مغالطہ: کونسی شریعت ؟

سیکولرز کا پیش کردہ اشکال: کونسی شریعت
شریعت شریعت تو سب کرتے ہیں۔ مگر اِن داعیانِ شریعت میں سے آج تک کوئی یہ نہیں بتا سکا کہ کونسی شریعت؟ کوئی ایک شریعت ہو تو بات کریں۔ یہاں خمینی کی شریعت ہے۔ نمیری کی شریعت ہے۔ ضیاءالحق کی شریعت ہے۔ قذافی کی شریعت الگ ہے۔ سعودیہ میں وہابیوں کی اور ہی شریعت ہے۔ اب طالبان ایک اور ہی شریعت لانے جا رہے ہیں۔ آپ حضرات پہلے شریعت پر متفق ہو لیں کہ شریعت کے نام پر آپ لانا کیا چاہتے ہیں!
جواب:
رب العالمین کی شریعت پر اتنی آسانی سے دھول پھینک جانا اور اسکو کوئی ایسی مہمل چیز ثابت کر لینا ممکن نہیں۔ ہماری شریعت کا تعین کرنے کیلئے تو اللہ کا شکر ہے کتاب اللہ پوری کی پوری محفوظ کر رکھی گئی ہے اور پچھلی چودہ صدیوں سے امت اسکو سینے سے لگائے بیٹھی ہے کہ جب بھی کسی کو رب العالمین کی شریعت دریافت کرنا ہو وہ اس کتاب کو کھولے اور اپنے سوال کا جواب پا لے بشرطیکہ ایمان ہو اور اتباع کا ارادہ ہو۔ اس پر اللہ کے فضل سے کبھی بھی دھول پڑنے والی نہیں خواہ تم جتنا مرضی زور لگا لو۔ پھر ہماری شریعت کا تعین کرنے کیلئے ہمارے نبی کی سنت کا پورا ذخیرہ موجود ہے جس کیلئے امت کے محدثین نے چھان پھٹک کرنے میں عمریں کھپا دیں۔ پھر اس شریعت کے فہم و تفسیر کیلئے اور اس سے استدلال کے اصول وضع کرنے کیلئے اور اسکے اختلاف کو ضبط میں لانے کیلئے فقہائے امت نے اپنی زندگیاں صرف کر دیں۔ پس ہماری شریعت تو ایک نہایت معلوم چیز ہے اور جو بھی اخلاص کے ساتھ ، نہ کہ کھلواڑ کرنے کیلئے، اِس شریعت کی طرف بڑھے گا وہ ہرگز اِس شریعت کی پہچان اور تعین کرنے میں کوئی الجھن نہ پائے گا۔

*مسئلہ کاعلمی پہلو:
شریعت دو طرح کے احکام پر مشتمل ہے:
1۔ اِس کا ایک حصہ محکم ہے۔ یہ وہ حصہ ہے جس پر دلیل قاطع پائی جاتی ہے، نصِ صحیح کی صورت میں یا اجماعِ صریح کی صورت میں۔
2۔ اِس کا دوسرا حصہ متشابہ ہے۔ یہ وہ حصہ ہے جس میں اجتہادات متفاوت ہو جاتے ہیں اور آراءمتعدد ہو جاتی ہیں۔ کیونکہ اس کے دلائل قطعی نہیں، یا تو ثبوت کے لحاظ سے اور یا دلالت کے لحاظ سے۔
وہ اسلام جس کی ہم صدا لگاتے ہیں، اور جس کی آج ہر مسلمان راہ تک رہا ہے، وہ اسلام ہے جو ایک قطعی انداز میں کتاب اللہ سے ثابت ہوتا ہے، سنت رسول اللہ سے ثابت ہوتا ہے اور اس امت کے اولین دور کے اجماع سے ثابت ہوتا ہے۔ یہی چیز شریعت کا وہ محکم حصہ ہے، جس کے اندر مسلمانوں کے مابین جھگڑا ہی کوئی نہیں ہے۔ کوئی فقہی نزاع شریعت کے اِس حصہ میں نام کو نہیں ہے۔ سب ائمہ، سب فقہیں شریعت کے اِس بنیادی و مرکزی حصہ کی بابت آپ کو ایک ہی بات بتائیں گی۔
رہ گیا اِس کے ماسوا حصہ، جس میں ظنیات اور متشابہات آ جاتے ہیں، تو وہ اجتہاد اور تحقیق کا میدان ہیں۔ ۔ اِس میں بھی حرج نہیں کہ علاقوں علاقوں کے فرق سے شریعت کے اِس حصہ میں اجتہادات مختلف ہوں۔ ایک خطہ میں کسی ایک رائے یا اجتہاد کو اختیار کیا جائے تو کسی دوسرے خطہ میں کسی دوسری رائے یا اجتہاد کو۔ لوگوں سے حرج کو رفع کرنا شریعت کا اپنا ہی اقتضاءہے۔ اِس بات تک کی گنجائش ہے کہ جب بھی کوئی نئی صورتحال جنم لے لے اور حوادث نئے سامنے آئیں، پچھلے اجتہاد کے اندر ایک نظرثانی کر لی جائے، اور اُس متعین فریم کا پابند رہتے ہوئے نئے حالات کی رعایت سے اس میں کوئی تبدیلی یا پیشرفت ہو جائے۔
حیرت یہ ہے کہ شریعت نے لوگوں کیلئے یہ جو ایک وسعت اور ایک گنجائش اور ایک آسانی رکھی تھی، کچھ طبقوں کو یہ سوجھی کہ یہ اس بات کو الٹا شریعت ہی سے لوگوں کو متنفر کرنے کیلئے استعمال کریں اور اسکو بنیاد بنا کر شریعت کی ایک ایسی عجیب و غریب تصویر پیش کریں کہ دیکھیں جناب شریعت میں تو کتنا اختلاف ہے اور کس قدر تنوع اور تعدد ہے! حالانکہ یہ جتنا سا اختلاف اور جتنا سا تعددِ اقوال اور تنوعِ اجتہادات ہمارے معروف فقہی مذاہب (مانند حنفی، شافعی، مالکی حنبلی وغیرہ) کے مابین پایا جاتا ہے، یہ تو شریعت کی عظیم ترین خوبیوں میں سے ایک خوبی ہے، اور شریعت کو امر کر دینے والے عظیم ترین عوامل میں سے ایک عامل ہے۔ یہی تو وہ چیز ہے جس کے دم سے شریعت قیامت تک آنے والے ہر قسم کے زمان و مکان کی احتیاج کو پورا کرتی ہے اور ہر قسم کے مصالح العباد پر پورا اترتی ہے۔
یہی تو وہ چیز ہے جو امت کیلئے یہ بات ممکن بناتی ہے کہ ہر زمانے میں یہ اجتہاداتِ فقہاءمیں سے دلیل کی روشنی میں اور مصالح کے اقتضاءکو سامنے رکھتے ہوئے مناسب ترین قول کو اختیار کرے اور اپنے علمائے ثقات کے ذریعے اپنی یہ ضرورت پوری کروائے۔ چنانچہ یہ چیز تو امت کیلئے رحمت اور گنجائش ہے۔ اگر یہ پوری کی پوری امت ایک ہی مذہب اور ایک ہی قول کی پابند ہوتی اور قیامت تک اسی کی اسیر رکھی جاتی تو کس قدر تنگی میں ہوتی۔
اس کی شہادت انصاف پسند غیر مسلم تک دے چکے ہیں۔ آج سے کچھ عرصہ پیشتر پیرس یونیورسٹی کے شعبہ قانون میں عالمی تنظیم برائے تقابلی قانون کی دوسری کانفرنس کے انعقاد کے دوران (جوکہ ”ہفتہ فقہ اسلامی“ کے عنوان کے تحت ہوئی تھی)…. کانفرنس کے شرکاءنے جہاں کئی اور نقاط پر اتفاق کیا، وہاں اِس نقطے پر بھی اُنکا اتفاق دیکھا گیا کہ اسلام کے فقہی مذاہب کے مابین پایا جانے والا اختلاف ایک ایسے علمی ومعلوماتی وقانونی سرمائے پر مشتمل ہے جو عقل انسانی کو دنگ کر دیتا ہے۔ اسلامی فقہ اس سے کام لے کر سول لائف کے تمام مطالب و ضروریات پر پورا اترنے کی قدرت رکھتی ہے۔ شرکاءنے یہ امید بھی ظاہر کی کہ ایک ایسی کمیٹی قائم کی جائے جو فقہ اسلامی کا کوئی انسائیکلوپیڈیا وجود میں لے کر آئے۔ (دیکھئے کتاب مشاکلنا فی ضوءالاسلام مولفہ د۔ عبد المنعم النمر: ۷۳)

٭کونسی جمہوریت؟ بہ جواب ‘کونسی شریعت’!
ذرا اپنی شریعت کی بابت بھی بتاؤ، یہ کہاں سے ثابت ہوتی ہے؟ تم جو روز ’جمہوریت‘ کی گردان لے کر بیٹھ جاتے ہو، کیا ہم پوچھ سکتے ہیں کونسی جمہوریت؟ امریکہ کی جمہوریت؟ برطانیہ کی جمہوریت؟ فرانس کی جمہوریت (جو پیچاری مسلم خاتون کے سکارف کا بوجھ نہ سہار سکی)؟ حسنی مبارک کی جمہوریت؟ پرویز مشرف کی جمہوریت؟ چائنا کی جمہوریت؟
جیسا کیسا جمہوریت کا دعویٰ تو یہ بھی سارے ہی کرتے ہیں! یہاں تو کبھی تمہیں کسی کو الجھانے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی کہ بھئی کونسی جمہوریت؟
ذرا دہرے معیار دیکھتے جائیے۔ نمیری اور ضیاءالحق کے اعمال کی ذمہ داری ’شریعت‘ کو اٹھوا دی جائیگی اور انکے اعمال کو جھٹ سے ’شریعت‘ کے خلاف دلیل بنا دیا جائیگا۔ یہاں تک کہ شریعت کے ہر طلبگار کو چڑا کر پوچھا جائے گا کہ ارے صاحب کونسی شریعت، ضیاءالحق والی یا نمیری والی؟ البتہ حسنی مبارک اور پرویز مشرف کے اعمال کی ذمہ داری ’جمہوریت ‘ کو نہیں اٹھوائی جائے گی۔ ظاہر ہے جمہوریت کا ڈھونگ حسنی مبارک نے بھی رچا کر رکھا ہے اور ہر بار ’ننانوے فیصد‘ کی اکثریت سے الیکشن جیت کر دکھایا ہے۔ اب الیکشن ’جمہوریت‘ ہی کے اندر تو ہوتے ہیں!
اِسی جمہوریت کا ڈھونگ پرویز مشرف نے بھی رچایا۔ الیکشن کروائے اور پارلیمنٹ بٹھائی۔ لیکن ’جمہوریت‘ کیونکہ حق ہے اور ’آسمان سے اتری ہے‘، لہٰذا کسی کی بد اعمالیوں کی ذمہ داری اِس پر نہیں ڈالی جا سکتی؛ یہ منزہ مبراء ہی رہے گی۔ نہ صرف یہ کہ کسی کی بد اعمالیوں کی ذمہ داری ’جمہوریت‘ پر نہیں ڈالنے دی جائے گی بلکہ اُس ظالم شخص کو جمہوریت کا باقاعدہ مجرم گردانا جائے گا اور الٹا یہ رونے روئے جائیں گے کہ ’جمہوریت‘ کے ساتھ ظلم ہوا ہے!
سچ ہے….، جس بات پر آدمی کا ایمان ہو، اُسکے ساتھ وہ اِسی اخلاص کے ساتھ پیش آتا ہے۔ جمہوریت پر تمہارا ایمان تھا، دیکھ لو، لوگوں کے سب برے کرتوتوں کے باوجود یہ کس طرح صاف کی صاف اور پاک کی پاک رہی! بلکہ اور بھی مقدس ہو گئی!!! اور اس کی حرمت کیلئے دہائی مچانا اور بھی ضروری ہو گیا! شریعتِ خداوندی تمہارے ایمان کا حصہ ہوتی، تو کسی کی بدعملی کی ایک بھی چھینٹ تم شریعت پر نہ پڑنے دیتے اور اسکی پاکی بیان کرنے میں تم کم از کم اتنا ہی زور صرف کرتے جتنا کہ جمہوریت کی پاکی بیان کرنے میں صرف کرتے ہو، بلکہ اُس سے زیادہ:
وَالَّذِينَ آمَنُواْ أَشَدُّ حُبًّا ….!جبکہ ایمان والے اللہ کی محبت میں اس سے کہیں بڑھ کر ہوتے ہیں
یہاں تک کہ سیکولرزم ہی کی بابت، واقفانِ حال جانتے ہیں کہ خود اِسکے بہت سارے ورژن ہیں۔ کسی ملک میں ’مذہب‘ کو سوسائٹی میں زیادہ رسوخ رکھنے دیا جاتا ہے اور کہیں پر کم۔ یہاں تک کہ برطانیہ میں معاملہ اور ہے اور فرانس میں اور۔
مارکسسٹوں نے اِس برادری۔ آزادی۔ مساوات کا اقتصادی معیار سامنے لانا چاہا؛ یہ معاشی حوالے سے دنیا کو ایک نرالا ماڈل دینے چل پڑے۔ لبرلسٹوں نے اس کا سیاسی معیار سامنے لانا چاہا اور یہ سیاسی آزادی کو باقی دونوں چیزوں پر فوقیت دینے چلے گئے۔ جبکہ چینیوں نے اِن ہردو کو غلط گردانا اور ایک ’جمہوریۂ نو‘ کا تصور پیش کیا، جیسا کہ ایشیائی وافریقی انقلابیوں نے اول الذکر ہر دو کے طریقے کو ٹھکراتے ہوئے ’اشتراکی جمہوریت‘ کی داغ بیل ڈالی۔ اِن سب گروپوں میں وہ رسہ کشی اور وہ کھینچا تانی رہی ہے __ افکار کی دنیا میں بھی اور عمل کی دنیا میں بھی، بلکہ عالمی سیاست کی بساط پر بھی __ کہ پوری انسانیت اس کے شکنجے میں کراہتی رہی ہے۔
اِن لوگوں کے پاس تو کوئی ایک معیار، اور انسانیت کو اکٹھا کرنے کیلئے کوئی واضح بنیاد ہے ہی نہیں۔ جس کا زور چلے وہ اپنا ایک نظریہ گھڑ لیتا ہے؛ چند عشروں کے بعد وہ نظریہ پٹخا جاتا ہے اور کسی نئے تجربے کا ڈول ڈالا جا رہا ہوتا ہے۔ کوئی بتائے، اِن کی قلابازیوں کا یہ عمل آج تک رکا کب ہے؟
مارکسزم ہی کو لے لیجئے، جوکہ ایک نہیں بے شمار شکلیں رکھتا ہے۔ اِس کے باوجود مارکسسٹوں کو کبھی یہ نہیں کہا گیا کہ جب تک تم مارکسزم کی ایک متعین تفسیر پر متفق نہیں ہو لیتے تب تک تمہیں بولنے کا کوئی حق نہیں۔ حالانکہ مارکسزم کی تحریکیں آپس میں اِس قدر متعارض رہی ہیں کہ ان میں بعد المشرقین پایا جاتا رہا ہے۔ فرانس کا ایک معروف مارکسسٹ رہ چکا مؤلف میکسم روڈنسن Maxime Rodinson لکھتا ہے:
حقیقت یہ ہے کہ مارکسزم کوئی ایک نہیں بلکہ درجنوں سینکڑوں صورتیں رکھتا ہے۔ کارل مارکس کے ارشادات متعدد ہیں۔ یہ کچھ ایسا مشکل نہیں کہ اُس کے چھوڑے ہوئے علمی ورثے کو بنیاد بنا کر مارکسزم کے نام پر کسی بھی نظریہ کو ثابت کر لیا جائے۔ سمجھو مارکس کی کتاب بھی مقدس بائبل ہی کی طرح ہے، جس کی نصوص میں سے شیطان بھی اپنی کسی گمراہی کا ثبوت پیش کرنے لگے تو کر سکتا ہے۔ (بحوالہ کتاب الاسلام والعالمانیۃ وجہا لوجہ۔ د۔ یوسف القرضاوی۔ 185)
یہی حال اشتراکیت اور انکی جمہوریت کا ہے۔۔ انہی سیکولرسٹوں کے بھی اپنے ہزاروں مذاہب ہیں، اور بھانت بھانت کی بولیاں ہیں۔
سب جانتے ہیں کمیونسٹوں نے جمہوریت پرستوں کے کیسے کیسے پرخچے اڑائے ہیں، اور جمہوریت پرستوں نے کمیونسٹوں کے کیسے کیسے لتے لئے ہیں، جبکہ یہ دونوں گروہ (یعنی کمیونسٹ اور جمہوریت پرست) انسان پرستی کے ٹھیکیدار رہے ہیں۔ ان میں ہر ایک گویا خلق خدا کے درد میں صبح شام لوٹتا رہا ہے…. یہ سب سرگرداں ظالم آج شریعتِ محمدی کو یہ طعنہ دینے چلے ہیں کہ یہ کسی واضح چیز پر کھڑی ہوئی نہیں ہے! دوہرے پیمانے اِس کے سوا اور کیا ہوتے ہیں۔۔
تحریر شیخ صلاح الصاوی ۔استفاد: حامد کمال الدین، ایقاظ

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *