سنت – چند بنیادی سوالات

چند بنیادی سوالات:
سنت سے کیا مراد ہے؟
سنت اور حدیث میں کیا فرق ہے؟
ماخذ دین سنت ہے یا حدیث؟
کتاب اور سنت کا باہمی تعلق کیا ہے؟
سنت کتنی محفوظ ہے؟
سنت کو پہلے دن سے قرآن کی طرح مرتب ومدون کیوں نہیں کیا گیا ؟

سنت:
سپریم لاء (Supreme Law) جو حاکمِ اعلیٰ (یعنی اللہ تعالیٰ) کی مرضی کی نمائندگی کرتا ہے محمد صلی اللہ علیہ و سلم سے ہم کو دو شکلوں میں ملا ہے۔ ایک قرآن، جو لفظ بلفظ خداوندِ عالم کے احکام و ہدایات پر مشتمل ہے۔ دوسرے محمد صلی اللہ علیہ و سلم کا اسوۂ حسنہ، یا آپ ﷺ کی سنت، جو قرآن کے منشا کی توضیح و تشریح کرتی ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ و سلم خدا کے محض نامہ بر نہیں تھے کہ اس کی کتاب پہنچا دینے کے سوا ان کا کوئی کام نہ ہوتا۔ وہ اس کے مقرر کیے ہوئے رہنما، حاکم اور معلم بھی تھے۔ انﷺ کا کام یہ تھا کہ اپنے قول اور عمل سے قانون الٰہی کی تشریح کریں، اس کا صحیح منشا سمجھائیں، اس کے منشا کے مطابق افراد کی تربیت کریں، پھر تربیت یافتہ افراد کو ایک منظم جماعت کی شکل دے کر معاشرے کی اصلاح کی جدوجہد کریں، پھر اصلاح شدہ معاشرے کو ایک صالح و مصلح ریاست کی صورت دے کر یہ دکھا دیں کہ اسلام کے اصولوں پر ایک مکمل تہذیب کا نظام کس طرح قائم ہوتا ہے۔ آنحضرت کا یہ پورا کام، جو 23 سالہ پیغمبرانہ زندگی میں آپ نے انجام دیا، وہ سنت ہے جو قرآن کے ساتھ مل کر حاکم اعلیٰ کے قانون برتر کی تشکیل و تکمیل کرتی ہے اور اسی قانون برتر کا نام اسلامی اصطلاح میں شریعت ہے”۔ (ترجمان القرآن، جنوری 58ء، صفحہ 210-211)
“یہ ایک ناقابل انکار تاریخی حقیقت ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے نبوت پر سرفراز ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے صرف قرآن پہنچا دینے پر اکتفا نہیں کیا تھا بلکہ ایک ہمہ گیر تحریک کی رہنمائی بھی کی تھی جس کے نتیجے میں ایک مسلم سوسائٹی پیدا ہوئی، ایک نیا نظامِ تہذیب و تمدن وجود میں آیا اور ایک ریاست قائم ہوئی۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن پہنچانے کے سوا یہ دوسرے کام جو محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے کیے یہ آخر کس حیثیت سے تھے؟ آیا یہ نبی کی حیثیت سے تھے جس میں آپ اسی طرح خدا کی مرضی کی نمائندگی کرتے تھے جس طرح کہ قرآن؟ یا آپ کی پیغمبرانہ حیثیت قرآن سنا دینے کے بعد ختم ہو جاتی تھی اور اس کے بعد آپ عام مسلمانوں کی طرح ایک مسلمان رہ جاتے تھے۔ جس کا قول و فعل اپنے اندر بجائے خود کوئی قانونی سند و حجت نہیں رکھتا؟ پہلی بات تسلیم کی جائے تو سنت کو قرآن کے ساتھ قانونی سند و حجت ملنے کے سوا چارہ نہیں رہتا۔ البتہ دوسری صورت میں اسے قانون قرار دینے کی کوئی وجہ نہیں ہو سکتی۔
جہاں تک قرآن کا تعلق ہے وہ اس معاملے میں بالکل واضح ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم صرف نامہ بر نہیں تھے بلکہ خدا کی طرف سے مقرر کیے ہوئے رہبر، حاکم اور معلم بھی تھے جن کی پیروی و اطاعت مسلمانوں پر لازم تھی اور جن کی زندگی کو تمام اہل ایمان کے لیے نمونہ قرار دیا گیا تھا، جہاں تک عقل کا تعلق ہے وہ بھی یہ ماننے سے انکار کرتی ہے کہ ایک نبی صرف خدا کا کلام پڑھ کر سنا دینے کی حد تک تو نبی ہو اور اس کے بعد وہ محض ایک عام آدمی رہ جائے۔ جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے وہ آغاز اسلام سے آج تک بالاتفاق ہر زمانے میں اور تمام دنیا میں محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو نمونۂ واجب الاتباع اور ان کے امر و نہی کو واجب الاطاعت مانتے رہے ہیں۔ حتیٰ کہ کوئی غیر مسلم عالم بھی اس امرِ واقعی سے انکار نہیں کر سکتا کہ مسلمانوں نے ہمیشہ آنحضرت کی یہی حیثیت مانی ہے اور اسی بنا پر اسلام کے قانونی نظام میں سنت کو قرآن کے ساتھ دوسرا مآخذ قانون تسلیم کیا گیا ہے۔ اب کوئی شخص سنت کی اس قانونی حیثیت کو کیسے چیلنج کر سکتا ہے جب تک وہ صاف صاف یہ نہ کہے کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم صرف تلاوتِ قرآن کی حد تک نبی تھے اور یہ کام کر دینے کے ساتھ ہی ان کی حیثیتِ نبوی ختم ہو جاتی تھی۔ پھر اگر وہ ایسا دعویٰ کرے بھی تو اسے بتانا ہو گا کہ یہ مرتبہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو بطور خود دے رہا ہے یا قرآن نے حضور ﷺ کو یہی مرتبہ دیا ہے؟ پہلی صورت میں اس کے قول کو اسلام سے کوئی واسطہ نہیں۔ دوسری صورت میں اسے قرآن سے اپنے دعوے کا ثبوت پیش کرنا ہو گا”۔ (ترجمان القرآن، جنوری 58ء، صفحہ 216۔ 217)

سنت اور حدیث میں کیا فرق ہے؟
سلف صالحین کی اصطلاح میں سنت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے قول، فعل اور تقریر کو کہتے ہیں اور حدیث، اس سنت کی روایت کا نام ہے۔ پس سنت پہلے ہے اور حدیث بعد میں ہے۔ سنت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول، فعل اور تقریر ہے اور حدیث اس قول، فعل اور تقریر کے بیان کا نام ہے کہ جو صحابی کا ہوتا ہے۔
پس سنت مظروف ہے اور حدیث اس کا ظرف ہے۔ سنت مکین ہے اور حدیث اس کا مکان ہے ۔بعض اہل علم ‘ حدیث و سنت’کو ملا کر ایک اصطلاح کے طور پر استعمال کرتے ہیں بعض صرف حدیث یا صرف سنت کہہ دیتے ہیں۔ اسی طرح حدیث و سنت کو مترادف کے طورپراستعمال کرنے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں ،گو لغوی یا بعض فنون کے اعتبار سے اس میں کچھ تجاوز ہی کیوں نہ ہو کیوں کہ ہر زبان میں ایساہوتا ہے کہ کسی اہم مظہر یا جزو کو تغلیباً کل سے موسوم کر دیا جاتا ہے ۔

ماخذ دین سنت ہے یا حدیث؟
سلف صالحین کے نزدیک مصادر شریعت کتاب وسنت ہی ہیں نہ کہ کتاب وحدیث، اور ہمیشہ سے کتاب وسنت کی اصطلاح ہی مستعمل رہی ہے۔ کتاب سے مراد قرآن مجید ہے اور سنت سے مراد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا قول، فعل اور تقریر ہے۔
کتاب تو مابین الدفتین موجود ہے اور سنت کہاں ہے؟
یہ اہم سوال ہے کہ جس سے حدیث کی اہمیت کا پتہ ہے۔ سنت کا صرف اور صرف ایک ہی مصدر ہے اور وہ احادیث کی کتب ہیں۔جمہور اُمت کا موقف یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت جاننے کا ذریعہ وہ صحیح احادیث ہیں جو ثقہ راویوں سے مروی ہیں۔

سنت کی اہمیت:
سنت حکمت ( یعلمم الکتاب والحکمۃ ۔آل عمران:164) کی عملی شکل و صورت کا ہی نام ہے۔ چنانچہ قرآن و سنت کو الگ نہیں کیا جا سکتا۔ دونوں کو قطعی الثبوت کا درجہ حاصل ہے۔شاطبیؒ لکھتے ہیں :سنت کتاب اللہ کے احکام کے لئے بمنزلہ تفسیر اور شرح کے ہے۔ (الموافقات، ج/4،ص/10)
ڈاکٹر محمود احمد غازی بیان کرتے ہیں :’’اگر سنت نہ ہوتی تو قرآن مجید کے اصول صرف نظری بیانات اور خوشگوار اعلانات ہوتے جیسے توراۃ اور انجیل کے اعلانات محض لفظی بیانات ہوکر رہ گئے ہیں بقیہ مذہبی کتابوں میں بھی اچھے اخلاقی اصول بیان ہوئے ہیں لیکن عمل در آمد کا معاملہ صفر ہے۔ کیونکہ ان کے پیچھے کوئی عملی نمونہ نہیں ہے۔حالانکہ عملی نمونے بلاشبہ موجود تھے لیکن ان کے ماننے والوں نے ان عملی نمونوں کی تفصیلات باقی نہیں رکھیں۔ عدل و محبت، مساوات و تکریم انسانیت یہ سارے اعلانات جو قرآن میں کئے گئے ہیں ان کی عملی تشریح رسولؐ کی سنت کی شکل میں ہمارے سامنے موجود ہے‘‘۔(محاضراتِ حدیث،ص/58)
حقیقتاً سنت کا تمام تر تعلق عملی زندگی سے ہے۔ اگر ہم سنت کو نکال دیں تو اگر چہ ہم دین کی باتوں سے واقف ہوں گے، لیکن ان کی عملی شکل سے اسی طرح بے خبرہوں گے جس طرح دورِ جاہلیت میں دین حنیفی کے پیروکار تھے۔ وہ کہتے تھے کہ اے رب! ہم نہیں جانتے کہ تیری عبادت کس طرح کریں، ورنہ اسی طرح (عبادت) کرتے۔
پس قرآن مجید الفاظ ہیں اور سنت ان الفاظ کا معنی ہے اور یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں لفظ اہم ہے اور سنت میں معنی۔ قرآن مجید میں لفظ کی حفاظت پر زور ہے اور سنت میں معنی کی۔ لفظ اور معنی کا تعلق لازم وملزوم کا ہے۔ جو لوگ سنت کا انکار کرتے ہیں، وہ صرف اللہ کے الفاظ کو قبول کرتے ہیں اور ان الفاظ سے اللہ کی مراد کو نکال کر اپنی مراد ڈال دیتے ہیں۔قادیانیت، رافضیت، باطنیت، خوارجیت، اعتزال وغیرہ جیسی جتنی فکری گمراہیاں ہیں، سب کی بنیاد قرآن مجید ہے۔ اور قرآن مجید اسی وقت گمراہی کی بنیاد بن جاتا ہے جب اس کے معنی یعنی سنت کا انکار کر دیا جائے اور پھر تو صرف الفاظ ہیں، اب آپ ان سے جو کھیل کھیلنا چاہیں، کھیل سکتے ہیں اور اسی لیے خود قرآن مجید نے کہا ہے کہ یضل بہ کثیرا و یھدی بہ کثیرا۔

سنت کتنی محفوظ ہے؟
دوناقابل انکار تاریخی حقیقتیں :
1-آج تمام دنیا کے مسلمانوں میں عقائد اور طرزِ فکر، اخلاق اور اقدار (Values)، عبادات اور معاملات، نظریۂ حیات اور طریقِ حیات کے اعتبار سے جو گہری مماثلت پائی جاتی ہے، جس میں اختلاف کی بہ نسبت ہم آہنگی کا عنصر بہت زیادہ موجود ہے، جو ان کو تمام روئے زمین پر منتشر ہونے کے باوجود ایک امت بنائے رکھنے کی سب سے بڑی بنیادی وجہ ہے، یہی امر اس بات کا کھلا ہوا ثبوت ہے کہ اس معاشرے کو کسی ایک ہی سنت پر قائم کیا گیا تھا اور وہ سنت ان طویل صدیوں کے دوران میں مسلسل جاری ہے۔ یہ کوئی گم شدہ چیز نہیں ہے جسے تلاش کرنے کے لیے ہمیں اندھیرے میں ٹٹولنا پڑ رہا ہو۔
2- نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد سے ہر زمانے میں مسلمان یہ معلوم کرنے کی پیہم کوشش کرتے رہے ہیں کہ سنتِ ثابتہ کیا ہے اور کیا نئی چیز ان کے نظامِ حیات میں کسی جعلی طریقہ سے داخل ہو رہی ہے۔ چونکہ سنت ان کے لیے قانون کی حیثیت رکھتی تھی، اسی پر ان کی عدالتوں میں فیصلے ہونے تھے اور ان کے گھروں سے لے کر حکومتوں تک کے معاملات چلنے تھے،اس لیے وہ اس کی تحقیق میں بے پروا اور لا ابالی نہیں ہو سکتے تھے۔۔ان سنتوں کا علم جو متفرق افراد کے پاس بکھرا ہوا تھا، امت نے اس کو جمع کرنے کا سلسلہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات کے بعد فوراً ہی شروع کر دیا۔ کیونکہ خلفاء، حکام، قاضی، مفتی اور عوام سب اپنے اپنے دائرۂ کار میں پیش آنے والے مسائل کے متعلق کوئی فیصلہ یا عمل اپنی رائے اور استنباط کی بنا پر کرنے سے پہلے یہ معلوم کر لینا ضروری سمجھتے تھے کہ اس معاملہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی کوئی ہدایت تو موجود نہیں ہے۔ اسی ضرورت کی خاطر ہر اس شخص کی تلاش شروع ہوئی جس کے پاس سنت کا کوئی علم تھا اور ہر اس شخص نے جس کے پاس ایسا کوئی علم تھا، خود بھی اس کو دوسروں تک پہنچانا اپنا فرض سمجھا۔ یہی روایت حدیث کا نقطۂ آغاز ہے اور 11ھ سے تیسری چوتھی صدی تک ان متفرق سنتوں کو فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رہا ہے۔ موضوعات گھڑنے والوں نے ان کے اندر آمیزش کی جتنی کوششیں بھی کیں وہ قریب قریب سب ناکام بنا دی گئیں کیونکہ جن سنتوں سے کوئی حل ثابت یا ساقط ہوتا تھا،جن کی بنا پر کوئی چیز حرام یا حلال ہوتی تھی، جس سے کوئی شخص سزا پا سکتا تھا یا کوئی ملزم بری ہو سکتا تھا، غرض یہ کہ جن سنتوں پر احکام اور قوانین کا مدار تھا، ان کے بارے میں حکومتیں اور عدالتیں اور افتاء کی مسندیں اتنی بے پرواہ نہیں ہو سکتی تھیں کہ یونہی اٹھ کر کوئی شخص قال النبی صلی اللہ علیہ و سلم کہہ دیتا۔ اسی لیے جو سنتیں احکام سے متعلق تھیں ان کے بارے میں پوری چھان بین کی گئی، سخت تنقید کی چھلنیوں سے ان کو چھانا گیا۔ روایت کے اصولوں پر بھی انہیں پرکھا گیا اور درایت کے اصولوں پر بھی اور وہ سارا مواد جمع کر دیا گیا، جس کی بنا پر کوئی روایت مانی گئی ہے یا رد کر دی گئی ہے، تاکہ بعد میں بھی ہر شخص اس کے رد و قبول کے متعلق تحقیقی رائے قائم کر سکے”۔ (ترجمان القرآن، دسمبر 58ء، صفحہ 168۔169)

سنت کو پہلے دن سے قرآن کی طرح مرتب کیوں نہیں کیا گیا ؟
کسی کا یہ کہنا کہ عہدِ نبوی کے رواجات، روایات، نظائر، فیصلوں، احکام اور ہدایات کا پورا ریکارڈ ہم کو پہلے دن سے “ایک کتاب” کی شکل میں مرتب شدہ ملنا چاہیے تھا، درحقیقت ایک خالص غیر عملی طرز فکر ہے اور وہی شخص یہ بات کہہ سکتا ہے جو خیالی دنیا میں رہتا ہو۔ آپ قدیم زمانے کے عرب کی حالت کو چھوڑ کر تھوڑی دیر کے لیے آج اس زمانے کی حالت کو لے لیجیے جب کہ احوال و وقائع کو ریکارڈ کرنے کے ذرائع بے حد ترقی کر چکے ہیں۔ فرض کر لیجیے کہ اس زمانے میں کوئی لیڈر ایسا موجود ہے جو 23 سال تک شب و روز کی مصروف زندگی میں ایک عظیم الشان تحریک برپا کرتا ہے۔ ہزاروں افراد کو اپنی تعلیم و تربیت سے تیار کرتا ہے۔ ان سے کام لے کر ایک پورے ملک کی فکری، اخلاقی، تمدنی اور معاشی زندگی میں انقلاب پیدا کرتا ہے۔ اپنی قیادت و رہنمائی میں ایک نیا معاشرہ اور ایک نئی ریاست وجود میں لاتا ہے۔ اس معاشرے میں اس کی ذات ہر وقت ایک مستقل نمونۂ ہدایت بنی رہتی ہے۔ ہر حالت میں لوگ اس کو دیکھ دیکھ کر یہ سبق لیتے ہیں کہ کیا کرنا چاہیے اور کیا نہ کرنا چاہیے۔ ہر طرح کے لوگ شب و روز اس سے ملتے رہتے ہیں اور وہ ان کو عقائد و افکار، سیرت و اخلاق، عبادات و معاملات، غرض ہر شعبۂ زندگی کے متعلق اصولی ہدایات بھی دیتا ہے اور جزئی احکام بھی۔ پھر اپنی قائم کردہ ریاست کا فرمانروا، قاضی، شارع، مدبر اور سپہ سالار بھی تنہا وہی ہے اور دس سال تک اس مملکت کے تمام شعبوں کو وہ خود اپنے اصولوں پر قائم کرتا اور اپنی رہنمائی میں چلاتا ہے۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ آج اس زمانے میں بھی یہ سارا کام کسی ایک ملک میں ہو تو اس کا ریکارڈ “ایک کتاب” کی شکل میں مرتب ہو سکتا ہے؟ کیا ہر وقت اس لیڈر کے ساتھ ٹیپ ریکارڈ لگا رہ سکتا ہے؟ کیا ہر آن فلم کی مشین اس کی شبانہ روز نقل و حرکت ثبت کرنے میں لگی رہ سکتی ہے؟ اور اگر یہ نہ ہو سکے تو کیا آپ کہیں گے کہ وہ ٹھپا جو اس لیڈر نے ہزاروں لاکھوں افراد کی زندگی پر پورے معاشرے کی ہیئت اور پوری ریاست کے نظام پر چھوڑا ہے، سرے سے کوئی شہادت ہی نہیں ہے۔ جس کا اعتبار کیا جا سکے؟ کیا آپ یہ دعویٰ کریں گے کہ اس لیڈر کی تقریریں سننے والے، اس کی زندگی دیکھنے والے، اس سے ربط و تعلق رکھنے والے بے شمار اشخاص کی رپورٹیں سب کی سب ناقابل اعتماد ہیں کیونکہ خود اس لیڈر کے سامنے وہ “ایک کتاب” کی شکل میں مرتب نہیں کی گئیں اور لیڈر نے ان پر اپنے ہاتھ سے مہر تصدیق ثبت نہیں کی؟ کیا آپ فرمائیں گے کہ اس کے عدالتی فیصلے، اس کے انتظامی احکام، اس کے قانونی فرامین، اس کے صلح و جنگ کے معاملات کے متعلق جتنا مواد بھی بہت سی مختلف صورتوں میں موجود ہے اس کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے، کیونکہ وہ “ایک جامع و مانع کتاب” کی شکل میں تو ہے ہی نہیں؟
ان امور پر اگر بحث کی نیت سے نہیں بلکہ بات سمجھنے کی نیت سے غور کیا جائے تو ایک ذی فہم آدمی خود محسوس کر لے گا کہ یہ “ایک کتاب” کا مطالبہ کتنا مہمل ہے۔ اس طرح کی باتیں ایک کمرے میں بیٹھ کر چند نیم خواندہ اور فریب خوردہ عقیدت مندوں کے سامنے کر لی جائیں تو مضائقہ نہیں، مگر کھلے میدان میں پڑھے لکھے لوگوں کے سامنے ان کو چیلنج کے انداز میں پیش کرنا بڑی جسارت ہے۔
استفادہ تحریر: سنت کی آئینی حیثیت ، سید مودوی ، حدیث و سنت از حافظ زبیر

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *