کیایہود و نصاری بھی مسلمانوں کی طرح جنت میں جائیں گے؟

سورہ البقرہ آیت 62 سے جدت پسندوں کے ایک غلط استدلال کہ یہود و نصاری بھی جنت میں جائیں گے ‘ کا تحقیقی جائزہ:
إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَادُوا وَالنَّصَارَى وَالصَّابِئِينَ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ﴾ (سورة البقرة: الآية 62)
ترجمہ :بیشک جو لوگ ایمان لاچکے ہیں اور جو لوگ یہودی ہوئے اور نصاری اور صابی (غرض) جو کوئی بھی اللہ اور آخرت پر ایمان لے آئےاور نیک عمل کرےسو ان (سب) کے لیے ان کے پروردگار کے پاس ان کا اجر ہے اور نہ کوئی اندیشہ ان کے لیے ہے اور نہ وہ کوئی غم کریں گے. (سورۃ البقرہ ، آیت 62)

جواب :
قرآن ایک کمپیکٹ کتاب ہے، اسکی کسی ایک آیت کا معنی دیگر تمام متعلقہ آیات سے علیحدہ کرکے نہیں بلکہ متعلقہ تمام آیات کے ساتھ ملا کر متعین ہوتا ہے، وہ جسے قانون کی زبان میں کہتے ہیں کہ ‘اس شق کو فلاں شق کے ساتھ ملا کر پڑھا جانا چاہئے’۔ جس طرح قانون کی کتاب میں ایک بات کسی جگہ عمومی بیان ہوئی ہوتی ہے لیکن کسی دوسری جگہ اسکی تخصیص کی گئی ہوتی ہے قرآن کا مطالعہ بھی اسی طرح کیا جاتا ہے۔ ایک آیت کو پکڑ کر اس سے من مانا نتیجہ نکال لینا غلط طریقہ استدلال ہے کیونکہ اس سے بے شمار دیگر آیات کی نفی ہوجاتی ہے ۔ اس آیت کی اور اللہ کے قانون کی وضاحت قرآن ہی کی یہ آیتیں کررہی ہیں۔
وَمَن يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلاَمِ دِينًا فَلَن يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ
اور جو اختیار کرنا چاہے اسلام کے علاوہ کوئی اور دین تو ہرگز قبول نہ کیا جائے گا یہ اس سے، اور وہ (ہوگا) آخرت میں خسارہ پانے والوں میں سے۔(سورۃ آل عمران، آیت 85)
إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللّهِ الْإِسْلاَمُ وَمَا اخْتَلَفَ الَّذِينَ أُوْتُواْ الْكِتَابَ إِلاَّ مِن بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْيًا بَيْنَهُمْ وَمَن يَكْفُرْ بِآيَاتِ اللّهِ فَإِنَّ اللّهِ سَرِيعُ الْحِسَابِ
دین تو اللہ کے نزدیک اسلام ہے اور اہل کتاب نے جو (اس دین سے) اختلاف کیا تو علم ہونے کے بعد آپس کی ضد سے کیا اور جو شخص اللہ کی آیتوں کو نہ مانے تو اللہ جلد حساب لینے والا (اور سزا دینے والا) ہے۔ (سورۃ آل عمران آیت 19

 اس آیت کا سیاق وسباق یہ ہے کہ بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ کے انعامات اور ان کی نافرمانیوں کے تذکرے کے بیچ میں یہ آیت کریمہ بنی اسرائیل کے ایک باطل گھمنڈ کی تردید کے لئے آئی ہے، ان کا عقیدہ یہ تھا کہ صرف انہی کی نسل اللہ کے منتخب اور لاڈلے بندوں پر مشتمل ہے، ان کے خاندان سے باہر کا کوئی آدمی اللہ کے انعامات کا مستحق نہیں ہے، (آج بھی یہودیوں کا یہی عقیدہ ہے) اس آیت نے واضح فرمایا کہ حق کسی ایک نسل میں محدود نہیں ہے، اصل اہمیت ایمان اور نیک عمل کو حاصل ہے، جو شخص بھی اللہ اور آخرت پر ایمان لانے اور عمل صالح کی بنیادی شرطیں پوری کردے گا خواہ وہ پہلے کسی بھی مذہب یا نسل سے تعلق رکھتا ہو اللہ کے نزدیک اجر کا مستحق ہوگا، یہودیوں اور نصرانیوں کے علاوہ عرب میں کچھ ستارہ پرست لوگ رہتے تھے جنہیں صابی کہا جاتا تھا اس لئے ان کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔سلسلہء عبارت کو پیش نظر رکھنے سے یہ بات خود بخود واضح ہوجاتی ہے کہ یہاں ایمان اور اعمال صالحہ کی تفصیلات بیان کرنا مقصود نہیں ہے بلکہ یہودیوں کے اس زعم باطل کی تردید مقصود ہے کہ وہ صرف یہودی گروہ کو نجات کا اجارہ دار سمجھتے تھے۔
یہاں یہ بھی واضح رہے کہ اللہ پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کو اس کی تمام صفات کمال اور نعوت جلال میں وحدہ لا شریک، یکتا اور بےمثل مانا جائے اور اس کے تمام احکام کی تعمیل کی جائے لہذا یہ جملہ(ایمان باللہ) ایمان بالرسل ایمان بالکتب، ایمان بالملئکۃ وغیرہ سب کو شامل ہے۔ دوسری بات یہ ہے یہاں ایمان باللہ کا ذکر اجمالی ہے۔ قرآن مجید کی دوسری آیتوں میں اس کی تفصیل موجود ہے چناچہ سورة حجرات میں ارشاد ربانی ہے۔ اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوْا ۔ترجمہ : مومن تو وہ ہیں جو خدا اور اس کے رسول پر ایمان لائے پھر شک میں نہ پڑے۔(سورۃ الحجرات، آیت 15)
رسولوں پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے تمام رسولوں پر ایمان لائیں جو لوگ بیچ کی راہ نکالتے ہیں انکے متعلق اللہ کا ارشاد ہے۔ اِنَّ الَّذِيْنَ يَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖ وَيُرِيْدُوْنَ اَنْ يُّفَرِّقُوْا بَيْنَ اللّٰهِ وَرُسُلِهٖ وَيَقُوْلُوْنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّنَكْفُرُ بِبَعْضٍ ۙ وَّيُرِيْدُوْنَ اَنْ يَّتَّخِذُوْا بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًا ۔اُولٰٓئِکَهُمُ الْكٰفِرُوْنَ حَقًّا ۚ وَاَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابًا مُّهِيْنًا۔
ترجمہ : جو لوگ خدا سے اور اس کے پیغمبروں سے کفر کرتے ہیں اور خدا اور اس کے پیغمبروں میں فرق کرنا چاہتے ہیں اور کہتے ہے کہ ہم بعض کو مانتے ہیں اور بعض کو نہیں مانتے اور ایمان اور کفر کے بیچ میں ایک راہ نکالنی چاہتے ہیں۔ تو یہی لوگ حقیقی کافر ہیں اور ہم نے کافروں کے لئے ایک عذاب رسوا کرنے والا تیار کر رکھا ہے ۔(النساء :151-150)

٭داعیان وحدت ادیان سے چند موٹے موٹے سوالات :۔٭
سورہ بقرہ کی آیت 62 سے جو ماڈرنسٹ ”مفکر، سکالر اور دانشور” لوگ یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ جنت میں صرف مسلمان نہیں جائیں گے بلکہ یہود، نصاری، صابئین سب جنت میں جائیں گے، بشرطکیہ وہ اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھیں اور نیک کام کریں۔ ان لوگوں کے دعوے کا مقصد یہ ھوتا ھے کہ حصول جنت کیلئے رسالت محمدی ؐ پر ایمان لانا ضروری بات نہیں اور کچھ یہ نتیجہ نکال لاتے ہیں کہ تمام مذاھب بس ایک ہی ہیں، صرف ناموں کا فرق ھے۔ اس آیت قرآنی سے یہ نتیجہ نکالنے میں یہ لوگ کس طرح تلبیس کے مرتکب ھوتے ہیں اسکا اوپر تذکرہ آیا ۔ ان لوگوں سے چند موٹے موٹے سوالات ہیں کہ:
1۔ یہ لوگ پھر عیسائی یا یہودی کیوں نہیں ھوجاتے؟ آخر جنت تو انہیں بھی ویسے ہی ملنے والی ھے جیسے مسلمان کو، تو پھر خود کو مسلمان کہلوانے کی کیا ضرورت پڑی ھے؟ اگر رسالت محمدی پر ایمان لانا اضافی شے ھے تو اس پر ایمان لاؤ نہ لاؤ، اقرار کرو نہ کرو اس سے کیا فرق پڑتا ھے؟ تو یہ لوگ اسکا انکار کرکے خود بھی اور اپنی آل اولاد کو بھی یہودوعیسائی کیوں نہیں بنادیتے؟
2۔ دیگر اھل مذاھب کو اسلام کی دعوت دینے کا کیا مطلب؟ دیکھئے دعوت کی بنیاد یہی ھے نا کہ وہ غلط ھیں اور جنت کا حقدار بننے کیلئے ضروری ھے کہ درست بات پر ایمان لائیں، مگر جب وہ لوگ اپنے پہلے ایمان ہی کی بنیاد پر جنت کے حقدار قرار پا چکے تو انہیں ایمان کی دعوت و تبلیغ کا کیا مطلب؟ بس اچھی باتوں کی نصیحت وغیرہ ھونی چاھئے۔
3۔ پھر اگر یہ سب لوگ ایسے ہی جنت کے حقدار تھے اور رسالت محمدی پر ایمان بس ایک اضافی شے تھی، تو اللہ نے سورہ بقرہ اور آلعمران میں یہودونصاری سے اتنی طویل گفتگو کس لئے کی؟ انہیں کس بات پر ایمان لانے کی دعوت دی جارہی تھی؟

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *