صحاح ستہ کے مؤلفین کی اغراضِ تالیف

صحیحین، سنن اور دیگرمفصل کتب حدیث مختلف اصولوں کے پیش نظرمختلف مقاصد کے لئے مرتب کیئے گئے, بعض کی ترتیب میں صرف سند کی مضبوطی کا اہتمام کیا گیا تو سخت شرائط کے التزام کی وجہ سے متن کامل نہ ہوئے ۔صحیح بخاری کو اصح الکتب سند کے اسی عالی معیار کی وجہ سے کہا جاتا ہے اور اس التزام کی وجہ سے اس میں متن اور ترتیب ایسی ہے جو عامی آدمی تو کجا عام عالم کیلئے بھی استفادے سے مانع بن جاتی ہے۔امام بخاری کی بعض دیگر کتب مثلا الادب المفرد اور دیگرمصنفین کی صحاح مثلا صحیح مسلم وغیرہ اس اعتبار سے صحیح بخاری سے زیادہ نافع ہیں۔اسی طرح بعض نے متون مکمل کیے ،بعض نے اطراف ومتابعات پر کام کیا جبکہ بعض محدثین نے یہ کیا کہ ہر روایت بلا شرط جمع کردی۔ اس طرح یہ مجموعات وجود میں آئے ۔
عظیم محدث امام مسلم رحمہ اللہ نے اصول حدیث کے شہرہ آفاق اصول ماخذ مقدمہ مسلم میں اس امر پر روشنی ڈالی ہے کہ ان مجموعات کے مقاصد مختلف تھے کوئی سند محفوظ کرنے کیلئے وجود میں آیا کوئی متون اور کوئی تمام روایات۔اب جو عام علماء ہیں وہ صرف ان مجموعات سے استفادہ کریں جو صحیح ہیں اور جو راسخین فی العلم ہیں وہ ہر طرح کے مجموعات دیکھ سکتے ہیں کیونکہ وہ حقائق روایت سے واقف ہیں اسلئے انکی گمراہی کا خطرہ نہیں۔
صحاح ستہ کے مؤلفین کی اغراض تالیف :
امام بخاری:
امام بخاریؒ کی غرض تالیفِ احکام اور استنباطِ مسائل ہے، بعض مرتبہ استنباط اس قدر دقیق ہوتا ہے کہ وایت اور ترجمۃ الباب میں مطابقت کے لیے دقتِ نظری سے کام لینا پڑتا ہے۔ امام بخاریؒ بسا اوقات پوری حدیث ایک جگہ نہیں نقل کرتے، بلکہ مختلف مواقع پر اس کے وہی ٹکڑے ذکر کرتے ہیں جس سے وہاں حکم مستنبط ہو رہا ہے۔ امام بخاریؒ کے تراجم آپ کی دقت نظر اور تفقہ کی ترجمانی کرتے ہیں، اس لیے مشہور ہے: فقہ البخاری فی تراجمہ ۔ (امام بخاریؒ کی فقہ ان کے تراجم میں ہے) اس کے دو مطلب ذکر کیے گئے ہیں: ایک مطلب یہ ہے کہ امام بخاریؒ کا مسلک اور فقہی رجحان ان کے تراجم سے آشکارا ہوتا ہے۔ دوسرے یہ کہ امام بخاریؒ کی دقتِ نظری اور ذکاوت ان تراجم سے واضح ہوتی ہے۔ یعنی فقہ یا تو اپنے معروف معنی میں ہے یا ذکاوت اور دقتِ نظری کے معنی میں ہے، چنانچہ مولانا محمد یوسف بنوریؒ فرماتے ہیں:
“فقہ البخاری فی تراجمہ، ولہذا القول عند شیخنا محملان، الأول أن المسائل التی اختارہا من حیث الفقہ تظہر من تراجمہ، والثانی أن تفقہہ وذکاء ہ ودقۃ فکرہ یظہر فی تراجمہ” (معارف السنن۱/۲۳)

امام مسلمؒ
امام مسلم کا وظیفہ صحیح احادیث کا جمع کرنا ہے، چنانچہ وہ ایک موضوع کی حدیث کو اس کے تمام صحیح طرق کے ساتھ ایک جگہ مرتب شکل میں جمع کر دیتے ہیں، استنباط سے ان کی کوئی غرض متعلق نہیں، یہی وجہ ہے کہ اپنی کتاب کے تراجم ابواب بھی انھوں نے خود قائم نہیں کیے، بلکہ بعد کے لوگوں نے حواشی میں بڑھائے ہیں۔ ہمارے موجودہ ہندوستانی نسخے میں قائم کردہ عنوانات امام نوویؒ ہیں۔
امام نسائیؒ
آپ کا مقصد زیادہ تر عللِ اسانید بیان کرنا ہے، چنانچہ وہ احادیث کی عللِ خفیّہ پر “ہٰذا خطأ” کہہ کر متنبہ کرتے ہیں۔ پھر وہ حدیث لاتے ہیں جو ان کے نزدیک صحیح ہو، اس کے ساتھ استنباطِ احکام پر بھی ان کی نظر ہوتی ہے۔
امام ابو داؤدؒ
ان کا وظیفہ مستدلاتِ ائمہ بتلانا ہے، اس لیے وہ ان احادیث کو تمام طرق کے ساتھ یکجا ذکر کر دیتے ہیں، جن سے کسی فقیہ نے کسی بھی فقہی مسئلہ پر استدلال کیا ہو، اس لیے وہ امام مسلمؒ کی طرح صحیح احادیث کی پابندی نہیں کرسکے، البتہ “قال أبو داؤد” کے عنوان سے وہ ضعیف اور مضطرب احادیث پر کلام کرنے کے بھی عادی ہیں۔
امام ترمذیؒ
امام ترمذی کا مقصد اختلافِ ائمہ کو بتلانا ہے، اس لیے وہ ہر فقیہ کے مستدل کو جداگانہ باب میں ذکر کر کے ان کا اختلاف نقل کرتے ہیں۔ ہر باب میں عموماً صرف ایک حدیث لاتے ہیں اور باقی احادیث کی طرف وفی الباب عن فلان وفلان کہہ کر اشارہ کر دیتے ہیں۔
امام ابن ماجہؒ
ابن ماجہ کا طریقہ امام ابو داؤدؒ کے مشابہ ہے۔ فرق یہ ہے کہ اس میں صحیح اور سقیم ہر طرح کی احادیث آ گئی ہیں۔ (دیکھیے: مقدمہ درس ترمذی ۱/۱۲۷)
اس لیے علماء نے لکھا ہے “ہر حدیث پڑھنے والے کو سب سے پہلے اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ وہ یہ معلوم کرے کہ اس حدیث کے متعلق ائمہ کیا کہتے ہیں اور ان کا مذہب کیا ہے؟ یہ بات ترمذی سے معلوم ہو گی۔ اس کے بعد جب مذہب معلوم ہو گیا تو اب ضرورت ہے کہ اس کی دلیل معلوم ہو، وہ وظیفہ ابوداؤد کا ہے۔ اس کے بعد اس کی ضرورت ہوتی ہے کہ یہ مسئلہ کیسے مستنبط ہوا؟ یہ وظیفہ بخاریؒ کا ہے کہ وہ استنباطِ مسائل کا طریقہ دکھلاتے ہیں اور بتلاتے ہیں۔ اس کے بعد جب احادیث سے مسائل مستنبط ہو گئے اور دلائل سامنے آ گئے تو ان دلائل کی تقویت کے لیے اسی مضمون کی دوسری حدیث کی بھی ضرورت ہوتی ہے، یہ کمی امام مسلمؒ پوری کرتے ہیں، اب آدمی مولوی ہو جاتا ہے۔ اب اس کے بعد اس کو محقق بننے کی ضرورت ہوتی ہے، تاکہ یہ معلوم کرے کہ یہ حدیث جو مستدل بن رہی ہے، اس کے اندر کوئی علت تو نہیں، اس کا تعلق نسائی سے ہے۔ اس کے بعد آدمی کو ایک مستقل بصیرت حاصل ہو جاتی ہے، اب اس کو چاہیے کہ وہ احادیث پر غور کرے اور خود دیکھے کہ اس حدیث کے اندر کوئی علت تو نہیں، کیوں کہ نسائی شریف کے اندر تو خود امام نسائیؒ ساتھ دے رہے تھے اور بتلاتے جاتے تھے کہ اس حدیث میں یہ علت ہے، لیکن اب ضرورت اس بات کی ہے کہ بغیر کسی کے مطلع کیے ہوئے خود احادیث کو پرکھے اور علل کو تلاش کرے، اس کے اندر معین ابن ماجہ ہے، کیوں کہ اس میں احادیث گڈمڈ ہیں اور کسی کے متعلق یہ نہیں بتلایا گیا ہے کہ اس حدیث کا درجہ کیا ہے، انہی اغراض کے پیش نظر ہمارے اکابر نے مذکورہ بالا ترتیب قائم فرمائی تھی” (سراج القاری، ج۱، مقدمہ الکتاب، ص:۵۳)

احادیث کی تعداد کے بارے میں ایک مغالطہ :
منکرین حدیث یہ اعتراض کرتے ہیں کہ موجودہ حدیث کی کتابوں میں چند ہزار سے زائد احادیث کی تعداد پائی نہیں جاتی اور محدثین یہ کہتے ہیں کہ ہم نے لاکھوں حدیثوں سے ان کا انتخاب کیا ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ احادیث کی بڑی تعداد خود محدثین کے بیانات کے مطابق خود ساختہ ہے لہٰذا ایسی صورت میں ان چند ہزار کا بھی کیا اعتبار رہ جاتا ہے کہ جن کو لاکھوں موضوعات سے چھانٹ کر صحیح قرار دیا گیا ہو۔
یہ ایک بہت ہی بڑا سنگین مغالطہ ہے جو بیچارے ناواقف عوام کو دیا جا رہا ہے، کیونکہ محدثین کے یہاں تو احادیث کی تعداد کا حساب ان کی اسانید کے اعتبار سے ہوتا تھا نہ کہ متون کے لحاظ سے پس اگر کسی حدیث کی مثلاً سو اسانیدیں ہیں تو اس کی تعداد اپنی اسانید کے اعتبار سے سو ہو گی چنانچہ حدیث انما الاعمال با لنیات کا جب شمار لگائیں گے تو اس کی سات سو اسنادوں کے اعتبار سے سات سو شمار کریں گے۔ اس لیے
جب یہ کہا جاتا ہے کہ امام بخاری نے چھ لاکھ احادیث میں سے چھانٹ کر صحیح بخاری کو مرتب کیا ہے تو اس سے مراد چھ لاکھ متن نہیں بلکہ مختلف طرق اور سندوں کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔
اس لیے یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ جب محدثین احادیث کی تعداد کا ذکر کرتے ہیں تو اس سے مراد متون احادیث نہیں بلکہ طرق واسانید ہوتے ہیں، نیز سلف کا دستور تھا کہ وہ آثار صحابہ و تابعین اور ان کے فتاوے کے لئے بھی حدیث کا لفظ استعمال کیا کرتے تھے، چنانچہ حافظ سخاوی، فتح المغیث میں لکھتے ہیں! وکذا آثار الصحابۃ والتابعین وغیرھم وفتاوٰھم مماکان السلف یطلقون علی کل حدیثا۔ (ص 12 طبع انوار محمدی لکھنؤ) اور اسی طرح اس تعداد میں (مکررات و موقوفات کے علاوہ صحابہ و تابعین وغیرہ کے آثار و فتاویٰ بھی داخل ہوتے ہیں) کیونکہ ان میں سے ہر ایک کیلئے متقدمین حدیث کا لفظ استعمال کرتے تھے، اس کے بعد سخاوی لکھتے ہیں کہ بہت سی حدیثیں ہیں کہ جو سو سو سندوں کے ساتھ مروی ہیں اور حدیث انما الاعمال بالنیات کے متعلق تو حافظ ابو اسماعیل انصاری ہروی سے منقول ہے کہ انہوں نے حدیث مذکور کو اس کے صرف ایک راوی یحییٰ بن سعید انصاری سے ان کے سات سو شاگردوں کی سند سے لکھا ہے۔
(”امام ابن ماجہ اور علم حدیث“ ص 42، 43 مطبوعہ کراچی)

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *