احادیث پر جرح و تعدیل کا طریقہ

۔

احادیث پر جرح و تعدیل
اگرچہ حفاظت حدیث کا فریضہ پہلے ذکر کئے گئے چاروں طریقوں (بشمول کتابت حدیث) کی مدد سے ابتدائی چاروں صدیوں میں متواتر اور پوری تندھی کے ساتھ ادا کیا جاتا رہا ہے لیکن پھر بھی اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ اس عرصے میں روایت کردہ یا تدوین شدہ تمام احادیث کو معتبر اور قابل اعتماد تسلیم کر لیا گیا تھا۔
واقعہ یہ ہے کہ اسی دوران جب تدوین حدیث کا کام  انجام پا رہا تھا، محدثین ایک انتہائی منظم فن اور قابل اعتماد علم کو بھی فروغ دے رہے تھے جس میں کسی روایت کی جانچ پڑتال، چھان پھٹک اور صحیح و غلط کی تصدیق کے لئے بے شمار امتحانات تشکیل کئے گئے تھے۔ کسی روایت اور حدیث کو قابل اعتماد ٹھہرانے سے قبل یہ جائزے اور امتحانات اس پر لاگو کیے جاتے اور طرح طرح سے روایت کو پرکھ لیا جاتا۔
دنیا بھر کی تاریخ اور تاریخی تنقید محدثین کرام کے اس بے شمار انواع پر مشتمل وضع کردہ نظام کی نظیر پیش کرنے سے قاصر ہے۔ اس نظام کی مختلف شاخوں کا تعارف اور ان پر لکھی گئی کتب کا محض ایک خلاصہ پیش کرنا بھی یہاں ہمارے لئے پوری طرح ممکن نہیں ہے۔ لیکن یہ بات بلا خوف تردید کی جا سکتی ہے کہ علم حدیث سے متعلقہ ان شاخوں اور انواع پر ہزاروں کتب تحریر کی جا چکی ہیں۔
پھر بھی بات کو سمجھانے کے لئے علم حدیث کے جرح و تعدیل کے ان  امتحانات اور تجزیوں کا مختصراً جائزہ پیش کیا جاتا ہے جن کے ذریعے محدثین احادیث کی صحت متعین کرتے رہے ہیں۔
مختلف زاویوں کے مشاہدے کی بنا پر احادیث کی سینکڑوں اقسام قرار دی گئی ہیں۔ معتبر اور مستند ہونے کے اعتبار سے بالآخر احادیث کو چار بڑی اقسام میں تقسیم کیا گیا ہے۔
۱ ۔ صحیح ۔۔۔۔۔۔ (درست)
۲ ۔ حسن ۔۔۔۔۔(خوب)
۳ ۔ ضعیف ۔۔۔ (کمزور)
۴ ۔ موضوع ۔۔ (اختراع شدہ)
ان چاروں میں سے صرف پہلی دو اقسام قابل اعتماد قرار دی گئی ہیں اور احکام شریعت انہی دونوں اقسام پر مبنی ہوتے یا مستنبط کیے جاتے ہیں۔ چنانچہ صرف انہی دونوں اقسام کی احادیث قوانین اسلام کا ماخذ ہوتی ہیں۔ دوسری اقسام کی اہمیت خصوصاً قانونی اور نظریاتی معاملات میں بہت کم یا نہ ہونے کے برابر ہے۔

حدیث کی پرکھ:
کسی حدیث کو “صحیح” یا “حسن” قرار دینے سے قبل اسے مندرجہ ذیل امتحانات پر پرکھا جاتا ہے :
(ا)  راویوں کی چھان بین۔
(ب)  راویوں کی سند مسلسل اور متصل ہونے کی جانچ پڑتال۔
(ج) روایت کی سند اور متن کا اسی معاملے کی دوسری روایتوں یا طرق کے ساتھ موازنہ۔
(د) مسند حدیث اور متن حدیث کا اسی موضوع پر دستیاب دوسرے مواد کی روشنی میں تجزیہ اور اس کا یقین کہ سند اور متن میں کوئی “علت” (نقص) نہیں ہے۔
یہاں ہم ان چاروں امتحانات کی مختصر تفصیل پیش کرتے ہیں جس سے معلوم ہو سکے گا کہ محدثین نے کس طرح انہیں کس حدیث کی صحت کا معیار متعین کرنے کے لیے استعمال کیا ہے۔

۱ ۔ راویوں کی چھان بین
کسی حدیث کے درست ہونے میں سے بے پہلے اور اولین اہم ٹیسٹ اس کے راویوں کے قابل اعتبار ہونے سے متعلق ہے۔ یہ چھان بین دو مختلف زاویوں سے ہوتی ہے۔ اول تو اس راوی کی دیانت اور راست بازی کا یقین کیا جاتا ہے۔ دوسرے یہ جانچا جاتا ہے کہ اس کی قوت حافظہ کس معیار کی ہے۔
اس چھان بین کے لئے ایک علیحدہ سائنس تشکیل دی گئی ہے جس کا نام “علم الرجال” (افراد کا علم) ہے۔ اس علم کے ماہرین نے اپنی عمریں اسی بات کے لئے صرف کی ہیں کہ ہر ایسے فرد کی مکمل معلومات حاصل کی جائیں جس نے کسی حدیث کی روایت کی ہے۔ اس مقصد کے لئے وہ راوی کے گھر جایا کرتے تھے اور اس کے ہمسایوں، شاگردوں اور احباب سے اس کی معلومات حاصل کرتے تاکہ کوئی عالم محض کسی راوی سے ذاتی تعلق کی بناء پر مرعوب نہ ہو سکے۔ “رجال” کے مشہور عالم علی رحمہ اللہ ابن المدائنی سے جب ان کے والد کے بارے میں پوچھا گیا تو پہلے تو انہوں نے سوال ٹالنے کی کوشش کی اور فرمایا کہ “ان کے متعلق کسی اور عالم سے معلوم کرو”  لیکن جب ان کی ذاتی رائے کے بارے میں دوبارہ پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا :
ھُو الدین، اِنَہ ضعیف “یہ معاملہ دین کا ہے۔ (اس لئے میرا جواب یہ ہے کہ) وہ ضعیف راوی ہیں۔”
وکیع بن جراح علم حدیث کے مشہور امام ہیں۔ انہوں نے اپنے والد کو حدیث میں “ٖضعیف” قرار دیا ہے اور ان کی روایتوں پر اس وقت تک اعتماد نہیں کرتے تھے جب تک ان کی تصدیق  کسی اور راوی سے نہیں ہو جاتی تھی۔
حدیث کی مشہور چھ کتب (صحاح ستہ) میں سے ایک کے مصنف امام ابو داؤد رحمہ اللہ نے اپنے بیٹے عبد اللہ کے بارے میں کہا ہے کہ وہ “ایک بڑا جھوٹا ہے۔” (یہ وہی عبد اللہ ہے جس کی “کتاب المصالف کو بعض مشتشرقین کی طرف سے شائع کیا گیا ہے)
زید ابن ابی انسیہ اپنے بھائ یحیٰی کے بارے میں فرماتے “میرے بھائی یحیٰی کی روایت قبول نہ کرو کیوں کہ اسے جھوٹا کہا جاتا ہے۔”( الاعلان بالتوبیخ لمن ذم التاریخ للسخاوی ص ۲۲)
علم الرجال کے بے شمار کتب میں اس قسم کی آرا ملتی ہیں۔ اس موضوع پر سینکڑوں کتابیں تحریر کی گئی ہیں جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں۔
۱ ۔ تہذیب التہذیب از حافظ ابن حجر رحمہ اللہ
بارہ جلدوں پر مشتمل اس کتاب میں ان تمام راویوں کے مختصر حالات دیئے گئے ہیں جن کی روایات احادیث کی مشہور چھ کتب “صحاح ستہ ” میں شامل ہیں۔ اس کتاب میں بارہ ہزار چار سو پچپن (۱۲۴۵۵) راویوں کے حالات زندگی شامل ہیں۔ ان راویوں کے نام حروف تہجی کے مطابق ترتیب دیئے گئے ہیں۔
آپ صحاح ستہ کی کسی کتاب میں سے حدیث کی کسی سند کا کوئی بھی نام منتخب کر لیں۔ یہ نام تہذیب التہذیب میں اپنی متعینہ ترتیبی جگہ پر لازماً موجود ہو گا۔ یہاں آپ اس راوی کی تاریخ ولادت، تاریخ وفات، اس کے اساتذہ کی فہرست، اس کے شاگردوں کے نام، اس کی زندگی کے اہم واقعات اور اس کے بارے میں علماء کی آراء یکجا دیکھ سکتے ہیں۔صحاح ستہ کے راویوں کے بارے میں بالخصوص کئی اور بھی کتب موجود ہیں اور ان کے مطالعے کے بعد راوی کے معتمد ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں کسی بھی واضح نتیجے پر پہنچا جا سکتا ہے۔
۲ ۔ لسان المیزان از حافظ ابن حجر رحمہ اللہ
یہ کتاب خاص طور پر ایسے راویوں کے بارے میں ہے جن کے نام صحاح ستہ کی کسی کتاب کی کسی سند میں موجود نہیں ہیں۔ بالفاظ دیگر ان راویوں کی روایات صحاح ستہ کے علاوہ صرف دیگر کتابوں میں ملتی ہیں۔سات جلدوں پر مشتمل اس کتاب میں ۵۹۹۱ راویوں کے حالات مذکور ہیں۔
۳ ۔ تعجیل المنفعہ، از حافظ ابن حجر رحمہ اللہ
یہ کتاب محض ان راویوں کے حالات پر مشتمل ہے جن کی روایات صحاح ستہ میں موجود نہیں ہیں لیکن ائمہ اربعہ یعنی امام مالک رحمہ اللہ، امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ، امام شافعی رحمہ اللہ اور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی کتب میں ملتی ہیں۔ چنانچہ اس کتاب میں ۱۷۳۲ رواۃ حدیث کے بارے میں ذکر ملتا ہے۔
یہ تینوں کتب ایک ہی شخصیت یعنی حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کی تصنیف و تدوین شدہ ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ صرف انہوں نے سترہ ہزار سے زائد راویان
احادیث کا تعارف پیش کیا ہے۔
یہ تنہا ایک عالم کی کاوش ہے۔ اس موضوع پر بے شمار دیگر حضرات کی کتب بھی دستیاب ہیں۔ درج ذیل جدول سے راویان احادیث کی اس بڑی تعداد کا اندازہ ہو سکے گا جو علم الرجال کی مشہور و معروف چند کتب میں (جن کے حوالے اکثر دیئے جاتے ہیں) مذکور ہے۔
            نام کتاب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مصنف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ضخامت۔۔۔۔۔۔راویوں کی تعداد
۱۔۔۔۔۔۔التاریخ الکبیر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔امام بخاری رحمہ اللہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۹ جلد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۱۳۷۸۱
۲۔۔۔۔۔الجرح والتعدیل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ابن ابی حاتم رحمہ اللہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۹ جلد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۱۸۰۵۰
۔۳۔۔۔۔تہذیب التہذیب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حافظ ابن حجر رحمہ اللہ۔۔۔۔۔۔۔۱۲ جلد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۱۲۴۵۵
۴۔۔۔۔۔میزان الاعتدال۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔زہبی رحمہ اللہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۴ جلد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۱۱۰۵۳
۵۔۔۔۔۔لسان المیزان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حافظ ابن حجر رحمہ اللہ۔۔۔۔۔۔۔۔۷ جلد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۵۹۹۱
۶۔۔۔۔۔الثقات۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔عجلی رحمہ اللہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۱ جلد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۱۱۶
۷۔۔۔۔۔المغنی فی الضعفاء۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ذہبی رحمہ اللہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲ جلد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۷۸۵۴
اس جدول کی آخری کتاب محض ان راویوں کے حالات پر مشتمل ہے جنہیں “ضعیف” قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح ابن ابی حاتم رحمہ اللہ، دار قطنی رحمہ اللہ کی تصنیفات بھی موجود ہیں۔ اس کے برعکس ایسی کتب بھی لکھی گئی ہیں جن میں محض معتمد رواۃ کے حالات یکجا کئے گئے۔ ابن حبان کی گیارہ جلدوں پر مشتمل “الثقات” اس کی ایک مثال ہے۔
بہر کیف اگر کوئی راوی غیر دیانت دار، کمزور یادداشت کا مالک یا گمنام ٹھہرتا ہے تو اس کی روایات ناقابل اعتماد قرار پاتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ روایات کی ایک کثیر تعداد محض اسی بنیاد پر رد کر دی گئی ہے۔

۲ ۔ اتصال سند
یہ بات سب کے علم میں ہے کہ علم حدیث کی سائنس میں کوئی روایت اس وقت قبول نہیں کی جاتی جب تک نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تک اس کی سند متصل پیش نہ کی جائے۔ اس سند اور سلسلے کا ہر راوی پہلے دیانت داری کے اس معیار پر پرکھا جاتا ہے جو اوپر ذکر کیا گیا۔ لیکن اگر کسی سند کے تمام راوی قابل اعتماد قرار پاتے ہوں تب بھی یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ حدیث مستند قرار دے دی جائے۔ یہ بھی اطمینان ہونا ضروری ہے کہ یہ سند مسلسل ہے اور اس کے درمیان کوئی راوی کم نہیں ہے۔ اگر یہ معلوم ہو جائے کہ کسی مرحلے کا کوئی راوی سند میں کم ہے اور کڑیاں باہم مربوط نہیں ہیں تو روایت غیر مستند قرار پاتی ہے۔ اتصال سند کو یقینی بنانے کے لئے ہر راوی کے بارے میں یہ تحقیق ضروری ہے کہ آیا تاریخی طور پر ایسا ممکن بھی ہے کہ وہ راوی اس شخص سے ملا ہو جس سے حدیث کی سماعت کا وہ دعویٰ کر رہا ہے۔
یہ چھان بین اور جانچ پڑتال بے شک بہت مشکل اور حساس نوعیت کی ہے لیکن علم حدیث کے ماہرین نے اس مشکل ترین کام کو اس احسن اور درست طریقے سے انجام دیا ہے کہ انسان حیرت زدہ رہ جاتا ہے۔
ہر راوی کے بارے میں معلومات حاصل کرتے وقت “محدثین کرام” جہاں اس کی ذہانت اور قوت حافظہ پرکھتے ہیں وہیں اس کے اساتذہ اور شاگردوں کے بارے میں بھی جائزہ لیا جاتا ہے۔ لہٰذا علم الرجال کی ہر کتاب میں راویوں کے شاگردوں اور اساتذہ کی فہرست بھی دستیاب ہوتی ہے۔ چنانچہ سند کے مسلسل ہونے کی دیکھ بھال کرتے وقت نہ صرف یہ کہ ہر راوی کی تاریخ پیدائش اور تاریخ وفات دیکھی جاتی ہے بلکہ اس کے اساتذہ اور شاگردوں کی فہرست کا  بھی تنقیدی نقطہ نگاہ سے جائزہ لیا جاتا ہے۔
اسی پر بس نہیں، بلکہ محدثین اکثر اوقات وقت کے اس دورانیے کا بھی تعین کرتے ہیں جس میں کسی راوی کے اپنے کسی مخصوص استاد سے ملنے کے امکانات تھے اور یہ کہ وہ حدیث کس زمانے میں سماعت کی گئی تھی۔ ان معلومات کی بنیاد پر کسی راوی کے قابل اعتماد ہونے کے بارے میں اہم نتائیج اخذ کئے جاتے ہیں۔
مثال کے طور پر عبد اللہ بن لہیعہ مشہور مصری راوی حدیث ہے۔ اس کے بارے میں یہ بات ثابت شدہ ہے کہ اس کی یادداشت کمزور تھی اور وہ عموماً اپنی تحریر شدہ احادیث میں سے روایت کیا کرتا تھا۔ ایک زمانے میں اس کے مکان کو آگ لگ گئی اور اس کی تمام کتب بھی نذر آتش ہو گئیں۔ اس حادثے کے بعد بھی وہ کبھی کبھار اپنی یادداشت کی بناء پر احادیث کی روایت کیا کرتا تھا۔ چنانچہ بعض علماء نے یہ فیصلہ دیا ہے کہ اس کے اس حادثے سے قبل کی احادیث قابل اعتماد ہیں۔ جب کہ حادثے کے بعد کی مرویات قبول نہیں کی جا سکتیں۔ لہٰذا اس کے وہ شاگرد جنہوں نے حادثے سے قبل اس سے احادیث حاصل کی تھیں قابل اعتماد قرار پائے اور ان کی روایات قابل قبول ہیں۔ جبکہ حادثے کے بعد کے شاگردوں پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ محدثین نے ان تمام شاگردوں کی فہرست کی چھان پھٹک کی ہے اور ان شاگردوں کے ناموں کی نشان دہی کر دی ہے جو ابتدائی دور کے ہیں۔ مثال کے طور پر عبد اللہ ابن وھب وغیرہ۔ اور اعلان کر دیا ہے کہ ان کے علاوہ باقی تمام شاگرد دور آخر کے شاگرد سمجھے جائیں اور ان پر عبد اللہ ابن لہیعہ کی روایات کے معاملے میں اعتماد نہ کیا جائے۔
خلاصہ یہ کہ چھان بین کی یہ دوسری قسم جو کہ جرح و تعدیل میں انتہائی  اہم حیثیت کی مالک ہے مسند کے متصل ہونے اور سلسلے کے متواتر ہونے سے متعلق ہے۔ اگر تحقیق کے بعد معلوم ہو جاتا ہے کہ راوی نے اس شخص سے براہ راست حدیث سماعت ہی نہیں کی ہے جس سے سماعت کرنے کا دعویٰ کر رہا ہے تو ایسی حدیث کو منقطع کہا جاتا ہے اور اسے قابل اعتماد تصور نہیں کیا جاتا۔

۳ ۔ دیگر روایات سے تقابل و موازنہ
حدیث کی جانچ پڑتال کےلئے تیسرا ٹیسٹ یہ ہے کہ اس کی متعلقہ روایت کا تقابل ان دوسری روایتوں سے کیا جائے جو ایک ہی استاد کے دوسرے شاگردوں نے روایت کی ہوں۔
اس کی تشریح یہ ہے کہ بعض اوقات ایک ہی حدیث بہت سے راویوں سے مروی ہوتی ہے۔ ایک ہی واقعے یا قول سے متعلق ایسی تمام روایات اس حدیث کے “طرق” (راستے) کہلاتی ہیں۔ کسی حدیث کو پرکھتے وقت محدثین اس حدیث کے تمام طرق کا مجموعی مطالعہ کرتے ہیں۔ اگر کسی روایت میں ایسا ہو کہ قابل اعتمادراویوں کی اکثریت حدیث کو ایک خاص طریقے پر روایت کر رہی ہو لیکن ان میں ایک راوی اس طریقے سے روایت کر رہا ہو کہ وہ مفہوماً دیگر احادیث سے مختلف ہو تو ایسی روایت کو “شاذ” (نادر الوقوع) کہا جاتا ہے۔ اسی صورت میں راوی کے معتمد ہونے کے باوجود روایت کو “صحیح” حدیث  کے طور پر قبول نہیں کیا جاتا اور اس کو اس وقت تک معتبر خیال نہیں کیا جاتا جب تک کسی داخلی یا خارجی شہادت کی بناء پر اس کی مزید تصدیق نہ ہو جائے۔

۴ ۔ حدیث کا مجموعی تجزیہ
آخری اور بے حد اہم مرحلہ حدیث کے عمومی تجزئیے کا ہوتا ہے۔ اس  چھان بین میں اسی موضوع کے دیگر متعلقہ دستیاب شدہ مواد کی راشنی میں حدیث کی پرکھ ہوتی ہے۔ مختلف زاویوں سے حدیث کو جانچا جاتا ہے۔ آیا روایت کردہ واقعہ یا قول ممکن بھی ہے یا نہیں؟ کیا ثابت شدہ تاریخی واقعات حدیث پر منطبق ہوتے ہیں؟ کیا اس کے متن کا انتساب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف کیا جا سکتا ہے؟ آیا ان راویوں کی سند اصلی بھی ہے یا نہیں؟ وغیرہ وغیرہ۔
یہ ایک ایسا مشکل اور نازک تجزیہ ہوتا ہے جس میں کشی شخص کے کامیابی سے عہدہ برآہ ہونے کے لئے متعلقہ تمام علوم پر مکمل دسترس، حدیث کا جامع علم، اور علم حدیث کے جرح و تعدیل کے فن کی انتہائی مہارت درکار ہے۔
اگر اس تمام چھان بین کے بعد کسی ماہر حدیث کو حدیث کے معتبر ہونے میں کوئی قوی شک ہو جائے تو وہ نشان دہی کر دیتا ہے کہ سند حدیث یا متن حدیث میں فلاں “نقص” ( علت) پایا جاتا ہے۔ اور اس نوعیت کی علت یا نقص کی حامل کسی حدیث کو ” صحیح” قرار نہیں دیا جا سکتا۔
چنانچہ ” صحیح” حدیث کی تعریف محدثین نے اس طرح کی ہے۔
” جو ایک متدین اور قوی حافظے کے مالک راوی سے مروی ہو اس طرح کہ نہ تو مسند میں کہیں ” اقطاع” ہو، نہ وہ حدیث ” شذوذ” کی حامل ہو اور نہ اس میں کوئی علت پائی جائے۔”

خلاصہ بحث
یہاں ہمارے لئے علم حدیث کی تمام تفصیلات کا احاطہ کرنا ممکن نہیں ہے۔ خصوصاً جرح و تنقید کی اس سائنس کا جسے محدثین کرام نے ترقی دے کر انتہائی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ اس باب میں ہم نے جو کچھ ذکر کیا ہے وہ درحقیقت ان کی  کاوشوں کا ایک سادہ سا خاکہ ہے۔ لیکن بہرحال اسی سے ان کے اعلٰی ترین علمی اور تحقیقی کاموں کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ مواد اس موضوع پر ایک عام آدمی کے اس اطمینان کے لئے ان شاء اللہ بہت کافی ہے۔ کہ ” حفاظت حدیث” کا مقصد اس امت کی طرف سے اتنی احتیاط، باریک بینی اور احساس ذمہ داری کے ساتھ حاصل کیا گیا ہے کہ کسی بھی دوسری قوم میں اس جیسے کسی دوسرے علم کی مثال نہیں ملتی۔ ایسی ہی کاوشوں کے ذریعے قرآن پاک کی لفظا و معنا حفاظت کا آسمانی وعدہ اپنی تکمیل کو پہنچا ہے۔
(حجیت حدیث از مفتی تقی عثمانی )

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *