اسلامی قانون کے بارے میں مستشرقین کےجدیدرجحانات

اسلامی قانون پر کام کرنے والے مستشرقین کے ائمۂ اربعہ :
“استشراق” ایک مخصوص پس منظر کے ساتھ ، اور مخصوص مفروضات اور اصولوں کے ساتھ ، “مشرق “کے مطالعے کی تحریک تھی جس کا خصوصی تعلق استعماری سیاست کے ساتھ رہا ۔ (مابعد استعمار دور میں “استشراق” کی جگہ “علمی مطالعے” (academic study)نے لے لی ہے ۔ ) استشراق کی اس تحریک کے تحت کئی نامی گرامی لوگوں نے مختلف اسلامی علوم کا مطالعہ کیا ۔ بالخصوص اسلامی قانون پر کام کرنے والوں میں چار نام بہت اہم ہیں ۔ اگناز گولڈ زیہر ، جوزف شاخٹ ، مارشل ہوجسن اور نوئیل کولسن ۔ ان کی اہم کتابوں کی فہرست یہاں دی جارہی ہے :
Ignaz Goldziher, Introduction to Islamic Law and Theology, trans. A. R. Hamori (Princeton: Princeton University Press, 1981);
Joseph Schacht, Origins of Muhammadan Jurisprudence (Oxford: Oxford University Press, 1953); An Introduction to Islamic Law (Oxford: Oxford University Press, 1964).
Marshall G. S. Hodgson, The Venture of Islam: Conscience and History in a Civilization of the World.
اس کتاب کا بیش تر مواد پہلے 1958 میں A History of Islamic Civilization اور پھر 1958 اور 1959 میں An Introduction to Islamic Civilization کے عنوان سے تین جلدوں میں شائع کیا گیا ۔ بعد میں 1961 میں اس کا ایڈیشن The Venture of Islam کے عنوان سے شائع کیا گیا ۔ پہلے جلد کا ذیلی عنوان The Classical Age of Islam دوسری جلد کا ذیلی عنوان The Expansion of Islam in the Middle Period جبکہ تیسری جلد کا ذیلی عنوان The Gunpowder Empires and the Modern Times ہے۔
Noel J. Coulson, A History of Islamic Law (Edinburgh: Edinburgh University Press, 1964); Conflicts and Tensions in Islamic Jurisprudence (Chicago: University of Chicago Press, 1969).
اگر جہاد اور سیر کے حوالے سے دیکھا جائے تو اس میدان میں مغربی دنیا میں امام کی حیثیت مجید خدوری کو حاصل ہے جو عراقی الاصل مسیحی تھے لیکن بعد میں امریکی بنے۔ انھوں نے امام شیبانی کی کتاب الاصل سے سیر کے متعلق تین ابواب ( السیر ، الخراج اور العشر ) کو مدون بھی کیا اور پھر انگریزی میں ترجمہ بھی کیا ۔ اس پر مبسوط مقدمہ بھی لکھا ۔ انگریزی ترجمے کا عنوان ہے : The Islamic Law of Nations: Shaybani’s Siyar. اس ترجمے سے قبل انھوں نے اس موضوع پر الگ سے کتاب بھی لکھی جس کا عنوان ہے : War and Peace in the Law of Islam. دونوں کتابیں بالٹی مور ( امریکا) کی جان ہاپکنز یونی ورسٹی نے شائع کی ہیں ۔

کیا اسلامی قانون کے بارے میں مستشرقین کے نظریات اب غیر متعلق ہوچکے ہیں ؟ 

اس میں کوئی شک نہیں کہ مغرب میں پچھلے کچھ عرصے سے نام نہاد “علمی مطالعے” (academic study) کی روایت نے بظاہر استشراق (Orientalismm)کی جگہ لے لی ہے لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلامی قانون کے بارے میں مستشرقین کے نظریات اب غیر متعلق ہوچکے ہیں ؟ اس علمی مطالعے کی روایت پر بحث کی باری تو بعد میں آئے گی لیکن ذرا یہ دیکھنے دیں کہ مستشرقین کے نظریات کس حد تک “غیر متعلق” ہوچکے ہیں ؟ یہاں صرف چند مثالیں پیشِ خدمت ہیں ۔
1۔ گولڈزیہر نے The Zahiris میں “اھل الظاھر” اور “اھل الرای” کے اختلاف کے متعلق جو وضاحت پیش کی اور “راے ” کو جیسے “ذاتی فیصلہ” ((personal judgment)بنادیا ، کیا آج بھی مغربی “علمی محققین” (academic writers)اسی پر آمنا و صدقنا نہیں کہتے رہے ہیں ؟ اور کیا یہی کچھ عرب و عجم میں ان مستشرقین یا علمی محققین کے متاثرین نہیں دہراتے آرہے ؟
2۔ جوزف شاخٹ نے امام شافعی کو اصول فقہ کا “ماسٹر آرکی ٹیکٹ ” (master-architectt) قرار دیا تھا ۔ کیا مغربی علمی محققین اور ان کے مشرقی خوشہ چین ابھی تک اسی عقیدے کا پرچار نہیں کررہے ؟
3۔ امام شافعی تو 150ھ میں پیدا ہوئے جبکہ اسی سال امام ابوحنیفہ کا انتقال ہوا تھا ۔ اگر ان ماسٹر آرکی ٹیکٹ نے اصول فقہ کی تشکیل 180ھ کے لگ بھگ کی اور فقہ ان سے پچاس سال قبل 132ھ (اموی خلافت کے خاتمے) سے قبل مکمل طور پر وجود میں آچکی تھی (یہ دونوں مقدمات شاخٹ کے ہیں ) تو کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ فقہ کا اصول فقہ سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے ؟ یہی تو شاخٹ کا بنیادی دعوی ہے اور اسی کی تائید و توثیق مغربی علمی محققین اور ان کے مشرقی مقلدین کرتے آرہے ہیں ۔ مثال کے طور پر اصول فقہ یا Islamic Jurisprudence پر لکھی گئی کتب میں صرف اس بحث کو دیکھیے کہ اصول کے متعلق حنفی طریق کار اور شافعی طریق کار میں کیا فرق ہے ؟ سب یہ سبق دہراتے آرہے ہیں کہ حنفی اپنے اصول اپنے فروع سے اخذ کرتے ہیں جبکہ شافعی پہلے اصول وضع کرتے ہیں اور پھر ان سے فروع نکالتے ہیں ۔ یہ بات جو بظاہر درست معلوم ہوتی ہے اور نہایت معصوم لگتی ہے کتنی غلط اور کتنے دوررس نتائج کی حامل ہے ، اس کا اندازہ بھی ہمارے ان معصوم مشرقی مقلدین ِ مغرب کو نہیں ہے ۔
4۔ شاخٹ نے یہ ثابت کرنے کے لیے کتنا زور لگایا کہ امام شافعی نے جو اصول فقہ کا نظریہ دیا وہی تمام مذاہب کا نظریہ ہے ، “کلاسیکی” نظریہ ، اور دیگر مذاہب نے اس میں صرف جزوی ترمیم کی ہے ۔ اس طرح اس نے اصول فقہ کا پورا ڈھانچا ہی تبدیل کرکے رکھ دیا ۔ لیکن کیا یہی کچھ ابھی تک مغرب و مشرق میں ہمیں نہیں پڑھایا جارہا ؟
5۔ ہوجسن نے سیاست و حکومت کے متعلق تین تصورات بتائے : فلاسفہ کا تصور (فارابی وغیرہ) ؛ ادب کا نقطۂ نظر ( کلیلہ و دمنہ ، نصیحۃ الملوک وغیرہ) اور فقہاے کرام کا تصور (یہاں بالعموم توجہ ماوردی کی طرف رہی ہے ) ۔ آج تک یہی تقسیم مغربی علمی تحقیق کے حلقوں میں اصل الاصول کے طور پر مانی جاتی ہے اور مشرقی حلقوں میں تقلید کی روش نے اسی پر ایمان کو عین روشن خیالی قرار دیا ہے ۔
6۔ ہوجسن نے تفصیل سے واضح کیا کہ فقہاے کرام نے وقت کی حکومت کے لیے حزب مخالف (opposition party) کا کردار ادا کیا ۔ شاخٹ نے کہا کہ فقہاے کرام نے فقہ کی کتابوں میں جو کچھ لکھا ہے وہ صرف کتابوں میں ہی تھا اور محض نظری تھا (theory)جبکہ عملاً حکومتی نظام اور عدالتیں جس قانون پر چلتی تھیں (practice)وہ کچھ اور ہی تھا ۔ حکمرانوں اور فقہاے کرام کے درمیان تناو کی اس کیفیت کی مزید تفصیل کولسن نے دی ۔ انھوں نے جو کچھ کہا مغربی علمی محققین کی عمارت ابھی تک انھی بنیادوں پر قائم ہے اور ان کے مشرقی مقلدین کے پاس یہی کچھ ماننے کے سوا اور راستہ کیا ہے؟ یقین نہیں آتا تو صرف ہاشم کمالی صاحب کی کتابیں ہی پڑھ کر دیکھ لیں ۔
7۔ خدوری نے کہا کہ فقہاے کرام نے تمام غیرمسلموں کے خلاف ابدی جنگ (perpetual warr) کا نظریہ دیا ۔ اس ضمن میں اس نے حنفی فقہ کے قواعد کو یا تو نظرانداز کیا ، یا انھیں حاشیے میں دھکیل دیا (marginalize) ، یا ان کی غلط تعبیر کی ۔ یہی کچھ ابھی تک بالعموم دہرایا جارہا ہے ۔
مثالیں اور بھی بہت سی ہیں لیکن ان چند مثالوں سے اسلامی قانون کے متعلق مستشرقین کے تصور کے بنیادی خدوخال واضح ہوجاتے ہیں ۔ یہی بنیادی خدوخال “علمی مطالعے” کی روایت میں موجود ہیں ۔ جزوی ترامیم مختلف مستشرقین نے بھی کیں (کولسن نے مثال کے طور پر شاخٹ کے بعض مفروضات کو مسترد کیا ) اور علمی محققین نے بھی ؛ بلکہ ان کے مشرقی مقلدین نے بھی کہیں کہیں کی ہیں ! لیکن ان جزوی ترامیم سے اس تصور میں کوئی جوہری فرق نہیں آیا ہے ۔
تحریر : ڈاکٹر محمد مشتاق، چیئرمین شعبہ قانون ، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی ، اسلام آباد

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *