موجودہ دور میں ایک خلیفہ کا انتخاب کیسے ممکن ہے؟

کیا ایک سے زیادہ خلیفہ ہو سکتے ہیں؟ شریعت یہ کہتی ہے کہ مسلمانوں کا ایک ہی خلیفہ ہو جبکہ موجودہ دور میں جب مسلمان مختلف ملکوں میں بٹے ہوئے ہیں ، ایک خلیفہ کا انتخاب کیسے ممکن ہے ؟
یہ بات درست ہے کہ جمہور علماء کا موقف یہ ہے کہ پوری دنیا میں خلیفہ ایک ہی ہونا چاہئے اور مختلف ملکوں میں الگ الگ خلیفہ نہیں ہو سکتے۔حدیث میں آپؐ نے ایک وقت میں ایک ہی خلیفہ کی بیعت کو لازمی قرار دیا ہے۔البتہ جیسا کہ علامہ ماوردی نے ارشاد فرمایا بعض حضرات کا موقف یہ ہے کہ اگر اسلامی حکومت کا دائرہ اتنی دور دور تک پھیل جائے کہ ان سب کو ایک امام کے تحت رکھنے میں عملی دشواری ہو تو ایسی صورت میں عالم اسلام کومختلف ممالک میں تقسیم کر کے ان میں الگ الگ خلیفہ مقرر کئے جا سکتے ہیں ۔علامہ عبدالقادر بغدادی فرماتے ہیں یہ بات جائز نہیں ہے کہ ایک ہی وقت میں دو واجب الاطاعت امام ہوں البتہ اگر شہروں کے درمیان ایسا سمندر حائل ہو جو ایک دوسرے تک پہنچنے میں مانع ہو تو یہ جائز ہے کہ ہر علاقے کے لئے الگ الگ امام مقرر کر لئے جائیں اور علامہ ماوردی فرماتے ہیں ، جہاں تک مختلف ملکوں اور دور دراز شہروں کا تعلق ہے اس کے بارہ میں ایک مختصر گروہ کا کہنا یہ ہے کہ ایک سے زیادہ اماموں کا تقرر جائز ہے کیونکہ امام کا تقرر مصالح کے لئے ہوتا ہے اور اگر دو مختلف علاقوں میں دو امام ہوں گے تو ان میں سے ہر ایک اپنے ماحول کو زیادہ بہتر طریقہ پر درست رکھ سکے گا اور جو علاقہ اس کے قریب ہے اس کا زیادہ بہتر انتظام کر سکے گا ۔نیز جب ایک ہی زمانہ میں دو نبیوں کی بعثت ہو سکتی ہے اور اس سے نبوت کا ابطال لازم نہیں آتا تو امامت میں یہ بابت بطریق اولیٰ درست ہو گی اور اس سے امامت کا ابطال لازم نہیں آئے گا۔
اس طرح علامہ قرطبی نے تفسیر القرطبی میں بھی اس موقف کی تائید فرمائی ہے۔اور امام جوینی کی عبارت بعینہ انہی الفاظ میں نقل فرمائی ہے ۔ اور علامہ عبدالعزیز فرباری نے بھی اسی کو راجح قرار دیا ہے ۔
ان اقوال کے باوجود جمہور علماء کا موقف یہی ہے کہ ایک وقت میں امام متعدد نہیں ہو سکتے ۔لیکن غور کرنے سے جو بات سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ اسلام جس عالمگیر دعوت کا داعی ہے اور اس میں جس طرح پوری امت مسلمہ کو ایک لڑی میں پرونے کا اہتمام فرمایا گیا ہے اس کا تقاضا وہ ہی ہے جو جمہور علماء کا موقف ہے یعنی پورے عالم اسلام کا ایک ہی خلیفہ یا امام ہو اور جہاں تک ممالک کے درمیان فاصلوں کا تعلق ہے خلافت راشدہ کے دور میں بھی اسلام تقریباًایک تہائی دنیا تک پہنچ چکا تھا اور بعد میں آدھی دنیا اس کے زیر اثر آگئی تھی ۔اس کے باوجود ایک امام کے تحت کام چلتا رہا اور ہمارے دور میں تو مواصلات کی ترقی نے اس کو کوئی قابل لحاظ مسئلہ نہیں رہنے دیا ۔اس لئے ایک مثالی اسلامی ریاست کی اصل کوشش یہی ہونی چاہئے کہ پوری دنیا میں ایک ہی امام ہو۔
لیکن موجودہ حالات میں جہاں عالم اسلام پچاس سے زیادہ حکومتوں میں منقسم ہے عملی طور پر ایسا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ان ممالک کے حکمران متفق ہوں وگرنہ مسلمان ملکوں کے درمیان جنگ کے بغیر یہ مقصد حاصل نہیں کیا جا سکتاجو یقیناً زیادہ بڑی برائی ہے۔اس لئے مجبوری کی حالت میں ان حکومتوں کو تسلیم کئے بغیر چارہ نہیں ہے وگرنہ شدید خلفشار لازم آئے گا۔ماضی میں بھی حکومتیں کئی کئی رہی ہیں اور علماء امت نے ان کے احکام کو نافذالعمل سمجھا ہے ۔لہٰذا اس حد تک دوسرا قول اختیار کرنا ایک مجبوری ہے کہ ان کے احکام کو نافذ قرار دیا جائے۔
آج کے دور میں عالمی خلافت کے قیام کی میری طالب علمانہ رائے میں ممکنہ صورت یہ ہے کہ
• مسلم ممالک میں اسلامی نظام و قوانین کا نفاذ عمل میں لایا جائے،
• مکمل اسلامی نظام کو اپنانے والے مسلم ممالک مل بیٹھ کر عالم اسلام کی سطح پر اپنی کنفیڈریشن کے قیام کا اعلان کریں،
• اس کنفیڈریشن کا سربراہ خلیفۃ المسلمین کہلائے۔
• کنفیڈریشن میں شامل تمام مسلم ممالک اسلامی امارات کی حیثیت سے خلافت اسلامی کے داخلی طور پر خود مختار یونٹ ہوں جنہیں دفاع، کرنسی، بین الاقوامی مواصلات، شرعی قوانین، اور خارجہ پالیسی کے علاوہ باقی تمام امور میں مکمل خودمختاری حاصل ہو۔
اس طرح تمام مسلم ممالک کی خودمختاری اور جداگانہ امتیازی تشخص کا احترام برقرار رکھتے ہوئے خلیفۃ المسلمین کی سربراہی میں عالم اسلام ایک قابل عمل اور باوقار وحدت کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ ہمارے نزدیک خلافت کے قیام کی جدوجہد کا صحیح اور فطری طریقہ یہ ہے کہ مسلم ممالک کے دین دار حلقے اپنے اپنے ملک میں مکمل اسلامی نظام و قوانین کے نفاذ کے لیے سنجیدہ محنت کریں اور اس کے ساتھ عالمی سطح پر خلافت اسلامیہ کے قیام کے لیے امت کی ذہن سازی کرتے رہیں تاکہ کم از کم آٹھ دس ممالک میں اسلامی حکومتوں کے قیام کے بعد خلافت کی طرف عملی پیش رفت کا جلد آغاز ہو سکے۔
اس کے علاوہ آج کے معروضی حالات میں ہمارے خیال میں خلافت اسلامیہ کے قیام کی کوئی دوسری صورت قابل عمل نہیں ہے۔ اس لیے جو حضرات یہ خیال کیے بیٹھے ہیں کہ وہ خلافت کے نام پر چند لاکھ مسلمانوں کو اپنے گرد جمع کر کے خلیفہ بن بیٹھیں گے اور پھر خدائی فوجدار بن کر لٹھ اٹھائے پوری دنیا سے اپنی خلافت منوانے کے لیے چل پڑیں گے، وہ خوش فہمی کا شکار ہیں۔ ایسے حضرات ایک ایسے سراب کے پیچھے بھاگ رہے ہیں جس کے دامن میں ان کے لیے صلاحیتوں اور توانائیوں کی بربادی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ خلافت اسلامیہ کے احیاء اور قیام کے لیے محنت و جدوجہد الگ چیز ہے جبکہ خلافت کے نام پر شخصی ادعا کے ساتھ اپنے گرد لوگوں کو جمع کرنے کی کوشش اس سے بالکل مختلف عمل ہے۔ اول الذکر عمل دینی فریضہ اور اس کی ادائیگی کا خوبصورت احساس و جذبہ ہے جس کے ساتھ تعاون اور اس میں شرکت ہر مسلمان کی شرعی ذمہ داری ہے۔ جبکہ ثانی الذکر محنت پر ’’طالع آزمائی‘‘ کے سوا اور کوئی عنوان فٹ نہیں بیٹھتا۔
استفادہ تحریر : اسلام اور سیاسی نظریات از مفتی تقی عثمانی، خلافت کےقیام کی عملی صورتیں از مولانا زاہد الراشدی

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *