مقالہ:اسلامی شریعت کارومی قانون کیساتھ تعلق

مستشرقین کی طرف سے اسلامی شریعت پر عام اعتراض یہ رہاہے کہ یہ نظام قانون رومی قانون سے ماخوذ یا متاثر ہے۔ ان کے اس دعوے کی تصدیق یا تردید کرنے کے لیے فقہائے اسلام نے قانون روما کا مطالعہ شروع کیا۔ گزشتہ صدی میں بڑی تعداد میں علمائے اسلام نے قانون روما کا مطالعہ کیا اور تحقیق سے یہ ثابت کیا کہ رومن لاء کا اسلامی قانون کے ارتقاء پر ذرہ برابر حصہ نہیں ہے۔ وہ تمام شواہد اور دعوے جو رومن لاء کے اثرات کے بارے میں کیے گئے تھے اور کئے جاتے رہے وہ سب کے سب بےبنیاد اورغلط تھے۔ رومن لاء کی ترتیب، اس کے بنیادی مضامین، اس کے احکام اور اساسی تصوارات، یہ سب کے سب فقہ اسلامی کی ترتیب، مضامین اور بنیادی تصورات کے ساتھ ہر اعتبار سے متعارض ہیں۔ اس سلسلے میں ایک تفصیلی جائزہ ڈاکٹر عبدالکریم زیدان، پروفیسر فقہ اسلامی جامع بغداد نے اپنی کتاب “المدخل لدراستہ الشریعۃ الاسلامیۃ”میں لیا اور تمام اعتراضات کا سنجیدہ ، مدلل اور علمی جواب دیا ۔ اس کتاب سے فاضل مصنف کے اس مقالہ کا اُردو ترجمہ ہم اپنے اس سلسلے میں پیش کررہے ہیں ۔ یہ ترجمہ ڈاکٹر احمد حسن نے کیا اور اسے ماہنامہ فکرونظر نے شائع کیا ۔(ایڈمن)۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

تمہید:
اسلام ملک عرب میں ظہور پذیر ہوا۔ قبول اسلام کے بعد اہل عرب جزیرہ عرب سے نکل کر دور ونزدیک دوسرے ممالک میں پھیل گئے۔ اور تھوڑی سی مدت میں ان ملکوں کو انہوں نے فتح کرلیا۔ اور ان پر غالب آگئے۔ ان مفتوحہ ممالک میں وہ علاقے بھی شامل تھے جو مشرقی رومی سلطنت کے ماتحت اور تابع فرمان تھے، جیسے شام و مصر وغیرہ۔ ان فتوحات کے نتیجہ میں اسلامی شریعت نے اس رومی قانون کی جگہ لے لی جو ان علاقوں میں رائج تھا۔ اس وجہ سے اسلامی شریعت کا رومی قانون کے ساتھ تعلق کا مسئلہ پیدا ہوا۔ مستشرقین کی اکثریت اس بات کی قائل ہےکہ اسلامی شریعت رومی قانون سے متاثر ہے۔اگرچہ اس تاثر کی وسعت کے بارے میں خود ان کے درمیان اختلاف ہے۔ ان میں سے ایک فریق کا خیال یہ ہے کہ اسلامی شریعت رومی قانون سے ماخوذ ہے۔ ان کے نزدیک رومی قانون اسلامی شریعت کا ماخذ ہے۔ اور اس کے قاعدوں اور ضابطوں کی اساس پر شریعت اسلامیہ کے فقہاء نے اس کو قانونی وجود بخشا۔ اس گروہ میں مستشرق گولڈ زیہر، فون کریمر، اور شیلڈن آموس ہیں۔ شیلڈن آموس کا قول ہے کہ شرع محمدی مشرقی سلطنت کے رومی قانون کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اس میں عربوں کے مفتوحہ علاقوں میں سیاسی حالات کے مطابق ترمیم کرلی گئی ہے۔ اس کا ایک اور قول ہے شرع محمدی عربی لباس میں جٹینین کے قانون کے سوا کچھ نہیں ہے۔( صوفی حسن ابو طالب ۔ بین الشریعۃ الاسلامیہ والقانون الرومانی۔ ص 6 صبحی محمصانی فلسفۃ التشریع فی الاسلام۔ص188)
مستشرقین کا دوسرا گروہ اس بات کا قائل ہے کہ اسلامی شریعت کے بعض احکام میں رومی قانون سے متاثر ہے۔ اس نظریہ کے ظاہر ہونے کے کچھ عرصہ بعد کہ اسلامی شریعت رومی قانون سے متاثر ہے اس کے برعکس نظریہ قائم ہوا جو شریعت اسلامیہ کے رومی قانون سے متاثر ہونے کی نفی کرتا ہے۔ اس نظریہ کے ماننے والوں میں اطالوی مستشرق نالینو اور استاذ فتیز جیرالڈ ہیں۔ اور مصر میں بعض ماہرین فقہ و قانون نے بھی اس رائے کا جھنڈا بلند کیا جیسے استاذ علی البدوی، ڈاکٹر عبدالرزاق سنہوری، ڈاکٹر شفیق شحاتہ ، ڈاکٹر محمد یوسف موسیٰ اور استاذ محمد سلام مدکور۔

اس مسئلہ میں ایک تیسرا نظریہ بھی ہے ۔ وہ یہ ہے کہ رومی قانون اسلامی شریعت سے متاثر ہے۔ اس بحث کے آخر میں ہم اس تیسرے نظریہ پر گفتگو کریں گے۔ ذیل میں میں ان لوگوں کے دلائل پیش ہیں جو اس بات کے قائل ہیں کہ اسلامی شریعت رومی قانون سے متاثر ہے۔ اس کے بعد میں وہ دلائل بیان کروں گا جن کی بنیاد پر اس نظریہ پر تنقید کی گئی ہے یا اس پر اعتراض کیا گیا ہے ، یا اس نظریہ کو کمزور قرار دیا گیاہے۔ اس بحث وتمحیص سے اس مسئلہ میں حق بات واضح ہوجائے گی۔
ان لوگوں کےدلائل جو یہ کہتے ہیں کہ اسلامی شریعت رومی قانون سے متاثر ہے :
جو لوگ یہ رائے رکھتے ہیں کہ اسلامی شریعت رومی قانون سے متاثر ہے، اس کی تائید میں وہ کچھ دلائل پیش کرتے ہیں۔ ذیل میں ہم ان دلائل کو پیش کرتے ہیں، اس کے بعد ان پر بحث کریں گے۔
1. وہ کہتے ہیں کہ نبی کریمﷺ اس رومی وبزنطینی قانون سے جو روم کی مشرقی سلطنت میں نافد تھا اچھی طرح واقف تھے۔ اور اس واقفیت کے راستہ ہی سے اس قانون کے ضابطے اسلامی شریعت میں داخل ہوئے۔
2. وہ کہتے ہیں کہ رومی قانون کی درسگاہیں قیصریہ ، بیروت، قسطنطنیہ اور اسکندریہ میں پائی جاتی تھیں۔ اسی طرح رومی سلطنت کے صوبوں میں ایسی عدالتیں موجود تھیں۔ جن کا نظام رومی قانون کے مطابق قائم تھا ، اور وہاں اس کے احکام نافذ تھے۔ اسلامی فتوحات کے بعد یہ عدالتیں اور درسگاہیں باقی تھیں۔ ان کے ذریعہ مسلمان فقہاء ان عدالتوں میں رائج قوانین اور رومی ماہرینِ قانون کے نظریات سے واقف ہوئے، اور انہوں نے ان نظریات اور احکام کو فقہ اسلامی میں منتقل کیا۔ ان کا خیال ہے کہ رومی قانون سے جو مسلمان فقہاء زیادہ متاثر ہوئے وہ امام اوزاعی اور امام شافعی تھے۔
3. ان کی دلیل یہ ہے کہ رومی سلطنت کے فتح ہونے کے بعد مسلمان فقہاء اس کے مختلف شہروں میں پھیل گئے۔ اور اس کی وجہ سے وہاں جو لوگ رومی قانون کے ماہر تھے اور اس کے قوانین سے پوری طرح واقف تھے ان کے ساتھ ان کا اختلاط ہوا۔ ان مفتوحہ علاقوں کے لوگ اسی قانون سے مانوس تھے، اور اس کے عادی تھے۔ چنانچہ اسلامی شریعت کے فقہاء نے ان قوانین کو جو اسلامی شریعت میں موجود نہیں تھے اپنے سینہ سے لگایا، اور لوگوں کے ان سے مانوس ہونے کے سبب ان قانونی علاقوں میں جو اس ملک میں اس وقت موجود تھے اس قانون کو نافذ کیا۔
4. وہ کہتے ہیں کہ رومی قانون نے اسلامی شریعت کو جاہلی قانون اور یہودیوں کی کتاب تالمود کے راستہ سے بالواسطہ متاثر کیا۔ یہ کتاب یہودی شریعت کی فقہ پر مشتمل ہے۔ اس کی توضیح یہ ہے کہ جاہلی قانون رومی قانون سے متاثر ہوا، اس کے نتیجہ میں رومی قانون کے بعض ضابطے دورِجاہلیت میں عربوں کے قوانین میں داخل ہوگئے، جس طرح یہ تلمود میں سرایت کرگئے تھے اسلامی شریعت نے جاہلی دور کے بعض قوانین کو برقرار رکھا۔ اس طرح رومی قانون کے بعض ضابطے اسلامی شریعت کے احکام میں داخل ہوگئے۔ ایسے ہی اسلامی شریعت کے فقہاء نے تلمود کے بعض احکام کو بھی اپنا لیا، اور اس طریقہ سے تلمود میں جو رومی قانون کے بعض احکام موجود تھے وہ اسلامی شریعت میں بھی داخل ہوگئے۔
5. وہ کہتے ہیں کہ اسلامی شریعت کے رومی قانون سے متاثر ہونے کی ایک واضح دلیل یہ ہے کہ اسلامی شریعت اور رومی قانون میں موجود قانونی ضابطے ، احکام اور قواعد ایک دوسرے کے مشابہ ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شریعت بعد میں آئی ہے، یعنی اسلامی شریعت اس نے یہ قانونی ضابطے اور احکام اس شریعت سے اخذ کئے ہیں جو اس سے پہلے تھی یعنی رومی قانون ، کیونکہ قاعدہ یہ ہے کہ جو بعد میں آتا ہے وہ پہلے آنے والے سے اخذ کرتاہے، نہ کہ اس کے برعکس۔( احمد امین۔ فجرالاسلام، ج ا ،ص303۔ صوفی حسن ابوطالب ۔ بین الشریعۃ الاسلامیہ والقانون الرومانی۔ ص10ومابعد)

دلائل پر تنقید اور بحث:

٭پہلی دلیل پر بحث اور اس کا رد
ان کا یہ دعوٰی کہ نبی کریم ﷺ رومی قانون سے واقف تھے قطعاً غلط ہے۔ یہ انتہائی پوچ اور لچر دلیل ہے جس کا علم وتحقیق سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ بات سب کو معلوم ہے کہ نبی کریم ﷺ ایک خالص عرب گھرانے میں پیدا ہوئے تھے، اسی طرح آپ کی پیدائش عرب کے شہر مکہ میں ہوئی تھی جو خالص عربی شہر تھا، اس میں رومی رسم ورواج اور قانون کا ذرا بھی اثرنہ تھا۔ اور نہ یہاں ایسے لوگ موجود تھے جو ان سے واقف ہوں۔ بعثت سے پہلے نبی کریمﷺ نے صرف دو مرتبہ جزیرہ عرب سے باہر کا سفر فرمایا تھا۔ اور مکہ چھوڑ کر دوسرے ممالک میں تشریف لے گئے تھے۔ پہلا سفر آپ نے اپنا اس وقت کیا جب آپ کی عمر مبارک بارہ سال، اور بعض روایات کے مطابق نو سال کی تھی۔ آپ کے چچا حضرت ابوطالب آپ کو تجارت کے سلسلہ میں شام لے گئے تھے، اور آپ مقام بصرٰی تک گئے تھے۔ آپ نے دوسرا سفر بھی شام ہی کے لیے فرمایا ، اور اس میں آپ حضرت خدیجہؓ کا مال تجارت لے کر تشریف لے گئے تھے۔ اس وقت حضرت خدیجہؓ کے غلام آپ کے ساتھ تھے۔ اس وقت آپ کی عمر مبارک پچیس سال تھی۔ اس وقت بھی آپ کا سفر بصریٰ تک تھا، اور تھوڑے دن وہاں قیام فرما کر آپ وہاں سے واپس تشریف لے آئے۔( مقریزی۔ امتاع الاسماع۔ ج ا۔ ص8-9)
ان دونوں سفروں میں آپ کے ساتھ خالص عرب تھے، جن کو رومی قانون سے ذرا بھی واقفیت نہ تھی ایسے ہی بصریٰ میں قیام کے دوران آپ رومی قانون کے ماہرین اور اس سے واقف لوگوں سے نہیں ملے۔ اس طرح وہاں کوئی ایسا سبب بھی موجود نہ تھا جس سے رومی سلطنت کے حکام یا ماہرین قانون میں سے کوئی بعثت سے قبل نبی کریمﷺ کو رومی قانون کے احکام وقواعد بصریٰ میں قیام کے دوران سکھاتا۔ جو عرب تاجر تجارت کے سلسلہ میں شام آتے جاتے تھے ان کے ساتھ اس قسم کی تعلیم کا سلسلہ کبھی بھی موجود نہ تھا۔ اس بات کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کہ کتابی شکل میں پڑھ کر آپ کو رومی قانون سے واقفیت ہوگئی ہوگی، کیونکہ آپ لکھنا اور پڑھنا نہیں جانتے تھے اس کی گواہی خود اللہ تعالیٰ نے دی ہے۔”اور اس سے پہلے تم کتاب نہ پڑھتے تھے اور نہ اپنے ہاتھ سے کچھ لکھتے تھے، یوں ہوتا تو باطل والے ضرور شک کرتے۔ (عنکبوت48) اس کے بعد اسلامی شریعت اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کی شکل میں نازل ہوئی۔ اس لیے یہ بات ناممکن ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے سہواً یا عمداً اس وحی کے ساتھ رومی قانون کی کوئی چیز ملائی گئی ہو۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت کا خود ذمہ لیا تھا۔ اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے: بیشک ہم نے یہ قرآن مجید اتارا ہے، اور ہم خود اِس کے نگہبان ہیں۔(الحجر-9) ایک دوسری جگہ ارشاد ہے، اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی طرف سے فرماتے ہیں۔ “اگر وہ ہم پر ایک بات بھی بنا کر کہتے تو ہم انکا داہنا ہاتھ پکڑتے اور ہم اس کے دل کی رگ کاٹ ڈالتے”۔ (الحاقۃ 44-45)

دوسری دلیل پر تنقید اور اس کا جواب:
رومی قانون اور عدالتی نظام کے مکاتب فکر کی طرف سے جو دوسری دلیل پیش کی گئی ہے وہ نہایت مضحکہ خیز ہے، اس کےدرست ہونے کی کوئی بنیاد موجود نہیں ہے۔ تاریخی واقعات اس کو غلط قرار دیتے ہیں۔ تاریخ سے یہ ثابت ہے کہ شہنشاہ جسٹینین نے اس دستور کے مطابق جو اس نے 16 دسمبر 533ء میں جاری کیا تھا رومی سلطنت میں رومی قانون کی تمام درسگاہیں سوائے روم، قسطنطنیہ اور بیروت کے ختم کردی گئی تھیں۔( صوفی حسن ابوطالب۔ بین الشریعۃ الاسلامیہ والقانون الرومانی ۔ ص48)
فقہ اسلامی یا مسلمان فقہاء پر قانون کے ان درسگاہوں میں سے کسی کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ بعض علماء نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ مسلمان فقہاء اسکندریہ کی درسگاہ سے متاثر ہوئے تھے۔ لیکن یہ دعویٰ قطعی طور پر باطل ہے کیونکہ یہ درسگاہ جسٹینین کے اس دستور کے مطابق جس کا اوپر حوالہ دیاگیاہے مسلمانوں کے اسکندریہ فتح کرنے سے پہلے ہی بند کردی گئی تھی اسکندریہ مسلمانوں نے 641ھ میں فتح کیا ہے۔ روم اور قسطنطنیہ کی درسگاہوں کا بھی کوئی اثر نہیں ہوا، اس لیے کہ روم کو تو مسلمانوں نے فتح نہیں کیاتھا، اور قسطنطنیہ 1493ء میں فتح ہواتھا۔ اس کے فتح ہونے سے پہلے اس کے اور اسلامی سلطنت کے درمیان کوئی دوستانہ تعلقات نہیں تھے، تا کہ مسلمان فقہاء وہاں پہنچ سکتے، اور جو قانون وہاں پڑھایا جاتا تھا اس سے واقفیت حاصل کرتے اور اس سے متاثر ہوتے۔ رہی بیروت کی درسگاہ ، تو تاریخی طور پر یہ بات ثابت ہے کہ اسلامی فتح سے پہلے ہی یہ ختم ہوچکی تھی اور یہ عرصہ ایک صدی کا 3/4 حصہ بنتا ہے۔ اس لیے فقہ اسلامی پر ایسی درسگاہوں کا اثر کا کوئی تصور بھی نہیں کیا جاسکتا جو مٹ چکی ہوں اور ان کا کوئی وجود ہی باقی نہ رہا ہو۔
ان کا یہ دعوٰی کہ اسلامی فقہاء میں سے امام اوزاعی اور امام شافعی بیروت کی درسگاہ اور اس کے فقہاء کی آراء سے متاثر تھے اس تاریخی واقعہ کی بنیاد پر باطل ہوجاتا ہے ۔ امام اوزاعی کا تعلق اہل حدیث سے تھا نہ کہ اہل رائے سے، جیسا کہ ان کی فقہ سے معلوم ہوتا ہے، جو کتاب الام اور دوسری کتابوں میں منقول ہے۔ اور حال ہی میں مدون بھی ہوچکی ہے۔ بالفرض اہل حدیث اگر رومی قانون سے واقفیت بھی رکھتے تھے، تب بھی ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ رومی قانون سے اثر پذیری میں یہ درسگاہ سب سے زیادہ دور رہی۔ امام شافعی غزہ میں پیدا ہوئے۔ ابھی وہ دودھ ہی پی رہے تھے، یا دودھ چھڑانے کے بعد ان کے گھر والوں نے انہیں مکہ مکرمہ بھیج دیا۔ یہیں انہوں نے پرورش پائی۔ اور یہاں کے فقہاء سے فقہ کا علم حاصل کیا۔ پھر وہ مدینہ تشریف لے گئے، وہاں امام مالک کی صحبت میں رہے، اور ان سے فقہ کی تعلیم حاصل کی۔ مدینہ سے پھر وہ یمن چلے گئے، اور یہاں کی فقہ سے بہرہ ور ہوئے۔ اس کے بعد عراق چلے گئے، اور وہاں امام ابوحنیفہ کے شاگرد امام محمد بن الحسن شیبانی سے ملاقات کی۔ ان سے احناف کی فقہ کی سماعت کی۔ اور آخر میں چار پانچ سال مصر میں ان کا قیام رہا۔ اور وہیں وفات پائی۔( ایضاً ص52) اس سے معلوم ہوا کہ امام شافعی نے فقہ کی علم اور اس فن میں پختگی ان شہروں میں حاصل کی جو رومی قانون کے مراکز سے دورتھے۔ اس لیے اس قانون سے ان کے متاثر ہونے یا واقفیت حاصل کرنے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔
رہا یہ دعویٰ کہ اسلامی فتوحات کے بعد ان ملکوں میں رومی عدالتیں باقی تھیں صحیح نہیں ہے۔ اس لیے کہ اسلامی سلطنت میں ابتدا ہی سے قضاء کا محکمہ مسلمانوں کے ہاتھ میں ہی رہاہے، غیر مسلموں کے ہاتھ میں نہیں۔

 تیسری دلیل پر تنقید اور اس کا جواب:
ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ یہ دلیل دو باتوں پر مشتمل ہے ۔ اول یہ کہ مسلمان فقہاء مفتوحہ رومی علاقوں میں پھیل گئے تھے۔ اس سبب سے انہیں رومی قانون سے واقف ہونے کے پورے ذرائع حاصل تھے۔ دوم یہ کہ مسلمانوں نے رومی قانون کے ان قواعدوضوابط کو جن سے شرعی قانون بہرہ ور نہ تھا ان علاقوں میں نافذ کئے جو اس وقت ان کے زیراقتدار تھے، اس قانون کے نفاذ سے ان علاقوں کے باشندوں کی رعایت مقصود تھی، کیونکہ وہ اسی قانون سے مانوس تھے۔
یہ دلیل بھی مع اپنی دونوں شقوں کے نہایت لچر ہے، اور اس سے ان کا دعوٰی ثابت نہیں ہو سکتا۔ دوسری دلیل پر بحث کے دوران ہم یہ بات بتلا چکے ہیں کہ مسلمان فقہاء پر رومی قانون کی درسگاہوں کا قطعاً کوئی اثر نہ تھا۔ اب یہاں ہم اس بات کا اضافہ کرتے ہیں کہ مسلمانوں کے مفتوحہ رومی علاقوں میں پھیل جانے سے وہ رومی قانون سے واقفیت پر قادر نہ ہوئے۔ کیونکہ یہ بات ثابت شدہ ہے کہ مسلمان فقہاء اس قانون سے واقف نہ تھے، اگر وہ اس کی کسی چیز سے بھی واقف ہوتے تو اس کی تائید یا تردید میں اپنی فقہ کی کتابوں میں کوئی اشارہ ضرور کرتے جیسا کہ انہوں نے فلسفہ اور طب کے بارے میں کیا ہے، ان علوم میں انہوں نے ابتداء میں یونانی علوم وفنون سے استفادہ کیا تھا۔ اسی طرح ادب کی بعض اصناف پر فارسی کا اثر پڑا، جس میں انہوں نے ایران کے علوم سے استفادہ کیا تھا۔( عبدالرحمٰن البزاز۔ الموجز فی تاریخ القانون۔ ص 271۔ صبحی محمصانی فلسفۃ التشریح فی الاسلام ص190)
اب تک رومی قانونی کتابوں کا عربی زبان میں مسلمان فقہاء یا کسی دوسرے طبقہ کی طرف سے عربی زبان میں ترجمہ نہیں ہوا تھا۔ اگر ایسا ہوتا تو ان کے بارے میں یہ چیز معروف ہوتی، اور رومی قانون کی کوئی کتاب یارسالہ جس کا انہوں نے عربی میں ترجمہ کیا ہوتا تاریخ نے ہمارے لیے ضرور محفوظ کیا ہوتا۔ کیونکہ جیسے یونانی ورثہ سے منقول ترجمہ کی شکل میں ہمارے پاس بہت سی کتابیں موجود ہیں، ایسے ہی ایرانی ورثہ سے منقول علمی وادبی کتابیں موجود ہیں۔( محمدیوسف موسیٰ المدخل لدراستہ الفقہ الاسلامی -ص 87)مسلمان فقہاء کا رومی قانون کے مقابلہ میں اس منفی مؤقف ، روگردانی اور عدم توجہ کا سبب یہ تھا کہ ان کے خیال میں اسلامی شریعت ایک مکمل اور انصاف پر مبنی نظام قانون ہے ، اور اسی سے لوگوں کو بھلائی اور انصاف مل سکتاہے، اور ان کی مصالح پوری ہوسکتی ہیں ، کیونکہ وہ وحی الٰہی پر مبنی ہے۔ اس لیے انہوں نے رومی قانون پڑھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ بلکہ اس سے محض واقفیت کے لیے بھی انہوں نے کسی محرک کو درخور اعتنا نہ سمجھا۔
اس دلیل کی دوسری شق بھی باطل ہے۔ ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ مسلمان فقہاء رومی قانون سے واقف نہ تھے۔ اگر وہ واقف بھی ہوتے تب بھی اپنی سلطنت میں اس کو نافذ نہ کرتے۔ کیونکہ ان کے عقیدہ کے مطابق اسلامی شریعت ہی ایسا قانون ہے جس کو دارالاسلام میں مقیم باشندوں کے درمیان ہر قسم کے قانونی تعلقات کے لیے نافذ کیا جانا چاہیے۔ مسلمان قاضی کے لیے قطعاً یہ گنجائش نہیں ہے کہ وہ غیرمسلموں یا مسلمانوں کے مقدمات کا فیصلہ اسلامی شریعت کے علاوہ کسی دوسرے قانون سے کرے۔ اسی طرح کسی مسلمان فقیہ کو یہ اجازت نہیں ہے کہ اسلامی شریعت کےعلاوہ کسی دوسرے قانون کے مطابق فتوٰی دے۔ قرآن مجید کی بہت سی آیات اس کو بتلاتی ہیں۔ مثلاً اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاؤلئک ھم الکافرون۔ ترجمہ :یعنی جو لوگ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکام کے مطابق حکم نہ دیں تو ایسے ہی لوگ کافر ہیں۔(مائدہ-44)
دوسری جگہ فرمایا: وانزلنا الیک الکتاب بالحق مصدقالمابین یدیہ من الکتاب ومھیمنا علیہ فاحکم بینھم بماانزل اللہ۔ ترجمہ :یعنی اور اس کتاب کو ہم نے آپ پر نازل کیا ہے جس کا حال یہ ہے کہ یہ خود بھی سچی ہے، اور اپنے سے پہلی کتابوں کی بھی تصدیق کرتی ہے اور ان کتابوں کی محافظ بھی ہے۔ لہٰذا آپ ان اہل کتا ب کے مابین اس کے مطابق فیصلہ کیا کیجئے جو اللہ نے آپ پر نازل کیا ہے۔(مائدہ-48)
تیسری جگہ فرمایا: وان احکم بینھم بما انزل اللہ ولاتتبع اھواءھم(مائدہ-49) یعنی اور اے پیغمبر جو کتاب ہم نے نازل کی ہے اس کے مطابق ان اہل کتاب کےمابین فیصلہ فرمایا کیجیے اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کیجئے۔
اور یہ اسی قسم کی دوسری آیات یہ بتلاتی ہیں کہ اسلامی شریعت کے احکام کی رو سے ہی مقدمات کا فیصلہ کرنا مسلمانوں پر فرض ہے۔
عام مفسرین نے بھی ان آیات کی یہی تفسیر کی ہے۔ (ملاحظہ ہو تفسیر الطبری ۔ ج6، ص268- تفسیرالرازی۔ ج 12۔ ص11 تفسیرابن کثیر ج2 -ص61-تفسیرالمنار-ج-6-ص399-407، 420۔ تفسیر القرطبی ج 6 ۔ ص186) مختلف مذاہب کے فقہاء کا اس پر اتفاق ہے ۔ (ابن حزم۔ محلی۔ ج9-ص 399،425۔ نیز ملاحظہ ہو مختلف فقہی مذاہب کی معروف کتابیں۔) اس لیے اسلامی سلطنت میں مسلمان فقہاء یا قاضیوں کی طرف سے رومی قانون کو نافذ کرنے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ فرض کیجئے اس وقت بعض ایسے قانونی تعلقات اور جدید واقعات کا ان علاقوں کے فقہاء کو سامنا کرنا پڑا ہو جن کے بارے میں کتاب وسنت میں واضح احکام موجود نہیں تھے، تو فقہاء ان واقعات اور مسائل کے بارے میں بھی شریعت کے ان مآخذ سے احکام مستنبط کرتے تھے جن کی طرف خود شریعت نے رہنمائی کی ہے، یعنی اجماع اور قیاس ان مآخذ میں کہیں بھی شریعت کےعلاوہ کسی دوسرے قانون کا حوالہ موجود نہیں ہے، جیسے رومی قانون وغیرہ۔
جب ہمیں یہ معلوم ہوگیا کہ یہ دلیل باطل ہے تو اب ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ مفتوحہ رومی علاقوں میں مسلمان فقہاء نے ایسے رسم ورواج وعرف پائے جن سے وہاں کے باشندے پہلے سے مانوس چلے آرہے تھے۔ فقہاء نے ان علاقوں میں پائے جانے والے رسم ورواج کو اصول شریعت اور اس کے احکام سے ملا کر دیکھا۔ان میں سے جو شریعت کے مخالف نہیں تھے ان کو باقی رکھا جیسے انہوں نے دوسرے مفتوحہ ممالک عراق وایران وغیرہ کے ساتھ کیا تھا، جو رومی سلطنت کے ماتحت نہیں تھے ۔ مسلمان فقہاء نے جو ان علاقوں میں پائے جانے والے بعض رسم ورواج کی رعایت کی، اس کا سبب یہ نہیں تھا کہ رومی قانون نے ان کی رعایت کی تھی، اور ان کا اعتبار کیا تھا، اس لئے فقہاء نے بھی اس ملک میں ان کی اتباع کی۔ بلکہ اس کا سبب یہ تھا کہ اسلامی شریعت میں خود صحیح عرف اور رسم ورواج کی رعایت کرنے حکم موجود ہے۔ (عبدالکریم زیدان۔ الوجیز فی اصول الفقہ۔ ص۔ 240۔244)
یہی معاملہ شریعت نے عربوں کے جاہلی دور کے رسم ورواج کے ساتھ کیا۔ ان میں سے ان رسم ورواج کو جو صالح تھے ، اور شرعی احکام سے متصادم نہ تھے باقی رکھا۔ اور ان میں جو فاسد تھے، اور شرعی احکام کے ساتھ ہم آہنگ نہ تھے، ان کو ختم کردیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر لوگوں کو دوسرے ایسے رسم ورواج پر چلنے کے لیے آمادہ کیا جائے تو ان اچھے رسم ورواج کے علاوہ ہوں جن کے وہ عادی ہوں، اور زمانہ دراز سے ان کے ساتھ مانوس چلے آرہے ہوں تو اس طرح ان کو سخت تنگی اور بڑی مشقت میں ڈالنا ہوگا۔ شریعت کے اصولوں میں لوگوں کے لیے تخفیف (بوجھ ہلکا کرنا) تیسیر (آسان کرنا) اور رفع حرج(تنگی دور کرنا) اہم اصول ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
یرید اللہ بکم الیسرولایریدبکم العسر(بقرہ-185) یعنی اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ آسانی چاہتا ہے اور تمہارے لیے دشواری نہیں چاہتا۔
دوسری آیت میں فرمایا: یرید اللہ ان یخفف عنکم(نساء 28) یعنی اللہ تعالیٰ تم پر سے بوجھ ہلکا کرنا چاہتاہے۔
تیسری آیت میں فرمایا: مایرید اللہ لیجعل علیکم من حرج (مائدہ-9) یعنی اللہ تعالیٰ یہ نہیں چاہتا کہ وہ تم پر کوئی تنگی کرے۔

چوتھی دلیل پر تنقید اور اس کا جواب:
اس دلیل میں یہ بات کہی گئی ہے کہ چونکہ عربوں کے سلطنت روما کے باشندوں کےساتھ روابط تھے، اس لیے رومی قانون کے بہت سے قاعدے اور ضابطے جاہلی دور میں عربوں کے رسم ورواج میں سرایت کرگئے تھے۔ جیسے یہودیوں کی فقہ کی کتاب تلمود میں ان رومی قاعدوں نے راہ پائی تھی۔ چونکہ اسلام نے جاہلی دور کے بعض قوانین کو باقی رکھا اور مسلمان فقہاء نے تلمود کے بعض احکام سے استفادہ کیا تھا، اس کے معنی یہ ہیں رومی قانون کے بعض قاعدے اور نظام اسلامی شریعت اور فقہ میں راہ پاگئے۔ اور دونوں کا جزو بن گئے۔
اس قسم کے نتائج اخذ کرنا، اور ان پر ان مقدمات کی بنیاد رکھنا درست نہیں ہے۔ ایسی کوئی دلیل موجود نہیں ہے، جیسا کہ اٹلی کے مستشرق نالینونے کہاہے، جس سے یہ ثابت کیا جاسکے کہ رومی قوانین نے جاہلی دور کے رسم ورواج کے واسطے سے اسلامی شریعت میں راہ پائی ہے۔( المسلون۔ مقالہ: علاقات الفقہ الاسلامی بالقانون الرومانی۔ ج5۔ ص ۔574) یہ تو واقعہ ہے کہ زمانہ جاہلیت میں عربوں کے اپنے پڑوسی ملک سلطنت روما کے ساتھ تعلقات تھے۔ لیکن ان کے یہ تعلقات کمزور اور محدود تھے۔ رومی حکومت نے ان عرب تاجروں کے لیے جو شام جایا کرتے تھے خاص منڈیاں مقرر کی ہوئی تھیں۔ ان مقامات سے باہر جانے کی ان کو اجازت نہ تھی، یہ منڈیاں عقبہ ، غزہ اور بصرٰی کی تھیں۔ اس کے علاوہ اس دور میں عربوں کے درمیان تعلیم عام نہ تھی۔ اور وہ غیر ملکی زبانوں سے ناواقف تھے۔ اس لیے عربوں کے رومی سلطنت کے عوام کے ساتھ تعلق کے باوجود ان پر رومی قانون کا کوئی اثر ظاہر نہ ہوسکا۔( صوفی حسن ابوطالب ۔ بین الشریعۃ الاسلامیہ والقانون الرومانی۔ ص25۔ 26) تلمود سے استدلال بھی ان کے حق میں مفید نہیں ، کیونکہ بہت سے وجوہ کی بناء پر اس میں ایسی کوئی دلیل موجود نہیں ہے، جس سے ان کی رائے کی تائید ہوتی ہو۔ چند وجوہ یہ ہیں۔
(ا) تیسری صدی عیسوی کے بعد رومی بیزنطینی قانون یہودی قانون خود متاثر ہوا لیکن اس کے برعکس نہیں ہوا۔ اس کےدلیل یہ ہے کہ اس دور کے شارحین قانون رومی قانون کے بعض ضابطوں کو یہودی الاصل قرار دیتے ہیں۔ یعنی بعض رومی قانونی ضابطے یہودیوں کے قانون سے ماخوذ ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ رومی قانون کے قواعد وضوابط اسلامی شریعت میں یہودیوں کے قانون کے واسطے سے منتقل نہیں ہوئے۔
(ب) ایک راحج قول کے مطابق سابق آسمانی شریعتوں میں وارد ہونے والے احکام اسلامی شریعت کا حصہ نہیں ہیں، الایہ کہ خود اسلامی شریعت میں ایسی دلیل موجود ہو جو یہ بتلائے کہ ان میں سے کوئی خاص حکم مسلمانوں کے حق میں شریعت کا حکم رکھتا ہے۔
(ج) تلمود میں کثرت سے ایسے احکام موجود ہیں جو فقہ اسلامی کے احکام کے مخالف ہیں۔ چند مثالیں ملاحظہ ہوں۔ یہودیوں کے نزدیک شادی ایک معروضی عقد ہے یہ اس وقت تک منعقد نہیں ہوتا جب تک اس کی معین شکلیں اپنی شرائط کے ساتھ موجود نہ ہوں۔ مثلاً فریقین کا عبرانی زبان میں چند مخصوص کلمات ادا کرنا، عقد کا ضبط تحریر میں لانا، اور اس کو خاص طرح کی نماز ادا کرکےجس میں معین تعداد میں لوگ جمع ہوں مقدس بنانا، یہودیوں کے تہواروں اور سبت کے دنوں میں اس عقد کا جائز نہ ہونا۔اس کے برخلاف اسلامی شریعت میں نکاح کا طریقہ یہ ہے کہ فریقین کی طرف سے دوگواہوں کی موجودگی میں باہمی رضا مندی کا اظہار ہو۔ اس کے انعقاد کے لیے کسی معین شکلوں کی شرط نہیں ہے۔
یہودی قانون کے مطابق تعدد ازدواج میں بیویوں کی کوئی تعداد مقرر نہیں اس کے برعکس اسلامی شریعت میں چار سے زیادہ بیویوں کی اجازت نہیں۔ یہودیوں کے قانون میں شادی شدہ عورت اپنے مال میں تصرف نہیں کرسکتی ، کیونکہ وہ کسی کے ساتھ عقد (معاہدہ) کرنے کی اہل نہیں ہے۔ اور جو کچھ اس کی ملکیت میں ہے وہ اس کے شوہر کا ہے۔ اس میں جس طرح تصرف کرے اس مسئلہ میں اسلامی شریعت یہودی قانون کے مخالف ہے۔ وہ شادی شدہ عورت کو اپنے مال میں تصرف کرنے اور قدرت رکھنے کا مکمل طور پر اہل قرار دیتی ہے، اور تصرف کے لیے اس کو خاوند کی اجازت کی کوئی ضرورت نہیں ۔
اسلامی شریعت میں طلاق کے لیے کوئی خاص شکل مقرر نہیں ہے۔ اس کے برخلاف یہودی شریعت میں اس کے لیے خاص شکلیں مقرر ہیں۔ یعنی عبرانی زبان میں اس کا لکھنا ضروری ہے، اور سبت اور تہواروں کے دن طلاق واقع نہیں ہوسکتی۔ اسلامی شریعت میں وارث کی موجودگی میں اپنے مال میں سے تہائی حصہ کی وصیت اجنبی کے حق میں جائز ہے۔ لیکن یہودی قانون میں وصیت اس وقت جائز ہے جب نرینہ اولاد موجود نہ ہو۔ یہودی قانون میں ورثاء کو ترکہ اس شرط پر ملتاہے کہ جو بھی حقوق ، قرض اور ذمہ داریاں میت پر تھے اب ورثاء کو ادا کرنا ہوں گے۔ اس کے برخلاف اسلامی شریعت میں وارث کو جوترکہ ملتاہے وہ میت کا قرض ادا کرنے کا ذمہ دار نہیں ہوتا۔ بلکہ قرض اس کے ترکہ میں سے شروع میں ہی ادا کردیا جاتاہے۔ قرض ادا کرنے کے بعد جو ترکہ بچتاہے وہ وارثوں میں تقسیم ہوتاہے۔ اگر قرض ادا کرنے کے لیے میت کا ترکہ کافی نہیں ہوتا تو اس کی ذمہ داری وارثوں پر نہیں ہوتی۔
اسلامی شریعت میں رضاعی رشتے نکاح کے لیے مانع (رکاوٹ) بنتے ہیں۔ لیکن یہودی قانون میں یہ صورت نہیں ہے۔ فقہ اسلامی میں تعزیری سزائیں موجود ہیں، لیکن یہودی قانون میں ان کا کوئی وجود نہیں ۔ اس تجزیہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہودی قانون اسلامی قانون سے بنیادی طور پر مختلف ہے۔ رہیں وہ چیزیں جو دونوں میں ایک دوسرے کے مشابہ ہیں تو وہ محض چند جزوی احکام ہیں ، اور اگر ان کا اختلاف سے مقابلہ کیا جائے تو ان کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ اس سے یہ بات ظاہر ہے کہ ان کا دعویٰ کہ اسلامی قانون یہودی قانون سے متاثر ے، اور اس کے نتیجہ میں رومی قانون سے بے بنیاد ہے(صبحی محمصانی ۔ فلسفہ التشریع فی الاسلام۔ ص 195۔196۔صوفی حسن ابوطالب۔ بین الشریعۃ الاسلامیۃ والقانون الرومانی۔ ص63)۔

پانچویں دلیل پر تنقید اور اس کا جواب:
اس دلیل میں مخالفین نے اسلامی شریعت اور رومی قانون میں بعض مشابہ چیزوں سے اس پر استدلال کیا ہے کہ اسلامی قانون رومی قانون سے متاثر ہے۔ بہت سے وجوہ کی بناء پر ان کا یہ استدلال کمزور ہے۔ اس لیے یہ دلیل بھی ساقط ہے اور مسترد کرنے کے قابل ہے۔( علی البدوی۔ ابحاث تاریخ الشرائع ۔ مجلۃ القانون والاقتصاد المصریہ۔ سال اول ص734، عبدہ حسن زیات ۔ مذکرات فی تاریخ القانون ص 140) اس کے جواب میں ہمارے دلائل درج ذیل ہیں۔
اول: ان دونوں قانونی نظاموں میں چند باتیں ایک دوسرے کے مشابہ ہیں مثلاً رومی قانون میں یہ اصول ہےکہ بار ثبوت مدعی پر ہوتاہے۔ اور اسلامی شریعت میں بھی یہ قاعدہ ہے کہ بار ثبوت مدعی پر ہوگا، اور جو انکار کرے(مدعی علیہ) اس کو قسم کھانی ہوگی اسی طرح دونوں میں یہ اصول مسلم ہے کہ بغیر حق کے دوسرے کا مال لینا حرام ہے۔اس قسم کے قواعد اور اصول تمام نظامہائے قانون میں عام اور مشترک ہیں۔ عقل سلیم بھی ان ہی اصولوں کی طرف رہنمائی کرتی ہے اور عدل وانصاف بھی انہی کا فیصلہ دیتے ہیں ۔ کسی نظام قانون میں اس قسم کے قواعد سے غفلت اس قانون کی خامی اور نا انصافی کی دلیل ہے۔ اس دائرہ میں چند چیزوں کے درمیان مشابہت اس بات کی دلیل نہیں کہ بعد میں آنے والی شریعت لازمی طور سے سابق شریعت سے ماخوذ ہے۔
دوم: دونوں نظامہائے قانون میں بعض چیزوں کے درمیان مشابہت حتمی طور پر یہ نہیں بتلاتی کہ ایک کے قواعد وضوابط دوسرے سے ہی لیے گئے ہیں۔ کیونکہ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ مشابہت معاشرتی حالات وظروف میں مشابہت کی بنا پر ہو جن سے دونوں گزرے ہوں جیسے بہت سے واقعات کے متعلق انداز فکر میں صحت مند ذہن ایک دوسرے کے مشابہ ہوتے ہیں۔ یہ تمام قوموں میں مشترک ایک فطری امر ہے۔ اس لیے محض اس مشابہت کی بنا پر یہ کہنا صحیح نہ ہوگا کہ لازمی طور پر یہ شریعت دوسری سے ہی ماخوذ ہے، اور اس کے برعکس نہیں ہوسکتا۔ اگر یہ کہنا ضروری ہی ہے کہ ایک نے دوسرے سے اخذ واستفادہ کیا ہے، تو پھر یہ کہنا درست ہوگا کہ رومی قانون اسلامی شریعت سے ماخوذ ہے ، اور یہ بات ہم نے ایک مسلّم سماجی اصول کی تطبیق کرتے ہوئے کہی ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ ایک مغلوب قوم ہی غالب قوم سے اخذواستفادہ کرتی ہے۔ اور اس کے برعکس نہیں ہوتا۔ (مقدمہ ابن خلدون۔ ص147)
سوم: دونوں قانونی نظاموں میں چند قواعد وضوابط کے درمیان ظاہری مشابہت کے باوجود اسلامی شریعت اور رومی قانون کے درمیان کثیر اور اہم اختلافات ہیں۔ اور یہ اختلافات واضح طور پر بتلاتے ہیں کہ دونوں اپنی اپنی جگہ مستقل قانونی نظام ہیں۔ اور دونوں کے احکام کے مآخذ مختلف ہیں۔ رومی قانون میں بعض ایسے قاعدے اور ضابطے ہیں جن کا اسلامی شریعت میں وجود بھی نہیں ہے۔ مثلاً
(الف) نظام اقتدار پدری: اس اقتدار کا مالک خاندان کا سربراہ ہوتاہے، اور اس کو اپنی نرینہ اولاد اور اولاد کی اولاد ، متنبیٰ اولاد، اور وہ اولاد جن کو قانون نے پسری کا درجہ دیاہو، ان سب پر یہ اقتدار حاصل ہوتاہے۔ یہ اقتدار مطلق العنان ہوتاہے۔ اور اس کا اطلاق اس اقتدار کے سامنے جھکنے پر ہر شخص پر ہوتاہے اور جو مال بھی وہ کماتاہے وہ بھی اسی دائرہ میں آتاہے۔ یہ اقتدار دائمی ہے، اور اس وقت تک باقی رہتاہے جب تک خاندان کا سربراہ زندہ رہے اور قانونی شخصیت کی حیثیت سے متمتع ہو، اور اولاد کی عمر چاہے کچھ بھی ہوجائے۔ باوجود اس کے کہ خاندان کے سربراہ کے اقتدار میں کافی کاٹ چھانٹ کردی گئی ہے، اور اس کی شدت میں بہت تخفیف ہوچکی ہے، تاہم اس کے سنگدلانہ آثار اب بھی باقی ہیں ۔ یعنی خاندان کے سربراہ کو سخت ضرورت کی حالت میں اپنی اولاد کو فروخت کرنے کا حق حاصل ہے۔ اور خاندان کا سربراہ خاندان کے تمام اموال کا مالک ہے۔ اس میں تصرف کا پورا حق رکھتاہے۔ اگرچہ ورثاء کو بلاکسی وجہ کے میراث میں حصہ پانے سے محروم نہیں کرسکتا۔ (عبدالمنعم بدراوی ومحمد عبدالمنعم بدر۔ مبادی القانون الرومانی۔ ص211-221-223)
(ب) اس نوعیت کی شادی کہ شوہر کو زبردست غلبہ حاصل ہو۔ اس قسم کی شادی یا تو مذہبی طریقہ سے تکمیل پذیر ہوتی، یا خریدوفروخت کے طریقہ سے، یا اگر شوہر نے پہلی دونوں صورتیں اختیار نہیں کی ہیں تو تیسرا طریقہ یہ تھا کہ بیوی ایک سال تک اپنے شوہر کے ساتھ اس طرح رہتی جس سے شوہر کو اس پر کلی غلبہ اور اقتدار حاصل ہوجاتا۔ اس نوعیت کی شادی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ عورت اپنے اصلی خاندان سے کٹ کر شوہر کے خاندان کی طرف مستقل طور پر منتقل ہوجاتی ہے۔ اور اپنے اصلی خاندان میں وہ مردہ شمار ہوتی ہے۔ اور اس خاندان سے اس کےتمام حقوق، جیسے وراثت ، وصیت وغیرہ ساقط ہوجاتے ہیں۔ اور شوہر کے خاندان میں وہ اس کی بیٹی ، اولاد اس اولاد کی بہن بن کررہتی ہے۔ اور اس اعتبار سے وہ اپنے خاوند کی وارث ہوتی ہے۔ اپنے خاوند کے اقتدار کے سامنے وہ سرافگندہ ہوتی ہے۔ یہ اقتدار بھی پدری اقتدار کے مشابہ ہوتاہے یعنی خاوند اس کو فروخت کرسکتاہے، اور اس کے حقوق کا مالک ہوتاہے۔ شادی کے وقت اس کے پاس جو مال وجائیداد ہو خاوند وہ سب اس سے چھین لیتاہے۔ (ایضاً۔ ص232-235)
(ج) متبنیٰ (کسی کو اپنا بیٹا بنانا) یہ بھی رومی قانون کا ایک قاعدہ ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ جو شخص کسی کو اپنا بیٹا بنائے، اور جس کو بیٹا بنایا جائے ان دونوں کے درمیان ایک مصنوعی تعلق پیدا کرکے پدری اقتدار کو قائم کرنا ہے۔ اس کے بھی وہی نتائج مرتب ہوتے ہیں جو شادی سے پیدا شدہ اولاد کے بارے میں ہوتے ہیں۔ بیٹا بنانے کے اس تعلق کو پیدا کرنے کے خاص شرائط ہیں۔ اس طرح جس شخص کو بیٹا بنایاجاتاہے اس کے، اور اس کے مال وجائیداد پر بھی خاص نتائج مرتب ہوتے ہیں۔ جو شخص بیٹا بناتا ہےمتبنیٰ اس کےس خاندان میں کلی طور پر داخل ہوجاتاہے۔ وہ اس کے اقتدار کے سامنے سرنگوں ہوتاہے۔ اور اس کا سارا مال بیٹا بنانے والے کی ملکیت میں چلا جاتاہے۔ (ایضاً۔ ص211-215)

چہارم: اسلامی شریعت میں بعض قوانین ایسے ہیں جن کی نظیر رومی قانون میں نہیں۔ مثلاً وقف کا نظام، شفعہ کا نظام، رضاعی رشتوں کی شادی سے مانع ہونا۔ احتساب کا نظام، یہ ادارہ سماجی کاموں کے لیے بنایا گیاتھا، اور دورحاضر میں عوام کی نمائندگی اور بلدیہ کے کاموں کے مقابلہ میں تھا۔ سزاؤں میں تعزیر کا نظام، قرض کی ادائیگی دوسرے کے حوالہ کردینا، یہ اسلامی شریعت میں جائز ہے لیکن رومی قانون میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ۔ دونوں میں بعض قانونی نظام مشترک ہیں، لیکن ان کے قواعدمیں اختلاف ہے۔ جیسے شادی کانظام ۔ رومی قانون میں تعدد ازدواج کی اجازت نہیں، اسلامی شریعت میں چار تک اجازت ہے۔ رومی قانون میں زوجین میں سے ہر ایک کو طلاق کا حق ہوتاہے۔ اسلامی شریعت میں صرف شوہر کو طلاق کا حق ہوتاہے، بیوی کو نہیں۔ ہاں نکاح کے وقت بیوی اس قسم کی شرط لگا سکتی ہے۔ میراث کا نظام۔ اس میں بھی دونوں کے درمیان جو ہری اختلافات ہیں۔ رومی قانون میں فروع اصول پر مقدم ہوتے ہیں۔ فروع کے ساتھ اصول کو حصہ نہیں ملتا۔ فروع کی عدم موجودگی میں میراث اصول کی طرف منتقل ہوجاتی ہے۔ اور ان کےساتھ حقیقی بھائی بھی شریک ہوتے ہیں۔ اور مرد اور عورت دونوں کو برابر حصہ ملتاہے۔ لیکن اسلامی شریعت میں اصول کو فروع کے ساتھ حصہ ملتاہے۔ اور عام قاعدہ کے مطابق مرد کا حصہ عورت کے حصہ سے دوگنا ہوتاہے۔ رومی قانون میں میت کے ذمہ حقوق اور قرضے وارثوں کو منتقل ہوجاتے ہیں۔ اور اگر وہ ترکہ قبول کرلیں تو انہیں اپنے مورث کے قرضے بھی ادا کرنے پڑتے ہیں، چاہے اپنے ذاتی مال میں سے انہیں یہ ادائیگی کرنا پڑے۔ اسلامی شریعت میں اصول یہ ہے کہ ترکہ قرض ادا کرنے کے بعد تقسیم ہوتاہے۔ یعنی میت کے ذمہ قرضے اس کے ترکہ میں ہی سے ادا کیے جاتے ہیں۔ اور ترکہ میں سے قرض ادا کرنے کے بعد جو مال بچتاہے وہ ورثہ میں تقسیم کردیاجاتاہے۔ اگر ترکہ میں سے اتنا مال نہ بچے کہ اس کے سارے قرضے ادا ہوسکیں، تو ورثا ء ان قرضوں کی ادائیگی کے ذمہ دار نہ ہوں گے۔ دونوں قانونی نظاموں میں مہر شادی کے احکام میں شامل ہے۔ رومی قانون میں بیوی یا اس کے گھر والے شوہر کو مہر ادا کرتے ہیں۔ اس کے برخلاف شریعت اسلامیہ میں شوہر بیوی کو مہر ادا کرتاہے۔
پنجم: رومی قانون اپنے مختلف نظاموں میں رسمی کاروائیوں اور متعین شکلوں پر قائم ہے۔ باوجود ترقی کے اب تک اس قسم کے رسمی شکلوں کو یہ نظام قانون ختم نہیں کرسکا، تا کہ عام قانونی نظاموں کی طرح اس میں بھی عمومی اصول ہوں جن کے مطابق ہر معاملہ میں کاروائی کی جاسکے۔ مثلاً ملکیت محض باہمی معاہدہ سے فریقین کے درمیان ایک دوسرے کو منتقل نہیں ہوسکتی۔ جب تک خاص متعین شکل کی کاروائیاں تکمیل پذیر نہ ہوں۔ اسی طرح محض ایک معاہدہ کے تحت فریقین کسی ذمہ داری کے حامل نہیں ہوسکتے جب تک رسمی شکلوں کی کاروائیاں جو اس کے لیے مقرر ہیں، پوری نہ کرلی جائیں۔ یہ شکلی ضابطے جٹینین کے عہد تک باقی رہے۔ بلکہ فریقین محض اپنی رضامندی سے کوئی ذمہ داری قبول نہیں کرسکتے تھے۔ ، اور محض معاہدہ کی بنیاد ملکیت بھی منتقل نہیں ہوسکتی تھی۔ لیکن انیسویں صدی کے اوائل میں نپولین کے فرانسیسی قانون کے مطابق محض معاہدہ کی بنیاد پر ملکیت منتقل ہونے لگی۔ اس کے برخلاف اسلامی شریعت آغاز ہی سے معاملات میں سادگی پر مبنی ہے، اور مقرر رسمی شکلوں سے خالی ہے۔ عقد کی تکمیل کےلیے اس میں رسمی صیغہ کی ادائیگی کی ضرورت نہیں ، نہ ہی انتقال ملکیت کے لیے کوئی خاص وضع لازمی ہے۔ بلکہ عقد کے مطابق دونوں فریقین ذمہ داری قبول کرلیتے ہیں اور ملکیت باہمی معاہدہ کی بنیاد پر منتقل ہوجاتی ہے، اور اس میں خاص شکل کی رسمی کاروائیوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔
ششم: رومی قانون میں ایک عام اصول کے طور پر قانون اخلاق کا دائرہ جدا جدا ہے ۔ اس کی مثال میں وہ صریح نصوص پیش کی جاسکتی ہیں جو جٹینین کے مجموعہ قوانین میںٰ پائی جاتی ہیں۔ یہ صاف طور پر بتلاتی ہیں کہ حق کا غلط استعمال غیر مشروع فعل نہیں سمجھا جاتاتھا اس اصول کے برخلاف ، اسلامی شریعت کے قواعد اخلاقی قدروں پر مبنی ہیں۔ اور اس کے قانونی نظام میں اخلاقی اصول کے در آنے کی پوری اجازت ہے۔ اس اصولی اختلاف کے نتیجہ میں بعض قانونی ضوابط اور نظریات میں اختلاف ہے، جو اسلامی شریعت میں تو موجود ہیں، لیکن رومی قانون میں ان کا کوئی وجود نہیں۔ رومی قانون میں کسی غصب کی ہوئی چیز کی ملکیت ہونے لیے خاص شرائط کے ساتھ ایک مقررہ مدت گزرنے کے بعد جواز موجود ہے۔ یعنی اگر دعوٰی دائر کرنے کی جو مدت مقرر ہے وہ گزر جائے تو وہ غصب کی ہوئی چیز غاصب کی ملکیت بن جاتی ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اس نظام قانون میں اخلاق اور قانون کے درمیان تعلق نہایت کمزور ہے۔ اس کے برعکس اسلامی شریعت میں ایسا کوئی اصول موجود نہیں ۔ کیونکہ اس میں اخلاقی قدریں غالب ہیں۔ اور ان کے مطابق غصب کو حق نہیں بتایا جاسکتا۔ اور نہ یہ اخلاقی قدریں اس بات کی اجازت دیتی ہیں کہ محض ایک معینہ مدت گزر جانے سے انسان کو کوئی حق حاصل ہوجاتاہے، یا اس کا حق ساقط ہوجاتاہے۔ اسلامی شریعت کے قانونی نظریات کی بنیاد اخلاقی حیثیتوں پر ہے۔ اسی میں حق کو ناجائز طور پر استعمال کرنے کا نظریہ ہے۔ حق کے استعمال میں یہ شرط ہے کہ اس سے دوسرے کو ضرر نہ پہنچے۔ شریعت میں حقوق دے کر آزاد نہیں چھوڑ دیا گیا۔ حقوق ہمیشہ اس قید کے ساتھ مقید ہوتے ہیں کہ ان کے استعمال سے دوسرے کو نقصان نہیں پہنچے گا۔ یہ نظریہ جدید مغربی قوانین میں بہت اہمیت رکھتاہے۔ فقہ اسلامی میں اس نظریہ کے مطابق کوئی پڑوسی اپنا حق اس طرح استعمال نہیں کرسکتا کہ اس سے دوسرے پڑوسی کو سخت نقصان پہنچے۔ اسی طرح نظریہ ضرورت ہے۔ اسی سے ملتاجلتا حالت ایمرجنسی (ناگزیرحالت) کا نظریہ ہے۔ یہ نظریہ کچھ عرصہ پہلے فرانسیسی انتظامی قانون میں ظاہر ہوا تھا۔ اور اب قانون کی مختلف شاخوں تک اس کا دائرہ پھیلتاجارہاہے۔ فقہ اسلامی میں یہ نظریہ پہلے سےموجود ہے۔ مثلاً کسی آفت سماوی سے کھیتی برباد ہوجائے، تو اس پر خراج ساقط ہوجاتاہے۔ فقہاء اس کی علت یہ بیان کرتے ہیں کہ یہ اراضی آفت زدہ ہے، اور اس کے مالک کو نقصان پہنچاہے۔ اس لیے وہ امداد کا مستحق ہے۔ کیونکہ یہ بات ظاہر ہے کہ وہ اس آفت زدہ اراضی میں کاشت نہیں کرسکتاتھا۔( عبدالکریم زیدان ۔ احکام الزمیین المستامنین فی ، دارالاسلام۔ ص171)

خلاصہ:
گزشتہ بحث سے یہ بات واضح ہوگئی کہ اسلامی شریعت کا رومی قانون سے کوئی تعلق نہیں۔ اس کی حیثیت مستقل نظام کی ہے۔ اس کے فقہاء اس قانون سے بالکل علیحدہ رہے جس کی بنیاد عرف عادت پر ہے۔ اسلامی شریعت نے اپنے احکام خود اپنے مآخذ سے حاصل کئے ہیں ، اور ان کو کسی اجنبی قانون کی طرف منسوب نہیں کیاجاسکتا۔ اس کے قواعد وضوابط اصول فقہ میں موجود ہیں، جن پر اس کی بنیاد ہے۔ اسلامی شریعت اور رومی قانون کا مقابلہ کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالرزاق سنہوری نے کیا ہی سچی بات کہی ہے:
“جیسا کہ ہم پہلے بتاچکے ہیں کہ اس قانون کی ابتداء عرف وعادت (رسم ورواج) سے ہوئی۔ پھر دعوٰی اور چند رسمی وشکلی کاروائیوں سے یہ پروان چڑھا۔ لیکن اسلامی شریعت کا آغاز اس کتاب سے ہوا جو اللہ تعالٰی کی طرف سے نازل ہوئی تھی۔ اور منطقی قیاس اور موضوعی احکام کے طریقہ سے اس نے آگے ترقی کی۔ مسلمان فقہاء رومی فقہاء سے ممتاز ہیں ۔ بلکہ وہ دنیا کے تمام فقہاء وقانون دانوں سے ممتاز ہیں۔ کیونکہ انہوں نے اپنے اصول ومبادی خود بنائے ہیں ، ان اصولوں کے ذریعہ وہ مآخذ شریعت سے احکام مستنبط کرتے ہیں ۔ اس فن کو وہ اصول فقہ کہتے ہیں۔”( سنھوری۔ اصول القانون۔ ص132) اس لیے اسلامی شریعت اور رومی قانون کے درمیان اختلاف جوہری ہے۔ کیونکہ اسلامی شریعت وحی الہٰی پر مبنی ہے، اور یہ سب سے اہم سبب ہے جو اسلامی شریعت کو دوسرے نظامہائے قانون سے ممتاز کرتاہے۔ اور اس کے اور رومی قانون اور دیگر وضعی (خودساختہ) قوانین کے درمیان عظیم فرق کو ظاہر کرتاہے۔ اس سلسلہ میں ایک فرانسیسی عالم زیسZeys لکھتاہے” جب میں اسلامی فقہ کی کتابوں کا مطالعہ کرتا ہوں تو میں یہ محسوس کرتاہوں کہ جو کچھ رومی قانون میں جانتاہوں اب بھول گیا….اور یہ سمجھنے لگتاہوں کہ اسلامی شریعت اور اس قانون کے درمیان قطعاً کوئی تعلق نہیں ہے۔ کیونکہ ہمارے قانون کی بنیاد انسانی عقل پر ہے، اس کے برعکس اسلامی شریعت وحی الہٰی پر قائم ہے۔ ان دونوں کے درمیان جب اختلاف اس حد تک پہنچاہواہے تو قانون کے ان دونوں نظاموں کے درمیان موافقت اور ہم آہنگی کا کیسے تصورکیاجاسکتاہے؟”( صوفی حسن ابوطالب ۔ بین الشریعۃ الاسلامیہ والقانون الرومانی۔ 109)
اس کے علاوہ اسلامی قانون میں ایسے قاعدے اور ضابطے ہیں جن تک رومی قانون اپنی ترقی کے آخری دور میں بھی نہیں پہنچ سکا۔ ان میں سے ایک اصول نیابت یا وکالت کاہے۔ ایک شخص قانونی طور پر معاملات میں اپنی طرف سے دوسرے کو نائب یا وکیل بناسکتاہے۔ اور اس اصول کو جدید قانون نے بھی تسلیم کیاہے۔ لیکن جٹینین کے عہد میں بھی اس اصول کو تسلیم نہیں کیاگیا۔ آخری دور میں رومی قانون میں چند مستثنیات رکھی گئیں اور ان کے مطابق اب کوئی اپنی طرف سے دوسرے کو مکمل نائب یا وکیل بناسکتاہے۔ (شفیق شحاۃ۔ النظریۃ العامۃ للالتزامات فی الشریعۃ الاسلامیہ ج ا۔ ص 90۔ عبدالمنعم البدرراوی۔ مبادی القانون الرومانی ۔ ص۔ 560-561)
ان تمام اسباب کی بنا پر اور حقیقت کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ اسلامی شریعت دوسرے قانونی نظاموں سے ممتاز ہے۔ یہ ایک مستقل نظام ہے۔ کسی دوسرے نظام سے ماخوذ نہیں ، اور نہ کسی سے متاثر ہے ۔ ڈاکٹر شفیق شحاتہ نے صحیح کہاہے:” یہاں ہم یہ دیکھتے ہیں کہ قدیم وجدید دور میں وہ تمام کوششیں ناکام ہوگئیں جو یہ ثابت کرنے کےلیے کی گئی تھیں کہ اسلامی شریعت میں رومی قانون سے مدد لی گئی ہے۔”( شفیق شحاۃ۔ النظریۃ العامۃ للالتزامات فی الشریعۃ الاسلامیہ۔ص67)
بلکہ بعض معاصر اہل علم کا خیال ہے کہ خود رومی قانون اسلامی شریعت سے متاثر ہے۔ اور بہت سے اصول وقواعد اس قانون میں فقہ اسلامی سے ماخوذ
ہیں۔ کیونکہ فقہ کی کتابوں کا ترجمہ اندلس میں لاطینی زبان میں ہوچکا تھا۔ (یہ نظریہ ابوالفضائل الجردقادقانی الایرانی کاہے۔ ملاحظہ ہو عبدہ حسن الزیات الموجز فی تاریخ القانون)
بعض علماء کا خیال ہے کہ یورپ میں نشاۃ ثانیہ کے دوران اٹلی اور یورپ کی دیگر درسگاہوں سے فارغ التحصیل ہونے والے شارحین قانون نے رومی قانون کی شرحوں میں اسلامی فقہ کے بہت سے اصول ، قواعد وضوابط داخل کرلیے جو انہیں اندلس میں فقہ اسلامی کی کتابوں کے تراجم کے ذریعہ پہنچے تھے۔( صبحی محمصانی فلسفہ التشریع فی الاسلامیہ۔ ص193-194)

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *