سیاست کے بارےمیں اسلامی احکامات کی نوعیت

سیاست کے بارے میں اسلام نے بے شک بہت سے احکام عطا فرمائے ہیں، لیکن حکومت کا کوئی تفصیلی نقشہ اسلام نے متعین نہیں فرمایا۔ اصول اور قواعد عطا فرمائے ہیں، لیکن ان اصولوں کو کس طرح نافذ کیا جائے؟ اور عملا ان کی صورت کیا ہو؟ اس کی تفصیلی جزئیات اسلام نے متعین نہیں فرمائیں، بلکہ ان کو ہر دور کے اہل علم اور اہل بصیرت کے فیصلے پر چھوڑ دیا ہے۔جو اصول اللہ تبارک و تعالیٰ نے شریعت کے ذریعے ہمیں عطا فرمائے ہیں، وہ غیر متبدل ہیں۔ ان میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی ان کی ہدایت سدا بہار ہے، لیکن ان اصولوں کی روشنی میں اور ان کی پوری پابندی کرتے ہوے جو تفصیلی عملی طریق کار مسلمان اہل بصیرت باہمی مشورے سے طے کرلیں، وہ جائزہے۔
مثلا قرآن کریم کی آیت ” واعدّوا لھم مااستطعتم” )سورۃ الانفال ۶۰( میں فرمایا کہ ” تم دشمنوں کے مقابلے کے لیے جو تیاری کرسکتے ہو، کرو” یہ اصول تو دے دیا، اور اس کی کچھ مثالیں بھی دیدیں، لیکن یہ تفصیل نہیں بتائی کہ فلاں فلاں اسلحہ بناو۔ بلکہ یہ بات ہر دور کے اہل بصیرت کے لے چھوڑ دی کہ وہ اپنے اپنے حالات، بصیرت، تجربے اور ضرورت کے مطابق قوت حاصل کرنے کی کوشش کریں۔
اسی طرح سیاست کے باب میں بھی اصولی ہدایت تو اسلام نے عطا فرمادی ہیں، لیکن آگے کی یہ تفصیلات کہ حکومت کے کتنے محکمے قائم کئے جائیں؟ انتظامی اختیارات کس طرح تقسیم کئے جائیں؟ وزرا ہوں یا نہ ہوں؟ اگر ہوں تو کتنے ہوں؟ وحدانی طرز حکومت ہو یا وفاقی؟ مقنّنہ ایک ایوان پر مشتمل ہو یا دو ایوانوں پر؟ اس میں مشاورت کا کیا طریقہ ہونا چاہئے؟ یہ تفصیلات اسلام نے متعین نہیں فرمائی ہیں، کیونکہ یہ مباحات کا دائرہ ہے، اس دائرے میں ہر زمانے کے اہل بصیرت فیصلے کرکے حالات کے مطابق عمل کرسکتے ہیں۔ لہٰذا جب ہم اسلام کے اصول سیاست کی بات کریں تو یہ توقع نہیں کرنی ہو یا دو ایوانی ہو، یا کابینہ کی تعداد کیا ہو؟ یہ تفصیلات نہ شریعت میں موجود ہیں، اور نہ ان کی ضرورت ہے۔
شریعت کی ہدایت تو آتی ہی اس جگہ ہے جہاں شریعت یہ محسوس کرتی ہے کہ اگر اس بات کو لوگوں کی عقل و فہم پر چھوڑ دیا گیا تو لوگ گمراہ ہو جائیں گے۔ جہاں مباحات کا دائرہ ہے، اس میں اکثر معاملات کو انسان کی عقل و بصیرت پر چھوڑا گیا ہے۔ اس طرح اسلام کے اصول سیاست ایک طرف ناقابل تبدیلی ہیں، اور دوسری طرف اتنے لچکدار ہیں کہ ان پر عمل کا طریق کار زماں ومکان کے تقاضوں اور مصلحتوں کے لحاظ سے متعین کیا جاسکتا ہے، اور ان اصولوں کے دائرے میں رہتے ہوے، ان میں مختلف زمانوں میں تبدیلی بھی ہو سکتی ہے۔ لہٰذا جب ہم اسلامی سیاست کی بات کرتے ہیں تو اس سے مراد کوئی ایسا لگا بندھا طریقہ حکومت نہیں ہوتا جس کی تمام جزوی تفصیلات ہمیشہ کیلئے طے شدہ ہوں، بلکہ اس سے مراد وہ بنیادی تصورات اور وہ اساسی قواعد و اصول ہیں جو قرآن و سنت نے متعین فرمادیئے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے ابن خلدون کو عجیب ذہن عطا فرمایا تھا کہ اس اللہ کے بندے نے مقدمہ میں ہر موضوع پر جو بحثیں کی ہیں، وہ کمال کی بحثیں ہیں، اور مقدمہ ایک ہی جلد میں ہے لیکن زندگی کا کوئی ایسا شعبہ نہیں چھوڑا جس پر اس میں بحث نہ کی ہو۔ اس موضوع پر بھی ابن خلدون نے مقدمہ میں لکھا ہے کہ حکومت کی تین قسمیں ہوتی ہیں:۱۔ ملک طبیعی۲۔ ملک سیاسی۳۔ اور خلافت۔
ابن خلدون ملک طبیعی کی تعریف یوں کرتے ہیں: ” کسی حاکم کا اپنی غرض اور شہوات و خواہشات کے تقاضوں کے مطابق اپنی حکومت چلانا، جیسا کہ مطلق العنان بادشاہوں کا یہی طریقہ تھا۔
دوسری قسم ملک سیاسی ہے جس کی تعریف وہ یوں کرتے ہیں کہ ” تمام لوگوں کو اپنے عقلی نظریات کے مطابق دنیوی مصلحتوں کے حصول اور نقصانات سے بچانے پر مجبور کرنا”۔ سیکولر ڈیموکریسی اسی میں داخل ہے، کیونکہ اس کے پاس کوئی ابدی قدر تو ہے نہیں، اس لئے عقلی اعتبار سے جس کو بہتر سمجھا اس کو اختیار کر لیا۔
تیسری قسم خلافت ہے جس کی تعریف ابن خلدون اس طرح کرتے ہیں کہ ” حمل الکافّۃ علیٰ مقتضی النّظر الشرعیّ فی مصالحھم الاخرویۃ والدنیویۃ الراجعۃ الیھا”یعنی لوگوں کو شرعی طرز فکر کے مطابق چلانا جس سے ان کی آخرت کی مصلحتیں بھی پوری ہوں اور وہ دنیوی مصلحتیں بھی جن کا نتیجہ آخر کار آخرت ہی کی بہتری ہوتاہے”۔ (مقدمہ ابن خلدون، الباب الثالث، الفصل الخامس والعشرون ص ۱۸۹)
اگر دیکھا جائے تو حکومت کی ساری صورتیں ان تین قسموں میں سمٹ آئی ہیں۔ عوام کی حاکمیت (سیکولر جمہوریت )کے نقائص کا جائزہ ہم گزشتہ ایک تحریر میں پیش کر چکے ہیں۔ بادشاہت اور خلافت کے متعلق مزید تفصیل پیش ہے۔

بادشاہت یا ملوکیت:
آج بادشاہت یا ملوکیت کو شرِمطلق سمجھا جاتا ہے،بعض لوگ یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ اسلام میں ملوکیت نہیں ہے وغیرہ وغیرہ۔ تو درحقیقت اس پروپیگنڈے کا اثر ہے جو جمہوریت کے غلغلے نے پیدا کیا، ورنہ ملوکیت تو ایک عنوان ہے، اور اس عنوان کے تحت معنون اچھا بھی ہو سکتا ہے اور برا بھی ہوسکتا ہے۔ اس عنوان کے تحت بادشاہت مفید اور مناسب بھی ہو سکتی ہے اور غلط بھی ہوسکتی ہے۔ بادشاہت ایک ایسی کلی مشکک ہے جس کی اقسام مطلق العنان بادشاہت سے لے کر برائے نام بادشاہت تک ہیں۔ یعنی بادشاہ ایسے بھی ہوے ہیں کہ ان کی زبان قانون تھی، اور ایسے بھی ہیں جن کی کچھ چلتی ہی نہیں۔
اگر آپ قرآن کریم کی طرف دیکھیں تو اللہ تعالیٰ نے طالوت کو “ملک” یعنی بادشاہ بنا کر بھیجا، اور اس کو بطور احسان ذکر فرمایا ہے کہ ہم نے تمھارے اوپر احسان کیا کہ ہم نے اس کو بادشاہ بناکر بھیجا۔ اسی طرح بنی اسرائیل پر احسانات کا ذکر کرتے ہوئے ان سے فرمایا گیا کہ: ” وجعلکم ملوکا” سورۃ المائدہ ۲۰، ” یعنی اللہ نے تمہیں بادشاہ بنایا” اور اسی طریقے سے حضرت سلیمان علیہ السلام اور حضرت داؤد علیہ السلام کو ملوک قرار دیا گیا۔
اب جو لوگ جمہوریت کے پرستار ہیں جب یہ آیات آتی ہیں تو وہ طرح طرح کے حیلے بہانے اور تاویلات و توجیہات کرتے رہتے ہیں کہ یہاں پر تو ملک سے مراد فلاں ہے اور اسلام میں ملوکیت نہیں ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ملوکیت یاد باشاہت یا سلطنت، نام کچھ بھی رکھ لو، اصل بات ہے کہ اس کا اختیار کتنا ہے؟ اور کن اصولوں کے تحت وہ حکومت کرتا ہے؟ اگر وہ بات درست ہے تو اس کا نام چاہے بادشاہت رکھ لو چاہے اس کا نام ملوکیت رکھ لو چاہے اس کا نام خلافت رکھ لو اور جو چاہے اس کا نام رکھ لو، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، اور اسے برا نہیں کہا جاسکتا۔ اس لئے یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ یہ جو ہمارے ہاں تصور بن گیا ہے کہ ملوکیت یا بادشاہت یہ شر مطلق ہے، یہ درحقیقت اس ماڈرن مفکرین کا پھیلایا ہوا پروپیگنڈا ہے جو ہمارے زمانے میں ابھرے ہیں، ورنہ اپنی ذات میں بادشاہت کے لفظ میں کچھ بھی نہیں رکھا، وہ صحیح بھی ہو سکتی ہے، اور غلط بھی ہو سکتی ہے اچھی بھی ہو سکتی ہے بری بھی ہو سکتی ہے اور اسلام اس بارے میں حائل نہیں ہوتا کہ اس کا نام ملک رکھو یا خلیفہ رکھو یا سلطان رکھو، یا صدر رکھو۔ نام سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اصل بات یہ ہے کہ وہ کن اصولوں کے تحت کن قواعد کے تحت کس نظام کے تحت حکومت کررہاہے۔ !!

خلافت:
قرآن کریم میں خلافت یا خلیفہ کے الفاظ بہت سی جگہوں پر آئے ہیں۔ مفسرین کرام نے فرمایا کہ خلافت الٰہیہ کے دو معنی ہیں۔ ایک معنی یہ ہیں کہ ہر انسان جو اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتا ہو، وہ اللہ تعالیٰ کا خلیفہ ہے، انسان سے مطلوب یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت اور پابندی کرے۔چنانچہ بیشتر مفسرین کا خیال یہ ہے کہ قرآن کریم میں جو فرمایا گیا ہے کہ “انّی جاعل فی الارض خلیفۃ” وہ اس معنی میں ہے، یہ خلافت انفرادی ہے جس میں ہر انسان اس معنی میں اللہ تعالیٰ کا خلیفہ ہے کہ وہ اپنی پوری ذندگی میں اللہ تعالیٰ کے حکم کا پابند ہے اور ” تخلّق باخلاق اللہ” کا مامورہے۔
خلافت کے دوسرے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی جو صفت حاکمیت ہے اس کو دنیا میں نافذ کرنے کیلئے کوئی اس کا نائب ہو، اور اللہ تعالیٰ کی نیابت اور خلافت میں لوگوں پر حکومت کرے۔ چنانچہ حضرت داود علیہ السلام کا ذکر کرتے ہوے قرآن کریم میں جو فرمایا گیا ہے کہ: ” انا جعلنک خلیفۃ فی الارض” سورۃ ص ۲۶، یہ اس دوسرے معنی میں ہے۔
جب ہم سیاست کے اصول کے طور پر خلافت کا ذکر کرتے ہیں تو ہمارا مقصود یہی دوسرے معنی ہوتے ہیں۔ اس دوسرے معنی کے لحاظ سے اسلام میں جو حاکم ہے، اس کے بارے میں بنیادی اصول یہ ہے کہ یہ حاکم بالذات نہیں ہے، بلکہ اللہ جل جلالہ کا خلیفہ ہے اور جب خلیفہ ہے اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ وہ اپنی حکومت میں احکام الہیہ کا تابع ہوگا۔ یہیں سے اسلام کے تصور سیاست اور دوسرے نظریات کے درمیان ایک واضح حد فاصل قائم ہو جاتی ہے کہ لادینی نظاموں میں حکمران اپنے آپ کو احکام الٰہی کا پابند قرار نہیں دیتا، لیکن خلیفہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ احکام الٰہیہ کا پابند ہو کر احکام جاری کرے۔

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *