پاکستان، ملاازم اور غلام احمد پرویز

.

ہندوؤں سے برہمنیت اور عیسائیوں سے پاپائیت کا تصور لے کر ‘مذہبی پیشوائیت’ کے نام سے اسے مسلمانوں کی تاریخ کی ایک ‘مستقل اور ٹھوس حقیقت’ قرار دے ڈالنے کے بعد،اب پاکستان کی تاریخ کا بھی اسے حصہ بنا ڈالنے کی کوشش ‘مفکر قرآن’ نے بایں الفاظ کی ہے :
”اب حالت یہ ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے تحریک ِپاکستان کی اس قدر مخالفت کی تھی، یہاں سب سے زیادہ معتبر بنے ہوئے ہیں اور سرمایہ داری اور تھیاکریسی جن سے نجات حاصل کرنے کے لئے اس مملکت کا وجود عمل میں آیا تھا، اور جن کا ہمیشہ آپس میں گٹھ جوڑ ہوتا ہے، مملکت پرمسلط ہورہی ہے۔( طلوع اسلام: 30 جولائی 1955ء، صفحہ 13)
”اربابِ شریعت سے، اس طبقے (اربابِ حکومت و سیاست)کا ساجھا ہے اور ا س کی وجہ سے یہ حضرات بھی اس ٹھاٹھ کی زندگی بسر کررہے ہیں جو تشکیل پاکستان سے پہلے ان کے حیطۂ تصور میں بھی نہیں آسکتی تھی۔( طلوع اسلام: جنوری 1952ء، صفحہ 11 فروری 1962ء، صفحہ 75)
یہ بات پہلے گزر چکی ہے کہ ‘مفکر قرآن ‘کے نزدیک ‘ملائیت’ کی بدترین شکل جماعت اسلامی کے پیکر میں پاے کوب ہے، اور یہ بھی بیان ہوچکا ہے کہ اس ‘مزاج شناس خدا’کے ہاں ”مولانا مودودی ہی ملائیت کے سرخیل ہیں ” … نیز یہ بات بھی مذکور ہوچکی ہے کہ ”جماعت ِاسلامی ہی مُلا ہے۔” لہٰذا پاکستان میں ارباب اقتدار اور جن ارباب ِشریعت کے درمیان ‘گٹھ جوڑ’، ‘ساجھا پن’، ‘ملی بھگت’ اور ‘شریفانہ معاہدہ’ ہوا ہے، ان سے مراد جماعت اسلامی ہی کے افراد و اَعیان ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جو حکمرانوں کے ظلم و ستم کے لئے ‘شرعی سندات’ مہیا کرتے ہیں اور یہی وہ جماعت ہے جواربابِ اقتدار کی ہاں میں ہاں ملاتی اور ان کی بانہوں میں بانہیں ڈالتی ہے۔جماعت اسلامی ہی وہ’مذہبی پیشوائیت’ ہے جو اربابِ حکومت کو ظل اللہ کے مقدس خطاب سے نوازتی ہے اور اس کے بدلے میں سربراہانِ مملکت مالی وظائف کا انتظام کیا کرتے ہیں ۔ ۔۔

لیکن وہ جو کہتے ہیں کہ دروغ گو را حافظہ نہ باید، تو اس کی واضح اور بہترین مثال ‘مفکرقرآن’کے کردار میں پائی جاتی ہے۔ حکومت کے ساتھ ‘ساجھا پن’، ‘گٹھ جوڑ’ اور ‘شریفانہ معاہدہ’ کے وقوع کا اعلان کرڈالنے کے بعد جماعت اسلامی کے متعلق یہ بھی کہا جاتاہے کہ
”قیامِ پاکستان کے بعد سے لے کر اس وقت تک ملک میں جو حکومت بھی قائم ہوئی ہے، اس جماعت نے شور مچا دیا ہے کہ اقتدار ان لوگوں کے ہاتھ میں ہے جو فاسق و فاجر ہیں ، مغرب زدہ ہیں ، خدا ورسول سے بیگانہ ہیں ۔ شریعت سے ناآشنا ہیں ، کلبوں میں جاتے ہیں ۔ جم خانوں میں رنگ رلیاں مناتے ہیں ۔ یہ جماعت ہر برسراقتدار پارٹی کے خلاف، اسی قسم کا پراپیگنڈہ مسلسل کرتی چلی آرہی ہے۔( طلوع اسلام: مارچ 1967ء، صفحہ 16)
ایک اور مقام پر جماعت ِاسلامی کی ہر حکومت کے خلاف مخالفانہ پالیسی کو بایں الفاظ بیان کیا گیا ہے :
”اس کی ہر دل عزیزی کا راز صرف یہ ہے کہ یہ ہر حکومت کو برابر گالیاں دیتی رہتی ہے۔ موجودہ حکومت ہی کو نہیں ، بلکہ پہلے دن سے ہر اُس حکومت کو جس نے ان کی کوئی بات نہیں مانی، اگر یہ آج حکومت کو گالیاں دینا بند کردے تو اس کی ساری شہرت ختم ہوجائے۔ شہرت کیا، اس کا وجود ہی باقی نہ رہے۔( طلوع اسلام: جولائی 1967ء، صفحہ 72)
اب ذرا اس تضاد بیانی کو ملاحظہ فرمائیے کہ جماعت ِاسلامی، ہر حکومت کی مخالف بھی رہی ہے۔ اس کے خلاف شوروغوغا بھی کرتی رہی ہے، اور یہ بھی کہ ‘ملا’ ہونے کی حیثیت سے اربابِ اقتدار کے ساتھ اس کا گٹھ جوڑ ، ساجھا پن اور ‘شریفانہ معاہدہ’ بھی رہا ہے۔ اب سیدھی سی بات ہے کہ یا تو مذہبی پیشوائیت کے بارے میں یہ پرویزی قاعدہ کلیہ بالکل بے اصل اور بے بنیاد ہے کہ اس کا اربابِ اقتدار کے ساتھ گٹھ جوڑ ہوا کرتا ہے اور یا پھر یہ کہئے کہ جماعت ِاسلامی سرے سے ‘ملا’ ہے ہی نہیں ۔ کیا وابستگانِ طلوع اسلام اس کی وضاحت فرمائیں گے؟

پاکستان میں تھیاکریسی کا مصداق کون؟
‘مفکر ِقرآن’ صاحب نے ‘مذہبی پیشوائیت’ کی صفات اتنی کثرت سے بیان کی ہیں کہ ان کاشمار کرنا مشکل ہے کہ ان کا اقتدارِ وقت کے ساتھ گٹھ جوڑ ہوتا ہے۔ محراب و منبر اور تاج وتخت کے درمیان ملی بھگت ہوا کرتی ہے، ارباب ِشریعت اربابِاقتدارکے گن گاتے ہیں اور وہ جواباً اُنہیں مراعات فراہم کرتے ہیں ۔ پیشوایانِ مذہب، عامة الناس کو کرسی نشینوں کی اطاعت و اِنقیاد پر آمادہ کرتے ہیں اور اہل اقتدار کے ساتھ ‘ساجھا پن’ کے مزے لوٹتے ہیں ۔ گدی نشینوں اور کرسی نشینوں کے درمیان ‘شریفانہ معاہدہ’ کے باعث علما حضرات لوگوں کو یہ سبق دیتے ہیں کہ ”راجہ، ایشور کا اوتار ہوتا ہے اور بادشاہ، خدائی حقوق کا حامل ہوتا ہے، لہٰذا اس کی اطاعت تم پر فرض ہے۔” اس کے بدلہ میں راجہ اور بادشاہ مالی وظائف کا انتظام کرتے ہیں اور یوں مذہبی پیشوائیت اور اربابِ اقتدار کے درمیان راہ و رسم ہمیشہ برقرار رہتی ہے۔
‘مفکر قرآن’ کی بیان کردہ ان صفات کی روشنی میں اگر بے لاگ عدل و انصاف سے کام لے کر تحقیق کی جائے توایک طرف تویہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ‘ملائیت کے سرخیل’ مولانا مودودی اور ان کی جماعت پاکستان میں ہر حکومت کے مخالف رہے ہیں ۔ بلکہ بقول پرویز صاحب، اربابِ حکومت کو گالیاں دیتے رہے ہیں اور دوسری طرف یہ حقیقت بھی طشت اَز بام ہوجاتی ہے کہ چوہدری غلام احمد پرویز کے ہر حکومت کے سربراہ کے ساتھ اچھے اور خوشگوار تعلقات ہمیشہ قائم رہے ہیں ، ہر حکمران کے وہ مقرب رہے ہیں اور ہر ذی اقتدار ہستی کے ساتھ ان کی اچھی علیک سلیک رہی ہے اور یہ بات اس اعتبار سے بھی قرین قیاس ہے کہ ہمارے حکمرانوں میں سے جو بھی تخت ِاقتدار پر متمکن ہوا ہے، وہ مغربی افکار و نظریات ہی کا دودھ پی پی کر مغرب ہی کی بے حیا معاشرت کی گود میں پل کر آیا ہے اور اسے تقویٰ و پرہیزگاری کی اسلامی پابندی ہمیشہ گراں گزری ہے اس لئے ایسی پابندیوں کو ‘ملا کی عائد کردہ پابندیاں ‘ قرار دے کر اُنہیں ختم کردینے کی ‘دانشورانہ’ کاوشیں برسر اقتدار طبقہ کوبڑی بھلی لگتی رہی ہیں ، کیونکہ وہ سب کچھ جو مغرب میں حلال اور جائز ہے اور ‘ملاّ کے اسلام’ میں حرام اور ممنوع ہے، وہ اگر ‘مفکر قرآن’ کی بارگاہ سے جائز اور حلال قرا رپائیں اور قرآن کی سند بھی ہاتھ میں رہے تو اس سے بڑھ کر اسلام کو چھوڑ کر مسلمان بنے رہنے کا اچھا نسخہ کون سا ہوسکتا ہے۔ اس لئے حکمرانوں کے ساتھ ‘مفکر قرآن’کی راہ و رسم کا ہونا عین قرین قیاس ہے، لیکن ‘مفکر قرآن’ کے حکمرانوں کے ساتھ اچھے تعلقات کا ہونا محض قیاس و گمان ہی کا تقاضا نہیں ہے بلکہ طلوعِ اسلام کے مشمولات بھی اسے امر واقعہ قرار دیتے ہیں :
”پرویز صاحب کے قائداعظم سے لے کر ان تمام حضرات سے جو وقتاً فوقتاً صاحب ِاقتدار رہے، اچھے مراسم تھے، لیکن اُنہوں نے ان میں سے کسی سے بھی کوئی مفاد حاصل نہیں کیا، نہ کوئی منصب مانگا، نہ کوئی اعزاز طلب کیا، نہ کوئی فیکٹری الاٹ کرائی، نہ جاگیر حاصل کی۔( طلوع اسلام، جنوری1974ء صفحہ 23)
صرف یہی نہیں بلکہ اربابِ اقتدار کو وہ اپنے سالانہ کنونشنوں میں مدعو کیا کرتے تھے، اور حکومتی وزرا کرسئ صدارت پر جلوہ افروز ہوکر شریک ِکنونشن ہوا کرتے تھے۔صرف ایک مثال ملاحظہ فرمائیے:
”طلوعِ اسلام کے کنونشن کے اجلاس، منعقدہ ۱۲ نومبر کی صدارت محترم المقام خواجہ شہاب الدین صاحب مرکزی وزیر اطلاعات و نشریات نے فرمائی۔( طلوع اسلام، دسمبر 1967ء، صفحہ 14)

ارباب ِ اقتدار سے استفادۂ پرویز:
اب رہی یہ بات کہ ‘مفکر قرآن’ نے، اربابِ اقتدار سے اپنی ‘قرآنی خدمات’ کا کوئی اجر، کوئی معاوضہ اور کوئی مفاد حاصل نہیں کیا ۔ مفاد کی متنوع شکلیں ہیں جیسا کہ خود ‘مفکر قرآن’ فرمایا کرتے تھے:
”واضح رہے کہ دنیا میں مفاد صرف روپے کی شکل ہی میں نہیں ہوا کرتا۔ ذرا علم و فضل کی مسندوں ، زہدو تقویٰ کے آستانوں اور رہبرانِ ملت کی بارگاہوں پر ایک سرسری نظر ڈالو، اور دیکھو کہ کس قدر متنوع شکلیں ہیں جن میں اپنی بے لوث خدمات کامعاوضہ طلب کیا جاتا ہے۔ نذرانہ نہیں تو مخدومیت اور اطاعت اور اطاعت بھی اکثر پرستش کی حد تک، کبر نفس کے تقاضوں کی تکمیل، أنا الموجود ولاغیري کے بلند آہنگ دعاوی، تنقید کی حد سے ماورائیت اور کم ا زکم نام کی جھوٹی شہرت اور ان تمام داعیات واقتضائات کے باوجود بلا مدد ومعاوضہ خدمت کا دعویٰ۔ کتنا بڑا فریب ہے جواپنے آپ کو اور دوسروں کو دیا جاتا ہے۔( جوئے نور ، صفحہ 89)

1954ء کی مقننہ کے خاتمہ میں کردار ِ پرویز:
خواجہ ناظم الدین ایک شریف النفس سیاست دان تھے اور چاہتے تھے کہ ملک کواسلامی خطوط پر چلایا جائے۔ ظاہر ہے کہ اس مزاج کا آدمی طلوع اسلام ( یا پرویز صاحب) کو طبعاً گوارا نہیں جس میں ایسی اسلامیت کی ذرا سی رمق بھی پائی جائے جو کتاب اللہ کے ساتھ ساتھ سنت ِرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی دلیل ٹھہراتا ہو، پھر اس پر مستزاد یہ کہ اس کی وزارت میں مقننہ جو آئین بنا رہی تھی وہ بہرحال قرآن و سنت پرمبنی تھا۔ ایسے آئین سے بڑھ کر ‘غلط اور خطرناک آئین’ پرویز صاحب کی نگاہ میں اور کیا ہوسکتا تھا اور جو قانون ساز اسمبلی، ایسا آئین بنا رہی تھی اس کا وجود ‘مفکر ِقرآن’ کے لئے کیونکر قابل برداشت ہوسکتا تھا۔ اس لئے اُنہوں نے اس وقت کے ہمہ مقتدر گورنر جنرل ملک غلام محمد کو مشورہ دیا کہ مقننہ میں قرآن و سنت کی بنیاد پر آئین سازی کا اب تک جو کام ہوچکا ہے، اسے کالعدم قرار دیا جائے اور صرف قرآن ہی کی بنیاد پر از سر نو دستور سازی شروع کی جائے۔
”کرنے کاکام یہ ہے کہ جو کچھ اس وقت تک اس جذبے کے ماتحت ہوا ہے، اس پر خط ِتنسیخ کھینچ دیا جائے۔ ملک سے ایسے اربابِ فکر و نظر کو اکٹھا کرلیا جائے جو یہ بتا سکیں کہ دورِ حاضرہ کے تقاضوں کوپورا کرنے کے لئے قرآن کون کون سے اُصول دیتا ہے اور ان اُصولوں کی روشنی میں فکرِ انسانی کے مطابق اپنا آئین مرتب کرلیا جائے۔( طلوع اسلام، مئی 1953ء، صفحہ 11)
چنانچہ اس مشورہ کے بعد کیا ہوا؟
”ملک غلام محمد (مرحوم) نے پوری جرأتِ رندانہ سے کام لیا اور اکتوبر ۱۹۵۴ء میں مجلس دستور ساز کو برخاست کردیا اور اس طرح مملکت کو تباہی سے بچالیا۔( طلوع اسلام، دسمبر 1980ء، صفحہ 13)

دورِ ایوبی اور پرویز صاحب:
ایوبی دور میں بھی اربابِ اقتدار کے ساتھ بالعموم اور ایوب خاں کے ساتھ بالخصوص ‘مفکر قرآن’ صاحب کے گہرے تعلقات تھے۔ایوب خاں طلوع اسلام کے لٹریچر سے گہری دلچسپی رکھتے تھے اور پرویز صاحب کی مالی اعانت بھی کیا کرتے تھے۔ اس مالی معاونت کا اعتراف دبے لفظوں میں طلوع اسلام میں بھی موجود ہے، خود پرویز صاحب فرماتے ہیں :
”صدر ایوب (مرحوم) سے میرے خاص روابط تھے، لیکن میں نے ان سے بھی کبھی کچھ نہیں مانگا تھا (جیسا کہ میں نے پہلے لکھا ہے) وہ میرے لٹریچر میں بڑی دلچسپی لیتے تھے (ایک آدھ بار ایسا بھی ہوا کہ اُنہیں میری کوئی کتاب خاص طور پر پسند آئی تو اُنہوں نے کہا ”میں چاہتا ہوں کہ اس کی اشاعت وسیع تر ہو، اس کے لئے میں اپنی طرف سے بطورِ اعانت کچھ پیش کرنا چاہتا ہوں ۔” اس سے زیادہ میں نے ان سے بھی، نہ کچھ لیا، نہ مانگا) اس میں البتہ ایک استثناء ہوئی۔( طلوع اسلام، جنوری 1984ء، صفحہ 47)
علماے کرام جب یہ کہتے کہ…”ہم قرآن و سنت کی بنیاد پر، طرزِ یثرب، پاکستان کی تعمیر کے خواہاں ہیں ، کیونکہ وہی ریاست ِنبویہؐ ہمارے لئے نمونہ اور مثالی حیثیت رکھتی ہے۔”… تو اس کے جواب میں ایوب خاں کہا کرتے تھے :”ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے ملک کو تیرہ چودہ سو سال پیچھے دھکیل دیا جائے۔( طلوع اسلام، جون 1974ء، صفحہ 22)
ایوبی دور میں جماعت اسلامی اور اس کے امیر شدید ابتلا و آزمایش میں سے گزرے تھے۔ حتیٰ کہ جماعت ِاسلامی کو سرکاری طور پر کالعدم قرار دے دیا گیا تھا جسے بعد میں سپریم کورٹ نے بحال کردیا۔ ایوبی حکومت کو جس کی پشت پر پرویز صاحب کے ‘مفکرانہ مشورے’ اور ‘دانشورانہ تجاویز’ اور ‘بصیرت افروز’ تدابیر بھی موجود تھیں ، اس عدالتی جنگ میں شکست فاش ہوئی تھی۔ اسی ایوبی دور میں مولانا مودودی کو سزاے جیل بھی دی گئی تھی۔

کرو خود اور الزام دوسروں پر لگاؤ!
پرویز صاحب پھر بھی اُلٹا الزام علماے کرام پر لگایا کرتے تھے کہ ‘مذہبی پیشوائیت’ اور ‘اقتدار و ملوکیت’ میں ہمیشہ گٹھ جوڑ رہا کرتا ہے اور پھر اس گٹھ جوڑ کی تان یہاں آکر ٹوٹا کرتی تھی کہ… ”پاکستان میں ملائیت کے منظم ادارے کے سرخیل سید ابوالاعلیٰ مودودی ہیں ” …اب اگر واقعی یہ حقیقت ہے کہ ‘ملائیت’ اپنے دور کی ‘ ملوکیت و اقتدار’ کی حامی ہوتی ہے، تو پھر مولانا مودودی اور جماعت ِاسلامی آخر کس قسم کی ‘ملائیت’ ہیں جو اربابِ حکومت اور اہل اقتدار کی حامی و ناصر ہونے کی بجائے ہر حکومت کے خلاف رہے ہیں ۔۔۔؟!
حقائق کی روشنی میں ‘ملائیت’ کا مصداق پاکستان میں تحریک ِطلوعِ اسلام سے بڑھ کر اور کون سی تحریک ہوسکتی ہے جس کے سرخیل نے اربابِ حکومت کی بہتی گنگا سے ہمیشہ ہاتھ دھوئے ہیں ۔ ہر حکمران سے خوشگوار تعلقات استوار کئے رکھے ہیں ۔ ہر سربراہِ پاکستان سے راہ و رسم برقرار رکھی ہے۔ مخفی دروازوں سے اربابِ حکومت کے ساتھ ‘شریفانہ معاہدے’ کرتے رہے ہیں ۔ اربابِ اقتدار سے مالی اعانت وصول کرتے رہے ہیں ۔ اپنے صحافتی آرگن کو، ان گوشوں تک پہنچاتے رہے ہیں جن تک پہنچنا اہل اقتدار کی آشیرباد کے بغیر ممکن ہی نہیں ۔ اپنے فکری حریفوں کو نیچا دکھانے کے لئے اربابِ اقتدار کے ساتھ اپنے روابط کو استعمال کرتے رہے ہیں ۔ اپنے مخالفین کے خلاف ‘مرکزانِ ملت’ کے ذریعہ وہ کچھ کرتے رہے ہیں جو ان کے نفس حسد پرست کی تسکین کا ذریعہ بن سکے۔لیکن یہ سب کچھ کرڈالنے کے بعد ذرا اس دیدہ دلیری کو بھی ملاحظہ فرمائیے۔جس کے ساتھ بڑی بلند آہنگی کے ساتھ یہ جھوٹ بھی بولا جاتا ہے کہ ‘طلوع اسلام’ اپنے خوے ‘حق گوئی’ کو قائم رکھنے کے لئے اقتدار کے ایوانوں سے دور رہا ہے :
”تشکیل پاکستان کے بعد بھی اُس نے اربابِ حل و عقد کو ہر دوراہے پر للکارا، اور اُنہیں قرآن کے تجویز کردہ صراط ِ مستقیم کی طرف دعوت دی۔ وہ ان کی بارگاہوں سے دور دور رہا تاکہ وہاں کی سحر انگیز فضائیں ، اس کے جذبۂ حق گوئی و بے باکی کو نرم خیز نہ بنا دیں حتیٰ کہ یہ ملک کی عملی سیاسیات سے بھی کنارہ کش رہا۔( طلوع اسلام، جنوری 1971ء، صفحہ 8)

پرویز صاحب کا افسانہ مذہبی پیشوائیت (Mullaism)  – خلاصہ:

‘مفکر قرآن’ نے ‘اربابِ اقتدار اور مذہبی پیشوائیت کے باہمی گٹھ جوڑ’ کے اس افسانے کو اس کثرت سے دہرایا ہے کہ اسے شمار کرنامشکل ہے۔ہندومت، عیسائیت اور یہودیت سے ‘مذہبی پیشوائیت’ کا تصور لے کر اسے اُمت ِمسلمہ کی تاریخ میں ایک ‘واقعی حقیقت’ کے طور پر لاگھسیڑنا ہمارے اس’مفکر قرآن’کے متعدد اباطیل میں سے ایک ‘اچھوتا’ اکذدبہ ہے۔ پرویز صاحب صاحب انتہائی متانت و سنجیدگی سے ، از حد وقار و شائستگی، نہایت سلیقہ و قرینہ اور بکمال اعتماد و وثوق سے ایساجھوٹ بولتے ہیں کہ ناواقف آدمی تو فوراً ہی اسے سچ سمجھ لیتا ہے۔ مگر حقیقت ِحال سے شناسا شخص وقف ِحیرت و استعجاب ہوجاتا اور یہ سوچنے لگ جاتا کہ کتاب اللہ کا یہ’مفسر’ اور قرآنِ کریم کا یہ ‘مفکر’ کس قدر دیدہ دلیری اور دھڑلے سے جھوٹ بولتا ہے۔ اسے نہ آخرت میں اللہ کے ہاں اپنی جوابدہی کا احساس ہے اور نہ دنیا میں مخلوق ہی سے شرم و حیا کا پاس ہے۔ گزشتہ تحاریر میں انکے اس جھوٹ کاانہی کےلٹریچر سے ہی تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
آخری مثال :
‘مذہبی پیشوائیت’ کے ظالمانہ اور مستبدانہ اقتدار کی قباحت و شناعت کی نہایت گھناؤنی تصویر پیش کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں :
”جس زمانے میں ہماری مذہبی پیشوائیت ذی اقتدار تھی، مسئلہ تقدیر کے ضمن میں خونِ مسلم کی جس قدراَرزانی ہوئی اور باہم قتل و غارت گری اس فتنۂ ارتداد کو دبانے کے لئے روا رکھی گئی، اس کے تصور سے روح کانپ اٹھتی ہے۔(طلوع اسلام، نومبر 1981ء، صفحہ 47)
اب معلوم نہیں کہ ‘مفکر قرآن’ صاحب اگر زندہ ہوتے تو ان سوالات کا کیاجواب دیتے کہ مذہبی پیشوائیت کس دور میں ‘ذی اقتدار’ تھی؟ کس سرزمین میں ‘ذی اقتدار’ تھی؟ وہ کون سی تھیاکریٹک شخصیت تھی جو’ذی اقتدار’ تھی؟ مذہبی پیشوائیت کے ‘ذی اقتدار’ ہونے کا سن وسال کیا تھا؟ اور اُس ‘ملا’ کا نام کیا تھا جو ‘ذی اقتدار’ تھا؟۔ ہم اس کذب ِ خالص کانرا جھوٹ ہونا، طلوعِ اسلام ہی کے اوراق سے پیش کئے دیتے ہیں تاکہ اس دروغ بے فروغ پر ایمان لانے والے اس تحریر کے آئینے میں ‘مفکر قرآن’ کا سراپا ملاحظہ فرما سکیں :
”چودہ صدیوں میں کبھی بھی مسلمانوں نے مولویوں کے ہاتھ میں حکومت نہیں دی۔ اس لئے کہ وہ حکومت چلانے کی ضروری تربیت سے محروم تھے۔(طلوع اسلام، اگست 1981ء، صفحہ29)
اسی اندا ز میں انہوں نے ” مذہبی پیشواؤں کے حکومت کے ساتھ گٹھ جوڑ کے افسانے گھڑے ۔ لیکن حرام ہے جو کسی مقام پر کوئی ثبوث پیش کیا ہو۔ چودہ سو سالہ تاریخ میں سے کسی ایک حکمران کابھی حوالہ نہیں دیاجس کے اور کسی ‘ملا’ کے درمیان ایسا کوئی ‘شریفانہ معاہدہ’ ہوا ہو۔ کس عہد میں ، کس سلطان کے ساتھ،کس عالم کا ایسا سمجھوتہ ہوا؟ کس کی ملوکیت کے ساتھ، کس ‘مذہبی پیشوا’ کا گٹھ جوڑ ہوا؟ کس عہد میں کس بادشاہ کے ساتھ، کس مسلمان ‘برہمن’ کا ساجھا رہا؟ کوئی متعین اور ٹھوس حوالہ؟ کوئی مضبوط دلیل؟ کوئی قوی برہان؟ کوئی پُرزور حجت؟
حقیقت یہ ہے کہ خلافت ِراشدہ سے لے کر دورِ حاضر تک کبھی کوئی عالم دین ، کوئی مفسر قرآن، کوئی محدثِ ذی شان اور کوئی فقیہ عالی مقام، کسی مقام پر کبھی بھی’ذی اقتدار’ نہیں رہا۔ یہ صرف’ مفکر قرآن’ کا اپنا خود ساختہ جھوٹ ہے جس کی کوئی تائید، مسلمان کی تاریخ کی کسی گری پڑی کتاب سے بھی پیش نہیں کی جاسکتی۔ اتنی بات قابل تسلیم ہے کہ صدیوں پر محیط مسلم معاشرے میں ہر دور میں ، ہر جگہ اور ہر طبقے میں اچھے اور بُرے لوگ موجود رہے ہیں اور اُنہوں نے سرکار دربار سے تعلق پیدا کرکے کچھ مالی مفاد بھی حاصل کیا ہو، لیکن یہ بات صرف ‘مُلّا’ ہی کے طبقے کے لئے خاص نہیں ہے، بلکہ ہر طبقے کے لئے عام ہے۔ لیکن پوری تاریخ میں سے کسی ایک بھی ایسے پیشوا کا نام پیش نہیں کیا جاسکتا ہے، جسے افرادِ اُمت پر قائدانہ اثر و رسوخ، پیشوایانہ وجاہت اور راہنمایانہ مرتبہ و مقام حاصل ہو اور پھر اس نے حکومت ِوقت کی کاسہ لیسی بھی کی ہو۔
گزشتہ تحریر سے یہ بھی واضح ہے کہ تاریخ میں بھی انکے فکری اسلاف ‘ملائیت’ کا یہ مخصوص کردار ادا کرتے رہے اور پاکستان کی تاریخ میں بھی وہ خود بھی اسی مذموم حرکت کے مرتکب ہوئے ۔ اقتدارِ وقت کے ساتھ ‘ملی بھگت’ اور راہ و رسم کا رویہ انہوں نے خود اپنائے رکھا ہے نہ کہ انکی مخالف دینی جماعتوں نے۔ ۔ لیکن ”کرو خود، مگر الزام دوسروں پر لگاؤ” کی پالیسی کے تحت’ملائیت’، ‘مذہبی پیشوائیت’ ‘پریسٹ ہڈ’ اور ‘تھیا کریسی’ کی اصطلاحات کی آڑ میں وہ نشانہ علماے کرام، محدثین عظام اور مفسرین و مجتہدین کو بناتے رہے ۔

مذہبی پیشوائیت اور عجمی سازش کے افسانے گھڑنے کی وجوہات :
اس کی تین وجوہ نظر آتی ہیں :
اولاً… یہ کہ قرآن و سنت پر اساس پذیر جس دین کے علماے کرام علمبردار ہیں وہ دین چونکہ ‘مفکر قرآن’ صاحب کے اس مذہب سے کلی منافات رکھتا ہے جس کے معاشی نظام کو اشتراکیت سے اور معاشرتی طور طریقوں کو تہذیب ِمغرب سے قرآنِ کریم کے جعلی پرمٹ پر درآمد کیا گیاہے۔ اس لئے قرآن و سنت پر مبنی اسلام کی مخالفت کے لئے ‘ملا’ اور ‘ملائیت’ کی اصطلاحات وضع کی گئی ہیں تاکہ اسلامی شعائر اور دینی ثقافت کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنانے کے لئے ان اصطلاحی الفاظ سے پردے کاکام لیا جائے اور کھلے عام دین اور اسلام کا نام لے کر اسے مطعون کرنے کی بجائے ‘ملائیت’ کی آڑ میں اسے نشانہ بنایا جاسکے۔
ثانیاً… یہ کہ ‘مصلحت’ اور ‘حسن تدبیر’ کا بھی یہی تقاضا تھا کہ براہِ راست اسلام اور اس کے مبادیات و مبانی اور اس کے ثقافتی علامات و آثار کو نشانہ نہ بنایا جائے تاکہ مسلمان، مشتعل نہ ہونے پائیں ۔ اس لئے اسلام سے تنفر اور گریز پیدا کرنے کے لئے حکمت ِعملی یہ اپنائی گئی کہ اس کی ایک ایک چیز کومطعون تو کیا جائے، لیکن اسلام کے نام پر نہیں بلکہ ‘ملائیت’ کے نام پر ایسا کیا جائے۔
ثالثا ً… یہ کہ چونکہ قرآن و سنت پر مبنی اسلام کے علمبردار علماے کرام ہیں ۔ اس لئے عامة الناس کو ان سے برگشتہ کرنے کے لئے جس اصطلاح کو کارگر سمجھا گیا، وہ ‘ملا’ کی اصطلاح تھی۔ اس لفظ میں سارے جہاں کی نفرتوں کو سمیٹ کر اسے ہر اس عالم دین پر چسپاں کردیا گیا جو پرویزی نظریات کا مخالف اور قرآن و سنت کا شیدائی ہے۔ پھر اس کے ساتھ ہی یہ پراپیگنڈہ کیا گیا کہ ‘ملا’ قرآن سے جاہل ، کتاب اللہ کا منکر، فہم و فراست سے عاری، عقل ودانش کا دشمن اور تقاضاے وقت سے نابلد ہے اور کبھی دل کے پھپھولے پھوڑنے کے لئے، اس لفظ کو کسی گندی اور گھناؤنی صفت کا موصوف بنا کر مرکب ِتوصیفی کی صورت میں پیش کیا گیا۔ مثلاً کوڑھ مغز ملا وغیرہ۔ پھر اس لفظ (ملا) کی کمان سے جو تیر اندازی کی جاتی ہے، اس کا نشانہ اور ہدف صرف دورِ حاضر کے علماے کرام ہی نہیں بنتے ہیں بلکہ سلف و خلف کے جملہ اکابرین تک اس کی لپیٹ میں آجاتے ہیں ۔
آپ طلوع اسلام کے اس سارے دور پر نگاہ دوڑائیں گے تو آپ کو نظر آئے گا کہ اس نے شروع دن سے ذوقِ دشنام طرازی کو ایک فن بناکر طعن و تشنیع، طنز و استہزا اور تضحیک کی خدمت اپنے ذمہ لے رکھی ہے۔ ان لوگوں نے کتاب کے ساتھ سنت کو دینی حیثیت باور کرنے والے دین دار طبقہ کی محض توہین و تذلیل کی خاطر ایک اصطلاح ‘ملا اور ملائیت’ کی وضع کی اور اس اصطلاح کی آڑ میں ابھی تک دل کی بھڑاس نکالتے آرہے ہیں ۔ یہ خدمت انکی طرف سے اس لئے بھی پوری دلچسپی کے ساتھ ایک مہم کے انداز میں انجام دی جاتی ہے کہ اخلاقی بضاعت کے افلاس پر فریب و ریا کے پردے ڈالے جائیں ، اور احساسِ کمتری کے جو یہ حضرات شکار ہیں اس باب میں تسکینِ خاطر کے کچھ سامان فراہم ہوسکیں ۔اس کے علاوہ علم و فن میں اپنی ناپختہ کاری کی پردہ پوشی بھی اس خدمت کے پس پردہ مطلوب ہے۔ اسکے علاوہ قرآن جسے پیغمبر قرآن سے منقطع کرکے ہتھیایا گیا اور اس کی تشریح و توضیح اور تفسیر و تفصیل اس ‘عقل عیار’ کی روشنی میں کی گئی ہے جو مغربی علمیات کے سانچہ میں ڈھلی ہوئی ہے اور قرآن کے نام پر متفرق اجزاے کفر کو مشرف بالاسلام کرنے کی جو ‘عربی سازش ‘ کی گئی اسے بھی لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل رکھنے کے لئے ‘عجمی سازش’ کے پراپیگنڈے کی دُھول اڑاتے رہتے ہیں ۔

پرویزی مکتبہ فکر سے متاثر نوجوانوں کا مسئلہ :
پرویزی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے ہماری دوست عقلیت ، تحقیق اور دلیل کو اہمیت دیتے ہیں ۔یہ ایک جائز اور قابل تعریف رویہ ہے ۔
لیکن عقلیت کا اوّلین اور بنیادی اصول تو یہ ہے کہ کسی مسئلہ میں بھی کوئی رائے بلاتحقیق قائم نہ کی جائے اور تحقیق کا معنی یہ ہے کہ انسان دوسروں کی جیب میں اپنے ایمان ڈال کر ان کی اندھی تقلید کرنے کی بجائے خود اپنی سعی و کاوش سے حقیقت کا سراغ لگائے اور جس مسئلہ کی حقیقت وہ معلوم کرنا چاہتا ہے اس کی بابت زیادہ سے زیادہ صحیح اور معتبر ذرائع سے معلومات فراہم کرکے ان سے بات کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کرے۔ پھر ایک صاحب عقل و دانش محقق کی شان یہ ہے کہ نہ وہ وہم و گمان اور شک و شبہ پر اپنی رائے کی بنیاد رکھتا ہے اور نہ ہی وہ دوسروں کی عبارات میں اپنے ہی خیالات کو پڑھنے کا خوگر بنتا ہے اور نہ ہی وہ یہ بددیانتی کرتا ہے کہ اپنے مخالفین کومطعون کرنے کی خاطر ان کے قوی دلائل سے صرفِ نظر کرکے کمزور باتوں کو زورِ آزمائی کے لئے تلاش کرتاہے، اور نہ ہی وہ چند سنی سنائی باتوں اور چند کتابوں کے سرسری مطالعہ سے سطحی معلومات حاصل کرکے ان پر اعتماد کرتے ہوئے رائے قائم کرتاہے۔
لیکن ہمیں افسوس ہے کہ ہمارے ان جدید تعلیم یافتہ نوجوانوں نے اسکے الٹ روش اختیار کی ہے ، ان لوگوں نے علوم حدیث کا خود تحقیقی مطالعہ کرنے کی بجائے مستشرقین و مستغربین کی اندھی تقلید پر اعتماد کیا، احادیث کو پرکھنے اور اس سے اخذ ِمسائل کے طریقوں کو جاننے کی رتی بھر کوشش نہیں کی، کتب ِاحادیث کا مطالعہ اس ذہنیت کے ساتھ کیا جس کے ساتھ عیسائی مشنریوں اور آریہ سماجی تحریکوں نے کبھی قرآن کا مطالعہ کیا تھا۔ فقہ کے مآخذ اور اس کے اُصولوں کو معلوم کرنے کے لئے معمولی اور قلیل وقت بھی صرف نہیں کیا، اس ناقص اور غیرمعتبر معلومات کی بنا پر یہ لوگ خود مجتہد ِمطلق بن کر ایک رائے قائم کرتے ہیں اور پھر بڑے فاضلانہ طمطراق کے ساتھ ایک ایسا مضمون تحریر فرماتے ہیں جس کی ابتدا مولوی پر سب و شتم اور انتہا اپنے اعلانِ اجتہاد و تفقہ پر ہوتی ہے۔ان کے مضامین پڑھنے سے یہ حقیقت و اشگاف ہوجاتی ہے کہ جن اُمو رپر یہ لوگ بحث کرتے ہیں ، ان کی ابجد تک سے ناواقف ہیں ، لیکن اپنے جہل و بے علمی پر پردہ ڈالنے کے لئے حربہ یہ اختیار کرتے ہیں کہ اپنے فکری مخالفین کے خلاف طعن و تشنیع کا ایسا شور مچا دیا جائے کہ عامة الناس کی نگاہیں ان کے علمی اِفلاس کی طرف متوجہ ہی نہ ہوپائیں ۔ اللہ انہیں سمجھ و ہدایت دے۔
استفادہ : مذہبی پیشوائیت؛ مذہب ِپرویز کا ایک کھوٹا سکہ از محمد دین قاسمی

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *