سنت کی حیثیت قرآن کی روشنی میں

 

قرآن کریم کے بعد احادیث نبوی (علی صاحبھا الصلوٰۃ والسلام) اسلامی احکام اور تعلیمات کا دوسرا بڑا مآخذ ہے، بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ خود قرآن کریم کو ٹھیک ٹھیک سمجھنا ، اس سے احکام نافذ کرنا اور اس پر اللہ تعالی کی رضا کے مطابق عمل کرنا بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم اور رہنمائی کےبغیر ممکن نہیں۔ سنت کا یہ مقام صدیوں سے مسلم اور غیر متنازعہ رہا ہے اور اگرچہ فقہی آراء کے بارے میں مسلمانوں میں مختلف نقظہ نظر رہے ہیں لیکن قرآن حکیم اور سنت نبوی کی حجیت کا کسی ماہر قانون نے کبھی انکار نہیں کیا۔ چند ایسے متفرق افراد کی انفرادی آراء سے قطع نظرجنہوں نے اپنے آپ کو مسلم امت کے اجتماعی دھارے سے خود الگ کر لیا تھا۔ کسی فرد نے کبھی اسلامی قانون کے بنیادی اور اہم ماخذ کی حیثیت سے سنت کا درجہ چیلنج نہیں کیا۔
یہ صورتحال اب تک برقرار ہے لیکن پچھلی صدی کے دوران چند غیر مسلم مستشرقین اور ان کے پیروکاروں نے کوشش کی ہے کہ حدیث کی حجیت یا اس کی استنادی حیثیت کے بارے میں ذہنوں میں شکوک و شبہات پیدا کئے جائیں اور سنت کے خلاف شکوک و شبہات رکھنے والے طرز فکر کو فروغ دیا جائے۔ بعض حضرات نے احادیث نبویؐ کی حجیت اور اہمیت کو مشکوک بنانے کی کوشش کی ہےاور اس سلسلے میں طرح طرح کے شبہات پیدا کئے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ کئی مسلمان جو اسلام کا اس کے اصل ماخذ کے ذریعہ مطالعہ نہیں کر سکتے، ان کتابوں کو پڑھ کر اس موضوع پر شکوک و شبہات کا شکار ہو گئے۔
اس صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے موجودہ تحریر کا مقصد یہ ہے کہ اسلامی تعلیمات کے بنیادی ماخذ کی روشنی میں سنت کا ایک سادہ اور معروضی خاکہ پیش کر دیا جائے۔ اس تحریر کا منشاء اس مناظرانہ فضا میں ملوث ہونا نہیں ہے جس کی کوئی انتہاء نہیں ہوتی بلکہ منشاء یہ ہے کہ حقیقت کو اس کی صحیح اور اصل صورت میں بیان کر دیا جائے۔

کیا رسول کا مقام محض ایک ڈاکیے کا سا  ہوتا ہے ؟

اس سلسلے میں پہلا سوال یہ ہے کہ جب کوئی پیغمبر اللہ تعالٰی کی جانب سے لوگوں کی طرف بھیجا جاتا ہے تو اس کی حیثیت کیا ہوتی ہے؟ کیا اس کا مقام و مرتبہ ایک پیامبر یا ڈاکیے کی طرح کا ہوتا ہے جو خط پہنچا کر اپنی ذمے داری سے سبکدوش ہو جاتا ہے اور خط کے مندرجات وغیرہ سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
اس کا جواب یقیناً نفی میں ہے۔ انبیاء کرام فقط اسی کام پر مامور نہیں ہوتے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیں اور بس، بلکہ ان کے ذمے یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ کتاب اللہ کی تشریح و تفسیر کریں۔ اس کے عملی اطلاق کے طریقے بتائیں اور ایک ایسی عملی مثال قائم کریں جو کتاب اللہ کی ہدایت پر پوری اترتی ہو۔ ان کا فریضہ منصبی اللہ تعالٰی کی کتاب کے صرف الفاظ پڑھ دینے پر مکمل نہیں ہو جاتا بلکہ یہ بھی ان کے فرائض میں شامل ہے کہ وہ اس کی تعلیم بھی دیں اور اس تعلیمات کے مطابق زندگی بسر کرنے کے لئے لوگوں کی تربیت بھی کریں۔ قرآن کریم میں اس بات کا وضاحت سے اعلان فرما کر کسی شک کی گنجائش نہیں رہنے دی گئی۔
لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْبَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْ أَنْفُسِهِمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُبِينٍ۔(آل عمران:۱۶۴)

ترجمہ: اللہ نے ایمان والوں پر احسان کیا ہے جو ان میں انہیں میں سے رسول بھیجا ان پر اس کی آیتیں پڑھتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے  ۔اگرچہ وہ اس سے پہلے صریح گمراہی میں تھے

اس آیتِ کریمہ میں منصبِ رسولﷺ  کا فریضہ صرف تلاوتِ آیات، یعنی آیتوں کوپڑھ کرسنادینا ہی نہیں کہا گیا؛ بلکہ ساتھ ہی ساتھ تعلیم کتاب (یعنی کتاب اللہ کی مراد بتلانا) اور تعلیمِ حکمت (یعنی قرآن کریم کے غامض، اسرار ولطائف اور شریعت کے دقیق وعمیق علل پر مطلع کرنا) اور تزکیہ (یعنی ان کی عملی تربیت کرنا) یہ تمام چیزیں فریضہ ٔنبوت  قرار پائیں۔ مزید فرمایا

“وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَانُزِّلَ إِلَيْهِمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُون”۔ (النحل:۴۴)

اور ہم نے آپ پر یہ قرآن اُتارا ہے؛ تاکہ جو ہدایات لوگوں کے پاس بھیجی گئی ہیں وہ ہدایات آپ ان کو کھول کھول کر بیان کر دیں اور تاکہ وہ ان میں غوروفکر کیا کریں۔

اور یہ بات ظاہر ہے کہ حضورﷺ کے مخاطب عرب فصحاء وبلغاء تھے، ان کے لیے قرآن کی تعلیم وتبیین کے یہ معنی تو نہیں کہ محض لغوی معنی سمجھادیں کیونکہ عرب اہل لسان ہونے کی وجہ سے خود بخود معنی سمجھ لیتے تھے بلکہ اس تعلیم وتبیین کا مقصد صرف یہی تھا اور یہی ہوسکتا ہے کہ قرآن کریم نے ایک حکم مجمل یامبہم الفاظ میں بیان فرمایا اس کی تشریح اور تفصیل حضورﷺ نے وحی کے ذریعہ سے لوگوں تک پہنچادی، جوقرآن کے الفاظ میں نہیں آئی بلکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے قلبِ مبارک میں ڈالی۔

قرآن کریم نے بے شمار مواقع میں صرف”وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ” (البقرۃ:۸۳)  فرمانے پر اکتفا کیا ہے، کہیں نماز کے معاملے میں اوقات، قیام، رکوع اور سجدہ کا ذکر بھی بالکل مبہم ہے ان کی کیفیات کا ذکر نہیں، رسول کریمﷺ کو جبرئیل امین نے خود آکر اللہ کے حکم سے ان تمام اعمال وارکان کی تفصیل عملی صورت میں بتلادی اور آپﷺ نے قول وعمل کے ذریعہ امت کو پہنچادیا؛ اسی طرح زکوۃ کے مختلف نصاب اور ہرنصاب میں کتنا حصہ معاف ہے، یہ سب تفصیلات حضورﷺ نے بیان فرمائیں اور ان کے فرامین لکھ کر متعدد صحابہ کرام کو سپرد فرمائے۔سی طرح شریعت کے بے شمار مسائل، حیات سے لیکر ممات تک خواہ وہ ایمانیات سے متعلق ہوں یاعبادات سے، چاہے وہ معاملات ہوں یامعاشرت، یاوہ مسائل جن کا تعلق اخلاقیات سے ہو یاآدابِ زندگی سے، اسلامی کوئی شعبہ ایسا نہیں ہے جس میں حدیث رسول کے ذریعہ کوئی حکم نہ دیا گیا ہو یاکوئی نصیحت نہ کی گئی ہو۔

ایمان باالرسول  کا مطلب کیا ہے؟

تکمیل ایمان کے لیے خدا کی ذات، اس کے ملائکہ اور کتابوں پر ایمان لانے کے ساتھ رسول کی رسالت پر بھی ایمان لانا ضروری ہے اگر آنحضرتﷺ کے اقوال، افعال اور احکام حجت نہ ہوتے تو پھر آپ پر ایمان کو ضروری قرار دیا جاتا اور نہ آپ کے احکام کی اتباع کو ایمان کی علامت قرار دیا جاتا۔ کیونکہ ایمان تو اسی پر لایا جاتا ہے جو قابل حجت اور دلیل ہواور جو چیز قابل حجت ہی نہیں ہے، اس پر ایمان لانا ایک عبث فعل  ہے۔بفرض محال اگر یہ مان لیا جائے کہ نبی کے افعال واقوال جن کے مجموعے کا نام حدیث ہے، شریعت اسلام میں حجت نہیں ہے تووہ لوگ جو نبیﷺ کو نہیں مانتے یانبی کے اقوال وافعال کی پیروی نہیں کرتے ان کو کافر نہیں کہنا چاہیے تھا اس لیے کہ جوچیز حجت نہیں ہے اور جس کا تسلیم کرنا یقینی نہیں ہے ان کے انکار کرنے سے کفر کیسے لازم ہوسکتا ہے؟ حالانکہ قرآن صاف  اعلان کررہا ہے کہ ایسے لوگ کافر اور گمراہ ہیں جو نبیﷺ کے احکام کی پیروی نہیں کرتے یااس کے فیصلوں کو واجب التسلیم نہیں مانتے۔

فَلَاوَرَبِّكَ لَايُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَايَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا”۔ (النساء:۶۵)ترجمہ :ہرگز نہیں، آپ کے رب کی قسم، وہ لوگ ہرگز مؤمن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے آپسی اختلافات میں آپ کو حکم نہ بنائیں؛ پھرآپ کے فیصلہ پر اپنے دلوں میں کسی قسم کی تنگی محسوس نہ کریں اور خود کو مکمل تسلیم کریں۔

آیتِ مبارکہ اس بات پر شاہد ہے جو لوگ اپنے اختلافی مسائل میں رسول کو اپنا حکم تسلیم نہیں کرتے وہ بزبانِ قرآن کافر ہیں، مؤمن کہے جانے کے لائق نہیں۔ ایمان بالرسول کے بغیر کوئی مؤمن نہیں ہوسکتا۔نبی اپنے اس فریضہ سے کامل طور پراس وقت عہدہ برآہوسکتا ہے جب کہ اس کی تعلیمات خواہ زبانی ہویاعملی امت کے لیے واجب الاطاعت ہوں اور وہ آپ کواس کے عملی نمونہ تسلیم کرتے ہوئے آپ کی اتباع وپیروی کریں یہی وجہ ہے کہ قرآنِ کریم نے کئی مواقع پرآپ کے ارشادات اور افعال کوحتمی حجت اور قابل عمل قرار دینے کے لیے آپ کی اطاعت (بات ماننا) اور اتباع (پیروی کرنے) کا حکم دیا ہے، قرآن کریم نے بیسوں مقامات پرپیغمبرﷺ  کے اطاعت کو لازمی اور ضروری قرار دیا ہے اور اس اطاعتِ رسول اور بیشترمقامات پراطاعتِ رسول کواللہ کی اطاعت کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔

حضور ﷺ کے اقوال و افعال کی حیثیت قرآن کی روشنی میں:

یہ محض ایک منطقی استنباظ نہیں ہے جو قرآن کریم کی مذکورہ بالا آیت سے اخذ کر لیا گیا ہو، بلکہ یہ قرآن کریم کے بے شمار آیات کے واضح احکام ہیں جن کے تحت مسلمانوں پر پیغمبر علیہ الصلواۃ والسلام کی اطاعت اور پیروی لازم کی گئی ہے ان احکام کے سلسلے میں قرآن حکیم نے دو مختلف اصطلاحیں استعمال کی ہیں یعنی (۱) اطاعت (بات ماننا) اور (۲) اتباع (پیروی کرنا)۔ پہلی اصطلاح کا تعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے احکامات اور ارشادات سے ہے جب کہ دوسری اصطلاح آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے افعال و اعمال سے متعلق ہے۔ اس طرح مسلمانوں کو اطاعت اور اتباع کا حکم دے کر قرآن کریم نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ارشادات اور افعال دونوں کو حتمی حجت قرار دے دیا ہے۔ اب اگر “یکفینا القرآن” کا نعرہ  لگاکے  حدیث رسول کا انکار کیا جائے توپھرقرآن مجید میں بیسیوں مقامات پر  جو ایمان باللہ کے ساتھ ساتھ ایمان بالرسول، اطاعت رسول اور اتباع رسول کا حکم دیا گیا ہے، ان سب کی بنیادیں کھوکھلی ہوجائیں گی، نتیجتاً ان سب آیات کا انکار بھی لازم آئیگا۔

اطاعت رسولﷺ:

قُلْ أَطِيعُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ ۖ فَإِن تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْكَافِرِينَ ﴿آل عمران:٣٢﴾
“آپ فرما دیجیے کہ تم اطاعت کیا کرو اللہ کی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پھر اگر وہ لوگ اعتراض کریں سو اللہ تعالٰی کافروں سے محبت نہیں کرتے۔” (۳-۳۲)
وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ ﴿آل عمران:١٣٢﴾
“اور کہنا مانو اللہ تعالٰی کا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا۔ امید ہے کہ تم رحم کئے جاؤ گے۔” (۳-۱۳۲)۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ ۖ ﴿النساء:٥٩﴾
“اے ایمان والو! تم اللہ کا کہنا مانو اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا کہنا مانو اور تم میں جو لوگ اہل حکومت ہیں ان کا بھی۔” (۴-۵۹)
وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَاحْذَرُوا ۚ ﴿المائدہ:٩٢﴾
“اور تم اللہ تعالٰی کی اطاعت کرتے رہو اور رسول کی اطاعت کرتے رہو اور احتیاط رکھو۔” (۵-۹۲)
فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ ۖ وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ﴿الانفال:١﴾
“سو تم اللہ سے ڈرو اور باہمی تعلقات کی اصلاح کرو اور اللہ کی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اطاعت کرو اگر تم ایمان والے ہو۔” (۸-۱)
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَا تَوَلَّوْا عَنْهُ وَأَنتُمْ تَسْمَعُونَ ﴿الانفال:٢٠﴾
“اے ایمان والو! اللہ کا کہنا مانو اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا اور اس سے روگردانی مت کرنا اور تم سن تو لیتے ہی ہو۔” (۸-۲۰)
وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا ﴿الانفال:٤٦﴾
“اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کیا کرو اور نزاع مت کرو ورنہ کم ہمت ہو جاؤ گے۔” (۸-۴۶)
قُلْ أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ ۖ فَإِن تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْهِ مَا حُمِّلَ وَعَلَيْكُم مَّا حُمِّلْتُمْ ۖ وَإِن تُطِيعُوهُ تَهْتَدُوا ۚ ﴿النور:٥٤﴾
“آپ کہئے کہ اللہ کی اطاعت کرو اور رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اطاعت کرو، پھر اگر تم لوگ روگردانی کرو گے تو سمجھ رکھو کہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ذمہ وہی ہے جس کا ان پر بار رکھا گیا ہے اور تمہارے ذمہ وہ ہے جس کا تم پر بار رکھا گیا ہے اور اگر تم ان کی اطاعت کر لی تو راہ پر جا لگو گے۔” (۲۴-۵۴)
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ ﴿محمد:٣٣﴾
“اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال کو برباد مت کرو۔” (۴۷-۳۳)
فَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ ۚ ﴿المجادلۃ:١٣﴾
“تم نماز کے پابند رہو اور زکوٰۃ دیا کرو اور اللہ اور اس کے رسول کا کہنا مانا کرو۔” (۵۸-۱۳)
وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ ۚ فَإِن تَوَلَّيْتُمْ فَإِنَّمَا عَلَىٰ رَسُولِنَا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ ﴿التغابن:١٢﴾
“اللہ کا کہنا مانو اور رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا کہنا مانو اور اگر تم اعراض کرو گے تو ہمارے رسول کے ذمہ تو صاف صاف پہنچا دینا ہے۔” (۶۴-۱۲)

ان آیات میں رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اطاعت ایک لازمی حکم کے طور پر ہے۔ بہت سی آیات ایسی بھی ہیں جب “رسول کی اطاعت” کے نتائج اور اس کی جرزء ذکر کی گئی ہے ان میں بھی “رسول کی اطاعت” کو “اللہ کی اطاعت” کے ساتھ ساتھ اکٹھا اور یکجا بیان کیا گیا ہے۔
وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يُدْخِلْهُ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ ﴿النساء:١٣﴾
“اور جو شخص اللہ تعالٰی اور رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پوری اطاعت کرے گا اللہ تعالٰی اس کو ایسی بہشتوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔” (۴-۱۳)
یہی الفاظ (۴۸-۱۷) میں بھی ذکر کئے گئے ہیں۔
وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَـٰئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِم ﴿النساء:٦٩﴾
“اور جو شخص اللہ اور رسول کا کہنا مان لے گا تو ایسے اشخاص بھی ان حضرات کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ تعالٰی نے انعام فرمایا۔” (۴-۶۹)
إِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِينَ إِذَا دُعُوا إِلَى اللَّـهِ وَرَسُولِهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ أَن يَقُولُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا ۚ وَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ﴿النور:٥١﴾ وَمَن يُطِعِ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ وَيَخْشَ اللَّـهَ وَيَتَّقْهِ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْفَائِزُونَ ﴿النور:٥٢﴾
“مسلمانوں کا قول تو جب کہ ان کو اللہ کی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ ان کے درمیان میں فیصلہ کر دیں یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے سن لیا اور مان لیا۔ ایسے لوگ فلاح پائیں گے۔ اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا کہا مانے اور اللہ سے ڈرے اور اس کی مخالفت سے بچے۔ بس ایسے لوگ بامراد ہوں گے۔” (۵۳، ۵۲ – ۲۴)
وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا ﴿الاحزاب:٧١﴾
“اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرے گا سو وہ بڑی کامیابی کو پہنچے گا۔” (۳۳-۷۱)
وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ ۚ يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَيُطِيعُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ۚ أُولَـٰئِكَ سَيَرْحَمُهُمُ اللَّهُ ۗ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ ﴿التوبۃ:٧١﴾
“اور مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں آپس میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں نیک باتوں کی تعلیم دیتے ہیں اور بُری باتوں سے منع کرتے ہیں اور نماز کی پابندی رکھتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا کہنا مانتے ہیں، ان لوگوں پر ضرور اللہ تعالٰی رحمت کرے گا، بلا شبہ اللہ تعالٰی قادر ہے حکمت والا ہے۔” (۹-۷۱)
وَإِن تُطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَا يَلِتْكُم مِّنْ أَعْمَالِكُمْ شَيْئًا ۚ ﴿الحجرات:١٤﴾
“اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا کہنا مان تو اللہ تعالٰی تمہارے اعمال میں سے ذرا بھی کمی نہ کرے گا۔” (۴۹-۱۴)

قرآن کریم میں اس بات کی بھی صراحت ہے کہ “رسول کی اطاعت” یا “فرمانبرداری” نہ تو اللہ کا کوئی نیا قانون ہے اور نہ اس کا اطلاق صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تک مخصوص ہے بلکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پیشتر بھیجے جانے والے تمام انبیاء کے لئے بھی یہی اصول کارفرما رہا ہے۔
وَمَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلَّا لِيُطَاعَ بِإِذْنِ اللَّهِ ۚ ﴿النساء:٦٤﴾
“اور ہم نے تمام پیغمبروں کو خاص اسی واسطے مبعوث فرمایا ہے کہ بہ حکم خداوندی ان کی اطاعت کی جاوے۔” (۴-۶۴)
قرآن کریم نے اس بات کی بھی وضاحت کر دی ہے کہ تمام رسول اللہ تعالٰی کی رضا و خوشنودی کے ترجمان ہیں چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اطاعت درحقیقت خود اللہ تعالٰی ہی کی اطاعت ہے۔
مَّن يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ ۖ ﴿النساء:٨٠﴾
“جس شخص نے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اطاعت کی اس نے خدا تعالٰی کی اطاعت کی۔” (۴-۸۰)
جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اطاعت اور فرمانبرداری پر قرآن کریم نے بار بار زور دیا ہے اور اسے اللہ تعالٰی کی اطاعت کے ساتھ ملا کر بیان کیا ہے ٹھیک اسی طرح “رسول کی نافرمانی” اور اس کے نتائج سے خبردار کیا ہے اور اسے “اللہ کی نافرمانی” کے ساتھ ساتھ ملا کر ذکر کیا ہے۔
وَمَن يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَتَعَدَّ حُدُودَهُ يُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِيهَا ﴿النساء:١٤﴾
“اور جو شخص اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا کہا نہ مانے گا اور بالکل ہی اس کے ضابطوں سے نکل جائے گا اس کو آگ میں داخل کر دیں گے اس طور سے کہ وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا۔” (۴-۱۴)
وَمَن يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا مُّبِينًا ﴿الاحزاب:٣٦﴾
“اور جو شخص اللہ کا اور اس کے رسول کا کہنا نہ مانے گا وہ صریح گمراہی میں پڑا۔” (۳۳-۳۶)
وَمَن يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَإِنَّ لَهُ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ﴿الجن:٢٣﴾
“اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کا کہنا نہیں مانتے تو یقیناً ان لوگوں کے لئے آتش دوزخ ہے، جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔” (۷۲-۲۳)
وَمَن يُشَاقِقِ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ فَإِنَّ اللَّـهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ ﴿الانفال:١٣﴾
“اور جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مخالفت کرتا ہے سو اللہ تعالٰی سخت سزا دیتے ہیں۔” (۸-۱۳)
أَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّهُ مَن يُحَادِدِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَأَنَّ لَهُ نَارَ جَهَنَّمَ ﴿التوبہ:٦٣﴾
“کیا ان کو خبر نہیں کہ جو شخص اللہ کی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مخالفت کرے گا تو ایسے شخص کو دوزخ کی آگ نصیب ہو گی۔” (۹-۶۳)
چنانچہ “اطاعت” کی مثبت اور منفی دونوں جہتوں کا قرآن کریم نے ذکر کیا ہے۔ اور “رسول کی اطاعت” ان میں سے ہر ایک آیت میں جداگانہ مگر “اللہ کی اطاعت” کے ساتھ ساتھ بیان کی گئی ہے۔

یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ جب کبھی قرآن میں “اللہ کی اطاعت” کا ذکر آیا ہے تو اسی کے فوراً بعد “رسول کی اطاعت” کا حکم بھی آیا ہے جو پورے قرآن میں کہیں ایک مرتبہ بھی فروگذاشت نہیں ہوا یعنی پورے قرآن کریم میں کوئی ایک بھی آیت ایسی نہیں ہے جس میں “اللہ کی اطاعت” کا بیان ہو اور اس کے ساتھ فوراً ہی “رسول کی اطاعت” کا ذکر نہ کی گئی ہو۔
اس کے برعکس ایسی کئی آیات ہیں جہاں صرف “رسول کی اطاعت” کا بیان ہے لیکن اس کے ساتھ “اللہ کی اطاعت” کا کوئی حولہ نہیں ہے۔
وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ ﴿النور:٥٦﴾
“اور نماز کی پابندی رکھو اور زکوٰۃ دیا کرو اور رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اطاعت کیا کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔” (۲۴-۵۶)
وَإِن تُطِيعُوهُ تَهْتَدُوا ۚ ﴿النور:٥٤﴾
“اور اگر تم نے ان کی اطاعت کر لی تو راہ پر جا لگو گے۔” (۲۴-۵۴)
يَوْمَئِذٍ يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَعَصَوُا الرَّسُولَ لَوْ تُسَوَّىٰ بِهِمُ الْأَرْضُ ﴿النساء:٤٢﴾
“اس روز جنہوں نے کفر کیا ہو گا اور رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا کہنا نہ مانا ہو گا وہ اس بات کی آرزو کریں گے کہ کاش ہم زمین کے پیوند ہو جائیں۔” (۴-۴۲)
وَمَن يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَىٰ وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّىٰ وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ ۖ وَسَاءَتْ مَصِيرًا ﴿النساء:١١٥﴾

وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ ۖ وَسَاءَتْ مَصِيرًا ﴿النساء:١١٥﴾
“اور جو شخص رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مخالفت کرے گا بعد اس کے کہ اس کو امر حق ظاہر ہو چکا تھا اور مسلمانوں کا راستہ چھوڑ کر دوسرے رستے ہو لیا تو ہم اس کو جو کچھ وہ کرتا ہے کرنے دیں گے اور اس کو جہنم میں داخل کریں گے اور وہ بری جگہ ہے جانے کی۔” (۴-۱۱۵)

اطاعت رسولؐ کی ضرورت کیوں؟

“اطاعت رسول” کو اس قدر اہمیت کے ساتھ ذکر کرنے کی وجہ یہی ہے کہ اللہ کی اطاعت اس کے بغیر عملاً ممکن نہیں ہے۔ اللہ تعالٰی کی جانب سے ہر شخص کو الگ الگ براہ راست یہ نہیں بتلایا جاتا کہ اللہ تعالٰی کا اس سے کیا مطالبہ ہے؟ جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد ہے۔
وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا فَيُوحِيَ بِإِذْنِهِ مَا يَشَاءُ ۚ ﴿الشوری:٥١﴾
“اور کسی بشر کی یہ شان نہیں کہ اللہ تعالٰی اس سے کلام فرماوے مگر یا تو الہام سے، یا حجاب کے باہر سے یا کسی فرشتہ کو بھیج دے کہ وہ خدا کے حکم سے جو خدا کو منظور ہوتا ہے پیغام پہنچا دیتا ہے۔” (۴۲-۵۱)
چنانچہ سنت اللہ یہی ہے کہ وہ اپنے پیغامات اپنے انبیاء کے ذریعے بھیجتا ہے اور اس کے اطاعت کی عملی شکل انبیاء کی اطاعت کے سوا کوئی نہیں ہے چنانچہ جب کوئی پیغمبر کسی بات کی اجازت دیتا ہے یا کسی بات سے منع کرتا ہے تو وہ اپنی ذاتی حیثیت میں نہیں بلکہ پیغمبرانہ حیثیت میں یہ حکم دیتا ہے۔ جب اللہ  تعالٰی نے خود صاف طور پر “اطاعت رسول” کا حکم دے دیا تو اب اس کی تعمیل بالواسطہ طور پر “اللہ تعالٰی ہی کی اطاعت ہے”۔ قرآن کریم نے یہ بات مندرجہ ذیل واضح الفاظ میں بالکل طے کر دی ہے۔
مَّن يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ ۖ ﴿النساء:٨٠﴾
“جس شخص نے رسول کی اطاعت کی اس نے خدا تعالٰی کی اطاعت کی۔” (۴-۸۰)
چنانچہ قرآن کریم میں جہاں کہیں “اطاعت رسول” کا ذکر کیا گیا ہے تو اللہ تعالٰی کی اطاعت بغیر کہے اسی میں شامل ہے کیونکہ پیغمبر اپنی پیغمبرانہ حیثیت میں کوئی بات آسمانی وحی کی رہنمائی کے بغیر کہہ ہی نہیں سکتا۔
وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ ﴿النجم:٣﴾ إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ ﴿النجم:٤﴾
“اور نہ آپ اپنی خواہش نفسانی سے باتیں بتاتے ہیں ان کا ارشاد نری وحی ہے جو ان پر بھیجی جاتی ہے۔” (۳-۴، ۵۳)
اس زاوئیے سے دیکھا جائے تو “رسول کی اطاعت” اللہ تعالٰی ہی کی اطاعت کی نمائندگی کرتی ہے اور اول الذکر کے حوالے میں آخر الذکر لازماً شامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید نے کئی مقامات پر صرف اطاعت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ذکر کافی سمجھ کر اللہ تعالٰی کی اطاعت کا ذکر چھوڑ دیا ہے کیونکہ اللہ تعالٰی کی اطاعت کا عملی طریقہ صرف رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اطاعت ہی ہے۔
اس کے برعکس قرآن کریم میں صرف “اللہ تعالٰی کی اطاعت” کا ذکر کافی نہیں سمجھا گیا اور اس کے ساتھ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اطاعت کا الگ ذکر لازمی طور پر کیا گیا۔تاکہ اطاعت رسول کو نظر انداز کرنے کے کسی معمولی سے عذر کو بھی ختم کر دیا جائے اور اس بارے میں کوئی خفیف سے خفیف شبہ بھی باقی نہ رہے کہ اللہ تعالٰی کی اطاعت اس وقت تک مکمل نہیں ہے جب تک کہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اطاعت اس کی تمام تر جزئیات کے ساتھ اختیار نہ کر لی جائے۔

اتباع رسول ﷺ:

اس سلسلے میں قرآن کریم کی دوسری اصطلاح “اتباع” ہے جس کے معنی ہیں پیروی کرنا۔
قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّـهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّـهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ ﴿آل عمران:٣١﴾
” آپ فرما دیجئے کہ اگر تم لوگ اللہ سے محبّت رکھتے ہو تو تم لوگ میرا اتباع کرو خدا تعالٰی تم سے محبت کرنے لگیں گے۔” (۳-۳۱)
الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِندَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنجِيلِ ﴿الآعراف:١٥٧﴾
“جو لوگ ایسے رسول نبی امی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا اتباع کرتے ہیں، جن کو وہ لوگ اپنے پاس توریت و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔” (۷-۱۵۷)
فَآمِنُوا بِاللَّـهِ وَرَسُولِهِ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ الَّذِي يُؤْمِنُ بِاللَّـهِ وَكَلِمَاتِهِ وَاتَّبِعُوهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ ﴿الاعراف:١٥٨﴾
“سو اللہ پر ایمان لاؤ اور اس کے نبی امی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر جو کہ اللہ اور  اس کے احکام پر ایمان رکھتے ہیں اور ان کا اتباع کرو تاکہ تم راہ راست پر آ جاؤ۔” (۷-۱۵۸)
لَّقَد تَّابَ اللَّـهُ عَلَى النَّبِيِّ وَالْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنصَارِ الَّذِينَ اتَّبَعُوهُ فِي سَاعَةِ الْعُسْرَةِ ﴿التوبۃ:١١٧﴾
“اللہ تعالٰی نے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر توجہ فرمائی اور مہاجرین اور انصار پر بھی جنہوں نے تنگی کے وقت میں پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ساتھ دیا۔” (۹-۱۱۷)
يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ حَسْبُكَ اللَّـهُ وَمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ﴿الانفال:٦٤﴾
“اے نبی! آپ کے لئے اللہ تعالٰی کافی ہے اور جن مومنین نے آپ کا اتباع کیا۔” (۸-۶۴)
رَبَّنَا آمَنَّا بِمَا أَنزَلْتَ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُولَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ ﴿آل عمران:٥٣﴾
“اے ہمارے رب ہم ایمان لے آئے ان چیزوں پر جو آپ نے نازل فرمائیں اور پیروی اختیار کی ہم نے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سو ہم کو ان لوگوں کے ساتھ لکھ دیجیے جو تصدیق کرتے ہیں۔” (۳-۵۳)
قُلْ هَـٰذِهِ سَبِيلِي أَدْعُو إِلَى اللَّـهِ ۚ عَلَىٰ بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي ۖ ﴿یوسف:١٠٨﴾

“آپ فرما دیجیے کہ یہ میرا طریق ہے میں خدا کی طرف اس طور پر بلاتا ہوں کہ میں دلیل پر قائم ہوں۔ میں بھی اور میرے ساتھ والے بھی۔” (۱۲-۱۰۸)
وإِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَاهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ ﴿آل عمران:٦٨﴾
“بلا شبہ سب آدمیوں میں زیادہ خصوصیت رکھنے والے (حضرت) ابراھیم کے ساتھ البتہ وہ لوگ تھے جنہوں نے ان کا اتباع کیا تھا۔” (۳-۶۸)
وَجَعَلْنَا فِي قُلُوبِ الَّذِينَ اتَّبَعُوهُ رَأْفَةً وَرَحْمَةً ﴿الحدید:٢٧﴾
“اور جن لوگوں نے ان کی پیروی کی ان کے دلوں میں شفقت اور مہربانی ڈال دی۔” (۵۷-۲۷)
وَأَنذِرِ النَّاسَ يَوْمَ يَأْتِيهِمُ الْعَذَابُ فَيَقُولُ الَّذِينَ ظَلَمُوا رَبَّنَا أَخِّرْنَا إِلَىٰ أَجَلٍ قَرِيبٍ نُّجِبْ دَعْوَتَكَ وَنَتَّبِعِ الرُّسُلَ ۗ ﴿ابراھیم:٤٤﴾
“اور آپ ان لوگوں کو اس دن سے ڈرائیے جس دن ان پر عذاب  آ پڑے گا پھر یہ ظالم لوگ کہیں گے کہ اے ہمارے رب ایک مدت قلیل تک ہم کو مہلت دے دیجیے ہم آپ کا سب کہنا مان لیں گے اور پیغمبروں کا اتباع کریں گے۔” (۱۴-۴۴)
وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِي كُنتَ عَلَيْهَا إِلَّا لِنَعْلَمَ مَن يَتَّبِعُ الرَّسُولَ مِمَّن يَنقَلِبُ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ ۚ ﴿البقرہ:١٤٣﴾

“اور جس قبلے پر تم تھے اس کو ہم نے اس لئے مقرر کیا تھا کہ معلوم کریں کہ کون پیغمبر کے تابع رہتا ہے اور کون الٹے پاؤں پھر جاتا ہے۔” (۲-۱۴۳)
قَالَ يَا قَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِينَ ﴿یٰسین:٢٠﴾
“کہنے لگا اے میری قوم ان رسولوں کی راہ پر چلو۔” (۳۶-۲۰)
وَإِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحْمَـٰنُ فَاتَّبِعُونِي وَأَطِيعُوا أَمْرِي ﴿طہ:٩٠﴾
“اور تمارا رب رحمٰن ہے سو تم میری راہ پر چلو اور میرا کہا مانو۔” (۲۰-۹۰)
فَقَالُوا أَبَشَرًا مِّنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُهُ إِنَّا إِذًا لَّفِي ضَلَالٍ وَسُعُرٍ ﴿القمر:٢٤﴾
اور کہنے لگے کہ ہم ایسے شخص کا اتباع کریں گے جو ہمارے جنس کا آدمی ہے اور اکیلا ہے تو اس صورت میں ہم بڑی غلطی اور جنون میں پڑ جاویں۔” (۵۴-۲۴)

یہ تمام آیتیں مختلف انداز اور مختلف اسالیب سے “اتباع رسول” کی ضرورت پر زور دے رہی ہیں اور واضح طور پر نشان دہی کر رہی ہیں کہ کسی پیغمبر پر ایمان رکھنے والا شخص اس کا اتباع کرنے کا پابند ہے۔ اس کی وجہ بالکل واضح ہے پیغمبر علیہم الصلواۃ والسلام اس لئے بھیجے گئے تھے کہ وہ لوگوں کے لئے اپنی تعلیم و تبلیغ کے مطابق زندگی بسر کرنے کی ایک عملی مثال قائم کریں۔ ان کا پیغام محض زبانی کلامی تعلیم تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ ان کے کردار اور زندگی کا طور طریق بھی راہ ہدایت کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کے لئے اتنی ہی اہمیت کا حامل ہے۔ قرآن کریم میں سورۃ الاحزاب میں یہ بات صاف صاف بیان کر دی گئی ہے۔
لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّـهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللَّـهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّـهَ كَثِيرًا ﴿الاحزاب:٢١﴾
(تمہارے لئے اللہ کے رسول (کی زندگی) میں بہترین عملی نمونہ ہے اس شخص کے لئے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو۔” (۳۳-۲۱)

فیس بک تبصرے

سنت کی حیثیت قرآن کی روشنی میں“ ایک تبصرہ

  1. پنگ بیک اختیارات رسولؐ قرآن کی روشنی میں | الحاد جدید کا علمی محاکمہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *