تحقیقِ حدیث کا روایتی معیار

صحیح وثابت احادیث کی جہاں ایک بڑی تعداد ہے؛ وہیں ایک بھاری تعداد غیرصحیح وغیرثابت وضعیف احادیث کی بھی ہے اور اس میں شبہ نہیں کہ محدثینِ کرام نے بہت سی احادیث کواپنے اصولِ روایت کی کسوٹی پرپرکھ کر ان کا صحیح اور غیرصحیح ہونا واضح کردیا ہے؛ تاہم ایک بڑی تعداد ان احادیث کی ہے جن کے متعلق ائمہ محدیثن کی کوئی صراحت اس حوالہ سے نہیں؛ اس لیے ان اصول کا جاننا جن کے ذریعہ محدثینِ حدیث کے صحت وسقم کا پتہ چلاتے ہیں؛ ہرطالب علم کے لیے ضروری ہےاور اسی کو نقد حدیث کا روایتی معیار کہاجاتا ہے۔
کسی بھی حدیث کی اسنادی حیثیت کی جانکاری کے لیے اولاً یہ جاننا نہایت ضروری ہے کہ مطلوبہ حدیث ذخیرۂ حدیث میں کہا ں کہاں ہے؟ اور کن کن سندوں سے مروی ہے؟ جب تک ممکنہ حد تک پورے ذخیرۂ حدیث سے تلاش کر کے حدیث کے طرق والفاظ سامنے نہیں لائے جاتے تب تک اس حدیث کی صحت یا عدمِ صحت کا فیصلہ نہیں ہوسکتا۔حدیث کی اس مکمل تخریج کے بعد حدیث کی اسناد پرکھنے اور شرائطِ حدیث کے جامع ہونے یانہ ہونے کے اعتبار سےہی اس پرصحیح یاحسن یاضعیف یاموضوع کا حکم لگایاجاسکتا ہے۔

تخریجِ حدیث :
فن تخریجِ حدیث، ان اصول وقواعد سے بحث کرتا ہے جن کی واقفیت مطلوبہ حدیث تک اور اس کے متابعات وشواہد تک رسائی کو آسان بناتی ہے؛ خواہ وہ حدیث کے اصلی مصادر میں ہوں یا غیراصلی میں اوران اصول وقواعد سے بحث کرتا ہے جن کی پاسداری سے حدیث کے مقبول یاغیرمقبول ہونے کا پتہ چلتا ہے۔
(تخریج الاحدیث نشأتہ ومنھجیتہ، للدکتور ابواللیث قاسمی، خیرابادی)
مصادرِ حدیث کی قسمیں
مصادرِ حدیث کی تین قسمیں ہیں:
(۱)مصدرِ اصلی: اِن کتابوں کوکہتے ہیں جن کے مصنفین خود اپنی سند سے احادیث کا اخراج کرتے ہیں؛ خواہ وہ کتاب خاص حدیث کے موضوع، مثلاً: صحاحِ ستہ، مسنداحمد وغیرہ یاکسی دوسرے موضوع کی، مثلاً امام شافعی (۲۰۴ھ) کی کتاب الأم، خطیب بغدادی کی تاریخ بغداد اور امام شافعی کی الرسالۃ وغیرہ ہوں۔
(۲)مصدرِشبہ اصلی: ان کتابوں کو کہتے ہیں جن کے مصنفین خود اپنی سند سے احادیث کا اخراج نہیں کرتے؛ بلکہ دوسری کتبِ حدیث (مصادرِ اصلیہ) سے حوالہ کے ساتھ نقل کرتے ہیں اور سند سمیت نقل کرتے ہیں، اس طرح کے مصادر (ذیلی) ہونے کے باوجود اپنے اندر ایک طرح کی اصلیت رکھتے ہیں کہ ان میں موجود حدیث کے رجال کودیکھ کرحدیث کا درجہ متعین کیا جاسکتا ہے، جیسے تفسیرالقرآن لابن کثیر، تحفۃ الاشراف جمال الدین المزی اور المسند الجامع بشارعواد معروف وحماعۃ سواہ۔
(۳)مصدرِ غیراصلی: ان کتابوں کوکہتے ہیں جن کے مصنفین اپنی سند سے احادیث کا اخراج نہ کرکے دوسرے مصادرِ اصلیہ سے نقل کرتے ہیں اور سند کے بغیر صرف متن کونقل کرتے ہیں اور منقول عنہ کتاب یامصنف کے حوالہ پراکتفا کرتے ہیں، جیسے ریاض الصالحین للنووی، مشکاۃ المصابیح للخطیب التبریزی اور الدرالمنثور للسیوطی وغیرہ۔
آخر کی دونوں قسمیں چونکہ ذیلی مصادر ہیں، اس لیے ان میں پائی جانے والی کسی حدیث کا حوالہ دیتے وقت یہ خیال رہے کہ ان میں محولہ اصل کتاب تک رسائی ممکن ہوتومراجعت کے بعد اصل کتاب ہی کا حوالہ دیا جائے، بصورت دیگر ذیلی مصادر کے ساتھ اصلی مصدر کا بھی حوالہ دیا جاسکتا ہے، جس کی تعبیر یوں ہوگی رواہ سعید بن منصور فی سننہ کما فی التفسیرلابن کثیر، اردو میں اس طرح تعبیر ہوگی، سعید بن منصور بحوالہ تفسیر ابنِ کثیر۔

علم تخریج کے فوائد:
۱۔اس علم کی مدد سے ایک موضوع کی مختلف احادیث اور نصوص سے آگاہی ہوجاتی ہے، بالفاظِ دیگر اس سے احادیث کی ان مختلف اور متنوع کتابوں پر عبور ہوجاتا ہے جوجوامع، مسانید، سنن ،معاجم اور شخصیات وغیرہ کی شکل میں موجود ہیں۔
۲۔مزید اس کے ذریعے جمع شدہ مختلف نصوص کی اسانید کوجانچنے، پرکھنے اور ان کے صحت وسقم کواس فن کےمسلمہ اصولوں کی روشنی میں جاننے کا ملکہ حاصل ہوسکتا ہے، بالفاظِ دیگر اس کی مدد سے علم اسماء الرجال اور اس کے مختلف انواع پرعبور حاصل ہوسکتا ہے۔
۳۔احادیث کے اسانید ومتون میں پائے جانے والے ایسے الفاظ جن کے تلفظ میں غلطی کے امکانات ہوتے ہیں ان کے تلفظ اور معانی کا صحیح ادراک ہوسکتا ہے، یہ کام کتبِ انساب، کتبِ موتلف ومختلف اور کتبِ غریب الحدیث وغیرہ کی مراجعت سے ممکن ہوتا ہے۔
۴۔اس فن کے ذریعے طالبِ علم کونص فہمی میں بھی کافی مدد ملتی ہے؛ چونکہ حدیث کے بعض الفاظ کے مختلف معانی ہوسکتے ہیں، جب اس حدیث کوذخیرۂ حدیث میں مختلف جگہوں سے تلاش کیا جاتا ہے تواس کا ایک مفہوم اور معنی متعین ہوجاتا ہے، اس طرح اس لفظ میں مختلف معانی کا احتمال ختم ہوجاتا ہے۔

اصولِ تخریج:
اگرہمیں کسی حدیث کی تخریج اور اس کے مصدر ومنبع اور اس کتاب کے حوالہ سے جانکاری حاصل کرنی ہو جس میں وہ حدیث موجود ہے تواس حدیث کومعلوم کرنے کے کئی ایک طریقے ہیں:
۱۔یاتوجس حدیث کی تخریج مقصود ہے اس میں صحابی کا نام مذکور ہوگا توصحابی کے ذریعہ حدیث کی تخریج کی جائے گی۔
۲۔یاحدیث کے پہلے لفظ کے ذریعہ حدیث کی تخریج کی جائے گی؛ اگروہ مذکور ہو۔
۳۔یاکبھی حدیث کے اس لفظ کے ذریعہ حدیث کی تخریج کی جائے گی جس کا استعمال کم ہوتا ہو؛ اگرپوری حدیث موجود ہو۔
۴۔اگرحدیث کا متن اور سند کچھ نہ ہوتو حدیث کے موضوع کے ذریعہ اس کی تخریج کی جائے گی۔
۵۔کبھی حدیث کی سند ومتن کے احوال کی جانکاری کے ذریعہ اس کی تخریج ہوگی۔
پہلا اصول
اگرحدیث کا اولین راوی مذکور ہو توصحابی کے نام کے ذریعہ حدیث کی تخریج کی جائے اس کے لیے درجِ ذیل انواع کی کتابیں معاون ہوں گی:
۱۔مسانید صحابہ: مسند اس کتابِ حدیث کوکہتے ہیں جسے اس کے مصنفین نے اسماء صحابہ پرترتیب دیا ہو، یعنی ہرصحابی کی احادیث کوعلیحدہ علیحدہ ان کے نام کے تحت ذکر کیا ہو، مسانید کی تعداد بے شمار ہے، علامہ کرمانی نے الرسالۃ المستطرفۃ میں بیاسی مسانید کا ذکر کیا ہے، صحابہ کی یہ ترتیب کبھی حروفِ ہجا کے اعتبار سے اور سابقیت فی الاسلام کے اعتبار سے یاقبائل کے اعتبار سے یاشہروں کے اعتبار سے ہوتی ہے،ان میں حروفِ ہجا کی ترتیب سب سے سہل ہوتی ہے، جیسے مسنداحمد بن حنبل (۲۴۱ھ)، مسندابی بکر لعبداللہ بن زبیر الحمیدی (۲۱۹ھ)، مسندابی داؤد لسلیمان بن داؤد الطیالسی (۲۰۴ھ)۔
۲۔معاجم صحابہ: اصطلاح محدثین میں اس کتاب کوکہتے ہیں جس میں احادیث کوصحابہ، یاشیوخ یاشہروں وغیرہ کی ترتیب پر جمع کیا گیا ہو، مشہور معاجم یہ ہیں: المعجم الکبیر ابوالقاسم سلیمان بن احمد الطبرانی (۳۶۰ھ) اس میں صحابہ کی ترتیب حروفِ ہجا پر ہے، یہ دنیا کی سب سے بڑی معجم ہے، اس میں ساٹھ ہزار حدیثیں ہیں، ابویعلی احمد بن علی الموصلی (۳۰۷ھ) کی معجم الصحابہ اور احمد بن علی بن ہلال الھمدانی (۳۹۸ھ) کی معجم الصحابہ، یہ سب اسی قبیل کی کتابیں ہیں۔
۳۔کتبِ اطراف: وہ کتبِ حدیث ہیں جن میں صحابہ کے اسماء کوحروفِ ہجاپرمرتب کیا جاتا ہے پھرمتنِ حدیث کا وہ ایک حصہ ذکر کیا جاتا ہے جس سے پوری حدیث کا پتہ چلتا ہے، ان کتابوں کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ متعدد سندیں یکجا مل جاتی ہیں جس سے حدیث پرحکم لگانے میں آسانی ہوتی ہے، اس سلسلے کی سب سے اہم کتاب حافظ جمال الدین مزی (۷۴۲ھ) کی تحفۃ الأشراف بمعرفۃ الأطراف ہے، جوصحاحِ ستہ اور ان کے مصنفین کی بعض دیگر حدیثی تصانیف کی احادیث کواسانید سمیت پیش کرتی ہے اور اس سلسلے کی ایک دوسری اہم کتاب حافظ احمد بن حجر العسقلانی (۸۵۲ھ) کی اتحاف المھرۃ باطراف العشرۃ ہے، اس میں بھی اصلی مصادر کے اطراف کوان کے متعدد اسانید کے ساتھ پیش کیا گیا ہے، وہ دس اصلی مصادر، موطاامام مالک، مسند الشافعی، مسنداحمد، مسنددارمی، صحیح ابنِ خزیمہ، منتقی ابن الجارود، صحیح ابن حبان، مستدرک حاکم، مستخرج ابوعوانہ، شرح معانی الآثاراور سنن الدارِقطنی ہیں۔
دوسرا اصول
اگر ہمارے سامنے حدیث کی سند نہ ہو بلکہ اس کا صرف متن ہو بایں طورکہ اس کا صرف ایک ٹکڑا مذکور ہو تواس ٹکڑے کےذریعے حدیث کی تخریج کی جائے اور اس کے لیے مندرجہ کتب معاون ہوں گی:
۱۔وہ کتابیں جن میں حدیث کی ایک یاچند کتب کی احادیث کوحروفِ ہجا پرمرتب کیا گیا ہو، جیسے حافظ سیوطیؒ کیجمع الجوامع اس کی پہلی قسم احادیث قولیہ کے لیے خاص ہیں اور دوسری احادیثِ فعلیہ کے ساتھ اور ان کی ترتیب مسانید صحابہ پر ہے یا علامہ سیوطیؒ ہی کی الجامع الصغیر جس میں مختصر اور جامع متون کوحروفِ ہجا پرجمع کیا گیا ہے، بعد میں علامہ سیوطیؒ نے اس میں کچھ اضافے کئے جوالفتح الکبیر سے موسوم ہیں، یہ تینوں کتابیں ذیلی مصادر ہیں، اس وقت یہ تینوں کتابیں جامع الاحادیث کے نام سے چھپ چکی ہیں۔
۲۔وہ کتابیں جولوگوں کے درمیان زبان زد احادیث کی تحقیق وتخریج کے لیے لکھی گئی ہوں، ان میں احادیث کے پہلے ٹکڑے کوالف باکی ترتیب پرمرتب کیا جاتا ہے اور اس سے جہاں مصادر حدیث کا علم ہوتا ہے وہیں اس کی اسنادی حیثیت بھی معلوم ہوجاتی ہے۔
(۱)حافظ بدرالدین الزرکشی (۹۷۴ھ) کی الآلی المنشورہ فی احادیث المشہورۃ المعروف بہ التذکرہ فی الاحادیث المشتہرۃ۔
(۲)جلال الدین عبدالرحمن السیوطی (۹۱۱ھ) کی الدرالمنثور فی الاحادیث المشتھرۃ۔
(۳)حافظ ابن حجر (۸۵۲ھ) کی اللالی المنثورۃ۔
(۴)محمد بن عبدالرحمن السخاوی (۹۰۲ھ) کی المقاصد الحسنۃ فی بیان کثیر من الاحادیث المشتھرۃ علی الالسنۃ۔
(۵)علامہ اسماعیل بن محمدعجلونی (۱۱۶۲ھ) کی كشف الخفاء ومزيل الالباس عما اشتهر من الاحاديث على ألسنة الناس وغیرہ۔
۳۔وہ کتابیں جواصلی مصادر میں سے ایک یاچند مصادر کی احادیث سےفہرست سازی کی گئی ہیں؛ ا سطرح کی بے شمار فہرستیں ہیں، اب توہرکتاب کے آخر میں اس میں مذکور احادیث کوحروفِ ہجا کی ترتیب پر صفحہ یاحدیث نمبر کے ساتھ اس کی فہرست ذکر کی جارہی ہے، جیسے محمد شریف بن مصطفی التوقادی (۱۳۱۲ھ) کی صحیحین کی فہرست بنام مفتاح الصحیحین ،نیزسعید بن بسونی زغلول نے توایک فہرست عظیم شائع کی ہے جس میں سینکڑوں مصادر حدیث کی یکجائی فہرست سازی کی گئی ہے، اس کا نام ہے موسوعۃ اطراف الحدیث۔

تیسرااصول
اگرحدیث کا پورا متن موجود ہوتواس کے تخریج کاایک طریقہ یہ بھی ہے اہم لفظ کے ذریعہ حدیث کی تخریج وتحقیق کی جائے یاجس لفظ کا استعمال کم ہوتا ہےاس سے تخریج کی جائے، اس کا طریقہ یہ ہوگا کہ اس حدیث کے وہ الفاظ جو کسی بھی طرح سے اہمیت کے حامل ہیں ان کا انتخاب کرکے اس کےمآخذ اشتقاق کی مدد سے لغوی معاجم کی طرح المعجم المفہرس لالفاظ النبوی کی مراجعت کی جائے ۔
ایک نومصادرِ اصلیہ کی احادیث پرمشتمل عظیم فہرست ہے اسے مستشرقین کی ایک جماعت ارندجان ونسنک (۱۹۳۹ء) کی نگرانی میں ترتیب دیا گیا ہے، اس کی اصل ترتیب دیگر لغوی معاجم کی طرح الف با،کی ترتیب ہے، اس میں صرف اہم الفاظ کوذکر کیا گیا ہے نہ کہ عام استعمال ہونے والے قال جاء وغیرہ کے الفاظ کو؛ پھراس کےسامنے حدیث کے ٹکڑے کوذکر کیا ہے؛ پھراس کا حوالہ دیا گیا ہے، الفاظ کی ترتیب علم صرف کی طرح اس کے مادہ کے ثلاثی مجرد سے، فعل ماضی سے؛ پھرفعل مضارع کے صیغے؛ پھرفعل امر؛ پھراسم فاعل؛ پھراسم مفعول؛ پھرمجرد کی طرح مزید کے افعال اور ان کے صیغے؛ پھراس مادہ سے دیگر اسماء مشتقات وغیرہ۔
کتابوں کی نشاندہی کے لیے کتاب کی تصریح کے بجائے رموز کا استعمال کیا گیا ہے، مثلاً صحیح بخاری کے لیے خ مسلم کے لیے م وغیرہ پھراس کے بعد مرکزی عنوان (الصلوٰۃ، الزکاۃ) مذکور ہوتا ہے؛ پھراس کے بعد ایک نمبر دیا جاتا ہے، وہ ذیلی ابواب کا ہوتا ہے، علاوہ مسلم اور مسنداحمد کے لیے اس کے مرکزی عناوین کے بعد کا نمبر حدیث کا ہوتا ہے، علاوہ مسند احمد کے اس میں دونمبر دئے گئے ہیں، ایک جلی اور ایک باریک، جلی نمبر جلد کا اور باریک نمبر صفحہ کا ہوتا ہے۔
چوتھا اصول
اگرہمارے سامنے نہ حدیث کی سند ہو اور نہ متن؛ بلکہ صرف اس کے مضمون کا ذہن میں استحضار ہوتو ایسی صورت میں مضمونِ حدیث کے ذریعہ احادیث کی تخریج کی جائے اور اس کے لیے وہ کتابیں معاون ہوں گی جن کی ترتیب ابواب موضوعات علمیہ پر ہوتی ہے:
(۱)جوامع (۲)مستخرجاتِ جوامع (۳)مستدرکاتِ جوامع (۴)سنن (۵)مستخرجاتِ سنن (۶)مجامع (۷)کتبِ زوائد (۸)مصنفات وموطات (۹)کسی ایک موضوع سے متعلق اخبار کامجموعہ ۔
موضوعاتِ علمیہ کی ترتیب پرجمع شدہ فہارس جیسے مفتاح کنوزالسنۃ یہ موضوعاتِ علمیہ پر ایک عظیم فہرست ہے، اس کواسی مستشرقین کی جماعت نے تیار کیا ہے؛ جنھوں نے المعجم المفھرس لالفاظ الحدیث النبوی تیار کی ہے، اس میں احادیث کی درج ذیل ۱۴/امہات الکتب کی فہرست بنائی گئی ہے:
(۱)صحیح بخاری (۲)صحیح مسلم (۳)سنن ابوداؤد (۴)جامع الترمذی (۵)سنن النسائی (۶)سنن ابنِ ماجہ (۷)مؤطا مالکؒ (۸)مسنداحمد (۹)مسند ابوداؤد الطیالسی (۱۰)سنن الدارمی (۱۱)مسند زید بن علی (۱۲)سیرۃ ابنِ ہشام (۱۳)معازی الواقدی (۱۴)طبقات ابنِ سعد۔
یہ فہرست صرف ایک جلد میں ہے، استاذ محمدفواد عبدالباقی نے اس کا عربی میں ترجمہ کیا ہے، اس کتاب کی ترتیب موضوعات علمیہ پر ہے، بایں طور کہ پہلے مذکورہ بالامصادر تمام احادیث کے مضامین کی نمائندگی کرنے والے الفاظ کوحروفِ ہجا پرمرتب کردیا گیا ہے اور پھر اس موضوع کے ذیلی مسائل کی تفصیل کرتے ہوئے ایک ایک مسئلہ سے متعلق مصادر حدیث میں جوکچھ مواد ہے ان کی جانب رہنمائی کی گئی ہے۔
تخریجِ حدیث کے اس اصول کے مطابق باحث کواولاً مطلوبہ حدیث کے مضمون کوذہن میں رکھ کر اس کے مرکزی عنوان (کتاب) پھر اس کے ذیلی عنوان (باب) کا تعین کرنا ہوگا، اس کے بعد اقسامِ کتب کی مراجعت سے وہ حدیث کہیں نہ کہیں اسے مل جائے گی، کبھی ایک حدیث کئی ایک موضوعات سے متعلق ہوگی ایک جگہ نہ ملے تودوسری جگہ اسے تلاش کی جائےـــــ اس سے باحث کوموضوع سے متعلق متعدد حدیثیں یکجا مل جائیں گی؛ پھر ان احادیث سے مصادرِ اصلیہ سے رجوع کرکے سند کی واقفیت کے ذریعہ باحث کتبِ اطراف کی مدد سے اس کے متعدد طرق تلاش کرسکتا ہے، جس سے اس کے لیے سند پرحکم لگانے کا کام آسان ہوجائے گا۔
پانچواں اصول
اگرمذکورہ بالاچاروں اصول کے اپنانے کے باوجود حدیث نہ مل پائے تواگرحدیث متن اور سند سمیت ہمارے سامنے موجود ہوتوہم اس کے سند اور متن میں غور کرکے اس کا ایک خاص وصف ایسا متعین کریں گے کہ جس کوپیشِ نظر رکھ کرائمہ حدیث نے کتابیں لکھی ہیں۔
متن سے متعلق
ہم نے متنِ حدیث پرغور کیا توپتہ چلا کہ وہ قرآن کریم کی کسی نصِ صریح کے معارض ہے، یاسنتِ مشہورہ کے خلاف ہے، یاعقلِ سلیم اس کا اباء کرتی ہے، یاتاریخی حقائق سے میل نہیں کھاتی یااس کے الفاظ یامعنی میں اس قدر لوچ پن ہے کہ اس کا صدور آنحضرتﷺ کی شانِ عالی سے بعید معلوم ہوتا ہے تویہ سب کچھ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ یہ حدیث موضوع تونہیں؟ چنانچہ ہم خاص ان کتابوں کی مراجعت کرسکتے ہیں جوموضوع احادیث کی تحقیق کے لیے تصنیف کی گئی ہیں، کچھ اہم کتب درجِ ذیل ہیں:
(الف)الموضاعات الکبریٰ لابن الجوزی(۵۹۷ھ) مصنف اپنی سند سے احادیث کا اخراج کرکےان کے موضوع ہونے کی وضاحت فرماتے ہیں؛ البتہ ابن الجوزی اس حوالہ سے متشدد مانے گئے ہیں۔
(ب) اللالی المصنوعۃ فی الآحادیث الموضوعۃ حافظ السیوطیؒ (۹۱۱ھ) اس کتاب کی حیثیت ابن جوزی کتاب پر نظر ثانی کی ہے، اکثروبیشتر ابن الجوزی کی موافقت کرتے اور بہت سی احادیث کے تعلق سے ابن جوزی سے اختلاف کرتے نظر آتے ہیں، دونوں کتابوں کی ترتیب علمی مضامین پر ہے۔
(ج)تنزیہ الشریعۃ المرفوعۃ عن الاخبار الشنیعۃ الموضوعۃ یہ کتاب اپنے موضوع پر جامع ترین کتاب ہے اس موضوع احادیث پرجامع ترین کتاب ہے اس کے مصنف احادیث پر وضع کا حکم لگانے میں معتدل اور متوازن مزاج کے حامل ہیں۔
(د)الاسرارالمرفوعۃ فی الاخبار الموضوعۃ لملاعلی القاری الحنفی (۱۰۱۴ھ) جوموضوعات کبیر سے معروف ہے، ان ہی کی ایک اور کتاب ہے المصنوع فی معرفۃ الحدیث الموضوع جوموضوعاتِ صغیر سے معروف ہے۔
یاپتہ چلے کہ متن کا تعلق امثال (کہاوتوں) سے ہےتو ہم ان کتب کی مراجعت کرسکتے ہیں جن میں نبی کریمﷺ کی کہاوتوں پرمشتمل احادیث کواکٹھا کیا گیا ہے:
(۱)کتاب الامثال، لابی عبید بن سلام (۲۲۴ھ)، (۲)کتاب الامثال لابی الحسن علی بن سعید العسکری (۳۰۵ھ)، (۳)کتاب الامثال لابی محمد الرامھرمزی (۳۶۰ھ)۔

سند سے متعلق
۱۔یاہم نے دیکھا کہ حدیث کی سند رسول اللہﷺ سے ہوکر اللہ تبارک وتعالیٰ تک پہونچتی ہے جس سے پتہ چلا کہ یہ حدیثِ قدسی ہے؛ چنانچہ ان کتب کی مراجعت کی جائے جوخاص احادیثِ قدسیہ کوجمع کرتی ہیں۔
(الف)مشکاۃ الانوار للشیخ محی الدین ابن عربی اندلسی (۶۳۸ھ) اس میں ایک سو ایک احادیثِ قدسیہ مصنف کی اپنی سند سے مذکور ہیں۔
(ب)الاتحاف السنیۃ فی الآحادیث القدسیۃ لعبدالرؤف المناوی (۱۰۳ھ) اس میں دوسو تہتر (۲۷۳) احادیث ہیں۔
(ج)احادیثِ قدسیہ کا سب سے بڑا مجموعہ محمدبن محمود مدنی کی تالیف ہے، اس کا نام الاتحاف السنیۃ فی الاحادیث القدسیۃ ہے، اس میں ۸۶۳/احادیث بغیرسند کے مذکور ہیں؛ مگرمصنف نے باضابطہ مصادرِ اصلیہ کا حوالہ دے دیا ہے۔
۲۔یاپتہ چلا کہ سند میں جتنے راوی ہیں وہ کسی ایک وصف میں مشترک ہیں یاتوسب فقہاء ہیں یامدنی ہیں وغیرہ ہیں یاسب نے حدیث کوروایت کرتے وقت کسی خاص قسم کے عمل کا التزام کیا ہے تواس صورت میںمسلسلات کی مراجعت کی جاسکتی ہے۔
(الف)المسلسلات الکبری للسیوطی رحمہ اللہ (۹۱۱ھ)۔
(ب)المناھل السلسلۃ فی الاحادیث المسلسلۃ جس میں دوسو بارہ ۲۱۲/احادیث سند سمیت مذکور ہیں۔
۳۔یاسند کا کوئی راوی مبہم ہوتواس صورت میں مبہمات کی تعیین کے لیے دوکتابیں تصنیف کی گئی ہیں اس کی طرف رجوع کیا جائے، اس سلسلے کی سب سے جامع کتاب، ولی الدین ابوزرعہ عراقی (۸۲۶ھ) کی کتاب المستعاد من مبہمات المتن والاسناد ہے۔
۴۔یاسند کا آخری راوی جوقال رسول اللہﷺ کہہ رہا ہے کسی ذریعہ سے پتہ چلا کہ وہ تابعی ہیں تومعلوم ہوا کہ یہ حدیث مرسل ہے تواس کے لیے ان کتابوں سے استفادہ کیا جائےجومرسل احادیث جمع کرتی ہیں،جیسے ابوداؤد سجستانی کی کتاب المراسیل۔

سند ومتن دونوں سے متعلق
یاحدیث ظاہری سند سے بالکل ٹھیک ہے اُس کےرجال بھی ثقہ ہیں؛ البتہ اس میں کوئی باطنی علت ہے یہ علت سند میں بھی ہوسکتی ہے اور متن میں بھی، یابعض علامات سے پتہ چلا کہ یہ حدیث معلول ہے تواس صورت میں ان کتابوں کی جانب رجوع کیا جائے جوخاص اسانید ومتون کی علتیں بیان کرتی ہیں، مثلاً: امام ترمذی رحمہ اللہ کی کتاب العلل الکبیر ابن ابی حاتم کی علل الحدیث اور امام دارِقطنی کی العلل الکبریٰ۔
جب ان پانچ اصول کواپنانے کے ذریعہ حدیث کے مصدر اصلی کا پتہ چل جائے اور اس کی متعدد اسانید اور متن سامنے موجود ہو، توپھرآگے کے مرحلے میں نقدِ اسناد کا عمل آسان ہوجائے گا، کمپیوٹر نے توتخریجِ حدیث کے کام کوآسان کردیا ہے، شاملہ وغیر کی مدد سے تمام احادیث کی تخریج کی جاسکتی ہے۔

 

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *