قراردادِمقاصداورسیکولربیانیےکےفکری تضادات

سید مودودی ہوں یا شبیر احمد عثمانی، ان کو ہمارے(سیکولر) دوست قبضہ گروپ کا طعنہ دیتے ہیں کہ ملک بنایا کسی اور نے اور اس پر قبضہ کسی اور نے کر لیا۔ جب یہ احباب قبضہ کی بات کرتے ہیں تو ان کا اشارہ قرارداد مقاصد کی طرف ہوتا ہے۔ قراردادِ مقاصد کا شمار پاکستان کے جمہوری، پارلیمانی اور آئینی تحرک کے اولین نقوش میں ہوتا ہے۔ اس قرارداد کے ذریعے پاکستان کی دستور ساز اسمبلی نے ایک جمہوری طریقے سے طے کیا کہ پاکستان کا دستور یورپی طرز پر نہیں ہو گا بلکہ اسلام اور جمہوری اصولوں کے تحت وضع کیا جائے گا، حاکمیت اعلی اللہ کی ہوگی، اور منتخب نمائندے ایک مقدس امانت کی طرح اپنے اختیارات بروئے کار لائیں گے۔ اقلیتوں کے بارے میں کہا گیا کہ انہیں نہ صرف اپنے مذہب پر عمل پیرا ہونے کی مکمل آزادی ہوگی بلکہ انہیں اپنے کلچر کے فروغ کا بھی حق ہوگا۔
پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی میں خود وزیراعظم نے اس قرارداد کو پیش کیا، اس پر جمہوری روایات کے مطابق بحث ہوئی۔ اپوزیشن رہنما سریس چندرا چٹوپا دھیا نے کھل کر اس کے متن پر تنقید کی، ان کا کہنا تھا کہ حاکمیت اعلی اللہ کے پاس نہیں صرف عوام کے پاس ہونی چاہیے، کسی نے ان کو اختلاف کے حق سے محروم نہیں کیا، وہ اور ان کے رفقائے کار مکمل آزادی فکر کے ساتھ بولے لیکن آخر کار ایک جمہوری عمل میں فیصلہ اکثریت رائے سے ہوتا ہے اور اکثریت کا فیصلہ قرارداد مقاصد کے حق میں تھا۔ جمہوریت سے وابستگی کی بہت بات کی جاتی ہے لیکن جب جمہوری عمل اسلام کی بات کرتا ہے تو سیکولر احباب اس عمل کو مشکوک قرار دے دیتے ہیں، ان کے نزدیک یہ فکر قائد سے انحراف اور غداری ہے اور وہ اسے ریاست کی فکری بنیاد میں لگائی جانے والی پہلی ٹیڑھی اینٹ کا درجہ دیتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا ان کا یہ رویہ جمہوریت دوست کہلایا جا سکتا ہے؟ دنیا بھر کو آپ یہ حق دیتے ہیں کہ وہ جمہوری طریقے سے اپنے لیے نظام چن لے لیکن مسلمانوں کو آپ یہ حق نہیں دیتے، کیا یہ رویہ جمہوریت دوستی کے باب میں درج کیا جا سکتا ہے؟ کیا اللہ کی حاکمیت کا اصول طے کرنا ایک خالصتا جمہوری عمل نہ تھا؟ کیا دستورساز اسمبلی کے باہر سید مودودی خود کش جیکٹ پہن کر کھڑے تھے کہ قرارداد مقاصد پاس نہ کی گئی تو اسمبلی کو اڑا دیں گے؟ آپ بجا کہتے ہیں کہ بندوق کے زور پر شریعت نافذ نہیں کی جا سکتی لیکن ہم آپ سے یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا جمہوری طریقے سے اس کے نفاذ کی اجازت ہے؟ ایسا تو نہیں آپ کا مسئلہ بندوق یا جمہوریت ہے ہی نہیں، آپ کو کد صرف اسلام سے ہے، اور مسلمانوں کا نظم اجتماعی جمہوری طریقے سے اسلام کی بات کرے تو آپ اسے بھی مان کر نہیں دیتے؟
سیکولر احباب کا کہنا ہے کہ قائد اعظم ایک سیکولر آدمی تھے، اور وہ ایک سیکولر پاکستان چاہتے تھے، ان کی وفات کے بعدملک پر سید مودودی اور ان کے رفقا نے قبضہ کر لیا، اور لیاقت علی خان نے اپنے مفادات کے لیے قائد کی فکر کا ابطال کیا، اور دستور ساز اسمبلی سے قرارداد مقاصد منظور کروا لی، اور یہی تمام خرابیوں کی بنیاد ہے۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ قائد اعظم سیکولر تھے اور سیکولر پاکستان چاہتے تھے، یہ صریحا جھوٹ ہے اور اس پر تفصیل سے کئی بار لکھا جا چکا ہے۔ فی الوقت ہم سیکولر احباب کی (صریحا غلط) بات مان لیتے ہیں کہ قائد سیکولر تھے اور سیکولر پاکستان چاہتے تھے۔اب سوال یہ ہے کہ جس جمہوری طرز عمل کی سیکولر احباب بات کرتے ہیں، اس میں کس کی رائے کو فوقیت دی جائے گی، ایک انتہائی قابل احترام فرد کی رائے کو، یا دستور ساز اسمبلی کی اجتماعی رائے کو؟ تھوڑی دیر کے لیے مان لیا کہ قائد اعظم سیکولر پا کستان چاہتے تھے، کیا اس سے دستور ساز اسمبلی کی فیصلہ ساز حیثیت پر کوئی فرق پڑتا ہے؟ سیکولرزم تو اپنا مقدمہ ہی اس بات پر کھڑا کرتا ہے کہ فرد واحد تو کیا کوئی الہامی کتاب بھی حرف آخر نہیں، اور اجتماعی زندگی کا فیصلہ اجتماعی شعور کی روشنی میں جمہوری طریقے سے کیا جائے گا۔ اب یہ عجیب تضاد ہے کہ اللہ کی حاکمیت آپ نہیں مانتے، کسی الہامی کتاب یا اللہ کے فرستادہ نبی ﷺ تک کو آ پ اجتماعی زندگی میں حرف آخر ماننے کو تیار نہیں۔ لیکن دوسری طرف فکری دیانت کو طلاق بائن کبری دے کر آپ پہلے تو قائد اعظم پر یہ تہمت دھرتے ہیں کہ وہ سیکولر تھے، اور سیکولر پاکستان چاہتے تھے، اور اس کے بعد آ پ یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ چونکہ قائد اعظم سیکولر تھے، اس لیے پاکستان کو سیکولر ہونا چاہیے۔ اس دلیل اور اس استنباط کا علم کی دنیا میں کیا اعتبار؟
حقیقت میں پاکستان کی اسلامی شناخت کسی جبر کا نتیجہ نہیں، یہ کسی قبضہ گروپ کا نہیں خالصتا جمہوری عمل کا نتیجہ ہے۔ لیاقت علی خان ہی نہیں ذوالفقار علی بھٹو کا دور حکومت بھی اس پر شاہد ہے۔ ماضی قریب میں بھی ہم نے دیکھا کہ پارلیمان نے آئین میں اٹھارویں ترمیم کے ذریعے خاصی تبدیلیاں کیں، لیکن آئین کی کسی اسلامی شق کو ختم نہیں کیا، اگر یہ اسلامی شقیں کسی جبر کا نتیجہ ہوتیں تو اٹھارویں ترمیم کے ذریعے پارلیمان انہیں ختم کر دیتی، وہ کہہ دیتی کہ قرارداد مقاصد آج سے آئین کا باقاعدہ حصہ نہیں رہا، اور آرٹیکل (2a) کو منسوخ کیا جاتا ہے۔ وقت بھی سازگار تھا اور ملک میں مذہبی انتہا پسندی سے بےزاری بھی اپنے عروج پر تھی، لیکن پارلیمان نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ پاکستان کی اسلامی شناخت پاکستان کے جمہور کا شعوری اور جمہوری فیصلہ ہے۔ کیا وجہ ہے کہ سیکولر احباب اس شناخت کو مان کر نہیں دے رہے؟ کیا یہ رویہ جمہوریت پسندی اور آئین دوستی کے باب میں درج کیا جا سکتا ہے؟
شہنشاہیت، یقیناًہمارے سیکولر دوستوں کے ہاں بھی، ایک موزوں چیز نہیں لیکن جب برطانیہ کے عوام خود فیصلہ کر لیں کہ ایک ادارے کے طور پر اس علامت کو قائم رکھنا ہے اور اس کا احترام بھی کرنا ہے تو سیکولر احباب برطانیہ کے عوام کو جہالت یا قدامت پسندی کا طعنہ دیے بغیر ان کا یہ حق تسلیم کرتے ہیں، لیکن اگر پاکستان کے عوام جمہوری اور دستوری طریقے سے فیصلہ کر لیں کہ حاکمیت اللہ کے لیے ہے، اور ریاست کا مذہب اسلام ہوگا تو ہمارے دوست اسے قبول اور برداشت نہیں کرپا تے۔ اس رویے کو کیا نام دیا جائے؟
کچھ مذہبی لوگ دستور پاکستان کو نہیں مانتے کہ ان کی نظر میں یہ مکمل اسلامی نہیں، اسی طرح سیکولر حضرات اس آئین کو نہیں مانتے کہ ان کی نظر میں یہ تھوڑا تھوڑا اسلامی ہے۔ اب ایک کو انتہا پسند کہا جائے تودوسرے کو کیا نام دیا جائے؟ آئین کی بالادستی پر روز ایک غزل کہنے والے سیکولر احباب بتائیں کہ وہ دستور کی ان شقوں کو کیوں نہیں مانتے جن میں اسلام کی بات کی گئی ہے؟ جمہوری عمل اور دستور کی بالادستی کا تصور سیکولر احباب کے ہاں مسلمہ ہے، لیکن وہ جمہوریت اور آئین اسلام کی بات کریں تو یہ سیکولر حضرات ان مسلمات کی بھی نفی کر دیتے ہیں، دین سے اتنی بے زاری، اور دعوی پھر بھی یہ کہ سیکولرزم لادینیت نہیں ہے۔
پاکستان جمہوری اور آئینی انداز سے اپنی شاخت طے کر چکا ہے۔ دستور پاکستان کے آرٹیکل 2 کے مطابق : پاکستان کا ریاستی مذہب اسلام ہوگا، آرٹیکل 2 اے کے مطابق قرارداد مقاصد آئین کا اہم اور بنیادی حصہ ہوگی جس میں کہا گیا ہے کہ حاکمیت اعلی اللہ کے لیے ہے۔ منتخب نمائندے اپنے اختیارات کو ایک مقدس امانت سمجھتے ہوئے ان کا استعمال اللہ کی مقرر کردہ حدود کے اندر رہ کر کریں گے، مسلمانوں کو اس قابل بنایا جائے گا کہ وہ اپنی نجی اور اجتماعی زندگی قرآن وسنت میں دیے گئے اسلامی اصولوں کے مطابق گزار سکیں (گویا ہمارے دستور نے اس سیکولر تصور کی، کہ مذہب کا تعلق صرف فرد کی ذات اور نجی معاملات سے ہے، واضح طورپر نفی کر دی اور بتا دیا کہ اس کا تعلق اجتماعی زندگی سے بھی ہے)، آئین کا آرٹیکل 31 تو یہاں تک کہتا ہے کہ ریاست کی ذمہ داری ہوگی کہ مسلمانوں کو وہ سہولیات فراہم کرے کہ قرآن و سنت کی روشنی میں زندگی کا مفہوم جاننے کے قابل ہو سکیں، سوال یہ ہے کہ کیا سیکولر احباب دستور پاکستان میں طے شدہ ان امور کو تسلیم کرتے ہیں؟ اور نہیں کرتے تو کیا اس رویے کو جمہوریت دوستی اور آئین دوستی کے باب میں درج کیا جا سکتا ہے؟ کیا یہ ایک جمہوری عمل کی توہین نہیں کہ اس آئین سازی کو قبضہ گروپ کہہ دیا جائے؟
یہ کیسا قبضہ گروپ تھا جو ایک بار بھی اقتدار پر قبضہ نہ کر سکا۔ اگر اس ملک کی فکری شناخت کا تعین سید مودودی کے قبضہ گروپ نے کیا ہے اور یہ کسی جمہوری عمل کا نتیجہ نہیں ہے تو یہ قبضہ گروپ اقتدار پر قابض کیوں نہ ہوا؟ انتخابات میں شکست سے کیوں دوچار ہوتا رہا؟ بلکہ انتخابات میں حصہ ہی کیوں لیتا رہا؟ حقیقت یہ ہے کہ ریاست پاکستان کی اسلامی شناخت ایک جمہوری اور دستوری عمل کی نتیجے میں وجود میں آئی ہے اور اس حقیقت کا ابطال فکری دیانت نہیں ہے۔ نہ ہی اس عمل کو فکری دیانت کہا جا سکتا ہے کہ پہلے تو قائد اعظم پر قبضہ کر کے انہیں سیکولر بنالیا جائے، اس کے بعد ہر مذہبی آدمی کو قائد اعظم کا دشمن بنا لیا جائے، اور پھر دعوی کر دیا جائے کہ لبرل فاشسٹ ہی اصل میں قائد کی فکر کے وارث ہیں اور یوں وراثت قائد پر بھی قبضہ کر لیا جائے۔سوال یہ ہے کہ اصل قبضہ گروپ پھر کون ہوا؟
مذہب پسند طبقہ یا سیکولر حضرات؟
تحریر : محمد آصف

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *