اسلام اورسیاست-افراط وتفریط کاجائزہ

اسلام اور سیاست كے تعلّق كے بارے میں آج كل دو ایسے نظریات پھیل گئے ہیں جو افراط و تفریط كی دو انتہاؤں پر ہیں۔
ایك نظریہ سیكولرزم كا ہے جس كے نزدیك اسلام بھی دوسرے مذاہب كی طرح انسان كا ذاتی اور انفرادی معاملہ ہے جس كا تعلق بس اُس كی اپنی ذاتی زندگی سے ہے۔ سیاست و حكومت كا اُس سے كوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ نظریہ درحقیقت عیسائی تھیوكریسی كی خرابیاں سامنے آنے كے بعد ایك ردِعمل كے طور پر اپنایا گیا تھا، اور سیكولر جمہوریت كے رواج كے بعد یہ دنیا میں مقبول ہوگیا۔ اس نظریے كو مزید تقویت اُن بعض دینی حلقوں كے طرزِعمل سے بھی ملی جنہوں نے نہ صرف خود اپنی سرگرمیوں كا سارا محور عقائد و عبادات اور زیادہ سے زیادہ اخلاق كی درستی كی حد تك محدود ركھا، بلكہ جو لوگ اس دائرے سے باہر جاكر كسی قسم كی سیاسی سرگرمیوں میں مصروف ہوئے، اُن پر بھی تنقید كی كہ ایك دیندار آدمی سیاست میں كیوں ملوث ہو؟ یہ نقطہٴ نظر درحقیقت اسلام كو دوسرے مذاہب پر قیاس كرنے سے پیدا ہوا ہے، حالانكہ یہ قیاس قطعی طور پر غلط ہے۔ اسلام كی ہدایات اور تعلیمات صرف عقائد و عبادات اور اخلاق كی حد تك محدود نہیں ہیں، بلكہ وہ مالیاتی معاملات اور سیاست و حكومت كے بارے میں بھی ہمیں بڑے اہم احكامات عطا فرماتا ہے جن كے بغیر اسلام كا كلّی تصور نامكمل ہے۔
انہی احكام كی دوسری انتہا پسندی بعض ایسے افراد نے اختیار كرلی جنہوں نے سیكولرزم كی تردید اس شدت كے ساتھ كی كہ سیاست ہی كو اسلام كا مقصودِ اصلی قرار دے دیا، یعنی یہ كہا كہ اسلام كا اصل مقصد ہی یہ ہے كہ دنیا میں ایك عادلانہ سیاسی نظام قائم كیا جائے، اور اسلام كے باقی سب احكام اس مقصودِ اصلی كے تابع ہیں۔ لہٰذا جو شخص سیاست كے میدان میں دین كی سربلندی كیلئے كام كررہا ہے، بس وہ ہے جس نے دین كے مقصودِ اصلی كو پا لیا ہے، اور جو لوگ سیاست سے ہٹ كر اصلاحِ نفس، تعلیم، تبلیغ یا اصلاحِ معاشرہ كے كاموں میں لگے ہوئے ہیں اور سیاست میں اُن كا كوئی كردار نہیں ہے، وہ گویا تنگ نظر اور دین كے اصل مقصد سے غافل ہیں۔
یہ دونوں نظریات افراط و تفریط كے نظریات ہیں جو اسلام میں سیاست كے صحیح مقام سے ناواقفیت پر مبنی ہیں۔ حقیقت یہ ہے كہ اسلام كی ہدایات، تعلیمات اور احكام زندگی كے ہر شعبے سے متعلق ہیں جس میں سیاست بھی داخل ہے، لیكن سیاست كو مقصودِ اصلی قرار دے كر باقی احكام كو اُس كے تابع كہنا بھی غلط ہے۔ اس كی مثال یوں سمجھیے كہ جیسے اسلام نے تجارت كے بارے میں بڑے تفصیلی احكام عطا فرمائے ہیں، لیكن اگر كوئی شخص یہ كہنے لگے كہ تجارت ہی اسلام كا اصل مقصود ہے تو یہ بالكل غلط بات ہوگی، یا مثلاً نكاح كے بارے میں اسلام نے مفصل احكام دیے ہیں، لیكن ان احكام كی وجہ سے یہ ہرگز نہیں كہا جاسكتا كہ نكاح ہی اسلام كا اصل مقصود ہے۔ بالكل اسی طرح اسلام نے سیاست كے بارے میں بھی اصولی ہدایات اور احكام عطا فرمائے ہیں، لیكن اُس كی وجہ سے یہ نہیں كہا جاسكتا كہ سیاست ہی اسلام كا مقصودِ اصلی ہے۔
اللہ تبارك وتعالیٰ نے انسان كی تخلیق كا مقصد واضح طور پر اس آیتِ كریمہ میں بیان فرمایا ہے كہ: وما خلقت الجنّ والاِنس اِلّا یعبدون – (سورة الذاریات:٥٦)
’’اور میں نے انسان اور جنّات كو كسی اور مقصد سے نہیں، بلكہ اس لیے پیدا كیا ہے كہ وہ میری عبادت كریں۔‘‘عبادت كے معنی ہیں بندگی اور بندگی كے مفہوم میں پرستش كے تمام مشروع طریقے بھی داخل ہیں، اور زندگی كے ہر معاملے میں اللہ تعالیٰ كی اطاعت بھی۔پھر عبادت كی بھی دو قسمیں ہیں – ایك وہ عبادتیں ہیں جن كا مقصود اللہ تعالیٰ كی پرستش كے سوا كچھ اور نہیں، مثلاً نماز، روزہ، حج، زكوٰة، قربانی وغیرہ۔ یہ براہِ راست عبادتیں ہیں، اور دوسری قسم عبادات كی وہ ہے جس میں كوئی عمل كسی دنیاوی فائدے كے لیے كیا جاتا ہے، لیكن جب وہ عمل اللہ تعالیٰ كے احكام كے مطابق كیا جاتا ہے اور ان احكام كی پابندی میں نیت اللہ تعالیٰ كی رضاجوئی كی ہوتی ہے، تو وہ بالواسطہ عبادت بن جاتا ہے۔مثلاً تجارت، یہی حال سیاست اور حكومت كا بھی ہے كہ اگر سیاست و حكومت كی كارروائیاں اللہ تعالیٰ كے احكام كے مطابق اُسی كی رضاجوئی كے لیے انجام دی جائیں تو وہ بھی عبادت ہیں، لیكن بالواسطہ عبادت، كیونكہ یہ كارروائیاں تجارت كی طرح اپنی ذات میں عبادت نہیں تھیں بلكہ اطاعت اور حسنِ نیت كے واسطے سے عبادت بنی ہیں۔
لہٰذا جب اللہ تبارك وتعالیٰ نے انسان كی تخلیق كا مقصد عبادت كو قرار دیا تو اُس میں دونوں قسم كی عبادتیں داخل ہیں، اور اُن كا مجموعہ انسان كی تخلیق كا مقصد ہے۔ اب ظاہر ہے كہ جو عبادت براہِ راست اور بلاواسطہ عبادت كہلانے كی مستحق ہیں، اُن كا مرتبہ بالواسطہ عبادتوں كے مقابلے میں زیادہ بلند ہے اور بالواسطہ عبادتیں بھی بہت سی ہیں۔ اُن میں سے كسی ایك كو تنہا انسان كی تخلیق كا مقصد نہیں كہا جاسكتا، بلكہ اُن كا مجموعہ بلاواسطہ عبادتوں كے ساتھ مل كر مقصودِ تخلیق ہے۔ البتہ یہ بات بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے كہ ان بالواسطہ عبادتوں میں بھی اہمیت كے اعتبار سے مختلف درجات ہیں، اور جس بالواسطہ عبادت كے اثرات جتنے عام اور ہمہ گیر ہیں، اتنی ہی وہ اہمیت كی حامل ہے۔ سیاست كا معاملہ یہ ہے كہ اگر ایك مرتبہ اُس كا نظام شریعت كے مطابق ہوكر صحیح معنی میں اسلامی حكومت قائم ہوجائے تو اُس كے ذریعے تمام بلاواسطہ اور بالواسطہ عبادتوں كی ادائیگی نہ صرف آسان ہوجاتی ہے، بلكہ اُن كا دائرہ عملاً زیادہ وسیع ہوجاتا ہے، اس لیے دوسری بلاواسطہ عبادتوں كے مقابلے میں اس كی اہمیت زیادہ ہے۔ اس لحاظ سے اگر اُس كی اہمیت پر زور دیا جائے تو غلط نہیں ہے، لیكن تنہا اُس كو دن كا اصل مقصود قرار دے دینے سے ترجیحات كی پوری ترتیب اُلٹ جاتی ہے كیونكہ اگر یہ بات ذہن میں بیٹھ جائے كہ دین كا اصل مقصد سیاست و حكومت ہے تو اس ذہنیت سے متعدد خرابیاں جنم لیتی ہیں۔مثلا
1. پہلی خرابی تو یہ ہوتی ہے كہ جب مقصودِ اصلی سیاست كو قرار دیا گیا تو باقی ساری چیزیں اُس كی تابع بن گئیں۔ چنانچہ وہ اعمال جو بالواسطہ اور براہِ راست عبادت ہیں، وہ مقصودِ اصلی نہ رہے، بلكہ مقصودِ اصلی كے تابع بن گئے، لہٰذا اُن كی اہمیت گھٹ گئی، حالانكہ قرآن كریم سے معلوم ہوتا ہے كہ سیاسی اقتدار ذریعہ ہے، اور بلاواسطہ عبادتیں اُس كا اصل مقصود ہیں، چنانچہ ارشاد ہے:الّذین ان مكّنّاھم فی الاٴرض اٴقاموا الصّلوة وآتوواالزّكوٰة و اٴمروا بالمعروف ونھوا عن المنكر -’’ترجمہ:یہ وہ لوگ ہیں كہ اگر ہم انہیں زمین میں اقتدار عطا كریں تو وہ نماز قائم كریں، اور زكوٰة ادا كریں، اور نیكی كا حكم دیں اور برائی سے روكیں۔‘‘(سورة الحج:٤١) یہاں اقتدار كا مقصد یہ قرار دیا گیا ہے كہ وہ نماز قائم كریں، زكوٰة ادا كریں وغیرہ۔ اس سے صاف واضح ہے كہ مقصودِ اصلی یہ عبادات ہیں، اور اقتدار اس لیے مشروع ہے كہ وہ اس مقصد كے حصول كا ذریعہ ہے۔
بعض حضرات اقتدار كے مقصودِ اصلی ہونے پر سورہٴ نور كی اس آیت سے استدلال كرتے ہیں جس میں فرمایا گیا ہے كہ:’’تم میں سے جو لوگ ایمان لے آئے ہیں، اور جنہوں نے نیك عمل كیے ہیں، اُن سے اللہ نے وعدہ كیا ہے كہ وہ انہیں ضرور زمین میں اپنا خلیفہ بنائے گا، جس طرح اُن سے پہلے لوگوں كو بنایا تھا، اور اُن كے لیے اُس دین كو ضرور اقتدار بخشے گا جسے اُن كے لیے پسند كیا ہے، اور اُن كو جو خوف لاحق رہا ہے، اس كے بدلے انہیں امن ضرور عطا كرے گا۔ (بس) وہ میری عبادت كریں، میرے ساتھ كسی چیز كو شریك نہ ٹھہرائیں۔‘‘- (سورة النور:٥٥)یہاں ایمان و عملِ صالح كو شرط قرار دیا جا رہا ہے تمكین فی الارض كی، جس سے تمكین و سیاست كا مقصودِ اصلی ہونا لازم آتا ھے۔ سو جواب اس كا یہ ہے كہ یہاں ایمان اور عملِ صالح پر تمكین و شوكت كا وعدہ كیا گیا ہے، اور بطورِ خاصیت كے شوكت كا دین پر مرتّب ہونا ذكر فرمایا گیا ہے۔ پس دین پر سیاست اور قوت موعود ہوئی لیكن موعود كا مقصود ہونا ضروری نہیں، ورنہ آیتِ كریمہ:’’اور اگر یہ لوگ تورات كی، اور انجیل كی اور جو كتاب ان كے پروردگار كی طرف سے ان كے پاس بھیجی گئی (یعنی قرآن) اس كی پوری پابندی كرتے تو یہ لوگ اوپر سے اور نیچے سے خوب فراغت سے كھاتے۔‘‘ (سورة المائدہ:٦٦)جس میں اقامتِ تورات و انجیل و قرآن، یعنی عمل بالقرآن پر وسعتِ رزق كا وعدہ كیا گیا ہے، كیا كوئی كہہ سكتا ہے كہ دین سے یہ مقصود ھے؟ بلكہ دین پر موعود ہے كہ دیندار بھوكا ننگا نہیں رہ سكتا، پس موعود كا مقصود ہونا ضروری نہیں۔
بہرحال! واضح ہوا كہ سیاست و دیانت میں سیاست وسیلہ ہے اور دیانت مقصودِ اصلی ہے۔ لیكن اِس كا یہ مطلب نہیں كہ سیاست كسی درجے میں بھی مطلوب نہیں، بلكہ اس كا درجہ بتلانا مقصود ہے، كہ وہ خود مقصودِ اصلی نہیں اور دیانت مقصودِ اصلی ہے۔‘‘ (اشرف السوانح ج٤، خاتمة السوانح،ص٢٨و٢٩، طبع ملتان)
2. سیاست كو دین كا مقصودِ اصلی قرار دینے اور ان عبادتوں كو اُس كا تابع بنانے كے نتیجے میں یہ خیال پیدا ہوجاتا ہے كہ یہ سب عبادتیں اُس اعلیٰ مقصد یعنی سیاست و حكومت حاصل كرنے كے ذرائع ہیں۔ نمازِ باجماعت كا اصل مقصد یہ ہے كہ سیاسی مقاصد كے حصول كے لیے اجتماعی فكر پیدا ہو، نظم و ضبط كی عادت پڑے، مسلمانوں میں میل جول بڑھے، وہ آپس میں تعاون كے طریقے سوچیں، اور متحد ہوكر اُس اعلیٰ مقصد كے لیے كام كریں۔ زكوٰة كا اصل مقصد یہ ہے كہ اُس اعلیٰ مقصد كے حصول كے لیے مالی قربانی دینے كا جذبہ پیدا ہو۔ روزہ درحقیقت اِس بات كی ٹریننگ ہے كہ اُس اعلیٰ مقصد كے حصول كے لیے فقر و فاقہ اور دوسری مشكلات سہنے كی عادت پڑے۔ حج اس لیے فرض كیا گیا ہے كہ وہ سارے مسلمانوں كی ایك عالمی كانفرنس كے مقاصد پورے كرے، اور اُس سے مختلف خطّوں كے لوگوں كے درمیان یك جہتی اور یگانگت پیدا ہو۔ غرض ساری عبادتوں كا اصل مقصود ان دنیاوی فوائد كا حصول بنادیا گیا۔ اس میں شك نہیں كہ ان عبادتوں سے یہ فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں، لیكن یہ اُن كے ثانوی فوائد ہیں، عبادتوں كی اصل روح نہیں ہے۔ ان كی اصل روح اللہ تبارك وتعالیٰ سے تعلق مضبوط كرنا، اُس كی طرف انابت و اخبات اور اُس كی اطاعت كو ہر كام پر ترجیح دینا ہے۔ سیاست كو مقصودِ اصلی قرار دینے سے عبادت كی یہ روح كمزور پڑ جاتی ہے۔
3. تیسری خرابی یہ كہ جب یہ ساری عبادتیں اعلیٰ ترین مقصد حاصل كرنے كا ذریعہ بن گئیں تو قدرتی طور پر اس كا نتیجہ یہ ہونا چاہیے كہ اگر اُس اعلیٰ مقصد كی خاطر ان كی كچھ قربانی بھی دینی پڑے تو اس میں كوئی حرج نہ سمجھا جائے۔ لہٰذا سیاسی جدوجہد یا سیاسی اجتماعات كی خاطر اگر نمازِ باجماعت جاتی رہے، یا مسجد میں حاضری نہ ہو تو كوئی مضائقہ نہیں، بلكہ نماز قضا بھی پڑھ لی جائے تو اتنی بری بات نہیں، تھوڑے بہت مكروہات كا ارتكاب بھی ہوجائے تو اعلیٰ مقصد كے لیے گوارا كرلینا چاہیے۔
4. چوتھی خرابی یہ پیدا ہوتی ہے كہ جو حضرات بلاواسطہ عبادتوں میں زیادہ مشغول رہتے ہیں، اور لوگوں كو ان عبادات سے متعلق فضائلِ اعمال كے حصول كی ترغیب دیتے ہیں، اُنہیں دین كے اصل مقصود سے غافل سمجھا جاتا ہے، بلكہ بعض اوقات ان كی تحقیر اور ان كے ساتھ استہزاء كا معاملہ كیا جاتا ہے۔ جو كتابیں فضائلِ اعمال سے متعلق ہوتی ہیں، اُن كو نہ صرف كوئی اہمیت نہیں دی جاتی اور نہ اُنہیں پڑھنے كی ضرورت سمجھی جاتی ہے، بلكہ كچھ ایسا انداز اختیار كیا جاتا ہے جیسے یہ قطعی طور پر غیرضروری یا دین كے مقصودِ اصلی سے غافل كرنے والی چیزیں ہیں۔ اِسی وجہ اُس تصوّف و طریقت كو بھی افیون سے تعبیر كیا جاتا ہے جو شریعت و سنّت كے مطابق ہے۔ جو لوگ علومِ دین ہی كی تحصیل اور ان كی خدمت میں مشغول ہیں، اُن كو بھی دین كی صحیح فكر سے محروم تصور كیا جاتا ہے۔
5. پانچویں خرابی یہ ہے كہ اس تصور كا لازمی نتیجہ یہ نكلتا ہے كہ دنیا میں جتنے انبیاء علیہم الّسلام تشریف لائے، اُن كی اكثریت دین كے اصل اور بنیادی مقصد كو پورا كرنے میں ناكام رہی، كیونكہ ایك لاكھ چوبیس ہزار انبیائے كرام علہیم الّسلام میں سے صرف چند انبیاء كرام ہیں جنہوں نے حكومت قائم كی۔ حضور سرورِ دو عالم (صلّی اللہُ علیہِ وسلّم) كے علاوہ حضرت یوسف، حضرت موسیٰ، حضرت یوشع، حضرت سموئیل، حضرت داؤد، حضرت سلیمان علیہم الّسلام نے بیشك حكومتیں قائم فرمائیں، لیكن اُن كے علاوہ كسی اور نبی كے بارے میں حكومت قائم كرنا ثابت نہیں ہے۔ كیا اس كا مطلب یہ ہے كہ ان حضرات كے سوا كوئی نبی دین كا اصل مقصد حاصل كرنے میں كامیاب نہیں ہوسكا؟ جو حضرات سیاسی غلبے كو دین كا اصل مقصود قرار دیتے ہیں، ان كو یہ كہنے میں بھی تامل نہیں ہے كہ ان میں سے كوئی دین كے اصل مقاصد میں كامیاب نہیں ہوا۔

خلاصہ یہ كہ دین میں سیاست كی اہمیت اپنی جگہ ہے، لیكن اُس كو دین كا اصل مقصود قرار دینے سے اولیات اور ترجیحات كا پورا نظام بری طرح متاثر ہوتا ہے۔

دوسری طرف دین كو صرف نماز، روزے كی حد تك محدود سمجھ كر دوسرے شعبوں سے بالكل غفلت اختیار كرنا بھی بہت بڑی غلطی ہے۔ حقیقت وہی ہے كہ دین كے بہت سے شعبے ہیں جن میں سیاست بھی ایك اہم شعبہ ہے، اور اُس سے غفلت اختیار كركے اُسے دین سے خارج سمجھنا بھی بڑی گمراہی ہے۔ دین پر عمل كے لیے اسلام كے تمام احكام پر عمل ضروری ہے، چاہے وہ كسی شعبے سے متعلق ہوں۔ البتہ جہاں تك دین كی جدوجہد كا تعلق ہے، عادةً كوئی ایك شخص تمام شعبوں میں جدوجہد نہیں كرسكتا، اس لیے اس میں تقسیمِ كار پر عمل ضروری ہے كہ كچھ لوگ ایك شعبے میں جدوجہد كریں، كچھ دوسرے شعبے میں كام كریں۔ كسی نے اپنے لیے دین كے كام كا ایك شعبہ اختیار كرلیا، اس میں وہ اپنا وقت اور محنت زیادہ لگا رہا ہے اور اُس پر زیادہ توجہ دے رہا ہے، كسی نے دوسرا شعبہ اختیار كرلیا ہے، اس میں وہ اپنا وقت زیادہ لگا رہا ہے اور اُس پر زیادہ توجہ دے رہا ہے۔ اس میں كوئی حرج نہیں، لیكن حرج اس میں ہے كہ كوئی یہ سمجھے كہ میں نے جو شعبہ اختیار كیا ہے، وہ دین كا مقصودِ اصلی ہے، جبكہ وہ مقصودِ اصلی نہ ہو، بلكہ جس طرح دین كے بہت سے كام ہیں، اسی طرح وہ بھی ایك كام ہے۔ مثلاً ایك شخص نے سیاست كے شعبے كو اس لیے اختیار كیا كہ میں اپنے حالات كے مطابق اس لائن میں خدمت كرنے كو زیادہ بہتر طریقے پر كرسكتا ہوں، اور اپنے آپ كو اس كام كے لیے لگاتا ہوں تو بے شك لگائے، لیكن اگر یہ كہے كہ سیاست سارے دین كا مقصودِ اصلی ہے تو یہ غلط بات ہے، ورنہ كوئی شخص اپنے لیے سیاست كا راستہ اختیار كرتا ہے، اور اس كے لیے جدوجہد كرتا ہے تو وہ بھی عین دین كا حصہ ہے
استفادہ تحریر اسلام اورسیاسی نظریات مفتی تقی عثمانی

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *