فقہ اسلامی کا امتیاز

قانون کا اصل اور حتمی ماخذ کیا ہونا چاہیے؟
ایک بنیادی سوال کا جواب نا گزیر ھے جس سے فقہ اسلامی کی بنیادی اساس کو سمجھنے میں مدد ملتی ھے۔ وہ یہ ہے کہ انسانی زندگی کا جو ضابطہ مرتب کیا جائے، وہ چاہے کسی ایک شعبے کو منظّم کرتا ہو یا ایک سے زائد شعبوں کو، اس کی آخری سند، یعنی فکری اساس اور بنیاد کیا ہو گی۔؟
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس ضابطے کی اصل اساس عقل انسانی کو ہونا چاہیئے۔ انسان اپنی عقل سے یہ فیصلہ کرے کہ اس کی اور دیگر انسانوں کی زندگی کو کیسے منظّم کیا جائے۔ اسلام اور دیگر آسمانی شریعتوں کا کہنا یہ ہے کہ یہ چیز صرف وحئ الہٰی کی بنیاد پر ہی کی جا سکتی ہے۔ نہ کوئی انسان اپنے ذاتی مفادات اور ذاتی مصلحتوں سے ماورا ہو سکتا ہے، نہ کوئی انسان اپنے خاص ماحول سے آزاد ہو کر، مجرد اخلاقی اصولوں کی بنیاد پر، یا مجرد عقلی تقاضوں کی بنیاد پر کوئی چیز طے کر سکتا ہے۔ اس لئے جب بھی انسانوں کی عقل کو یہ ذمہ داری سونپی جائے گی، ان میں ذاتی مفاد اور ذاتی مصلحت کا در آنا ناگزیر ہے۔
یہ صرف وحئ الہٰی ہے جو تمام انسانوں کے مفادات اور مصلحتوں سے آزاد ہوتی ہے۔ جو ہر انسان کی فلاح و بہبود اور کامیابی کا خیال رکھتی ہے۔، اور اس کی نگاہ میں ہر انسان کی فلاح و بہبود برابر اور یکساں اہمیت کی حامل ہے۔ اس کے مقابلے میں جب عقل انسانی کو یہ ذمہ داری دی جائے گی تو یا تو ان امور کا فیصلہ اپنے تجربہ کی بنیاد پر کرے گی، یا قیاس و استدلال کی بنیاد پر کرے گی۔ تجربہ اور قیاس و استدلال کے علاوہ انسانی عقل کے پاس اور کوئی ایسا ذریعہ نہیں ہے کہ جس سے کام لے کر وہ انسانوں کے لئے کوئی نظام وضع کر سکے۔ تجربہ ہر انسان کا محدود ہوتا ہے۔ کسی انسان کا تجربہ اتنا لا محدود نہیں ہوتا کہ آپ اسلام آباد میں بیٹھ کر چینیوں کے لئے نظام وضع کردیں، یا کوئی چینی بیجنگ میں بیٹھ کر ہمارے لئے نظام وضع کر دے۔ آج ہمارے لئے یہ ممکن نہیں کہ ہم میں سے کوئی شخص آج سے پانچ سو سال بعد میں آنے والوں کے لئے کوئی نظام وضع کردے۔ کسی انسان کا تجربہ لامتناہی نہیں ہوتا۔ لہذا ایک انتہائی محدود تجربہ کی روشنی میں لامحدود انسانوں کے لا محدود معاملات کے لئےنظام وضع کیا ہی نہیں جا سکتا۔
یہی حال قیاس کا ہے کہ انسان کسی دیکھی ہوئی چیز پر ان دیکھی چیزوں کو قیاس کرتا ہے۔ ایک چیز آپ نے دیکھی اور اس پر ایک دوسری ان دیکھی چیز کو قیاس کر کے ایک اندازہ معلوم کرلیا۔ جو دو یا چار پانچ چیزیں آپ نے دیکھی ہیں ان پر ان ہزاروں بلکہ لاکھوں اور کروڑوں چیزوں کو قیاس نہیں کیا جا سکتا جو ہمارے مشاہدہ میں نہیں آئیں۔ پھر اگر یہ عقل فرد کی ہے تو معاملہ اور بھی خطرناک ہو جاتا ہے۔ ایک فرد کی عقل پر بھروسہ کر کے جن لوگوں نے معاملات چلائے ان کا انجام دنیا کے سامنے ہے۔اگر ایک سے زائد افراد کو قیاس و استدلال کی بنیاد پر نظام وضع کرنے کی ذمہ داری دی جائے تو بھی دنیا کا تجربہ ھمارے سامنے ہےکہ وہ اپنے ذاتی مفادات سے بالاتر نہیں ہو سکتے۔ جس طبقہ سے اس گروہ کا تعلق ہو گا اس طبقہ کے مفاد کو وہ گروہ پیش نظر رکھے گا اور جس طبقے سے تعلق نہیں ہو گا اس طبقے کا مفاد مجروح ہو جائے گا۔ مثلا اگر اساتذہ اور طلبہ کو ملک کا نظام بنانے کی اجازت دے دی جائے تو اس نظام میں سارا مفاد اساتذہ اور طلبہ ہی کا ہو گا اور مزدوروں،کسانوں، سرمایاداروں، کارخانہ داروں اور ملازمین سب کا مفاد مجروح ہو جائے گا۔ ملازمین کو یہ حق دیا جائے تو بقیہ سب کا مفاد مجروح ہو جائے گا۔
اس لئے اللہ کی شریعت نے یہ طے کیا کہ کسی بھی نظام میں، اور انسانی زندگی کے کسی بھی ڈھنگ میں جو جو چیزیں ضروری اور اساسی حیثیت رکھتی ہیں، ان کی وہ بنیادی اساسات اور ان کے وہ بنیادی احکام وحئ الہٰی کے ذریعے طے کر دیئے جائیں جہاں عقل کے بھٹکنے کا امکان ہے۔ جہاں انسانی عقل کے بارے میں اس بات کا امکان ہے کہ وہ کسی خاص طبقہ یا فرد کے مفاد کو پیش نظر رکھے گی، وہاں وحئ الٰہی نے وہ بنیادی تصورات فراہم کر دیئے۔ اچھائی اور برائی کا معیار طے کر دیا کہ کیا چیز اچھی ہے اور کیا چیز بری ہے۔ ایک مرتبہ جب یہ بنیادی ڈھانچہ تیار ہو جائے کہ کیا خیر ہے اور کیا شر ہے، اور یہ کہ حق و باطل کا آخری معیار کیا ہے تو پھر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ان حدود کے اندر انسانی عقل کو اجازت ہے کہ وہ جتنی تفصیلات چاہےطے کر لے۔ وہ تفصیلات جو کسی فرد یا گروہ کی عقل طے کرے گی اگر قرآن و سنت کے ان بنیادی احکام کے مطابق ہیں تو قابل قبول ہیں اور اگر ان سے متعارض ہیں تو ناقابل قبول ہیں۔ ان بنیادی احکام کے اندر اگر ایک سے زائد آراء پائی جاتی ہیں اور اس ڈھانچہ میں ایک سے زائد آراء کی گنجائش موجود ہے تو وہ ایک سے زائد آراء بھی قابل قبول ہیں۔
فقہاء کے درمیان اختلافات کے اسباب پر پیش کی گئی تحریر میں ہم نے مثالیں دی تھیں کہ کس طرح ایک حدیث کے ایک سے زائد مفاہیم صحابہ، تابعین اور فقہاء نے اپنی اپنی فہم و بصیرت اور اپنے علم کے مطابق سمجھے، اور وہ سارے کے سارے مفاہیم دلائل کی بنیاد پر امت کے اہل علم و فکر کے مختلف طبقوں نے قبول کئے۔ جہاں ایک سے زائد تعبیرات کی گنجائش تھی وہاں حضورؐ نے ایک سے زائد تعبیرات کی اجازت دے دی۔ لیکن یہ اجازت ان حدود اور چوکھٹے کے اندر دی گئی جو قرآن پاک اور اللہ کے رسولﷺ کی سنت میں موجود ہیں۔ یہ بنیادی رہنمائی جو قرآن مجید اور سنت نے دے دی، یہ موجود نہ ہو تو وہ کچھ ہوتا ہے جو آج مغرب میں ہو رہا ہے۔ آج وہاں آئے دن نظریات و مذاہب بدلتے ہیں۔ ہر آنے والی صبح حق و باطل کا ایک نیا معیار لے کر وجود میں آتی ہے۔ آج کا مغرب ماضی سے رشتہ توڑ چکا ہے، وہاں ماضی کی تمام روایات دم توڑ چکی ہیں۔ حق و باطل کا فیصلہ انسانوں کے مادی مفادات کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ مغرب میں یہ طے کرلیا گیا کہ فلاں جماعت یا ادارے کے ارکان ، جن کی تعداد دو سو یا تین سو یا چند ہزار ھے، ان کی عقل زندگی کے تمام بڑے بڑے معاملات کا حتمی اور قطعی فیصلہ کر سکتی ہے۔ چنانچہ انسانوں کی عقل نے جو فیصلے کئے وہ ناقابل بیان ہیں، ہماری حیا اس کی اجازت نہیں دیتی کہ ان فیصلوں کی مثالیں دیں جو انسانوں نے ہماری دنیا کی بیسویں اور اکیسویں صدی کے انسانوں کے باری میں اپنی عقل و بصیرت کی بنیاس پر کئے ہیں۔

فقہ اسلامی کا امتیاز:
فقہ اسلامی کی بنیاد وحی الہی پر ہے اسی لیے یہ ان تمام نقائص سے پاک ہے جو انسانی قوانین میں موجود ہین ۔ یہ انسانی خودساختہ قوانین سے کیسے ممتاز ہے اسکا مختصر جائزہ پیش ہے۔
٭جامعیت وہمہ گیری:
فقہ اسلامی میں جامعیت وہمہ گیری پائی جاتی ہے کہ یہ تمام انسانوں کی ضروریات کو پوری طرح حاوی ہے اور ان کی زندگی اور زندگی کے ہرحال کے متعلق مرتب وجامع نظام پیش کرتی ہے، جو انسان کی شخصی زندگی، عائلی زندگی، قبائلی وشہری زندگی اور ظاہری وروحانی زندگی کے ہرپہلو سے اس کی رہبری کرتی ہے، وہ صرف اجتماعی وسیاسی زندگی ہی تک محدود نہیں بلکہ وہ انسان کی انفرادی وشخصی زندگی کے اصول بھی سکھاتی ہے، معاملہ عقائد وعبادات کاہو، اخلاق وتمدن کاہو، سیاست وحکومت کاہو، ملازمت و تجارت کاہو، تعلیم وتربیت کاہو، شادی بیاہ کاہو، سیروتفریح اور غم ومصیبت کاہو، غرض یہ کہ انسانی زندگی سے متعلق جس قسم کا بھی معاملہ ہو فقہ اسلامی اس میں انسان کی بھرپور رہنمائی کرتی ہے۔

٭عقل وحکمت سے مطابقت:
فقہ اسلامی کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں معقولیت بھی پائی جاتی ہے، علماء، محققین نے اپنی اپنی تصانیف میں پورے شرح وبسط کے ساتھ اس کی معقولیت پر گفتگو فرمائی ہے، علامہ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ، ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ، امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ، امام رازی رحمۃ اللہ علیہ، شاہ ولی اللہ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ، مولانا قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ وغیرہم نے اس پہلوپر سیرحاصل بحث کی ہیں اور یہ ثابت کیا ہے کہ شریعت کے احکام عقل کے تقاضوں اور مصلحتوں کے عین مطابق ہیں؛ حتی کہ بعض اہل علم نے تو یہاں تک کہا ہے کہ شریعت تمام تر مصلحت ہی سے عبارت ہے اور ہرحکمِ شرعی کا مقصد یاتو کسی مصلحت کوپاناہے یاکسی نقصان اور مفسدہ کا ازالہ ہے۔(قواعد الاحکام لعزالدین بن عبدالسلام:۱/۹)
اس کے برخلاف انسان کی عقل کوتاہ ونارساہے اور خود اپنے نفع ونقصان کو سمجھنے سے بھی قاصر وعاجز ہے، دوسرے انسان بعض اوقات خواہشات سے اس قدر مغلوب ہوجاتا ہے کہ کسی بات کو نقصان جانتے ہوئے بھی اس کو قبول کرلیتا ہے، اس کی واضح مثال شراب ہے، شراب انسان کے لیے نہایت نقصان دہ اور اس کی صحت کو برباد کردینے والی چیز ہے، اس پر اتفاق ہے، لیکن آج دنیا کے ان تمام ملکوں میں جو انسانی قانون کے زیرسایہ زندگی بسرکررہے ہیں شراب کی اجازت ہے، غیرقانونی جنسی تعلق اور ہم جنسی کے بارے میں تمام میڈیکل ماہرین متفق ہیں کہ یہ صحت کے لیے نہایت مہلک فعل ہے اور نہ صرف اخلاق کے لیے تباہ کن ہے بلکہ طبی نقطۂ نظرسے بھی سماج کے لیے زہرہلاہل سے کم نہیں ہے، اس کے باوجود عوامی دباؤ اور آوارہ خیال لوگوں کی کثرت سے مجبورہوکر بہت سے ترقی یافتہ ملکوں میں ان خلافِ فطرت امور کی بھی اجازت دے دی گئی ہے، فقہ اسلامی کہیں بھی عقل اور حکمت ومصلحت سے برسرِپیکار نظر نہیں آتی اور اس کا ایک ایک حکم انسانی مفادومصلحت پر مبنی ہے۔

٭ابدیت ودوام:
کسی بھی قانون کے مفید اور فعال رہنے کے لیے جہاں یہ ضروری ہے کہ اس میں حالات ومواقع کے لحاظ سے تغیرات کو قبول کرنے کی گنجائش رہے وہیں ایک گونہ ثبات ودوام اور بقاء واستمرار بھی ضروری ہے، جو قانون بالکل بے لچک اور تغیرناآشناہو وہ زمانہ کی تبدیلیوں کا ساتھ نہیں دے سکتا اور جس قانون میں کوئی بقاء واستحکام نہ ہو وہ انصاف قائم کرنے اور لوگوں کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکتا، کیونکہ اس کے ہراصول میں شکست وریخت کی گنجائش ہوگی اور کسی بھی قانون کو لوگ اپنی خواہش کے سانچے میں ڈھال سکیں گے۔
اسلام میں ان دونوں پہلوؤں کی رعایت ملحوظ ہے، کچھ احکام وہ ہیں جن کی بابت اصول وقواعد اور شریعت کے مقاصد کی وضاحت پر اکتفاء کیا گیا ہے، ہرعہدمیں جو مسائل پیداہوں ان کو ان اصولوں کی روشنی میں حل کیا جائے گا اور بعض مسائل میں شریعت نے جزوی تفصیلات کو بغیرکسی استثناء اور تخصیص کے متعین کردیا ہے، یہ تحدید اس بات کی علامت ہے کہ یہ قیامت تک قابلِ عمل ہے، اس طرح شریعت میں جو اصولی ہدایات دی گئی ہیں اور جن قواعد ومقاصد کی رہنمائی کی گئی ہے وہ ناقابلِ تبدیل ہیں۔ فقہ اسلامی کا سرچشمہ یہی نصوص ہیں جوقیامت تک ہرطرح کے تغیرات واصطلاح سے ماوراء ہیں جبکہ وضعی قوانین کی اساس انسانی خیالات وجذبات ہیں جو ہرآن وزمان تغیر وتبدیلی سے دوچار ہیں۔

٭فطرت انسانی سے ہم آہنگی:
انسان کو اللہ نے پیدا کیا ہے وہ اس کی ضروریات وتقاضے سے بھی پوری طرح واقف ہے اس لیے اس نے جو شریعت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے سے انسانیت کو عطاکی وہ پوری طرح فطرتِ انسانی سے ہم آہنگ ہے، اس لیے قرآن نے اسلام کو دینِ فطرت سے تعبیر کیا ہے۔ (الروم:۳۰)
فطرت سے بغاوت ہمیشہ انسان کے لیے نقصان وخسران اور تباہی وبربادی کا سبب بناہے، انسان کے بنائے ہوئے قانون میں فطرت سے بغاوت کا رجحان قدم قدم پر ملتا ہے، مثلاً اللہ تعالیٰ نے عورت کی فطرت میں جلدبازی، زودرنجی اور بعجلت قدم اٹھانے کا مزاج رکھا ہے، اس لیے اسلام نے طلاق کا اختیار عورت کے ہاتھ میں نہیں رکھا، بلکہ مردکو طلاق کا اختیار دیا؛ لیکن مغرب نے مردوعورت کومساوی درجہ دیتے ہوئے طلاق کے معاملہ میں بھی دونوں کو یکساں حیثیت دے دی، اس کا نتیجہ یہ ہواکہ طلاق کی شرح اس معاشرہ میں بہت بڑھ گئی حتی کہ بہت سے ملکوں میں نکاح کے مقابلہ میں طلاق کی شرح بڑھی ہوئی ہے اور اس کے نتیجہ میں خاندانی نظام بکھرکر رہ گیا ہے۔ اسی طرح انسانی فطرت ہے کہ سخت اور مناسب سزائیں ہی انسان کو جرم سے باز رکھ سکتی ہیں اور مجرم کے ساتھ حسنِ سلوک دراصل مظلوم کے ساتھ ناانصافی اور سماج کو امن سے محروم کردینے کے مترادف ہےاس لیے اسلام میں قتل کی سزا قتل رکھی گئی ہے اور بعض دیگر جرائم میں بھی سخت سزائیں رکھی گئی ہیں لیکن بعض ممالک میں ہمدردی وانسانیت کے نام پر مجرم کو سہولتیں دی گئیں، اس کا نتیجہ یہ ہواکہ جرائم پر جسارت روز مرہ بڑھتی جارہی ہے اور جو سزائیں دی جارہی ہیں وہ جرائم کے سدباب کے لیے ناکافی ہیں۔ شریعتِ اسلامی کے جس حکم کو بھی حقیقت پسندی کے ساتھ دیکھا جائے تو محسوس ہوگا کہ اس میں قانونِ فطرت کی مطابقت غیرمعمولی حدتک پائی جاتی ہے، جبکہ انسان کے خودساختہ قوانین میں فطرت سے بغاوت اور خواہشات کے غلبہ کا رجحان ہرجگہ نمایاں ہے۔

٭توازن واعتدال:
شریعتِ اسلامی کا ایک وصف اس کا توازن واعتدال بھی ہے، مثلاً مردوعورت انسانی سماج کے دولازمی جزہیں، دنیامیں کچھ ایسے قوانین وضع کئے گئے ہیں جن میں عورت کی حیثیت جانور اور بے جان املاک کی سی قرار دے دی گئی، نہ وہ کسی جائیداد کی مالک ہوسکتی تھی، نہ ہی تصرف کرسکتی تھی، نہ اس کو اپنے مال پر اختیارتھا، نہ اپنی جان پر، یہاں تک کہ اہلِ علم کے درمیان بحث جاری تھی کہ عورتوں میں انسانی روح پائی جاتی ہے یا حیوانی؟ اس کے بالمقابل دوسری طرف کچھ لوگوں نے عورتوں کو تمام ذمہ داریوں میں مردوں کے مساوی قراردے دیا، عورتوں کی جسمانی کمزوری، اس کے ساتھ پیش آنے والے قدرتی حالات وعوارض اور طبیعت ومزاج اور قوتِ فیصلہ پر ان کے اثرات کونظرانداز کردیا، اس کا نتیجہ یہ ہواکہ بظاہرتو اسے عورت کی حمایت سمجھاگیا لیکن انجام کار اس آزادی نے سماج کو انتشار، اخلاقی تنزل ، خاندانی تباہی ،بے حیائی کی طرف دھکیل دیا اور خود عورتوں کو ناقابلِ تحمل ذمہ داریوں میں جکڑدیا۔
اسلام نے مردوں اور عورتوں سے متعلق نہایت متوازن قانون دیا ہے، انسانی حقوق میں مردوں اور عورتوں کو مساوی درجہ دیا گیا ہے “وَلَہُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْہِنَّ” (البقرہ:۲۲۸) لیکن سماجی زندگی میں دونوں کے قوی اور صلاحیت کے لحاظ سے فرق کیا گیا ہے اور بال بچوں کی تربیت کی ذمہ داری عورتوں پر اور کسبِ معاش کی ذمہ داری مردوں پر رکھی گئی ہے، سماجی زندگی کا یہ نہایت زریں اصول ہے، جس میں خاندانی نظام کا بقاء، اخلاقی اقدار کی حفاظت اور عورت کو ناقابلِ برداشت مصائب سے بچانا ہے۔
اس طرح دولت مندوں اور غریبوں، آجروں اور مزدوروں، عوام اور حکومت کے تعلقات اور مجرموں اور جرم سے متاثر مظلوموں کے درمیان انصاف وغیرہ احکام کو اگر حقیقت پسندی کے ساتھ دیکھا جائے تو قانونِ شریعت میں جو اعتدال نظر آئے گا گذشتہ اور موجودہ ادوارمیں انسانوں کے بنائے ہوئے کسی قانون میں اس کی مثال نہیں ملے گی۔

٭عدل وانصاف:
شریعتِ اسلامی کا ایک امتیازی پہلو یہ بھی ہے کہ اس میں انسانیت کے ساتھ مساویانہ سلوک ہے، دین کی بنیادہی دراصل عدل پرہے (النحل:۹۰) اس لیے اسلام کی نگاہ میں رنگ ونسل، جنس اور قبیلہ وخاندان کی بنیادپر کوئی تفریق نہیں ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے اے لوگو! ہم نے تم کو ایک ہی مردوعورت سے پیدا کیا ہے اور تم کو خاندانوں اور قبیلوں میں اس لیے تقسیم کیا ہے تاکہ ایک دوسرے کو پہچان سکو، بے شک تم میں سب سے زیادہ معززاللہ کے نزدیک وہ ہے جو سب سے زیادہ تقوی اختیار کرنے والا ہو۔ (الحجرات:۱۳)
حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو مزید واضح فرمایا: کہ کسی گورے کو کالے پر اور کسی عربی کو کسی عجمی پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے (مسنداحمد، حدیث نمبر:۲۲۳۹۱) اسلام کے تمام قوانین کی اساس اسی اصول پرہے، برخلاف انسانی قوانین کے، انسانوں نے جوبھی قوانین وضع کئے ہیں وہ ایک گروہ کی برتری اور دوسرے طبقہ کی تذلیل وحق تلفی پر مبنی رہا ہے، لیکن اسلام نے دنیا کو ایک ایسے قانون سے روشناس کیا جس کی بنیاد انسانی وحدت مساوات اور ہرطبقہ کے ساتھ ایسے انصاف پر مبنی ہے جوکسی طبقہ کو حقیر اور اچھوت بنانے کی اجازت نہیں دیتا۔

٭حقیقی نافعیت:
شریعتِ اسلامی حقیقی نافعیت اورمال وانجام کی سعادت پر مبنی ہے، انسان کے بنائے ہوئے قوانین میں حقیقی نفع وضرر سے زیادہ خواہشات وجذبات کی رعایت ہے، شراب صحت انسانی کے لیے مضرہے، نشہ جنون کا ایک درجہ ہے، خنزیرکا گوشت مختلف طبعی بیماریوں اور اخلاقی مفاسد کی جڑہے، عصمت وعفت کے مذہبی تصورکے خلاف برہنگی ہے جواخلاقی اقدار کے بھی منافی ہے اور امن وسکون کی غارت گرہے، اسلام نے ان مضرتوں پر نظررکھی اور ان امور کے بارے میں اس کی مخالفت ناقابلِ تبدیل ہے، مگر وضعی قوانین ان تمام نقصانات کو تسلیم کرنے کے باوجود ہوائے نفسانی اور ہوسِ انسانی کے سامنے سپرانداز ہے۔

٭تنفیذ/نفاذ/قبولیت کی قوت:
کسی بھی قانون کا نفاذ دوطریقوں سے ہوتا ہے، ایک تو سماج کے اندر قبولِ اطاعت کا جذبہ پیدا کرکے اور دوسرے قانون کے خلاف کرنے والوں کے لیے جبروقوت کا استعمال کرکے۔ کچھ طبیعتیں سلامتی اور شرافت کی حامل ہوتی ہیں، ان میں ازخود قانون پر عمل کرنے کا جذبہ موجود ہوتا ہے لیکن جن طبیعتوں میں سرکشی اور بغاوت ہوتی ہے یا جو خواہشات سے مغلوب ہوتی ہیں وہ جبروخوف کے بغیر سرِتسلیم خم نہیں کرتیں۔ انسانی قوانین میں عدالت ، پولیس اور دونوں شعبوں کے ذریعے سزاؤں کا خوف ہی انسان کو جرم سے باز رکھتا ہے، جبکہ شریعتِ اسلامی میں اس سے آگے ایک اور عقیدہ”آخرت کے ثواب وعذاب” کاہے اس لیے قرآن وحدیث میں ہرحکم کے ساتھ اس کے ماننے پر آخرت کا اجر اور نہ ماننے پر آخرت کی سزا کا ذکر موجودہے، یہ ایسا انقلاب انگیز عقیدہ ہے جو طاقتورسے طاقتور انسان کے دل کو ہلاکر رکھ دیتا ہے اور بڑے بڑے مجرموں کو قانون کے سامنے سپرانداز ہونے پر مجبور کرتا ہے، جب کوئی آنکھ دیکھنے والی اور کوئی زبان ٹوکنے والی نہیں ہوتی اس وقت بھی یہ عقیدہ اس کے ہاتھوں کے لیے ہتھکڑی اوراس کے پاؤں کے لیے زنجیر بن جاتا ہے۔
مسلم سماج میں اس گئے گذرے دورمیں بھی اس کی مثالیں بآسانی دیکھی جاسکتی ہیں، مثلاً یہی منشیات کا مسئلہ ہے، آج پوری دنیا اس سے دوچار ہے اور اس کے نقصانات تسلیم شدہ ہیں، امریکہ نے ان حالات کو دیکھتے ہوئے ۱۹۳۰ء میں نشہ بندی کا ایک قانون بنایا اورشراب کی مضرتوں کو واضح کرنے کے لیے صرف تشہیرپر ۶۵/ ملین ڈالر خرچ کئے، نوہزار ملین صفحات شراب کے نقصانات پر لکھے گئے، ۲۰۰/آدمی قتل کئے گئے، ۵۰/لاکھ کو قیدکی سزا دی گئی، ان لوگوں پر جو جرمانے کئے گئے وہ بے شمار ہیں؛ لیکن اس کے باوجود طاقت سے قانون کو منوایا نہیں جاسکا اور سنہ۱۹۳۳ء میں امریکی حکومت اس بات پر مجبور ہوئی کہ اس قانون کو واپس لے لے لیکن قرآن مجید نے جب شراب کو حرام قراردیا توعرب اس کے بے حد عادی تھے، یہاں تک کہ اسلام سے پہلے ان کی مذہبی تقریبات بھی شراب سے خالی نہیں ہوتی تھیں، لیکن شراب کی حرمت کا حکم آتے ہی لوگوں نے اپنا سرجھکادیا اور مدینہ کی گلیوں اور کوچوں میں شراب بہنے لگی، آج بھی صورتحال یہ ہے کہ جہالت وغفلت کے باوجود مسلمان سماج میں شراب سے جو احتیاط برتی جاتی ہے شایدہی اس کی مثال مل سکے ۔ مغربی ممالک میں خاص طورپر اس کو محسوس کیا جاسکتا ہے کہ دوش بدوش زندگی گذارنے والے مسلمان اور غیرمسلم مئے نوشی کے اعتبارسے ایک دوسرے سے بہت مختلف کردار کے حامل ہوتے ہیں۔
اسی طرح زنا اور غیرقانونی جنسی تعلق کا معاملہ ہے کہ آج بھی اس معاملہ میں مسلم سماج دوسری قوموں سے بدرجہاغنیمت ہے، یہی وجہ ہے کہ ایڈز کی بیماری کی شرح مسلم ملکوں میں سب سے کم ہے، مغربی ملکوں میں شہرشہر بوڑھے لوگوں کے لیے ہاسٹل قائم کردیئے گئے ہیں، لوگ بوڑھے ماںباپ اور بزرگانِ خاندان کو ان ہاسٹلوں میں رکھ کر اپنا بوجھ ہلکا کرلیتے ہیں، لیکن مسلم سماج میں آج بھی ایسی خودغرضی نسبتاً کم پائی جاتی ہے، والدین کا احترام اور بزرگوں کی قدردانی کو لوگ اپنا مذہبی فریضہ سمجھتے ہیں، یہ آخرت کے خوف اور آخرت میں جوابدہی کے احساس کے بغیر نہیں ہوسکتا؛ الغرض وضعی قوانین کا نفاذ قانون کی طاقت ہی سے ممکن ہے؛ لیکن قانونِ شریعت کے نفاذمیں عقیدہ وایمان کی طاقت بھی موثر کردار ادا کرتی ہے۔

 

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *