عربی زبان و ادب پر قرآن کے اثرات

3

ظہورِ اسلام سے پہلے زندگی کا تصّور محدود تھا۔اسلام کی آمد سے ایک نئے دَور کا آغاز ہوا۔ خیالات و افکار میں انقلاب آیا۔قرآن کے آفاقی تصّور نے زندگی کے افق کووسیع کردیا۔ اس انقلاب سے ہر شعبہ حیات متاثر ہوا۔ قرآن کے زیر اثر علم و فن کے بہت سےنئے زاویے بنے۔شعر و ادب اور زبان پر بھی قرآن کے خوشگوار اثرات پڑے۔ قرآن مجید نے ادب میں حریت فکر، وسعت نظر، پاکیزگی تخیل او ربلندئ معنی کے اوصاف پید کیے۔ ادب عربی قرآن مجید سے قبل لفظی حسن و شوکت کا مرقع تھا اور اس کا مقصد محض جذبات سافلہ کی ترجمانی تھی۔ قرآن مجید نے آکر ادب عربی کو صوری و معنوی حسن کے ساتھ جذبات عالیہ کی ترجمانی کے آداب سکھائے۔ یہ قرآن مجید کی تعلیم ہی کا فیضان ہے کہ آج عربی زبان تمام دنیا کے علوم و افکار سے معمور ہے۔ عربی زبان و ادب کا محور قرآن مجید ہے۔
ادب ِ جاہلی کا جو سرمایہ آج محفوظ شکل میں مل رہا ہے وہ سب قرآن مجید کی زبان کو محفوظ کرنے او راسے سمجھنے کے لیے جمع کیا گیا تھا۔ مثلاً لسانی خامیوں کے سدِ باب کے لیے علم صرف و نحو و اشتعاق ، قرآن اعجاز کو ثابت کرنے کے لیے معانی او ربیان و بدیع۔ غریب الفاظ کی شرح و توضیح کے لیے لغت و ادب، احکام شرعیہ کے استنباط کے لیے حدیث ۔ تفسیر، اصول اور فقہ وغیرہ علوم معرض وجود میں آئے۔ پھر قرآن مجید نے ان تمام علوم کو باقی رکھا او راکناف عالم تک پہنچایا۔
تاریخ ادب عربی کا مطالعہ کرنے والا دیکھے گا کہ یہ زبان جن نازک مرحلوں سے معجزانہ طور پر جان بچا کرنکل آئی یہ محض قرآن مجید کی قوت کانتیجہ تھا۔ ورنہ دنیا کی بے شمار زبانیں اس سے بھی کمتر صدمات کی تاب نہ لاکر زندگی کھو بیٹھیں اور صفحہ کائنات سے مٹ گئیں۔
قرآن مجید نے الفاظ و معانی کے ضمن میں عربی زبان کی امکانی وسعتوں کو آشکارا کیا۔ اثر آفرینی کے سلسلہ میں حقائق سندی، نفع بخشی اور افادی ہمہ گیری کو ملحوظ رکھنے کا درس دیا۔ حقیقت پسند ادب کا عقلی نمونہ پیش کرتے ہوئے اس قدیم مقولہ کی تردید کردی کہ ”إن أعذب شعرا کذبه” (شعر جس قدر کذب پر مبنی ہو اتنا ہی شیریں ہوتا ہے) قرآن مجید نے ادب کا رُخ عدل و انصاف ، خدمت انسان، تائید حق و صداقت ، نفاست پسندی، عفت و حیا اور خدا پرستی کی طرف پھیر دیا۔ اس نےہر موضوع کو بیان کرنے کے لیے مناسب و پروقار اسالیب بخشے، غوروفکر اوردلائل و براہین سے کام لینے کی دعوت دی۔
قرآن مجید نے بتایا کہ ادب کا فریضہ یہ ہے کہ وہ طیبات کو معاشرہ میں مقبول بناوے اور خبائث کےلیے معاشرہ کی فضا ناسازگار بنا دے۔ قرآن مجید نے ادب کو یاس و قنوط کے مہلک جراثیم سے نجات دلا کر اسے جہاد مسلسل اور حیات آفرین رجائیت کا داعی بنایا۔ تنقید کے لیے بلند اصول دیئے اور ”احسن” کواختیار کرنے میں کسی قسم کا تعصب نہ کرنے کی تلقین کی۔ اس نے مدح و ہجو کےلیے نئے پیمانے مقرر کیے۔ اور ”ان اکرمکم عنداللہ اتقاکم” کا بلند ترین معیار عطا فرمایا۔
قرآن مجید نے عربی ادب میں حقائق کا اس طرح خمیراٹھایا کہ اس کے بعد جس زبان میں بھی کسی شکل سے عربی ادب پہنچا۔ اس خمیر کی تائید نے اس زبان کو بھی فکری و معنوی بلندیوں سے ہمکنار کردیا۔ آج دنیا کے ادب میں وحدت عالم، وحدت انسانیت، حریت فکر او راخلاق کی جو حوصلہ افزائی ہورہی ہے وہ اسی قرآنی ادب کی تاثیر کا نتیجہ ہے۔ اگر آج انسانیت اپنی انکھوں سے تعصبات کی عینک اتارنے کی کوشش کررہی ہے تو یہ قرآنی ادب کے فیض کا ثمرہ ہے۔ عربی زبان پر قرآن کریم کا اثریہ ہوا کہ اس نے عربوں کے سخت او ربے رحم دلوں میں جاگزیں ہو کر انہیں نرم کردیا او ران کی سطحی عقلوں میں داخل ہوکر انہیں وزنی اور ٹھوس بنا دیا۔ چنانچہ قرآن مجید کے اس اصول نے ان کی زبان میں حسین الفاظ، خوبی تراکیب، نزاکت اسلوب، قوت گویائی،زور بیان، نیرنگی معانی، کثرت مضامین و مطالب کی صفات کو جنم دیا۔ زبان کے دائرہ کو نئے دینی الفاظ تک وسعت دی۔
قرآن مجید سے عربی نثر جس درجہ فیض یاب ہوئی شاعری اس حد تک متاثر نہ ہوسکی۔ خلفائے راشدین کے عہد میں جب فتوحات بڑھیں، اسلامی مملکت کی حدود میں وست آئی اور سیاسی و عمرانی مسائل میں اضافہ ہوا تو نثر کو زیادہ فروغ حاصل ہوا۔ قرآن کے فیض و اثر نے اس دور کے طرز نثر نگاری کو پرکیف سادگی عطا کی۔ خلفائے اسلام کے یہاں خط و کتابت کے جونمونے ملتے ہیں ان میں سہل تمنع کی سی کیفیت پائی جاتی ہے ۔ جو قرآن کے زیر اثر ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ قرآن کریم کی بدولت عربی نثر کا پایہ عربی شاعری کی بہ نسبت بہت بلند ہوگیا۔
تاہم اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ شعر و شاعری بھی قرآن سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہی۔ اسلام کی مد سے شعراء کے فکر وفن کا مقصد بدل گیا اور ان کی شاعری اسلام کی ہمہ گیر تحریک سے وابستہ ہوگئی۔ دور اسلام میں قرآن کریم کے زیراثر جو شاعری پروان چڑھی کلام جاہلیت کے مقابلہ میں اس کا انداز نرم او رلطیف ہے۔ زبان شستہ، پاکیزہ اور نکھری ہوئی ہے۔ طرز اداستھری اور دلنشین ہے۔ سوقیّت و ابتذال کم یاب ہے۔ بقول ابن خلدون ،مسلم فن کاروں کا فن نظم و نثر کلام جاہلیت سے کہیں زیادہ بلند ہے۔
قرآن مجید کو عربوں کی زندگی میں مختلف پہلوؤں سے بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ اسلام کے بعد محض تشریعی حیثیت ہی سے نہیں بلکہ ان کی زبان ، ادب اور ذہنی رجحانات کا بھی محور بن گیا۔ عربی زبان و لغت کی تدوین، اشعار کی تلاش و تحقیق، اسالیب بیان کے ارتقاء اور مختلف فنون ادب کے پروان چڑھنے میں قرآن مجید ہی سب سے بڑا محرک تھا۔ عربوں نے قرآن کا مطالعہ مختلف طریقوں سے کیاہے۔ یہاں اس مطالعہ کا صرف ایک پہلو یعنی جو کچھ قرآن مجید کی زبان او راسلوب بیان پر لکھا گیا ہے۔ اسے پیش کرنا چاہتا ہوں۔
قرآن مجید کے محاسن زبان پر بے شمار کتابیں لکھی گئی تھیں اور علماء نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ قرآن مجید کے اعجاز کا اصل مظہر اس کی زبان او ربلاغت ہے۔ اس سے عربی تنقید کو بہت فائدہ پہنچا۔ علماء نے نہ صرف قرآن مجید ہی کی زبان سے وقیع اور فنی بحثیں کی ہیں بلکہ وہ عربوں کی عام زبان اسالیب بیان، جاہلی و اسلامی شعراء کے اشعار عربوں کی روایات نحو علم بدیع، علم بیان، علم معانی او رلغت وغیر ہ کے وقیق مسائل کو بھی زیر بحث لائے ہیں۔
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ قرآن فہمی کے لیے عربی علوم و فنون کا عمیق مطالعہ درکار ہے۔ مولانا حمید الدین فراہی کا خیال ہے کہ جب تک عرب قبل اسلام کی شاعری کا تحقیقی مطالعہ نہ ہو اور عربی بلاغت پر نظر نہ ہو اس وقت تک کماحقہ قرآن مجید پر نظر نہیں ہوسکتی۔ابن قتیبہ مشکل القرآن میں کہتے ہیں کہ قرآن کی عظمت کا عرفان اسی کو ہوسکتا ہے جس کی نظر میں وسعت ہو۔جس کا علم عمیق ہو اور وہ عربوں کے مختلف اسالیب بیان و مکتب ہائے فکر سے واقف ہو۔
تمام ناقدین عرب نے بلا کسی استثناء کے قرآن مجید سے مثالیں پیش کی ہیں۔ چوتھی ہی صدی ہجری کے ایک دوسرے ناقد ابوالحسن اسحاق بن وہب الکاتب نے اپنی مشہو رکتاب ”البرہان في وجوہ البیان” میں بے شمار قرآن آیات سے استشہاد کیا ہے اورعجیب بات یہ ہے کہ اس نے نظریات تو اخذ کیے ارسطو سےمگر مثالیں دیں قرآن سے۔ارسطو کی کتاب الجدل او رکتاب الخطابۃ کے اثرات مذکورہ بالا کتاب پر بالکل واضح ہیں۔ یہ عجیب طرز تھا کہ عرب ناقد ارسطو اور دوسرے یونانی مفکرین سے نظریات و اصطلاحات اخذ کرکے ان کے لیے مثالیں قرآن مجید او راحادیث سے تلاش کرتے تھے۔چنانچہ ابن معتز نے تیسری صدی ہجری میں، ابن وہب الکاتب نے، چوتھی صدی ہجری میں عبدالقاہر الجرجانی نے، پانچویں صدی ہجری میں بالکل یکساں طریقہ اختیار کیا۔
چوتھی صدی ہجری کے اواخر سے پانچویں صدی او راس کے بعد کے اکثر ناقدوں نےاپنی کتاب کے دو مقاصد قرا ردیئے۔ ایک دینی مقصد اور دوسرا ادبی۔ انہوں نے قرآن مجید میں تنقید کی بنیادیں تلاش کیں۔ بالکل اسی طرح جس طرح انہوں نے جاہلی شاعری وغیرہ کو مرکز توجہ بنایا۔چنانچہ ابوالہلال عسکری نے اپنی کتاب ”الصناعتیں” کے مقدمہ میں صاف الفاظ میں لکھا ہے کہ میری کتاب کے دو اہم مقاصد ہیں۔ ایک ادبی خدمت اور دوسری دینی خدمت، بالکل یہی انداز ابن سنان خفاجی نے سرالفصاحۃ میں اختیار کیاہے۔ عبدالقاہر جرجانی نے تو مستقل دو کتابیں ہی ان دونوں مقاصد پر لکھیں۔ بلاغت پر ان کی کتاب ”اسرار البلاغۃ” بہت مقبول و مشہور ہے۔ اسی طرح قرآن مجید کی زبان اور اس کے محاسن پر ان کی دوسری کتاب ”دلائل الاعجاز” غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے۔ ان دونوں کتابوں میں انہوں نے جہاں مثالیں اشعار ادب سے دی ہیں وہاں قرآن مجید سے بھی پیش کی ہیں۔
اس سلسلہ میں انہوں نے ایک نیا نظریہ پیش کیا ہے۔ جاحظ نے تیسری صدی ہجری میں ایک بحث یہ اٹھائی کہ کلام میں تین کا مرجع الفاظ ہیں یا معانی؟ انہوں نے الفاظ کو معانی پر ترجیح دی تھی اور بتایا تھا کہ معانی تو دیہاتی، شہری او رجاہلی سب ہی جانتے ہیں اصل حسن تو الفاظ کے قالب میں ہے۔ عبدالقاہر جرجانی نے اس نظریہ کی تردید کی او رکہا کہ حُسن الفاظ میں نہیں معانی میں پوشیدہ ہے۔ ”دلائل الاعجاز” میں انہوں نے اس نظریہ کو اس طرح پیش کیا کہ قرآن میں بھی حسن کلام کامرجع الفاظ میں نہیں معانی میں ہے او رمعانی میں بھی براہ راست نہیں بلکہ نظم معانی میں کیفیت حسن پوشیدہ ہے۔ ابوتمام کی شاعری عربوں کے مالوف طرز شاعری سے مختلف تھی۔ اس میں استعارے، تشبیہات نئے مضامین او رنئی تراکیب کثرت سے استعمال کی گئیں تھیں اور ساتھ ہی فلسفیانہ خیالات بھی کسی حد تک پیش کیے گئے تھے۔ یہ ایسی چیزیں تھیں جن سے عربوں نے اجنبیت محسوس کی اور عرب ناقد دو طبقوں میں منقسم ہوگئے۔ بالکل یہی صورت حال متنبی کے ساتھ بھی پیش آئی اس لیے کہ اس نے بھی ابوتمام کا طرز اختیار کیا او راس سے بہت آگے بڑھ گیا اور اس کے بارے میں نقاد عرب دو گروہوں میں بٹ گئے۔صاحب بن عباد او رحاتمی وغیرہ نے بہت کچھ اس کے خلاف لکھا ۔ مگر قاضی جرجانی اور ثعالبی وغیرہ نے اس کی موافقت میں بہت اچھے انداز سے تنقیدی خیالات کا اظہار کیا۔
ابوتمام کی شاعری کے اختلاف سے دراصل ”علم بدیع” کا آغاز ہوا۔ اس لیے کہ اس کی بے شمار اقسام کا استعمال اس کی شاعری میں ہواتھا۔ اس وقت یہ عام خیال تھا کہ یہ بالکل ایک نیا علم ہے جو عربوں میں یونانیوں سے آیا ہے۔ ابن معتز (متوفی 296ھ) نے کتاب البدیع تصنیف کی او راس میں یہ نظریہ پیش کیا کہ ”علم بدیع” عربوں کے یہاں ایام جاہلیت سے موجود ہے اور تمام عرب جدید و قدیم شعراء کے یہاں پایا جاتا ہے۔ قرآن مجید اور احادیث میں بھی موجود ہے۔ابن معتز نے کثرت سے قرآنی آیات سے استشہاد کیا ہے۔
”مذہب بدیع” کے حاملین نے قرآن مجید سے خاص طور پر کیوں مثالیں پیش کیں؟ اس کاجواب زغلول سلام نے یہ دیا ہے کہ اس طرح انہوں نے یہ کوشش کی کہ جوکچھ ابوتمام او ران کے مقلد شعراء نے کیا تھا اس کو صحیح ثابت کریں۔
علم بدیع کے علاوہ علم بیان اور معانی پربھی قرآن مجید کے اثرات پوری طرح نمایاں ہیں اور بے شمار ایات ناقدین عرب نے قرآن مجید سے پیش کی ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلوب کا اصل معیار ہمیشہ قرآن مجید رہا ہے او رناقدوں نے اس کا خاص خیال رکھا ہے کہ قرآن مجید نے کس انداز سے او رکن الفاظ و تشبیہات کے ذریعہ مفہوم کو ادا کیا ہے او راس کو معیار حسن و بلاغت سمجھا ہے۔
”اعجاز القرآن” پر رُمّانی (متوفی 384ھ )اور خطابی (متوفی 388ھ) کی کتابیں بہت اہمیت رکھتی ہیں۔ رمانی کی دس اقسام بدیع مشہور ہیں۔ ان کو ابوبکر باقلانی نے بھی اپنی کتاب ”اعجاز القرآن” میں نقل کیا ہے۔ یہ اقسام دراصل چوتھی صدی میں معروف ہوچکی تھیں۔ ہاں بعض اختلافات البتہ قابل ذکر ہیں:
1۔ رمانی نے اطناب اور تطویل کا فرق اعجاز القرآن میں واضح کیاہے۔
2۔ تلاؤم او راس کی مختلف قسموں اور تنافر کے درمیان فرق کو بھی انہوں نے بیان کیا ہے۔
3۔ تو اصل کی تشریح کرکے اس کا اور ”اسجاع” کا فرق بھی نمایاں کیا ہے۔
4۔ ”مناسبت” کا بھی بیان اعجاز القرآن میں موجود ہے۔
5۔ تصریف کی تشریح بھی رمانی نے کی ہے۔

اعجاز القرآن پر سب سے بہتر کتاب ابوبکر باقلانی کی ہے۔ انہوں نے اس بحث میں بے شمار مسائل تنقید کو اپنا مرجع قرار دیا ہے، ان کا طرز استدلال یہ ہے کہ پہلے کسی مسئلہ کو لے کر اس کی دقتوں کو بیان کرتے ہیں پھر شعراء عرب کو دکھاتے ہیں کہ کس طرح انہوں نے اس بارے میں ٹھوکر کھائی ہے۔ اس کے بعد وہ بتاتے ہیں کہ قرآن مجید نے اس سلسلہ میں وہ نمونہ پیش کیا ہے جس سے تمام شعراء و اہل زبان عاجز ہیں۔

باقلانی کہتے ہیں کہ کلام مختلف حیثیت کا ہوتا ہے کچھ بلند اور کچھ پست۔ایک معنی سے دوسرے معنی کی طرف انتقال فنکار کی عظمت کا ثبوت فراہم کرتا ہے اور اکثر لوگ اس مشکل میں کامیاب نہیں ہوپاتے۔مگر قرآن مجید کی عظمت کے لیے یہی کافی ہے کہ اس مین ایک معنی سے دوسرے معنی کی طرف اس طرح انتقال ہوجاتا ہے کہ کوئی بھّدا پن اور غیر مناسب عبارت ظاہر نہیں ہوتی اور ایک عجیب حسن و کشش اس حیثیت سے قرآن مجید میں نظر آتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اکثر شعراء عرب نے اس میدان میں ٹھوکر کھائی ہے۔ چنانچہ بحتری جیسا عظیم شاعر جب ”نسیب” سے مدح کی طرف منتقل ہوتا ہے تو اکثر بہت بھّدا انداز اختیار کر لیتا ہے او ربہت پیچھے رہ جاتی ہے۔ فنی نقطہ نظر سے ۔(اعجاز القرآن ابوبکر باقلانی ص56۔57)

باقلانی کا خیال ہےکہ ایک شاعری ایک صنف میں تو غیر معمولی اہمیت اور عطمت کا حامل ہوتا ہے مگر جب وہی کسی دوسری صنف سخن پرطبع آزمائی کرتا ہے تو بہت ہی گر جاتا ہے او رکم ایسا ہوتا ہے کہ شاعر تمام اصناف میں یکساں حیثیت رکھتا ہےہو۔ اس طرح بعض فن کار نثر میں بلند مرتبہ رکھتے ہیں مگر جب وہ شاعری میں قدم رکھتے ہیں تو بہت نیچے گر جاتے ہیں او رکبھی اس کے برعکس ہوتا ہے۔اپنے اس نظریہ کے پیش نظر وہ شعراء کی مندرجہ ذیل اقسام بیان کرتے ہیں۔
1۔ کچھ شاعر ایسے ہیں جو ”مدح” کے بادشاہ ہیں مگر ہجو میں بالکل صفر ہیں۔
2۔ کچھ ایسے ہیں جو ہجو بہترین کرتے ہیں مگر مدح میں ان کاکوئی مقام نہیں۔
3۔ بعض شعراء کو تقریظ ۔(مدح) میں یدطولیٰ حاصل ہوتا ہے مگر وہ تابین (مرثیہ) میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔
4۔ کچھ شعراء تابین (مرثیہ) میں سبقت رکھتے ہیں مگر تقریظ (مدح) نہیں کرپاتے۔
5۔ اس طرح بعض شعراء وصف میں بہت ممتاز ہوتے ہیں،اونٹ،گھوڑے،رات کے چلنے، شراب پینے، جنگ کی تصویر کشی اور غزل کے رقیق موضوعات کے بیان کرنے میں بہت ممتاز ہوتے ہیں۔ اس موقع پرباقلانی تنقید کی مشہور مثل کو پیش کرتے ہیں او رکہتے ہیں کہ عربوں نے یہ تبصرہ اس صلاحیت کی بنیاد پر کیاتھاکہ ”امرؤالقیس” سب سےبڑا شاعر ہے جبکہ وہ اونٹ پر سوار ہو۔ نابغہ زبیانی سب سےبڑا شاعر ہے جب کہ وہ خوف زدہ ہوجائے اور زہیر اس موقع پر سب سے بڑا شاعر ہے جب کہ وہ لالچ او رطمع محسوس کرے۔اعشیٰ اس وقت سب سے بڑا شاعر ہے جب کہ اس نے پی لی ہو اور خوش ہو۔ (اعجاز القرآن باقلانی ص54)
باقلانی ایک دوسری جگہ لکھتے ہیں کہ بلاغت کا انحصار بدیع کی عمدہ شکلوں کے استعمال ، لطیف معانی، عمدہ حکمتوں او رمناسبت او ریکسانیت کلام پر ہے جو قرآن مجید میں بدرجہ اتم موجود ہیں۔ آگے چل کر وہ مزید کہتے ہیں کہ بہترین کلام وہ ہے جس کو کان اپنا سرمایہ سمجھیں او رنفس انسانی اس کی جانب پوری طرح متوجہ ہوجائے اور جس کی رونق دُور سے اس طرح نظر آجائے جیسے موتیوں کے ہار کی چمک ۔ حُسن کلام کی یہ صفت پہلے ہی جملہ سے ظاہر ہوجاتی ہے۔باقلانی نے آسان اور سلیب کلام ہی کو معیار قرار دیا۔ غریب، وحشی اور مستکرہ کلام کوناپسند کرکے اچھے کلام کی تعریف اس طرح کہ کہ ”جب تم اس کوسنو تو وہ تمہارے دل میں بیٹھ جائے او رتم کوایسی حلاوت و خوشگواری محسوس ہو جیسی کہ تم آب زلال پیتے وقت محسوس کرتے ہو لیکن اس کے باوجود وہ کلام تمہارے اختیار سےاتنا ہی دور ہو جیسے ستارہ کو ڈھونڈھنے والے سے ستارہ دور ہوجاتا ہے۔

ایسا کلام نفس سےقریب تر اور ذہن سے مانوس ہوتاہے مگر اس کا کہنا آسان نہیں ہوتا۔پھر باقلانی پر تبصرہ کرتے ہیں کہ تمام ادباء و شعراء نے غلطیوں کاارتکاب کیا ہے۔ صرف قرآن مجید کی زبان غلطیوں سے مبرّ ا ہے۔
تعجب تو یہ ہے کہ باقلانی نے نہ صرف یہ کہ زبان، شاعری، خطبات اور نثر وغیرہ کے تنقیدی مسائل سے بحث کی ہے بلکہ ناقد کے فرائض اور فن تنقید کے بارے میں بھی بہت سی قیمتی آراء کااظہار کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ صراف کی نظر جس طرح سونے پر ہوتی ہے اور بزاز کی نگاہ جس طرح کپڑے کو پہچانتی ہے بالکل اسی طرح ناقد کی نظر کلام پر بہت گہری ہوتی ہے۔ اسی انداز سے باقلانی ناقدوں کے اختلاف کا ذکر کرتے ہیں اور مختلف مسائل پر بحث لاتے ہیں۔ یہ ایک مفصل نمونہ تھا ان کتابوں میں سے ایک اہم کتاب کا جو اعجاز القرآن پر لکھی گئیں۔اس سے بخوبی معلوم کیا جاسکتا ہے کہ اس قسم کے دقیق تنقیدی مباحث کا اثر عربی تنقید پر پڑنا ایک ناگزیر حقیقت ہے۔
استفادہ تحریر: پروفیسر غلام احمد حریری

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *