امریکہ یورپ افریقہ ہندوستان وغیرہ میں انبیاء کیوں نہیں بھیجے گئے ؟

a

عرب کے علاوہ باقی علاقوں امریکہ، یورپ، افریقہ، ہندوستان، چین وغیرہ میں انبیاء کیوں نہیں بھیجے گئے ؟ یہ سوال اس طرح بھی کیا جاتا ہے کہ اگر عرب کے علاوہ باقی علاقون میں بھی انبیاء آئے ہیں تو قران پاک میں ان تمام انبیاء کا ذکر کیوں نہیں ؟

 قرآن نے اگرچہ  کئی مقامات پر چند خاص دعوتوں اور قوموں کا ہی ذکر کیا ہے لیکن اس کا دعوی عام ہے اور اسی پر استدلال مبنی ہے۔اس نے جا بجا یہ بات واضح کر دی ہے کہ ہدایت وحی کا ظہور جمیعت بشری کا عالمگیر واقعہ ہے ،اور کوئی قوم نہیں جس میں اللہ کے رسول کا ظہور نا ہوا ہو ،چند آیات ملاحطہ کیجیے۔
وَ لِكُلِّ أُمَّةٍ رَسُولٌ فَإِذا جاءَ رَسُولُهُمْ قُضِيَ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَ هُمْ لا يُظْلَمُونَ (10: 47)۔
اور ہر ایک امت کی طرف پیغمبر بھیجا گیا جب انکا پیغمبر آتا ہے تو ان میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا جاتا ہے اور ان پر کچھ ظلم نہیں کیا جاتا۔
اور دوسرے مقامات میں فرمایا
وَیَقُولُ الَّذِینَ کَفَرُوا لَوْلاَ أُنزِلَ عَلَیْهِ آیَةٌ مِنْ رَبِّهِ إِنَّمَا أَنْتَ مُنذِرٌ وَلِکُلِّ قَوْم هَاد ( رعد ٧)
اور کافر لوگ کہتے ہیں کہ اس (پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اس کے پروردگار کیطرف سے کوئی نشانی کیوں نازل نہیں ہوئی؟ سو (اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تم تو صرف ہدایت کرنے والے ہو اور ہر ایک قوم کیلئے رہنما ہوا کرتا ہے۔
وَ لَقَدْ بَعَثْنا فِی کُلِّ أُمَّة رَسُولاً أَنِ اعْبُدُوا اللّهَ وَ اجْتَنِبُوا الطّاغُوتَ فَمِنْهُمْ مَنْ هَدَى اللّهُ (النخل ٣٦)
اور ہم نے ہر جماعت میں پیغمبر بھیجا کہ خدا ہی کی عبادت کرو اور بتوں (کی پرستش) سے اجتناب کرو۔ تو ان میں بعض ایسے ہیں جن کو خدا نے ہدایت دی اور بعض ایسے ہیں جن پر گمراہی ثابت ہوئی۔ سو زمین پر چل پھر کر دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا ؟
إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ بِالْحَقِّ بَشِيراً وَنَذِيراً وَإِن مِّنْ أُمَّةٍ إِلَّا خلَا فِيهَا نَذِيرٌ (فاطر ٢٤)
ہم نے تم کو حق کے ساتھ خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے اور کوئی امت نہیں مگر اس میں ہدایت کرنے والا گزر چکا ہے
– أَلَمْ يَأْتِكُمْ نَبَأُ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ قَوْمِ نُوحٍ وَعَادٍ وَثَمُودَ ۛ وَالَّذِينَ مِنْ بَعْدِهِمْ ۛ لَا يَعْلَمُهُمْ إِلَّا اللَّهُ (ابراھیم ٩)
بھلا تم کو ان لوگوں (کے حالات) کی خبر نہیں پہنچی جو تم سے پہلے تھے (یعنی) نوح (علیہ السلام) اور عاد و ثمود کی قوم؟ اور جو ان کے بعد تھے جن کا علم خدا کے سوا کسی کو نہیں (جب)
لیکن ساتھ ہی اس نے یہ تصریح بھی کردی ہے کہ قران میں تمام رسولوں کا ذکر نہیں کیا گیا _
وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلاً مِّن قَبْلِکَ مِنْهُم مَّن قَصَصْنَا عَلَیْکَ وَمِنْهُم مَّن لَّمْ نَقْصُصْ عَلَیْکَ وَمَا کَانَ لِرَسُولٍ أَن یَأْتِیَ بَآیَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ فَإِذَا جَآءَ أَمْرُ اللَّهِ قُضِیَ بِالْحَقِ ّ وَخَسِرَ هُنَالِکَ الْمُبْطِلُونَ
” اور اے پیغمبر ہم نے تم سے پہلے کتنے ہی رسول مبعوث فرمائے _ ان میں سے کچھ ایسے ہیں جن کے حالات تمھیں سنائے جاتے ہیں اور کچھ ایسے ہیں جن کےحالات نہیں سنائے( غافر ٧٨)
یہ ظاہر ہے کہ قومیں بے شمار گزر چکی ہی ہیں اور اسکی بھی قرآن میں تصریح موجود ہے کہ ہر قوم میں دعوت حق کا ظہور ہوا ہے ، جن میں سے چند ہی کا قرآن نے ذکر کیا ہے _ باقی کا نہیں کیا۔

قرآن نے ایسا کیوں کیا ؟ :

اس کا سبب بالکل واضح ہے۔ قران کا مقصود ان سرگزشتوں کے بیان سے یہ نہیں تھا کہ تاریخ کی طرح تمام واقعات کا استقصاء کیا جائے بلکہ صرف تذکیر و موعظت تھا اور تذکیر و موعظت کیلئے اس قدر کافی تھا کہ چند اہم دعوتوں اور قوموں کی سرگزشتیں بیان کردی جاتیں اور باقی کا جہاں ضروری ہوتااشاروں سے بتادیا جاتا ۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اس بارے میں قرآن کا اسلوب بیان ہر جگہ عام ہے ،جا بجا اسکی تعبیرات پائی جاتی ہے کہ پچھلے قرنوں میں ایسا ہوا ۔ پچھلی قوموں میں ایسا ہوا ۔پچھلی آبادیوں میں ایسا ہوا۔ پچھلے رسولوں کے ساتھ اس طرح کے معاملات پیش آئے ۔البتہ جہاں کہیں تخصیص کیساتھ ذکر کیا ہے وہاں صرف چند قوموں ہی کی سرگزشتیں بیان کی ہیں جس کا صاف مطلب یہ ہوا کہ یہ چند سرگزشتیں پچھلی قوموں کے ایام وو قائع کا نمونہ سمجھا جائیں ۔ اور ان سے یہ اندازہ کر لیا جائے کہ اس بارے میں تمام اقوام عالم کی رودادیں کیسی رہ چکی ہیں ؟

اگلا سوال یہ کیا جاسکتا ہے کہ قرآن میں کیوں خصوصیت کے ساتھ ان چند قوموں ہی کا ذکر کیا گیا ہے جو ایک خاص خطہ ارضی میں گزر چکی تھیں دوسرے خطوں کے اقوام میں سے کسی کا ذکر کیوں نہیں کیا ؟
اس کی وجوہ بھی واضح ہیں اگر تھوڑی سی دقت نظر کام میں لائی جائے _ یہ ظاہر ہے کہ ایام ووقائع کے ذکر سے مقصود بعض مقاصد کیلئے استشہاد تھا اور یہ استشہاد جب ہی موثر ہو سکتا تھا کہ جن ایام ووقائع کا ذکر کیا جائے ان کے وقوع سے اولین مخاطب بےخبر نا ہوں۔ کم از کم انکی بھنک کانوں میں پڑ چکی ہو۔ یا نا پڑ ی ہوتو اپنے پاس کے آدمیوں سے حال پوچھ لے سکتے ہوں ۔ ورنہ ظاہر ہے لوگ کہہ دیتے کہ پہلے ان وقائع کا وقع ثابت کردو ۔ پھر ان سے ہمیں عبرت دلانا۔۔!اور اس طرح عبرت و تذکیر کا سارا مطلب ہی فوت ہوجاتا ۔
اب دیکھیں قران نے جن ایام ووقائع کا ذکر کیا ہے وہ زیادہ تر کن خطوں میں واقع ہوئے تھے ؟ یعنی ان کی جغرافیائی حدود کیا ہیں ؟ یہ تمام وقاع یا تو خود عرب میں ہوئے یا سر زمین دجلہ و فرات میں یا پھر مصر و فلسطین اور یہ تمام خطے ایک دوسرے سے متصل تھے ۔تجارتی قافلوں کی شاہراہوں سے باہمدگر پیوستہ تھے، آمدورفت کے علائق کا قدیم سلسلہ رکھتے تھے اور نسلی ولسانی تعلقات کے لخاظ سے بھی ایک ایک دوسرے کیساتھ جڑے ہوئے تھے ۔ پس قران نے انہی خطوں کا ذکر کیا جو فی الحقیقت تاریخ اقوام کا ایک ہی وسیع خطہ رہ چکا ہے ۔ دوسرے خطوں سے تعرض نہیں کیا کیونکہ مخاطبین کیلئے ان خطوں کا ذکر ان کی شب وروز کی باتوں کا ذکر تھا اور وہ جھٹلانے کی جرات نہیں کر سکتے تھے عرب خود ان کا ملک تھا ۔ عراق کیساتھ ان کے تعلقات تھے ۔ فلسطین کے کھنڈروں پر ہر سال گزرتے رہتے، مصر ان کی تجارتی قافلوں کی منڈی تھی ۔ ان ملکوں کا نام سننا گویا اپنی چاروں طرف نظر اٹھا کر دیکھ لینا تھا ۔پھر جن قوموں کا ذکر کیا گیا ان کے ناموں سے بھی وہ ناآشنا نہ تھے ۔قوم تبع اور اصحاب احدود یمن سے تعلق رکھتے تھے اور یمن عرب میں ہے ۔ عاد اور ثمود کی بستیاں بھی عرب ہی کے حدود میں تھیں ۔ قبیلہ مدین بالکل عرب کے پڑوس میں تھا ۔ قون لوط کے کھنڈر ات میں سے سینکڑوں اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے تھے ۔ سرزمین دجلہ وفرات کی قوموں اور ان کی روائتوں سے بھی نا آشنا نہیں ہو تھے ۔ مصر میں گو مصر کے فرعون اب نہیں رہے تھے لیکن مصر میں برابر آتے جاتے رہتے تھے فراعنہ کے نام ان کے لئے اجنبی نام نہیں ہو سکتے تھے۔ علاوہ بریں یہودی اور عیسائی خود ان کے اندر بسے ہوئے تھے۔ انبیائے بنی اسرائیل کے نام انکی زبانوں پر تھے ‘ تفصیلات ربیوں اور راہبوں کو معلوم تھیں ۔ یہ ان سے پوچھ سکتے تھے ۔اور پوچھا کرتے تھے ۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ قران نے ایام ووقائع کے بیان و استدلال میں جابجا اس طرح کا اسلوب اختیار کیا ہے ۔ جیسے ایک جانی سوجھی ہوئی بات کی طرف اشارہ کیا جائے ۔ مثلا جابجا فرمایا __!
اَلَمْ يَاْتِكُمْ نَبَاُ الَّـذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ ( ابراھیم ٩) جو قومیں تم سے پہلے گزر چکی ہے کیا تم تک ان کی خبریں نہیں پہنچ چکی ہیں ؟
یا مثلا جابجا اس طرح کی تعبیرات ملتی ہیں  ۔
أَوَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَيَنظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ (( فاطر 4) کیا یہ لوگ ملک میں چلے پھرے نہیں کہ دیکھے پچھلی قوموں کا کیا انجام ہو چکا ہے ؟
کیونکہ واقعہ یہ تھا کہ وہ برابر چلتے پھرتے رہتے تھے ۔ یعنی ہر موسم میں تجارت کیلئے نکلتے تھے ۔ اور اسنائے سفر میں کتنی اجڑی ہوئی بستیاں مٹتے ہوئے نشان اور سنسان کھنڈر ات ا ن کی نظر سے گزرتے تھے ۔ بلکہ بعض اوقات انہی میں منزل کرتے اور انہی کے سایوں میں دوپہر کاٹتے تھے ۔ اور پھر جابجا اس طرح کی تصریحات ہیں کہ یہ مقامات تم دور سے نہیں کہ بعد کی وجہ سے بالکل بے خبر رہو ہو ۔ اور یہ بھی کہا کہ کیا علماء بنی اسرائیل سے یہ سرگزشتیں نہیں سنیں ؟ اور اگر بےخبر ہو تو علم والوں سے یعنی علمائے اہل کتاب سے دریافت کرلو جو تم ہی میں بسے ہوئے ہیں اور پھر بعض مقامات میں عرب کے حوالی و اطراف کی بھی تصریح کر دی ہے ۔ جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بیان و وقائع میں قصدا یہ بات ملخوط رکھی گئی ہے کہ سر زمین عرب و اطراف جو انب ہی کے وقائع ہوں مثلا سورہ احقاف کی آیت ٢٧ میں قوم عاد کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا ۔وَلَقَدْ أَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُم مِّنَ الْقُرَىٰ وَصَرَّفْنَا الْآيَاتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ ( 27 ) احقاف –
یہ ظاہر ومعلوم ہے کہ ان واقعات کی تفصیلات سے لوگ آشنا تھے۔ اور بعض وقائع ایسے تھے جن کی صرف کانوں میں بھنک پڑ چکی تھی کوئی نہیں جانتا کہ معاملہ کس طرح واقعہ پیش آیا ہے اور صحیح سرگزشت کیا ہے ؟ نہ صرف عرب میں بلکہ ان خطوں میں جہاں وہ پیش آئے ۔ جن وقائع کا ذکر تورات میں موجود تھا ان کی بھی بعض حقیقتیں مخرف ہوگئیں تھیں ۔اور خود اہل کتاب کو بھی خبر نہ تھی کہ اصلیت کیا رہ چکی ہے پس قران نے انکی حقیقت ٹھیک ٹھیک واضح کردی ہر معاملہ اپنی اصلی صورت میں نمایاں ہوگیا ۔ بعض وقائع کی نسبت تصریح کردی کہ اس سے باشندگان عرب بالکل ناآشنا تھے یعنی نام تو سن لیا تھا لیکن اسکی یہ تفصیلات اور جزئیات کسی کو بھی معلوم نہ تھیں ۔ مثلا اسی سورت میں حضرت نوح علیہ السلام کی سرگزشت بیان کرکے آیت ٤٩ میں تصریح کردی کہ یہ باتیں نہ تو تجھے معلوم تھیں نہ تیری قوم کو۔۔

جدید اثری تحقیقات اور اقوام متذکرہ قرآن :

پھر فہم وتدبر کا ایک نقطہ اور بھی ہے اور اس طرف اشارہ کردینا بھی ضروری ہے ۔ قرآن نے جن خطوں کی اقوام کا ذکر کیا ہے دنیا کو انکی قدیم تاریخ بہت کم معلوم تھی ۔ اور خود عرب اور عربی نسل کی ابتدائی سرگزشتیں بھی پردہ خفا میں مستور تھیں ۔ لیکن اٹھاریں صدی سے آثار قدیمہ کی تخقیقات کا نیا سلسلہ شروع ہوا اور پھر انیسویں صدی میں نئے پردے اٹھے اور بیسویں اور اکیسویں صدی کے اثری انکشافات روز بروز ایک خاص رخ پر جا رہے ہیں ۔ ان سب سے عرب ،عراق، فلسطین ،شام اور مصر کی قدیم قوموں کے تمدنوں کے جو حالات منکشف ہوئے ہیں انہوں نے ان خطوں کی قدیم تاریخ کو بالکل ایک نئی شکل دے دی ہے اور روزبروز نئی نئی حقیقتیں ابھرتی جاتی ہے۔ سب سے عجیب بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ عربی نسل اور عربی زبان کے صرف اتنے ہی معنی نہیں ہیں جتنے آج تک سمجھے گئے ہیں ۔ بلکہ یہ قوموں اور نسلوں کی نہایت قدیم اور وسیع داستان ہے اور وہ دنیا کے ابتدائی تمدنوں میں عظیم الشان حصہ لے چکے ہیں ۔
ان تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر عربی زبان اور اسکی ابتدائی شکلوں کے بولنے والوں کی ایک خاص نسل تسلیم کرلیا جائے تو یہ دراصل بہت گروہوں اورقبیلوں کا مجموعہ ایک تھا اور عرب ، شام، فلسطین مصر اور عراق کے خطوں میں پھیلا ہوا تھا ۔ اس نے دنیا کے ابتدائی تمدن کی تعمیر میں بڑے بڑے حصے لئے ۔ ان ملکوں کی وہ تمام قدیم قومیں جو آج تک ایکدوسرے سے الگ سمجھی جاتی تھیں مثلا اشوری، سریانی، فینیقی، مصری ، آرامی وغیرہ فی الحقیقت الگ نہ تھیں اور عربی زبان کا ابتدائی مواد اور عربی رسم الخط کے ابتدائی نقوش ان سب میں مشترک تھے ۔ حتی کہ انہی قوموں نے مصر کے تخت عظمت و جبروت پر عرصہ تک شہنشاء کی اور اپنی زبان وقت کی تمام متمدن قوموں کو مستعار دے دی ۔چنانچہ دارا کے کتبوں اور مصر کے ہیلو غیفی نقوش میں عربی الفاظ آج تک پڑھے جا سکتے ہیں ۔ اور یہ بات تو ایک تاریخی حقیقت کی طرح مان لی گئی ہے کہ یونانیوں نے فن کتابت کا پہلا سبق انہی اقوام سے حاصل کیا تھا ۔
کون کہہ سکتا ہے کہ آئندہ اس سلسلے میں کیا کیا انکشافات ہونے والے ہیں ؟ تاہم جس قدر انکشافات ہو چکے ہیں ان سے ایک بات واضح ہوگئی ہے یعنی ایک زمانہ میں یہ تمام خطے ایک خاص نسل کے عروج و انشعاب کے مختلف میدان تھے اور یہی نسل عربی قبائل کی ابتدائی نسل تھی ۔ پس اگر قران نے صرف انہی خطوں کے اقوام کا ذکر کیا ہے کوئی اور قوم اس دائرے میں داخل نہیں ہوسکی ہے تو بہت ممکن ہے کہ علت اس سے کہیں زیادہ گہری ہو جس قدر اس وقت تک ہم سمجھتے رہے ہیں ۔

کیا واقعی عرب کے علاوہ کہیں بھی وحی/نبوت کے اثرات نہیں ملتے  ؟

اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ہرامت میں انبیائے کرام کے مبعوث ہونے کی خبر دی ۔ارشادخداوندی ہے:﴿وَ لَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ کُلِّ اُمَّۃٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰہَ وَ اجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ﴾(النحل:۳۶)‘‘اور ہم نے ہر امت میں کوئی پیغمبر بھیجاکہ اللہ ہی کی عبادت کرو اور بتوں کی پرستش سے اجتناب کرو۔’’لیکن انسانیت نے ان عظیم ہستیوں کے پڑھائے ہوئے سبق کو جلد ہی فراموش کردیا،بلکہ انہی انبیائے کرام کو تقدس و الوہیت کا مقام دے کر صراط مستقیم سے انحراف اختیارکر لیااور دوبارہ بت پرستی میں مبتلا ہوگئی۔
یونان کے کوہ اولمپس سے لے کر ہندوستان کے دریائے گنگا تک انسانی ذہن کے تخلیق کردہ سینکڑوں بت ملتے ہیں۔ ان مذاہب کے موجودہ خدو خال اپنی ابتدائی شکل وصورت سے بہت مختلف ہیں، لہٰذا چین کے کنفیوشس اورہندوستان کے برہما و مہاتما بدھ کو ان کے ظہورپذیرہونے کے معروف حالات و اسباب کے تناظرمیں دیکھنا درست معلوم نہیں ہوتا،کیونکہ زمانہ ہرچیز کو بوسیدہ کر دیتا ہے اوروقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسان کی آراء و اقدار تبدیل ہوتی رہتی ہیں، لہٰذااس کا درست اندازہ لگانابھی ممکن نہیں کہ ان حضرات کی طرف منسوب موقف ان کے ابتدائی اصل موقف سے کس قدر مختلف ہے۔ یہی دیکھ لیجیے کہ اگرقرآن کریم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شخصیت کے بارے میں ہمیں غیرمبہم انداز میں آگاہ نہ کرتاتوہمارے لیے کلیسا کی چاردیواری میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مورتیوں کے گرد بت پرستانہ رسوم اداکرنے والے پادریوں کے خیالات و افکار کی روشنی میں آپ علیہ السلام کی شخصیت کی حقیقت سے آگاہی ممکن نہ ہوتی۔انسان کو خداکامقام دینا اور خداکو انسان کے مقام تک گرانا، تین کو ایک اورایک کو تین قراردینے کے واضح عقلی تضاد کا شکار ہونا، عقیدے کو مسخ کرنااورعقل و دانش کامذاق اڑانااللہ تعالیٰ کے حق میں سب سے بڑی گستاخی اورتوہین ہے۔
آج اس بات کا مشاہدہ کیاجاسکتاہے کہ مسیحی عبادت خانوں میں تحریف شدہ دینی شعائر شکل وصورت کے لحاظ سے یونانی اوررومی بت پرستی سے زیادہ مختلف نہیں۔اگرقرآنی وضاحتیں اورہدایات نہ ہوتیں توکلیسا اوراس میں ہونے والی رسوم وعبادات کودیکھ کرحضرت عیسیٰ علیہ السلام اور‘‘اپالو’’کے درمیان امتیاز کرنامشکل ہوتا۔
لہٰذاجب زمانی لحاظ سے ہم سے قریب ترہونے کے باوجودمسیحیت کی کتاب اورنبی کے بارے میں اس قدرتحریف ہوئی ہے تواس سے بھی پہلے ادوارمیں نہ جانے کتنے مسیح گزرے ہوں گے اورتحریف وتبدیل کانشانہ بنے ہوں گے۔اس سلسلے میں نبی کریمﷺکایہ ارشادبھی بڑی اہمیت کاحامل ہے کہ ہرنبی کے حواری اپنے نبی کی رحلت کے بعد اپنی ذمہ داریاں اداکرتے رہے، لیکن ان کے بعد آنے والوں نے ہرچیزکوبدل ڈالا۔آج باطل دکھائی دینے والے نہ جانے کتنے مذاہب آغاز میں وحی کے چشمہ صافی سے پھوٹے ہوں گے،لیکن اپنے پیروکاروں کی جہالت اور دشمنوں کی ظالمانہ عداوت کے نتیجے میں بالآخر مکمل طورپراوہام وخرافات کامجموعہ بن گئے۔ لہٰذاآج باطل مظاہرکے حامل اکثر مذاہب عام طورپرماضی میں صحیح اورمضبوط بنیادوں پر قائم تھے اوریوں لگتاہے کہ ہردورمیں کسی نہ کسی نبی کی تعلیمات کے اثرات باقی رہے ہوں گے۔
علم تاریخ ،ادیان،فلسفہ اور انتھراپولوجی سے ایک دوسرے سے بہت فاصلے پرواقع انسانی معاشروں کے عقائد میں بہت سے مشترکہ نقاط کی نشاندہی ہوتی ہے، مثلاًتمام معاشروں میں کثرت سے وحدت کی طرف سفرپایا جاتاہے، غیرمعمولی طورپربڑی مصیبت کے وقت ہرچیزسے رخ موڑکرایک ہی ذات عالیہ سے امیدیں وابستہ کی جاتی ہیں اوراس کے سامنے دعا کیلئے ہاتھ اٹھائے جاتے ہیں، دوسرے لفظوں میں ماورائے طبیعت ہستی سے متعلق طرزعمل اورکردارکے مظاہرمیں مشابہت پائی جاتی ہے، جس سے سرچشمے اور معلم کی وحدت کی طرف اشارہ ملتاہے، یہی وجہ ہے کہ جزائر کناری (Canary Islands) سے لے کرملائیشیا کے اصلی باشندوں اورریڈانڈینز سے لے کرقبائل ‘‘ماوماو’’ تک ایک جیسے دینی شعائر، مذہبی رنگ، انداز اورنغمات ملتے ہیں۔
ڈاکٹرمحمودمصطفی نے دوقدیم وحشی قبائل کے بارے میں جومعلومات فراہم کی ہیں ان سے بھی اس بات کی تائید ہوتی ہے۔ڈاکٹرمحمودلکھتے ہیں کہ قبیلہ ماوماو‘‘موجای’’نامی خدا پر ایمان رکھتاہے۔یہ خدا اپنی ذات اور افعال میں یکتا ہے۔ وہ کسی سے پیدا ہوا ہے اورنہ ہی اس سے کوئی پیدا ہوا ہے،کوئی چیزاس سے مشابہت رکھتی ہے اورنہ ہی اس کی ہمسرہے۔ اسے آنکھیں دیکھ سکتی ہیں اورنہ ہی ذہن اس کا احاطہ کرسکتے ہیں، تاہم اس کے آثارسے اسے پہچاناجاسکتا ہے۔ قبیلہ ‘‘نیام نیام’’سے بھی قبیلہ ‘‘ماوماو’’ جیسی باتیں منقول ہیں۔ وہ ایک ایسے معبود پر ایمان رکھتے ہیں جوہرچیزپرحکومت کرتاہے، جنگل میں موجودہرچیزکواپنی مرضی کے مطابق حرکت دینے اور چلانے پر قدرت رکھتاہے اورشرپسندوں پربجلی کے شعلے پھینکاوہے، دوسرے لفظوں میں وہ ‘‘معبود حقیقی’’ پر ایمان رکھتے ہیں۔
اس سے ظاہرہوتاہے کہ خدا سے متعلق ان لوگوں کاعقیدہ قرآنی عقیدے سے بہت مشابہت رکھتاہے،بلکہ کہاجاسکتاہے کہ قبیلہ ‘‘ماوماو’’ تقریباًسورۃالاخلاص کے مضمون کا اظہار کرتا ہے۔ تمدن سے دور اور معروف انبیائے کرام کے حلقہ اثرسے باہررہنے والی یہ قدیم ترین اقوام ایسے وقت میں کیسے خدا سے متعلق اتنے عمیق اورصحیح عقیدے تک پہنچ گئیں جب وہ زندگی کے سادہ ترین قوانین سے بھی ناآشنا تھیں۔اس سے ثابت ہوتاہے کہ آیت مبارکہ ﴿وَلِکُلِّ أُمَّۃٍ رَّسُولٌ فَإِذَا جَاء رَسُولُہُمْ قُضِیَ بَیْنَہُم بِالْقِسْطِ وَھُمْ لاَ یُظْلَمُونَ﴾(یونس:۴۷)‘‘اور ہر امت کی طرف پیغمبر بھیجا گیا پھر جب ان کا پیغمبر آجاتا ہے تو ان میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیا جاتا ہے اور ان پر ظلم نہیں کیا جاتا۔’’ ایک عالمی اورعمومی حقیقت کی عکاسی کرتی ہے اورکوئی خطۂ ارض اس کی حدودسے خارج نہیں ہے۔
عراق کے شہرکرکوک میں ریاضیات کے پروفیسرعادل زینل لکھتے ہیں کہ امریکا میں اعلیٰ تعلیم کی غرض سے قیام کے دوران میں امریکا کے اصل باشندوں ریڈانڈینزسے بکثرت ملاقات ہوتی تھی اور ان کی بہت سی باتوں پر مجھے سخت تعجب ہوتا۔امریکاکے اصل باشندے عقیدہ توحید سے ہم آہنگ مختلف دینی شعائر کی پابندی کرتے تھے۔وہ زمانے سے ماورا ایک ایسے خداپرایمان رکھتے تھے،جو کھاتاہے اورنہ پیتاہے۔وہ بکثرت کہتے کہ کائنات میں جوکچھ بھی ہورہاہے وہ اس خداکی مشیت وارادے سے ہورہاہے۔وہ خداکی بہت سی سلبی اوروجودی صفات ان سے مراد وجود، قدم، وحدانیت،قیام بذاتہ اورحوادثات سے پاک ہونے کی خدائی صفات مرادہیں، مثلاًصفت وجود عدم کی، صفت وحدانیت تعددکی اورصفت قدم فناکی نفی کرتی ہے۔ کاتذکرہ کرتے تھے۔ اس قدربلندافکار ان کی سادہ اورغیرمتمدن زندگی سے میل نہیں کھاتے ۔اب مشرق ومغرب اوردنیاکے دوردرازعلاقوں میں رائج ان عقائد کی توجیہہ صرف ان رسولوں کے ذریعے کرنا ہی ممکن ہے، جنہیں اللہ تعالیٰ نے شہروں اور علاقوں کی طرف بھیجاتھا، کیونکہ بڑے بڑے فلسفیوں کے حیطۂ ادراک سے خارج اس قدرمتوازن عقیدہ توحید کوماوماو،نیام نیام اورمایاقبائل ایسے غیرمتمدن لوگوں کی ذاتی فکر کا نتیجہ قرار دیناممکن نہیں، لہٰذا ثابت ہواکہ جس انتہائی مہربان ذات نے شہدکی مکھیوں اورچونٹیوں کو سربراہ سے محروم نہیں رکھا اس نے انسانیت کوانبیائے کرام کے بغیرنہیں چھوڑا،بلکہ تمام روئے زمین میں روشنی پھیلانے کے لیے انبیائے کرام کومبعوث فرمایا۔
ایران اور ہندوستان کے متعلق مشہور محقق ڈاکٹر حمیداللہ بیان کرتے ہیں :
” بعض ایسے انسان بھی ہیں جن کو صراحت کے ساتھ نبی تو تسلیم نہیں کیا جاسکتا لیکن ان کی نبوت کے امکان کو رد بھی نہیں کیا جاسکتا۔ ان میں سے ایک شخصیت “زردشت” کی ہے۔ پارسی انہیں اپنا نبی مانتے ہیں۔ ان کی نبوت کا امکان اس بنا پر بھی ہے کہ قرآن مجید میں مجوس قوم کا ذکر آیا ہے۔ مجوسیوں کا مذہب زردشت کی لائی ہوئی کتاب “آوستا پر مبنی ہے۔۔ آوستا میں دوسری باتوں کے علاوہ زردشت کا یہ بیان ملتا ہے: “میں نے دین کو مکمل نہیں کیا۔ میرے بعد ایک اور نبی آئے گا جو اس کی تکمیل کرے گا۔ اور اس کا نام رحمۃ للعالمین ہو گا” یعنی ساری کائنات کے لیے باعث رحمت۔
ہندوستان میں بھی کچھ دینی کتابیں پائی جاتی ہیں۔ اور ہندوؤں کا عقیدہ ہے کہ یہ خدا کی طرف سے الہام شدہ کتابیں ہیں۔ ان مقدس کتابوں میں دید، پران، اپنشد اور دوسری کتابیں شامل ہیں۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ سب کتابیں ایک ہی نبی پر نازل ہوئی ہیں۔ ممکن ہے متعدد نبیوں پر نازل ہوئی ہوں، بشرطیکہ وہ نبی ہوں، ان میں بھی خصوصاً “پران” نامی کتابوں میں کچھ دلچسپ اشارے ملتے ہیں “پران” وہی لفظ ہے جو اردو میں “پرانا” یعنی قدیم ہے۔ اس کی طرف ہمیں قرآن مجید میں ایک عجیب و غریب اشارہ ملتا ہے: (وانہ لفی زبر الاولین 26:196) اس چیز کا پرانے لوگوں کی کتابوں میں ذکر ہے)۔ میں نہیں جانتا کہ اس کا پران سے کوئی تعلق ہے یا نہیں؟ بہرحال دس پران ہیں، ان میں سے ایک میں یہ ذکر آیا ہے کہ “آخری زمانے میں ایک شخص ریگستان کے علاقے میں پیدا ہو گا۔ اس کی ماں کا نام قابل اعتماد، اور باپ کا نام، اللہ کا غلام ہو گا۔ وہ اپنے وطن سے شمال کی طرف جا کر بسنے پر مجبور ہو گا۔ اور پھر وہ اپنے وطن کو متعدد بار دس ہزار آدمیوں کی مدد سے فتح کرے گا۔ جنگ میں اس کی رتھ کو اونٹ کھینچیں گے اور وہ اونٹ اس قدر تیز رفتار ہوں گے کہ آسمان تک پہنچ جائیں گے”۔ اس کتاب میں جو مذکورہ الفاظ ہمیں ملتے ہیں ان سے ممکن ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اشارہ مستنبط کیا جاسکے۔(خطبہ تاریخ قرآن، خطبات بہاولپور)
خلاصہ کلام یہ کہ زمین کاکوئی خطہ یاشہر انبیائے کرام کے وجودسے محروم رہااورنہ ہی زمانہ فترت کبھی بہت طویل ہوا۔ہر دور کا انسان کسی نہ کسی نبی کی چلائی ہوئی بادِنسیم کے معطر جھونکوں سے محظوظ ہوتارہا، تاہم جن علاقوں میں مرور زمانہ سے وہاں کے نبی کا نام تک لوگوں کو بھول گیا اور اس کی تعلیمات کے نشانات مٹ گئے،ایسے دور کو دوسرے نبی کے ظہورپذیرہونے تک زمانہ فترت سے تعبیرکیاجاتاہے اور ایسے دورکا انسان اگرکفر اختیار کر کے شعوری طورپر اللہ تعالیٰ کی ذات کا انکار نہ کرے تو اس کی مغفرت کردی جائے گی۔
استفادہ تحریر : ترجمان القرآن ابوالکلام آزاد , خطبات بہاولپور, ڈاکٹر حمید اللہ, ڈاکٹر فتح اللہ

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *