امریکہ یورپ افریقہ ہندوستان وغیرہ میں انبیاء کیوں نہیں بھیجے گئے ؟

a

سوال:               عرب کے علاوہ باقی علاقوں  امریکہ، یورپ، افریقہ، ہندوستان وغیرہ میں انبیاء کیوں نہیں بھیجے گئے ؟            کیا یورپ اور افریقہ میں بھی نبی بھیجے گئے تھے   ایسا کیوں ہے کے سارے کے سارے نبی  دنیا کے ایک ہی خطّے میں بھیجے  گئے ؟

جواب:

اول:

اس بات پر بھی سب کا اتفاق ہے کہ قدیم  انسانی تاریخ کی زیادہ تر اقوام اور ثقافتوں کا تعلق شام، مصر، عراق اور جزیرہ نمائےعرب اور اس کے اس پاس کے علاقوں سے رہا ہے . چونکہ زیادہ تر آبادی بھی انہی علاقوں میں موجود تھی تو ظاہر ہے کہ زیادہ تر رسول بھی انہی علاقوں میں  بھیجے جانے چاہیے تھے .

جدید اثری تحقیقات اور اقوام متذکرہ قرآن :
قرآن نے جن خطوں کی اقوام کا ذکر کیا ہے دنیا کو انکی قدیم تاریخ بہت کم معلوم تھی ۔ اور خود عرب اور عربی نسل کی ابتدائی سرگزشتیں بھی پردہ خفا میں مستور تھیں  لیکن اٹھاریں صدی سے آثار قدیمہ کی تخقیقات کا نیا سلسلہ شروع ہوا اور پھر انیسویں صدی میں نئے پردے اٹھے اور بیسویں  اور اکیسویں صدی کے اثری انکشافات روز بروز ایک خاص رخ پر  جا رہے ہیں ۔ ان سب سے عرب ،عراق، فلسطین ،شام اور مصر کی  قدیم قوموں کے تمدنوں کے جو حالات منکشف ہوئے ہیں انہوں نے ان خطوں کی قدیم تاریخ کو بالکل ایک نئی شکل دے دی ہے  اور روزبروز نئی نئی حقیقتیں ابھرتی جاتی ہے۔ سب سے عجیب بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ عربی نسل اور عربی زبان کے صرف اتنے ہی معنی نہیں ہیں جتنے آج تک سمجھے گئے ہیں ۔ بلکہ یہ قوموں اور نسلوں کی نہایت قدیم اور وسیع داستان ہے اور وہ دنیا کے ابتدائی تمدنوں میں عظیم الشان حصہ لے چکے ہیں ۔

ان تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر عربی زبان اور اسکی ابتدائی شکلوں کے بولنے والوں کی ایک خاص نسل تسلیم کرلیا جائے تو یہ دراصل بہت گروہوں اورقبیلوں کا مجموعہ ایک تھا  اور عرب ، شام، فلسطین مصر اور عراق کے خطوں میں پھیلا ہوا تھا ۔ اس نے دنیا کے ابتدائی تمدن کی تعمیر میں بڑے بڑے حصے لئے ۔ ان ملکوں کی وہ تمام قدیم قومیں جو آج تک ایکدوسرے سے الگ سمجھی جاتی تھیں  مثلا اشوری، سریانی، فینیقی، مصری ، آرامی وغیرہ فی الحقیقت الگ نہ تھیں اور عربی زبان کا ابتدائی مواد اور عربی رسم الخط کے ابتدائی نقوش ان سب میں مشترک تھے ۔ حتی کہ انہی قوموں نے مصر کے تخت عظمت و جبروت پر عرصہ تک شہنشاء کی اور اپنی زبان وقت کی تمام متمدن قوموں کو مستعار دے دی ۔چنانچہ دارا کے کتبوں اور مصر کے ہیلو غیفی نقوش میں عربی الفاظ آج تک پڑھے جا سکتے ہیں ۔ اور یہ بات تو ایک تاریخی حقیقت کی طرح مان لی گئی ہے کہ یونانیوں نے فن کتابت کا پہلا سبق انہی اقوام سے حاصل کیا تھا ۔

 کون کہہ سکتا ہے کہ آئندہ اس سلسلے میں کیا کیا انکشافات ہونے والے ہیں ؟ تاہم جس قدر انکشافات ہو چکے ہیں ان سے ایک بات واضح ہوگئی ہے یعنی ایک زمانہ میں یہ تمام خطے ایک خاص نسل کے عروج و انشعاب کے مختلف میدان تھے اور یہی نسل عربی قبائل کی ابتدائی نسل تھی ۔ پس اگر قران نے صرف انہی خطوں کے اقوام کا ذکر کیا ہے کوئی اور قوم اس دائرے میں داخل نہیں ہوسکی ہے تو بہت ممکن ہے کہ علت اس سے کہیں زیادہ گہری ہو جس قدر اس وقت تک ہم سمجھتے رہے ہیں ۔

جہاں تک الله کی اس حکمت کا تعلق ہے کہ ہمیں صرف ان رسولوں کے حالات کے بارے میں کیوں آگاہی دی گئی جن کا تعلق انہی خطّوں سے تھا تو اس بابت الطاہر ابن اشعر رحمہ الله علیہ  کا یہ قول نہایت مناسب دکھائی دیتا ہے کہ “الله تعالی  نے نبی کریم ﷺ کو تمام انبیا کے نام نہیں بتائے مگر ان چیدہ چیدہ  نبیوں کے حالات سے آگاہ کیا جو کہ نہ صرف نبیوں میں ممتاز مقام رکھتے تھے بلکہ ان کے حالات اور واقعات میں ہمارے لئے عظیم سبق موجود ہیں ۔(التحریر و التنویر  35 /  6) کیونکہ ان علاقوں میں جہاں نبی بھیجے گئے وہاں زیادہ تر عرب اور ان کے ہم نسل ہی آباد تھے اس وجہ سے عرب اور اہل کتاب  ان کے واقعات سے بخوبی واقف تھے ، لہٰذا قرآن میں انہی رسولوں کا ذکر کرنا زیادہ  مناسب تھا تاکہ حجت تمام کی جا سکے اور وہ لوگ جان لیں کے ان سے پہلے آنے والوں کا کیا انجام ہوا جنھوں نے الله کے رسولوں کو جھٹلایا تھا ۔تفصیل کے لیے ہماری یہ تحریر دیکھیے۔

دوئم :

ہمارے دین کی بنیادی حقیقتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ الله تعالہ نے اپنے بندوں پے حجت تمام کرنے کے لیے پیغمبر اور کتابیں بھیجیں اور ایسا نہیں ہوا کے یہ کسی ایک قوم یا خطّے میں بھیجی گئی ہوں بلکہ دنیا کی  تمام  اقوام  اور علاقوں کی طرف   وقتاً فوقتاً ، نبی بھیجے گئے  اور کتابیں اتاری گئیں. الله  تعالی قران میں  ارشاد فرماتے ہیں ۔ترجمہ :ہم نے تم کو حق کے ساتھ خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بھیجا ہے۔ اور کوئی اُمت نہیں مگر اس میں ہدایت کرنے والا گزر چکا ہے۔ (سوره فاطر: آیت 24)

اس طر ح ارشادخداوندی ہے:﴿وَ لَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ کُلِّ اُمَّۃٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰہَ وَ اجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ﴾(النحل:۳۶)‘‘اور ہم نے ہر امت میں کوئی پیغمبر بھیجاکہ اللہ ہی کی عبادت کرو اور بتوں کی پرستش سے اجتناب کرو۔’’لیکن انسانیت نے ان عظیم ہستیوں کے پڑھائے ہوئے سبق کو جلد ہی فراموش کردیا،بلکہ انہی انبیائے کرام کو تقدس و الوہیت کا مقام دے کر صراط مستقیم سے انحراف اختیارکر لیااور دوبارہ بت پرستی میں مبتلا ہوگئی۔یونان کے کوہ اولمپس سے لے کر ہندوستان کے دریائے گنگا تک انسانی ذہن کے تخلیق کردہ سینکڑوں بت ملتے ہیں۔ ان مذاہب کے موجودہ خدو خال اپنی ابتدائی شکل وصورت سے بہت مختلف ہیں، لہٰذا چین کے کنفیوشس اورہندوستان کے برہما و مہاتما بدھ کو ان کے ظہورپذیرہونے کے معروف حالات و اسباب کے تناظرمیں دیکھنا درست معلوم نہیں ہوتا،کیونکہ زمانہ ہرچیز کو بوسیدہ کر دیتا ہے اوروقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسان کی آراء و اقدار تبدیل ہوتی رہتی ہیں، لہٰذااس کا درست اندازہ لگانابھی ممکن نہیں کہ ان حضرات کی طرف منسوب موقف ان کے ابتدائی اصل موقف سے کس قدر مختلف ہے۔

غور فرمائیے کہ  اگرقرآن کریم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شخصیت کے بارے میں ہمیں غیرمبہم انداز میں آگاہ نہ کرتاتوہمارے لیے کنیسہ کی چاردیواری میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مورتیوں کے گرد بت پرستانہ رسوم اداکرنے والے پادریوں کے خیالات و افکار کی روشنی میں آپ علیہ السلام کی شخصیت کی حقیقت سے آگاہی ممکن نہ ہوتی، کیونکہ انسان کو خداکامقام دینا اور خداکو انسان کے مقام تک گرانا، تین کو ایک اورایک کو تین قراردینے کے واضح عقلی تضاد کا شکار ہونا، عقیدے کو مسخ کرنااورعقل و دانش کامذاق اڑانااللہ تعالیٰ کے حق میں سب سے بڑی گستاخی اورتوہین ہے۔

آج اس بات کا مشاہدہ کیاجاسکتاہے کہ مسیحی عبادت خانوں میں تحریف شدہ دینی شعائر شکل وصورت کے لحاظ سے یونانی اوررومی بت پرستی سے زیادہ مختلف نہیں۔اگرقرآنی وضاحتیں اورہدایات نہ ہوتیں توکنیسہ اوراس میں ہونے والی رسوم وعبادات کودیکھ کرحضرت عیسیٰ علیہ السلام اور‘‘اپالو’’کے درمیان امتیاز کرنامشکل ہوتا۔لہٰذاجب زمانی لحاظ سے ہم سے قریب ترہونے کے باوجودمسیحیت کی کتاب اورنبی کے بارے میں اس قدرتحریف ہوئی ہے تواس سے بھی پہلے ادوارمیں نہ جانے کتنے مسیح گزرے ہوں گے اورتحریف وتبدیل کانشانہ بنے ہوں گے۔اس سلسلے میں نبی کریمﷺکایہ ارشادبھی بڑی اہمیت کاحامل ہے کہ ہرنبی کے حواری اپنے نبی کی رحلت کے بعد اپنی ذمہ داریاں اداکرتے رہے، لیکن ان کے بعد آنے والوں نے ہرچیزکوبدل ڈالا۔آج باطل دکھائی دینے والے نہ جانے کتنے مذاہب آغاز میں وحی کے چشمہ صافی سے پھوٹے ہوں گے،لیکن اپنے پیروکاروں کی جہالت اور دشمنوں کی ظالمانہ عداوت کے نتیجے میں بالآخر مکمل طورپراوہام وخرافات کامجموعہ بن گئے۔ لہٰذاآج باطل مظاہرکے حامل اکثر مذاہب عام طورپرماضی میں صحیح اورمضبوط بنیادوں پر قائم تھے اوریوں لگتاہے کہ ہردورمیں کسی نہ کسی نبی کی تعلیمات کے اثرات باقی رہے ہوں گے۔

علم تاریخ ،ادیان،فلسفہ اور انتھراپولوجی سے ایک دوسرے سے بہت فاصلے پرواقع انسانی معاشروں کے عقائد میں بہت سے مشترکہ نقاط کی نشاندہی ہوتی ہے، مثلاًتمام معاشروں میں کثرت سے وحدت کی طرف سفرپایا جاتاہے، غیرمعمولی طورپربڑی مصیبت کے وقت ہرچیزسے رخ موڑکرایک ہی ذات عالیہ سے امیدیں وابستہ کی جاتی ہیں اوراس کے سامنے دعا کیلئے ہاتھ اٹھائے جاتے ہیں، دوسرے لفظوں میں ماورائے طبیعت ہستی سے متعلق طرزعمل اورکردارکے مظاہرمیں مشابہت پائی جاتی ہے، جس سے سرچشمے اور معلم کی وحدت کی طرف اشارہ ملتاہے، یہی وجہ ہے کہ جزائر کناری (Canary Islands) سے لے کرملائیشیا کے اصلی باشندوں اورریڈانڈینز سے لے کرقبائل ‘‘ماوماو’’ تک ایک جیسے دینی شعائر، مذہبی رنگ، انداز اورنغمات ملتے ہیں۔

جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ  بر اعظم  امریکا میں نبی بھیجے گئے یا نہیں ، ہم دیکھتے ہیں کہ  امریکا کی معلوم  تہذیبی   تاریخ تو چند سو سال ہی پرانی ہے. ہر چند کہ امریکا دریافت ہونے سے پہلے بھی وہاں ریڈ انڈین قبائل بستے تھے، مگر یہ بات حتمی طور پر کوئی نہیں جانتا کے وہ وہاں کب سے آباد ہیں . اگر تو وہ حضرت  عیسیٰ عليه السلام   یا حضرت محمّد  ﷺ  کی آمد کے بعد امریکا آے ہیں تو غالب امکان ہے کے ان کے  آباو اجداد  ان  پیغمبروں کی تعلیمات سے واقف ہوں یا انھوں نے اس الہامی مذهب کے بارے میں سن رکھا ہو ۔  اس بات کو تاریخی ریکارڈ سے ثابت نہیں کیا جا سکتا کے مختلف خطّوں مثَلاً چین یا یورپ میں کوئی نبی نہیں بھیجے گئے، بلکہ  عین ممکن ہے کہ وہاں نبی بھیجے گئے  ہوں مگر بعد میں آنے والے   مذہبی بگاڑ کی وجہ سے ان کا سارا ریکارڈ ضایع ہو گیا ہو  اور وہ بھلا دیے گئے۔وقت گزرنے کے ساتھ   لوگوں نے ان بزرگ ہستیوں کے اصل پیغام کو بھلا دیا  اور ان کے ساتھ خدائی صفات وابستہ کر دیں اور یوں وہ اپنے آباو اجداد کے طریقوں اور شرک کی طرف لوٹ گئے۔ ڈاکٹرمحمودمصطفی نے دوقدیم وحشی قبائل کے بارے میں جومعلومات فراہم کی ہیں ان سے بھی اس بات کی تائید ہوتی ہے۔ڈاکٹرمحمودلکھتے ہیں کہ قبیلہ ماوماو‘‘موجای’’نامی خدا پر ایمان رکھتاہے۔یہ خدا اپنی ذات اور افعال میں یکتا ہے۔ وہ کسی سے پیدا ہوا ہے اورنہ ہی اس سے کوئی پیدا ہوا ہے،کوئی چیزاس سے مشابہت رکھتی ہے اورنہ ہی اس کی ہمسرہے۔ اسے آنکھیں دیکھ سکتی ہیں اورنہ ہی ذہن اس کا احاطہ کرسکتے ہیں، تاہم اس کے آثارسے اسے پہچاناجاسکتا ہے۔ قبیلہ ‘‘نیام نیام’’سے بھی قبیلہ ‘‘ماوماو’’ جیسی باتیں منقول ہیں۔ وہ ایک ایسے معبود پر ایمان رکھتے ہیں جوہرچیزپرحکومت کرتاہے، جنگل میں موجودہرچیزکواپنی مرضی کے مطابق حرکت دینے اور چلانے پر قدرت رکھتاہے اورشرپسندوں پربجلی کے شعلے پھینکاوہے، دوسرے لفظوں میں وہ ‘‘معبود حقیقی’’ پر ایمان رکھتے ہیں۔

اس سے ظاہرہوتاہے کہ خدا سے متعلق ان لوگوں کاعقیدہ قرآنی عقیدے سے بہت مشابہت رکھتاہے،بلکہ کہاجاسکتاہے کہ قبیلہ ‘‘ماوماو’’ تقریباًسورۃالاخلاص کے مضمون کا اظہار کرتا ہے۔ تمدن سے دور اور معروف انبیائے کرام کے حلقہ اثرسے باہررہنے والی یہ قدیم ترین اقوام ایسے وقت میں کیسے خدا سے متعلق اتنے عمیق اورصحیح عقیدے تک پہنچ گئیں جب وہ زندگی کے سادہ ترین قوانین سے بھی ناآشنا تھیں۔اس سے ثابت ہوتاہے کہ آیت مبارکہ ﴿وَلِکُلِّ أُمَّۃٍ رَّسُولٌ فَإِذَا جَاء رَسُولُہُمْ قُضِیَ بَیْنَہُم بِالْقِسْطِ وَھُمْ لاَ یُظْلَمُونَ﴾(یونس:۴۷)‘‘اور ہر امت کی طرف پیغمبر بھیجا گیا پھر جب ان کا پیغمبر آجاتا ہے تو ان میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیا جاتا ہے اور ان پر ظلم نہیں کیا جاتا۔’’ ایک عالمی اورعمومی حقیقت کی عکاسی کرتی ہے اورکوئی خطۂ ارض اس کی حدودسے خارج نہیں ہے۔

عراق کے شہرکرکوک میں ریاضیات کے پروفیسرعادل زینل کہتے ہیں کہ ریاست ہائے متحدہ امریکا میں اعلیٰ تعلیم کی غرض سے قیام کے دوران میں امریکا کے اصل باشندوں ریڈانڈینزسے بکثرت ملتااوران کی بہت سی باتوں پر مجھے سخت تعجب ہوتا۔امریکاکے اصل باشندے عقیدہ توحید سے ہم آہنگ مختلف دینی شعائر کی پابندی کرتے تھے۔وہ زمانے سے ماورا ایک ایسے خداپرایمان رکھتے تھے،جو کھاتاہے اورنہ پیتاہے۔وہ بکثرت کہتے کہ کائنات میں جوکچھ بھی ہورہاہے وہ اس خداکی مشیت وارادے سے ہورہاہے۔وہ خداکی بہت سی سلبی اوروجودی صفات ان سے مراد وجود، قدم، وحدانیت،قیام بذاتہ اورحوادثات سے پاک ہونے کی خدائی صفات مرادہیں، مثلاًصفت وجود عدم کی، صفت وحدانیت تعددکی اورصفت قدم فناکی نفی کرتی ہے۔ کاتذکرہ کرتے تھے۔ اس قدربلندافکار ان کی سادہ اورغیرمتمدن زندگی سے میل نہیں کھاتے ۔ مشرق ومغرب اوردنیاکے دوردرازعلاقوں میں رائج عقیدے کی توجیہہ صرف ان رسولوں کے ذریعے کرنا ہی ممکن ہے، جنہیں اللہ تعالیٰ نے شہروں اور علاقوں کی طرف بھیجاتھا، کیونکہ بڑے بڑے فلسفیوں کے حیطۂ ادراک سے خارج اس قدرمتوازن عقیدہ توحید کوماوماو،نیام نیام اورمایاقبائل ایسے غیرمتمدن لوگوں کے فکر کا نتیجہ قرار دیناممکن نہیں، لہٰذا ثابت ہواکہ جس انتہائی مہربان ذات نے شہدکی مکھیوں اورچوانٹیوں کو سربراہ سے محروم نہیں رکھا اس نے انسانیت کوانبیائے کرام کے بغیرنہیں چھوڑا،بلکہ تمام روئے زمین میں روشنی پھیلانے کے لیے انبیائے کرام کومبعوث فرمایا۔

ڈاکٹر حمیداللہ  رحمہ اللہ کا بیان ہے”مسند احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ میں ایک حدیث ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ “اللہ نے حضرت آدم سے لے کر مجھ تک ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر بھیجے۔ جن میں سے تین سو پندرہ صاحب کتاب تھے”۔ تین سو پندرہ صاحب کتاب نبیوں کے نام نہ تو قرآن مجید میں ہیں اور نہ احادیث میں ان کا ذکر ہے، لہٰذا ہمارے لیے یہ ممکن نہیں کہ ان کی تفصیل معلوم کرسکیں۔ ۔ اسی طرح بعض ایسے انسان بھی ہیں جن کو صراحت کے ساتھ نبی تو تسلیم نہیں کیا جاسکتا لیکن ان کی نبوت کے امکان کو رد بھی نہیں کیا جاسکتا۔ ان میں سے ایک شخصیت “زرتشت” کی ہے۔ پارسی انہیں اپنا نبی مانتے ہیں۔ ان کی نبوت کا امکان اس بنا پر بھی ہے کہ قرآن مجید میں مجوس قوم کا ذکر آیا ہے۔ ۔(اس طرح)ہندوستان میں بھی کچھ دینی کتابیں پائی جاتی ہیں۔ اور ہندوؤں کا عقیدہ ہے کہ یہ خدا کی طرف سے الہام شدہ کتابیں ہیں۔ ان مقدس کتابوں میں دید، پران، اپنشد اور دوسری کتابیں شامل ہیں۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ سب کتابیں ایک ہی نبی پر نازل ہوئی ہیں۔ ممکن ہے متعدد نبیوں پر نازل ہوئی ہوں، بشرطیکہ وہ نبی ہوں، ان میں بھی خصوصاً “پران” نامی کتابوں میں کچھ دلچسپ اشارے ملتے ہیں “پران” وہی لفظ ہے جو اردو میں “پرانا” یعنی قدیم ہے۔ اس کی طرف ہمیں قرآن مجید میں ایک عجیب و غریب اشارہ ملتا ہے: (وانہ لفی زبر الاولین 26:196) اس چیز کا پرانے لوگوں کی کتابوں میں ذکر ہے)۔ میں نہیں جانتا کہ اس کا پران سے کوئی تعلق ہے یا نہیں؟ بہرحال دس پران ہیں، ان میں سے ایک میں یہ ذکر آیا ہے کہ “آخری زمانے میں ایک شخص ریگستان کے علاقے میں پیدا ہو گا۔ اس کی ماں کا نام قابل اعتماد، اور باپ کا نام، اللہ کا غلام ہو گا۔ وہ اپنے وطن سے شمال کی طرف جا کر بسنے پر مجبور ہو گا۔ اور پھر وہ اپنے وطن کو متعدد بار دس ہزار آدمیوں کی مدد سے فتح کرے گا۔ جنگ میں اس کی رتھ کو اونٹ کھینچیں گے اور وہ اونٹ اس قدر تیز رفتار ہوں گے کہ آسمان تک پہنچ جائیں گے”۔ اس کتاب میں جو مذکورہ الفاظ ہمیں ملتے ہیں ان سے ممکن ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اشارہ مستنبط کیا جاسکے۔(خطبات بہاولپور)

امر واقعہ یہ ہے کے آج کی دنیا میں پائے جانے والے متعددد مذاہب دراصل اسی ایک صحیح دین کی بگڑی ہوئی شکلیں ہیں جو وحی کی صورت میں نازل کیا گیا تھا مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کے ماننے والوں کی جہالت  اور ان کے دشمنوں کے ظلم کے سبب اس میں اتنی تبدیلیاں  آ گئیں ۔ اب ان مذاہب میں سوائے توہمات کے کچھ باقی نہیں بچا ۔ اسی طرح سے دنیا کے اور مختلف مذاہب  بھی بری  طرح سے مسخ ہو چکے ہیں مگر ہمیں یہ ماننا ہو گا ان کی بنیادوں میں کچھ نہ کچھ سچائی یقیناً موجود ہے کیونکہ اگر ہم بغور جائزہ لیں تو چاہے مایا ہوں یا ریڈ انڈینز یا پھر افریقہ کے آدم خور قبائل ، ان کے مذہبی نغموں اور ان کی عبادتوں میں پاکیزگی کا کچھ عنصر ضرور محسوس ہوتا ہے .

خلاصہ کلام یہ کہ زمین کاکوئی خطہ یاشہر انبیائے کرام کے وجودسے محروم رہااورنہ ہی زمانہ فترت کبھی بہت طویل ہوا۔ہر دور کا انسان کسی نہ کسی نبی کی چلائی ہوئی بادِنسیم کے معطر جھونکوں سے محظوظ ہوتارہا، تاہم جن علاقوں میں مرور زمانہ سے وہاں کے نبی کا نام تک لوگوں کو بھول گیا اور اس کی تعلیمات کے نشانات مٹ گئے،ایسے دور کو دوسرے نبی کے ظہورپذیرہونے تک زمانہ فترت سے تعبیرکیاجاتاہے اور ایسے دورکا انسان اگرکفر اختیار کر کے شعوری طورپر اللہ تعالیٰ کی ذات کا انکار نہ کرے تو اس کی مغفرت کردی جائے گی۔الله تعالی انصاف فرمانے والے ہیں اور قرآن میں واضح ارشاد ہے کے ان لوگوں کو کوئی سزا نہ دی جاۓ گی جن کی طرف کوئی نبی یا رسول نہ بھیجا گیا ہو ۔

ترجمہ:اور ہم ہرگز عذاب دینے والے نہیں ہیں یہاں تک کہ ہم (اس قوم میں) کسی رسول کو بھیج لیں۔ (سوره  بنی اسرائیل : آیت ١٥)

ترجمہ :یہ (رسولوں کا بھیجنا) اس لئے تھا کہ آپ کا رب بستیوں کو ظلم کے باعث ایسی حالت میں تباہ کرنے والا نہیں ہے کہ وہاں کے رہنے والے (حق کی تعلیمات سے بالکل) بے خبر ہوں (یعنی انہیں کسی نے حق سے آگاہ ہی نہ کیا ہو)o سوره الانعام : آیت 131 )

الله تعالی نے قرآن کریم میں سارے رسولوں کا ذکر نہیں فرمایا ہے  جیسا کے ارشاد فرمایا

ترجمہ :اور بہت سے پیغمبر ہیں جن کے حالات ہم تم سے پیشتر بیان کرچکے ہیں اور بہت سے پیغمبر ہیں جن کے حالات تم سے بیان نہیں کئے۔ سوره النسا: آیت 164

استفادہ تحریر : ترجمان القرآن ابوالکلام آزاد , خطبات بہاولپور, ڈاکٹر حمید اللہ, ڈاکٹر فتح اللہ

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *