تجدد اور الحاد کا باہمی تعلق۔۔۔۔

عیسائیت کی شکست و ریخت اور جدید تنویری الحاد کے غلبے کی تاریخ بتاتی ھے کہ لوگ یک دم مذھب ترک کرکے الحاد قبول نہیں کرلیتے بلکہ یہ ایک طویل عمل کا نتیجہ ھوتا ھے جسکا آغاز تجدد پسندی سے ھوتا ھے۔ اسکا مختصر نقشہ کچھ یوں ھے:
الف) پہلے (ایک مخصوص تناظر میں) مذھب کی تاریخی تشریح و تعبیر کو رد کر کے مذھب کی انفرادی تعبیرات اختیار کرنے کا پلیٹ فارم فراھم کیا جاتا ھے
ب) یہ مذھب کو اجتماعی زندگی سے بے دخل کرکے ذاتی زندگی تک محدود کرنے کی ابتداء ھوتی ھے کیونکہ تاریخی تناظر نظر انداز کردینے کے بعد محض الفاظ باقی رہ جاتے ہیں جنکی درجنوں تعبیرات ممکن ھوتی ھیں اور ان میں یہ طے کرنے کا کوئ پیمانہ موجود نہیں ھوتا کہ کونسی تشریح درست تشریح ھے، لہذا مذھب لازما ایک ذاتی شے بن جاتا ھے اور یہ اجتماعی زندگی سیکولرائز کرنے کا مذھبی جواز ھوتا ھے
ج) یہ جدید انفرادی تشریحات مذھب کی ایک معروضی (حاضروموجود) تناظر میں تفہیم وضع کرنے کی کوشش کرتی ھیں۔ کیونکہ حاضر و موجود تناظر مذھب سے نہیں بلکہ اس سے ماوراء کسی دوسرے تاریخی تناظر (مثلا تنویری تناظر) سے برآمد ھوکر آتا ھے لہذا اب مذھب کی تعبیر ایک دوسری تاریخ اور علمیت کے مطابق کی جانے لگتی ھے۔ گویا تجدد کے نتیجے میں فی الواقع جو تبدیلی رونما ہوتی ھے وہ یہ نہیں کہ اب مذھب کی ماورائے تاریخ کوئی آفاقی عقلی تشریح پیش کردی جاتی ھے (جیسا کہ یہ متجدیدین دعوی کرتے ھیں) بلکہ صرف اتنی تبدیلی آتی ھے کہ مذھب کا معتبر حوالہ خود اسکی اپنی تاریخ کے بجاۓ ایک غیر مذہبی تاریخ کی طرف منتقل کردیا جاتا ھے، اور بس۔ یہ مذھب کو غیر معتبر بنانے کی ابتداء ہوتی ھے
د) اس غیر مذھبی تاریخ اور علمیت میں جب مذھب کو سمونے کی کوشش کی جاتی ھے تو یہاں مذھب کی حیثیت انتہائ کمزور ھوتی ھے، یہاں مذھب کو انفرادی شناخت کے حوالے سے تاریخی تقدس بھی حاصل نہیں ھوتا۔ لہذا مذھب یہاں کبھی قول فیصل کی حیثیت نہیں رکھتا بلکہ ایک تابع مہمل بن کر رھتا ھے، ہر وہ مقام جہاں خدا کی بات (چاھے وہ کتنی ہی قطعی کیوں نہ ھو) معروضی تناظر کے خلاف ھو لازما اس بات کا تقاضا کرتا ھے کہ اس معاملے میں خدا اپنا ذہن تبدیل کرے بصورت دیگر یہ بات رد کردینے لائق ھے (اور جدید تناظر میں خدا کی ایسی بے شمار باتیں ھوتی ہیں)
ھ) اگر خدا کو بالآخر وہی کہنا اور ماننا پڑتا ھے جو معروضی تناظر طے کرتا ھے تو ایسے خدا سے راہنمائ لینے کی ضرورت ہی کیا ھے، اس مقام پر پہنچ کر لوگ مذھب کا نفسیاتی قلادہ بھی اتار پھینکتے ہیں۔ یہ الحاد کی مذھبی تابوت میں آخری میخ ھوتی ھے۔

لہذا خوب یاد رھنا چاھیے کہ مذھب کو سمجھنے کا درست طریقہ اسکی تاریخیت (historicism) سے جڑے رھنا ھوتا ھے نہ کہ معروضی (objective) پیمانے اختیار کرتے چلے جانا، کیونکہ جنہیں معروضی حقائق سمجھ کر قبول کیا جارہا ھوتا ھے وہ درحقیقت غیر اقداری و نیوٹرل نہیں بلکہ ایک ماوراۓ مذھب تاریخ، تہذیب و علمیت سے برآمد ہورھے ہوتے ہیں اور جنکے بذات خود ٹھیک ھونے کی کوئ گارنٹی موجود نہیں ھوتی چہ جائیکہ انکی بنیاد پر مذھب کی مرمت شروع کردی جاۓ۔ ایسی تقریبا ہر جدوجہد کا نتیجہ تجدد کے ذریعے الحاد کا راستہ ہموار کرنے کے مترادف ھوتا ھے۔ عیسائیت کی شکست چلا چلا کر یہ سبق سنا رہی ھے اور اسلامی دنیا کے معاملات بھی اس تاریخ سے کچھ مختلف عندیہ نہیں دے رھے۔ فاعتبروا یا اولی الابصار

انہی معنی میں ھم کہتے ھیں کہ احیاۓ اسلام کا اصل مطلب خیرالقرون کی طرف مسلسل مراجعت ھے، اسکے علاوہ احیاۓ اسلام کا کوئ دوسرا معنی نہیں۔ جدید معروضی تناظر میں وضع کیا جانے والا احیاۓ اسلام کا ہر معنی اسلام کو تنویری تاریخ، علمیت و تہذیب میں ضم کردینے کا ھم معنی ھے۔
تحریر : زاہد مغل

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *