیوشن اِس ایک یکسر جدا ثقافت کے احیاء میں بہت بڑا کردار ادا کرتا ہے۔
ہم اگر ہند کی اقوام ہیں تو ہندو آباء کے ساتھ ہم __ بطورِ مسلمان __ اپنا رشتۂ شناخت ہمیشہ کیلئے ختم کرچکے۔ بلکہ ان سب ناطوں کو کالعدم کر لینے پر فخر کرتے ہیں۔ زمزم کا ایک قطرہ ہمیں گنگا وجمنا اور راوی و سندھ کے شمال تا جنوب سے عزیز تر ہے۔ خاکِ بطحاء ہمیشہ کیلئے اب ہماری آنکھ کا سرمہ ہے۔ ’کاغان‘ ہو یا ’مہران‘، ہمارا ایک بے دین سے بے دین بھی خواجۂ یثرب سے تعلق رکھنے کا یہی تقاضا جانتا ہے۔
یہی حال سب کی سب مسلم اقوام کا ہے۔ مسلمانانِ مصر، فراعنہ کی تہذیب کو عذاب کا عنوان دے کر ہی پڑھتے ہیں۔ اسلامیانِ عراق، بابل کی تہذیب کو کھنڈروں کی صورت میں ہی دیکھنے کے روادار ہیں۔ شام اپنے سب ماقبل اسلام رشتے یکسر بھلا چکا۔ افغانستان میں بدھا کے مجسموں کو ڈائنامائٹ سے اڑتے دیکھنا یہاں کے ’باشندوں‘ کو بہت بھلا لگا تھا! مراکش سے لے کر انڈونیشیا تک اسلام ہی سے رشتہ جوڑ رکھنے پر پورا پورا اتفاق پایا جاتا ہے۔ ”اسلام“ ہی اب ان سب اقوام کا باپ ہے اور اسلام ہی ان کا نسب۔
بے شک وہ یہ دیکھ کر ہم پر بے حد جلتے بھنتے ہیں اور ہمارے اندر کچھ انتھروپالوجسٹ پیدا کرنے کی مسلسل کوشش میں رہے ہیں جو ہمیں ایک نئے سرے سے ہمارا ’نسب‘ پڑھائیں اور ”آسمان“ سے ہمارا رشتہ کاٹ کر از سر نو ’زمین‘ کے ساتھ جوڑ دیں اور ’دھرتی‘ کو اپنی ماتا منوائیں۔ مگر انہیں معلوم ہے دو سو سال تک ہمیں پڑھا لینے کے بعد بھی وہ ہمیں یہ سبق یاد نہ کرا سکے اور ایسے ’لائق‘ شاگرد جو اُن کا پڑھایا ہوا سبق یاد کرلیں ہمارے مابین حد درجہ گنے چنے ہیں اور اس قدر طاقتور ذرائعِ ابلاغ رکھنے کے باوجود ان کی منحنی آواز اذانوں کی اس پنج وقتہ گونج میں یہاں بالکل ہی دب کر رہ جاتی ہے…. اس پر ہم جتنا بھی خدا کا شکر کرسکیں کم ہے۔
البتہ ”ملتِ روم“ کا معاملہ اس سے مختلف ہے، خصوصاً آج کے دور میں جب تاریخ میں اپنی جڑیں تلاش کرنے کی ضرورت قوموں کے مابین حد درجہ اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ یہ نہ اپنے وجود کا آغاز ”دین“ سے کرتے ہیں اور نہ اپنے ”دورِ ماقبل دین“ کا ذکر ’زمانۂ جاہلیت‘ کے طور پر۔ یہ اس کے متحمل ہی نہیں! بلاشبہہ ’عیسائیت‘ سے اپنی تاریخی وابستگی کو یہ اپنی پہچانوں میں سے ’ایک‘ پہنچان بنا کر رکھتے ہیں اور صلیبی تعصب کا جہاں موقعہ ملے وہاں اس کا بھر پور ثبوت بھی دیتے ہیں، تاہم اپنی تاریخی شناخت کے معاملہ میں ’عیسائیت‘ ان کے ہاں ایک اضافہ addition ہے نہ کہ شناخت کی کلی بنیاد۔ اپنے تہذیبی وجود کے معاملہ میں یہ ’عیسائیت‘ کو کوئی ’نقطۂ ابتدا‘ بہر حال نہیں مانتے بلکہ اس باب میں تاریخ کے پردے ہٹاتے ہوئے ’عیسائیت‘ سے ماقبل ادوار میں بھی یہ اسی جذب و کیف کے ساتھ جاتے ہیں جس شوق و سرور کے ساتھ یہ اپنے وجود کی ’مذہبی جہتوں‘ کو کسی وقت زیرِ بحث لاتے ہیں۔
چنانچہ آپ دیکھتے ہیں، یہ اپنے تہذیبی وجود کو یونان کے کھنڈروں میں آج بھی پورے ذوق وشوق کے ساتھ ڈھونڈتے ہیں بلکہ اپنا تاریخی آغاز قریب قریب وہیں سے کراتے ہیں۔ یونان کی دیومالا (خرافات) Greek Mythologyمیں یہ ’علم وحکمت‘ کے موتی عین اسی عقیدت سے تلاش کرتے ہیں جس طرح علمِ غیب کے باب میں ہمارے یہاں انبیاء کی سچی داستانیں پورے ضبط کے ساتھ نقل ہوتی ہیں! یونانی اور رومانی دیوتاؤں کے نام قریب قریب ان کو اسی طرح یاد ہوتے ہیں (خود ہمارے انگلش لٹریچر ڈیپارٹمنٹوں میں ازبر کرائے جاتے ہیں!) اور قدم قدم پر ان کے حوالے اور استشہادات ان کے ہاں اسی طرح ذکر ہوتے ہیں جس طرح ہمارے ہاں اللہ تعالیٰ کے اسماءِ حسنیٰ! ہفتے کے دن اور مہینوں کے نام ان کے ہاں آج بھی یونانی اور رومانی خداؤں سے منسوب ہیں۔ بت پرستی idolatry پر مبنی بہت سے گریک اور رومن تہوار آج بھی ان کے ہاں پورے جوش وخروش کے ساتھ منائے جاتے ہیں اور ان کا ایک پوری وابستگی کے ساتھ چرچا ہوتا ہے۔
چنانچہ آج کا مغرب اپنی تاریخِ پیدائش صرف ’یسوع مسیح‘ اور ’کنواری مریم‘ اور ’روح القدس‘ وغیرہ ابواب میں نہیں ڈھونڈتا۔ ان کے فخر و اعزاز کی اکثر بنیادیں بت پرست رومن ایمپائر کے ملبے میں ہی پڑی ہیں بلکہ رومن ایمپائر کی تعمیر میں جس یونانی تہذیب کا اینٹ گارا استعمال ہوا وہ مواد بھی اپنی تہذیبی وعمرانی شناخت کروانے کیلئے ان کے ہاں اتنا ہی کارآمد ہے جتنا کہ ’مذہبی‘ پہنچان کروانے کے لئے سینٹ پال کے دئیے ہوئے چرچ اور صلیب کا مواد۔
یہ وجہ ہے عیسائیت نے بڑی محنت اور جان جوکھوں سے جس اولمپیا کے زیوس دیوتا کے پہاڑ نما بت کو دفن کروا ڈالا تھا، اور بت پرستی کے اس میلے کو ہمیشہ کےلیے کالعدم outlaw کروا دیا تھا، اور پھر صدیوں کی خاک نے اس کے نشانات تک دنیا سے اوجھل کر دیے تھے… یہ ’انتھروپالوجسٹ‘ اپنی کھدائیاں کرتے کرتے اُس کو تاریخ کے ملبے سے پھر نکال لائے اور پورے ایک پروگرام کے تحت اس کو نہ صرف یورپ کا بلکہ پوری دنیا کا سب سے بڑا میلہ بنا ڈالا۔
یہ کھنڈروں کے پجاری، ہمیں بھی اپنی اسی ’معصوم‘ انتھروپالوجی کی ڈالی پر لگا کر… چاہتے تھے کہ ہم بھی اپنے کسی ’موہنجوداڑو‘ کو پوجیں، ’بابل‘ کے قدیم بت خانوں کی خاک چھانیں، ’فراعنہ‘ اور ’اَہرام‘ کے قصیدے گا گا کر بےحال ہوں، اور ان میں اپنی قومیت و اجتماعیت کے سب حوالے ڈھونڈیں… مگر ہر سال ہماری ’’اللہ اکبر اللہ اکبر، لا الٰہ الا اللہ ، واللہ اکبر اللہ اکبر، وللہ الحمد‘‘ اِن سب لغویات کو بہا کر لے جاتی ہے۔ ہمارے ’’قافلے حجاز کے‘‘ جو مشاعرِ حرم پر ہر سال اپنے آنسو چھڑک کر آتے ہیں ان شیاطین کا سب کیا کرایا غارت کردیتے ہیں۔
فَلِلّٰهِ الْحَمْد۔
خدایا تیرا لاکھ لاکھ شکر! ہم لاکھ بےحال سہی… ’’آسمان والے‘‘ کی تعظیم اور توحید ’’آسمان والے‘‘ کی شرطوں پر ہمارے سوا آج کون کرتا ہے! ’’خدا کے حق‘‘ پر ہمارے سوا آج جہان میں کون جھگڑتا ہے! دو برسرِ جنگ تہذیبوں کا یہ فنامنا، کہ جس کا مرکزی مضمون خدائے واحد کی عبادت اور باطل معبودوں کا انکار ہو، ہمارے سوا آج کس کے دم سے قائم ہے؟
هَـٰذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ… سورۂ حج: 19 ’’یہ دو جھگڑنے والے، جن کا جھگڑا اپنے رب کے متعلق ہے‘‘۔
اللهم فَتَقَبَّلۡ..وجهت وجهي للذي فطر السماوات والأرض حنيفا وما أنا من المشركين۔۔۔إن صلاتي، ونسكي، ومحياي، ومماتي، لله رب العالمين. لاشريك له، وبذلك أمِرتُ، وأنا أول المسلمين.۔۔۔الله أكبر الله أكبر، لا إله إلا الله، والله أكبر الله أكبر، ولله الحمد.

تحریر حامد کمال الدین، سہ ماہی ایقاظ

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *