حدیث اور مستشرقین (Orientilist)

حضوراکرمﷺ کی حدیث (سنت )کو قرآن کریم کے بعد اسلامی قانون کا دوسرا اہم تر ین ماخذ تسلیم کیا گیا ہے ۔سنت کا یہ مقام صدیوں سے مسلم اور غیر متنازعہ رہا ہے اگرچہ فقہی آراء کے بارے میں مسلمانوں میں مختلف نقطہ نظر رہے ہیں لیکن قرآن حکیم اور اور سنت نبوی ﷺ کی حجیت کا کسی ماہر قانون نے کبھی انکار نہیں کیا اور نہ ہی کسی فرد نے کبھی اسلامی قانون کے بنیادی اور اہم ماخذ کی حیثیت سے سنت کادرجہ چیلنج کیا ہے۔
لیکن پچھلی صدی کے دوران چند غیرمسلم مستشرقین اور ان کے پیرو کاروں نے کوشش کی کہ حدیث کی حجیت اور اس کی استنادی حیثیت کے بارے میں شکوک وشبہات پیدا کیے جائیں ان سے کئی مسلمان جو اسلام کا اس کے اصل ماخذ سے مطالعہ نہیں کرسکتے وہ مستشرقین کی تحریریں پڑھ کر شکوک وشبہات کا شکار ہوگئے ہیں۔

مستشرقین کا اصل مقصد اسلامی تعلیمات کو مسخ کرکے اسلام کا خاتمہ ہے اس مقصد کے لیے انہوں نے ہر قسم کا حربہ استعمال کیا اور میکاؤلی کا یہ اصول”کہ مقصد عظیم ہو تو اس کے حصول کے لیے ہر ذریعہ استعمال کرنا جائز ہے “کا انہوں نے خوب استعمال کیا حالانکہ میکاؤلی نے یہ اصول سیاستدانوں کے لیے وضع کیا تھا لیکن یورپ کے ارباب قلم وعلم نے بھی اس اصول سے خوب فائدہ اٹھایا اور قرآن کریم اور احادیث نبوی ﷺمیں تشکیک وشبہات پیدا کرنے کے لیے زہر افشانیاں اور خیالات فاسدہ وافکار باطلہ تحقیق کی آڑ میں پھیلانا شروع کردیے۔
ایک غیر جانبدار محقق بنظر انصاف ہر قسم کے تعصب سے بالاتر ہوکر تحقیق کرتا ہے لیکن مستشرقین کی تحقیق کا انداز نرالا ہے کہ ان کے کسی ایک پیش رو نے اسلام کے خلاف کوئی شوشہ چھوڑا تو دوسرے نے اسی شوشے کو مزید ہوا دی اسی طرح جب وہ حدیث کے متعلق کو ئی تحقیق کرتے ہیں تو وہ گولڈ زیہر اور اس کے متبعین کی تصانیف کوہی قابل اعتماد مصادر سمجھتے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ حدیث کا جس قدر مطالعہ گولڈزیہر(Goldziher)نے کیا ہے اتنا کسی اور مستشرق نے نہیں “دائرہ معارف اسلامیہ “”کا مقالہ نگار اس کے متعلق لکھتا ہے :۔””گولڈ زیہر نے حدیث کے متعلق جو لکھا ہے ،علم اس کا مرہون منت ہے۔ مستشرقین کی اسلامی تحقیقات پر جتنا اثر انداز گولڈ زیہر ہوا ہے ،اتنا اس کا کوئی دوسرا معاصر مستشرق نہیں ہوا ۔ (ضیا ء البنی جلد ہفتم صفحہ ۱۵)
گولڈ زیہر کی تمام تر زہر افشانیاں اس کی کتاب “دراسات محمدیہ “(۱۸۹۰؁ میں جرمن زبان میں شائع ہوئی )میں موجود دہیں جن کا مطالعہ کر کے ہر بعد میں آنے والا مستشرق انہی خیالات کو اپنے الفاظ میں بیان کرتا ہے قطع نظر اس بات سے اصول حدیث اور تاریخ حدیث پر مسلمانوں کا جوموقف ابتدا سے رہا ہے وہ ہر دور کی تصانیف میں درج ہے لیکن مستشرقین نہ تو مسلمانوں کے موقف کی طرف توجہ کرتے ہیں اور نہ ہی حدیث کے متعلق مسلمانوں کے چودہ سوسالہ ادب کو کوئی اہمیت دیتے ہیں۔

تعجب کی بات ہے کہ مستشرقین کے پاس اپنی مذہبی کتابوں کے متعلق یہ ثابت کرنے کے لیے کوئی دلیل نہیں کہ کن مصادر کی مدد سے یہ کتابیں لکھی گئیں؟جن ہستیوں کی طرف منسوب ہیں وہ واقعی انہی کی زبان وقلم سے نکلی ہیں؟ان کتابوں کے متن میں جو باتیں درج ہیں ان کو عقلاً تسلیم کرنا ممکن ہے یا نہیں؟ انجیل کے مصنفین کے متعلق بھی عیسائیوں کو کچھ علم نہیں کہ وہ کون ہیں؟
بس یہ کہہ کر جان چھڑوائی جاتی ہے کہ وہ لوگ ملہم (Inspired)تھے اور اسی الہام (Inspiration)کی مدد سے انہوں نے وہ کتابیں لکھی تھیں۔ مستشرقین بائبل کے مصنفین کی ہربات کو آنکھ بند کر کے تسلیم کرلیتے ہیں اور اس حوالے سے ان کے قلموں کی سیاہی خشک ،افکار کی دھار کند اور تخیل کی تیزی جمود کاشکارہے کیا انصاف کا یہی معیار ہے ؟

مستشرقین کا نقد و جرح:
پروفیسر غلام احمد حریری لکھتے ہیں :” احقر زمانۂ طلب علم سے مستشرقین کی تصانیف پڑھتا چلا آیا ہے، بلکہ بذاتِ خود مجھے بعض مستشرقین سے ملنے اور ان سے مبادلۂ افکار کرنے کا شرف بھی حاصل ہے۔ ۱۹۸۵ء جنوری میں پنجاب یونیورسٹی نے لاہور میں ایک مجلس مذاکرہ عالمیہ منعقد کی تھی جس میں احقر نے علماء مصر وشام کے ترجمان کی حیثیت سے شرکت کی تھی۔ اس دوران مجھے عصر حاضر کے عظیم مستشرق اور موّرخ ہٹیّ کے ساتھ کم از کم دو ہفتے گزارنے کا موقع ملا۔ پروفیسر ہٹی اگرچہ سکونت کے اعتبار سے امریکی ہیں مگر لبنانی الاصل ہیں اور عربی ان کی مادری زبان ہے، وہ عصر حاضر کے ان مستشرقین میں شمار ہوتے ہیں جو تعصب سے پاک ہیں۔دوران ملاقات جب احقر نے موصوف کی کتب کے نشان زدہ مقامات پیش کئے جہاں انہوں نے بایں ہمہ اِدّعائے بے تعصبی اسلام اور شارع اسلام پر حملے کئے تھے تو اطمینان بخش جواب دینے کے بجائے چڑ گئے اور تاویلات کا سہارا لینے لگے۔ اسی طرح اٹلی کے مشہور مستشرق بوسانی کے انگریزی مقالہ کے عربی ترجمہ کے سلسلہ میں جب احقر نے ان سے مل کر مستشرقین کی اسلام دشمنی کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے جو جواب دیا، وہ اس اعتراف پر مبنی تھا کہ مستشرقین کی اکثریت اسی قسم کے لوگوں پر مشتمل ہے۔ اسی طرح مجھے انگلینڈ امریکہ فرانس اور جرمنی کے مستشرقین سے ملنے اور بالمشافہ گفتگو کرنے کے متعدد مواقع ہاتھ آئے اور اس بات کا عملی تجربہ حاصل ہوا کہ ان لوگوں کے دل میں اسلام اور شارع اسلام کے خلاف بغض و عناد کا ایک بحر اوقیانوس موج زن ہے۔

مستشرقین کی چابکدستی:
حیرت کی بات یہ ہے کہ مستشرقین کی نیش زنی اور قدر ڈھکی چھپی ہوتی ہے کہ ایک صاحب بصیرت شخص ہی کو اس کا احساس ہو سکتا ہے، گویا وہ شربت کے جام میں زہر گھول کر پیش کرتے ہیں۔ستم ظریفی یہ ہے کہ یورپ کے مادّی علوم سے ناپختہ اذہان اس قدر مرعوب ہیں کہ انہوں نے دینی و روحانی علوم میں بھی یورپ کی بالا دستی کو تسلیم کر لیا ہے۔ ؎
یورپ کی غلامی پہ رضا مند ہوا تو
مجھ کو تو گلہ تجھ سے ہے یورپ سے نہیں ہے
اسی کا نتیجہ ہے کہ ہمارے نو تعلیم یافتہ نوجوان دینی و اسلامی علوم کو بھی یورپی فکر کی عینک لگا کر پڑھتے ہیں۔ انہیں اتنی توفیق نہیں ہوتی کہ اسلامی علوم کا مطالعہ براہِ راست کتاب و سنت کے مآخذ سے کریں، بلکہ مستشرقین نے اپنی ناقص تحقیقات کی بناء پر تاریخ اسلام اور کتاب و سنت کے متعلق جو کچھ لکھ دیا ہے۔ اس کو حرفِ آخر سمجھ لیا جاتا ہے، گویا غزالیؒ، ابن تیمیہؒ، رازیؒ، شاہ ولی اللہؒ اور مجد الف ثانیؒ کو نظر انداز کر کے مستشرقین کے خوانِ کرم کی زلہ ربائی ہمارے نوجوانوں ہی کے حصہ میں آئی ہے۔ اس احساس کمتری اور غلامانہ ذہنیت پر جس قدر ماتم کیا جائے کم ہے۔
اس استشراقی فکر کے پیچھے موجود فتنے کو عالم اسلام کے ایک عبقری نے کچھ اس طرح کھولا :
“یہ حقیقت ہے کہ مستشرقین کی ایک بڑی تعداد نے قرآن مجید، سیرت، تاریخ، تمدن اسلام اور اسلامی معاشرہ کی تاریخ اور پھر اس کے بعد اسلامی حکومتوں کی تاریخ کا مطالعہ ایک خاص مقصد کے تحت کیا اور مطالعہ میں ان کی دور بیں نگاہیں وہ چیزیں تلاش کرتی رہیں، جن کو جمع کر کے قرآن، شریعت اسلامی،سیرت نبوی ﷺ، قانون اسلامی، تمدن اسلامی اوراسلامی حکومتوں کی ایک ایسی تصویر پیش کرسکیں، جسے دیکھ کر لوگ آنکھوں پر پٹی باندھ لیں، مستشرقین نے اپنی آنکھوں پر خورد بین لگا کر تاریخ اسلام اور تمدن اسلا می اور یہ کہ آگے بڑھ کر (خاکم بدہن )قرآن مجید اور سیرت نبوی ﷺ میں وہ ذرے وہ ریزے تلاش کر نے شروع کئے جن سے کوئی انسا نی جماعت، کوئی انسا نی شخصیت خالی نہیں ہو سکتی ہے اور ان کو جمع کر کے ایسا مجموعہ تیار کرنا چاہا جو ایک نہایت تاریک تصور ہی نہیں بلکہ تاریک تاثر اور تاریک جذبہ پیش کرتا ہے اور انہوں نے اس کام کو انجام دیا جو ایک بلدیہ کا ایک انسپکٹر انجام دیتا ہے کہ وہ شہر کے گندے علاقوں کی رپورٹ پیش کرے۔
(حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ)

ان مستشرقین نے ایک طرف اسلام کے دینی افکار و اقدار کی تحقیر کا کام کیا اور مسیحی یورپ کے افکار و اقدار کی عظمت ثابت کی تاکہ تعلیم یافتہ طبقہ کا رابطہ اسلام سے کمزور پڑ جائے یا کم از کم یہ سمجھنے پر مجبور ہو کہ اسلام موجودہ زندگی کے مزاج کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہو سکتا۔ ایک طرف انہوں نے بدلتی ہوئی زندگی اور دورِ حاضر کی ارتقاء پذیری کا نام لے کر خدا کے آخری اور ابدی دین پر عمل کرنے کو روایت پرستی، رجعت پسندی اور دقیانوسیت کا مترادف قرار دیا۔ دوسری طرف ان پر ایسی تہذیب کو لا سوار کیا جس نے ان سے دینی حمیت و غیرت کا باقی ماندہ ورثہ بھی چھین لیا۔
یہ مستشرقین اپنے فلسفیانہ افکار کا لاؤ لشکر لے کر اسلامی دنیا پر حملہ آور ہوئے، وہ فلسفے جن کی خراش خراش بڑے بڑے فلاسفر اور یگانۂ روز اشخاص کی ذہنی کاوش کی رہین منت تھی۔ مستشرقین نے ان پر ایسا علمی اور فلسفیانہ رنگ چڑھایا کہ معلوم ہو یہ فکرِ انسانی کی معراج ہے، مطالعہ و تحقیق اور عقل انسانی کی پرواز اس پر ختم ہے اور غور و فکر کا یہ وہ نچوڑ ہے۔ جس کے بعد کچھ اور سوچا نہیں جا سکتا۔
حالانکہ ان فلسفوں میں کچھ چیزیں وہ تھیں جو تجربات و مشاہدات پر مبنی تھیں۔ اور اس لئے صحیح تھیں، اور بہت سی چیزیں وہ تھیں جو محض ظنّ و تخمین اور فرض و تخییل پر مبنی تھیں۔ گویا ان میں حق بھی تھا اور باطل بھی، علم بھی تھا اور جہل بھی۔ یہ فلسفے مغربی فاتحین کے جلو میں آئے اور مشرقی عقل و طبیعت نے فاتحین کے ساتھ ساتھ ان کی اطاعت بھی قبول کر لی۔ ان لوگوں میں وہ بھی تھے۔ جنہوں نے ان کو سمجھ کر قبول کیا، مگر وہ کم تھے۔ زیادہ تر وہ تھے جو ذرا بھی نہیں سمجھے تھے لیکن مومن اور مسحور سب کے سب تھے۔ ان فلسفوں پر ایمان لانا ہی عقل و خرد کا معیار بن گیا۔ اور اس کو روشن خیالی کا شعار سمجھا جانے لگا۔ مستشرقین کے زیر اثر یہ الحاد و ارتداد اسلامی ماحول میں بغیر کسی شورش اور کش مکش کے پھیل گیا۔ نہ باپ اس انقلاب پر چونکے، نہ اساتذہ اور مربیوں کو خبر ہوئی اور نہ غیرت ایمانی رکھنے والوں کو جنبش ہوئی۔ اس لئے کہ یہ ایک خاموش انقلاب تھا۔ اس الحاد و ارتداد کو اختیار کرنے والے کسی کلیہ میں جا کر کھڑے ہوئے .

یہ ہے فتنہ استشراق کا تاریخی پس منظر اس کا سرسری تعارف اور مستشرقین کے کام کا معمولی جائزہ۔ اس فتنہ سے کما حقہ آگاہ و آشنا ہونے کے لئے دراصل یہ نقطۂ آغاز اور ایک محرک ہے کہ اس جانب عنانِ توجہ موڑ کر دیکھئے کہ مستشرقین نے رسول کریم ﷺ، قرآن حکیم اور دین اسلام کو کس طرح ہدفِ تنقید بنایا ہے۔ مستشرقین کی برکات کے طفیل دنیائے اسلام آج ایک دینی، فکری اور تہذیبی ارتداد میں مبتلا ہے۔ یہ مصیبت ان تمام لوگوں کے لئے ایک المیہ سے کم نہیں، جو اسلام کا درد رکھتے ہیں۔ آج ہر اسلامی ملک کے جدید تعلیم یافتہ طبقہ کا حال یہ ہے کہ اعتقاد و ایمان کا سرا ہاتھ سے چھوٹ چکا ہے۔ اخلاقی بندشیں وہ توڑ کر پھینک چکا ہے، شک و الحاد، نفاق و ارتیاب کا ایک طوفان ہے جو ہمارے دل و دماغ میں برپا ہے۔ غیبی حقائق پر اعتماد متزلزل ہو رہا ہے۔ سیاست و اقتصاد کے مادہ پرستانہ نظریات فروغ پا رہے ہیں۔ (سیرتِ رسول ﷺ اور مستشرقین، پروفیسر غلام احمد حریریؔ ایم۔ اے)
اگلی تحریر : مستشرقین کے حدیث پر چند بڑے اعتراضات – اک تحقیقی جائزہ

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *