تورات و انجیل کے قصے اور قرآن

2

ملحدمستشرق ٹسڈل کی کتاب سے  تفصیل پیش کرتے ہوئے لکھتا ہے :

“مسلمان کہتے ہیں کہ قرآن میں سابقہ صحائف سماوی کی باتوں کا وارد ہونا کوئی حیرت کی بات نہیں، کیوں کہ ان کا خدا ایک ہی ہے اس لیے ان قصوں کا شامل ہونا اس امر پر مہرصداقت ثبت کرتا ہے کہ قرآن بھی آسمانی کتاب ہے ۔اس دعوے کی قلعی یوں کھل جاتی ہے کہ قرآن کو شاید خود ہی یہ پتہ نہیں کہ اس میں درج بیشتر قصے اور کہانیاں پہلے پیغمبروں کی کتابوں (توریت اور انجیل)میں نہیں بلکہ ان کتابوں کے مفسرین اور ان کے امتیوں کی جمع کردہ احادیث کی کتابوں میں مرقوم ہیں۔۔۔قرآن نے افسانوں اور خرافات سے بھرے عہد نامہ قدیم و جدید کی ہی تصدیق نہیں کی بلکہ تالمود اور مدراش کی بھی تصدیق کی جو خرافات کی سب سے بڑی فیکٹریاں ہیں تالمود مشنات اور جمارا پر مشتمل ہے۔ “

تبصرہ :

یہاں دو باتیں تفصیل طلب ہیں ۔

1- قرآن نے انبیاء سابقہ اور انکی اقوام کے متعلق جو تفصیلات پیش کی کیا وہ بعینی تورات و انجیل کا بیان ہیں ؟   قرآن و تورات کے بیان میں کتنی  مماثلت ہے اور کس کا بیان منطقی و تاریخی لحاظ سے درست ہے ؟کیا قرآن میں  تاریخی وقائع اور انبیاء سابقین کے متعلق  اسکے علاوہ کچھ بھی نہیں پیش کیا گیا جو تورات انجیل اور پرانے صحیفوں کے ذریعے یہود و نصاری تک پہنچا۔؟

2- وہ  تفاصیل جنکا ذکر تورات و انجیل  میں نہیں ہے بلکہ انکی دوسرے درجے کی کتابوں میں ہے ‘ کیا وہ سب خرافات سے بھرپور ہیں ؟ کیا علمائے یہود ان سب کو خرافات کہتے ہیں ؟  اگر وہ تفاصیل برحق ہیں تو انکا ذکر تورات و انجیل میں کیوں نہیں آیا ؟ انکا ذکر یہود کی دوسرے درجے کی کتابوں میں کیسے آیا ہے ؟ کیا قرآن نے جہاں ان  واقعات پر تفصیل پیش کی ہے کیا وہ بھی  اسی طرح کی خرافات  پر مشتمل ہے ؟

قرآن اور سابقہ آسمانی کتابیں :

  1. کیا قرآن اور پرانی کتابوں کے بیان میں کوئی فرق نہیں ؟

قرآن اور پرانی کتابوں میں  مصدر اور خدائی پیغام ایک ہی ہے  لیکن اس کے باوجود قدیم آسمانی کتب میں جا بجا تحریفات ہیں. چند نکات پیش :

١) مصدر اور خدائی پیغام ایک ہی ہے لہٰذا واقعات کا ایک جیسا نا ہونا زیادہ اچھنبے کی بات ہے بجائے واقعات کے ایک جیسا ہونے کے.

٢) مصدر کے ایک ہونے کے باوجود واقعات میں مکمل طور پر یکسانیت نہیں ہے بلکہ پڑھنے والا صاف محسوس کر سکتا ہے کہ قرآن تناقصات، تضادات ، سائنسی غلطیوں اور ہر طرح کی بیہودگیوں سے بالکل پاک ہے. کیا قرآن میں پرانی روایتی کہانیوں ، فرضی قصوں اور مشرکانہ توہم پرستی نظر آتی ہے جو چیخ چیخ کر یہ اعلان کرتی ہے کہ یہ خدا  کا کلام نہیں بلکہ انسانی تصّور و وہم کا نتیجہ ہے؟

٣)   قرآن دوسری کتابوں کے برعکس توحید کے بنیادی تصور کو اپنی تمام تر اعلیٰ و ارفع حیثیت سے ، تناقصات اور  تضادات سے پاک کرتے ہوے سختی سے راسخ کرتا نظر آتا ہے اور تمام مخلوقات اور خالق میں ایک واضح فرق کرتا نظر آتا ہے، لیکن  باقی کتابوں کا حال اس کے برعکس ہے ، چند مثالیں ملاحظہ کیجیے۔

خدا اور جیکوب کے درمیان کشتی کے ایک انوکھے مقابلے کا احوال ہے جس میں جیکوب خدا کو عاجز کر دیتا ہے.اور خدا اپنی تمام قدرت ، الوہیت اور طاقت کے ایک فانی انسان کو جسمانی طور پر شکست نہیں دے پاتا. پیدائش  ( ٣٢ : ٢٤-٢٨ )

  کیا آپکو قرآن میں اس طرح کے بیہودہ اور واہیات کہانیاں پڑھنے کو ملتی ہیں؟

“خداوند زمین پر انسان کو پیدا کرنے سے ملول ہوا اور دل میں غم کیا ” ” خداوند سائول کو بنی اسرائیل کا بادشاہ کر کے ملول ہوا ” کیونکہ وہ اسکی ” پیروی سے پھر گیا تھا ”( پیدائش ٦ : ١-٦ / سموئیل ١٥ : ١١،٣٥ )

اسی طرح جب بنی آدم بابل میں ایک برج بنانے لگے ” جسکی چوٹی آسمان تک بلند ہونی تھی ” تو خداوند اسے ” دیکھنے کو اترا ”

” خداوند یہوداہ کے ساتھہ تھا سو اس نے کوہیستانیوں کو نکال دیا پر وادی کے باشندوں کو نا نکال سکا کیونکہ انکے پاس لوہے کے رتھہ تھے “( قضاه ١ : ١٩ )

” تب میں نے کہ افسوس اے خداوند ، تو نے ان لوگوں کو اور یروشلم یہ کہ کر دغا دی کہ تم سلامت رہو گے ، حالانکہ تلوار جن تک پہنچ گئی ” ( یرمیاہ ، ٤ : ١٠ )

“خدا نے پچاس ہزار اور ستر آدمی صرف اس لئے مار ڈالے کہ انہوں نے خداوند کے صندوق کے اندر جھانکا تھا ”  ( سموئیل ٦ : ١٩ )

ایک اور مقام پر کہا گیا ہے کہ وہ باپ دادا کے گناہ کی سزا انکے بیٹوں اور پوتوں کو تیسری اور چوتھی پشت تک دیتا ہے . ( خروج ٣٤ : ٦-٧ )

بائبل کے مطابق خدا نے یعقوب کی محبت میں ” عیسو سے عداوت رکھی اسکے پہاڑوں کو ویران کیا اور اسکی میراث بیاباں کے گیدڑوں کو دے دی ”  ( ملاکی ١ : ٢-٣ )

٥)  کیا فاضل مضمون نگار کو انبیا علیھم صلواۃ السلام سے منسوب گھناؤنی ، بیہودہ اور انتہائی فحش داستانیں، ( معاذ الله) قرآن مجید میں نظر آتی ہیں. حقیقت تو یہ ہے کہ قرآن کریم نے تمام انبیا علیھم صلواۃ السلام کا درجہ اس طرح بلند کیا ہے کہ کسی ایک نبی کا انکار تمام انبیا کا انکار بن جاتا ہے نہ صرف انبیا بلکہ انکی کتابوں کا بھی انکار اسلام کے دائرے سے کسی کو بھی نکال پھینک سکتا ہے. کیا فاضل مضمون نگار عظمت انبیا کے خلاف کوئی ایسی چیز پاتے ہیں جو دوسری قدیم کتابوں میں ملتی ہے کہ جہاں معاشرے میں موجود ساری خرافات کو جائز ٹہرانےکے لئے انھیں انبیا سے منسوب کر دیا جاتا ہو ؟

” خدا بری روح ساؤل پر زور سے نازل کرتا ہے اور وہ غیر کے اندر نبوت (غیب بینی اور پشین گوئی ) کرنے لگتا ہے. پھر ایک موقع پر یہی ساؤل ننگا ہو کر نبوت کرنے لگتا ہے. ایک اور نبی (غیب بین اور پیش گو ) دوسرے نبی سے یہ کہ کر کہ میں بھی تیری طرح نبی ہوں . اسے خداوند کا جھوٹا کلام سناتا ہے اور دھوکہ دے کر مبتلائے معصیت و عذاب کر دیتا ہے.(  سموئیل ١٨: ١٠/ ١٩: ٢٤ اور سلاطین ١٣ : ١١/٢٦)

” اس (نوح ) نے شراب پی اور اسے نشہ آیا اور وہ اپنے ڈرے میں برہنہ ہو گیا . حتیٰ کہ انکے بیٹے حام نے انھیں اس حالت میں دیکھا. ( پیدائش ٦ : ٩ ، ٩ : ٢٠-٢٢ )

بائبل کے بیان کے مطابق ، لوط کی دو سگی بیٹیوں نے انھیں شراب پلائی اور پھر باری باری ان سے ہم آغوش ہوئیں ( نعوذ باللہ ) حتیٰ کے لوط کی یہ دونوں بیٹیاں اپنے باپ سے حاملہ ہوئیں اور ان سے ایک ایک بیٹا پیدا ہوا. جن میں ایک مو آبیوں کا باپ اور دوسرا بنی عمون کا باپ تھا. ( پیدائش ١٩: ٣٠-٣٨ )

ایک پورے باب ( ٢ سموئیل ١١ )  میں  حضرت داؤد علیہ السلام سے ایک حیا سوز قصّہ منسوب کیا گیا ہے. جسکی تفصیلات نہایت گھناؤنی ہیں جنہیں نقل کرتے ھوۓ بھی خوف آتا ہے. اس قصّہ میں داؤد نے اپنے محل کی چھت سے ایک عورت بت سبع کو نہاتے ھوۓ دیکھا ، جو نہایت خوبصورت تھی . انہوں نے اسے بلا کر اس سے صحبت کی اور وہ حاملہ ہو گئی . اسکا شوھر اوریاہ  محاذ جنگ پر تھا داؤد نے حامل پر پردہ ڈالنے کے لئے اسے بلا بھیجا . مگر وہ جنگ میں اتنا مصروف تھا کہ اس نے گھر آنا مناسب نا سمجھا.  کوششوں کے باوجود جب وہ تیار نا ہوا تو اپنے سپہ سالار کی مدد سے اسکو مروا ڈالا اور پھر اسکی بیوہ کو اپنی بیوی بنا لیا.اسی بت سبع کو بائبل سلیمان کی ماں بھی قرار دیتی ہے.

” اور بادشاہ داؤد بوڑھا اور کہن سال ہوا اور وہ اسے کپڑے اوڑھاتے پر وہ گرم نا ہوتا تھا . سو اسکے خادموں نے کہا کہ اس کے لئے کنواری ڈھونڈی جائے جو بادشاہ کہ پہلو میں لیٹ جایا کرے تاکہ ہمارے بادشاہ کو گرمی پہنچے ” چنانچہ اس تجویز پر عمل ہوا اور ساری مملکت میں سے تلاش کر کے خوبصورت لڑکیاں بادشاہ کی خدمات میں لائی گئیں.

(١ سلاطین ١ : ١-٤ )

” اور سلیمان بادشاہ فرعون کی بیٹی کے علاوہ بہت سی اجنبی قوموں کی عورتوں سے محبت کرنے لگا…. اور اسکی بیویوں نے اس کے دل کو غیر معبودوں کی طرف مائل کرلیا اور اسکا دل خدا کے ساتھ کامل نا رہا جیسا کہ اسکے باپ داؤد کا دل تھا”

(١ سلاطین ١١ : ١-٦ )

سوال : اگر قرآن کریم کسی بھی کتاب کی نقل ہے تو یہ خرافات قرآن میں کیوں نقل نہیں ہوئیں ؟کیوں قرآن کریم قدیم کتابوں کے برعکس انبیاء کی عظمت اور ناموس کی نگہبانی کرتا ہے ؟

کتب سابقہ یہود دروغ قلم کی بدولت بدترین تحاریف سے دوچار ہوچکی ہیں جن کی وجہ سے جہاں یہ کتب خرافات مختلفہ سے مملو ہوچکی ہیں وہی یہ کتب عصمت انبیاء پر بھی انگلی اٹھانے سے نہیں چوکتی ہیں جبکہ قرآن کریم جو کہ عصمت انبیاء کا سب سے بڑا محافظ ہے وہ ان سب خرافات کو لغو قراردے کر قرآن کریم میں واقعہ کی درستگی اور اصل روح کے ساتھ دوبارہ بیان کرتا ہے  جس سے ان جمیع الزامات کی انبیاءکرام علیہم السلام کی ذات عالیہ سے تردید ہوجاتی ہے جو یہودی روایات اور تورات کی رو سے انبیاء پر عائد ہوتے ہیں۔قرآن سےسابقہ  انبیاء کی عصمت و عظمت کی چند مثالیں پیش ہیں ۔

إِنَّ اللّه اصْطَفَی آدَمَ وَنُوحًا وَآلَ إِبْرَاهيمَ وَآلَ عِمْرَانَ عَلَی الْعَالَمِينَ (سورۃ آل عمران 32) بے شک اللہ نے چن لیا آدم ونوح اور آل ابراہیم اور آل عمران علیہم السلام کو تمام جہانوں پر۔

سَلاَمٌ عَلَی نُوحٍ فِي الْعَالَمِينَ(سورۃ الصافات79)نوح علیہ السلام پر تمام جہانوں میں سلام ہو۔

اسی طرح لوط علیہ السلام کی شان اقدس میں قرآن مجید فرماتا ہے۔

وَإِنَّ لُوطًا لَّمِنَ الْمُرْسَلِينَ(سورۃ الصافات133) اور بےشک لوط علیہ السلام رسولوں میں سے ہیں۔

وَإِسْمَاعِيلَ وَالْيَسَعَ وَيُونُسَ وَلُوطًا وَكُلاًّ فضَّلْنَا عَلَی الْعَالَمِينَ(سورۃ الانعام 86) اور اسماعیل والیسع اور یونس اور لوط علیہم السلام سب پر ہم نے جہانوں میں سے انعام کیا۔

 دونوں کتب میں موجود بعدالمشرقین رکھنے والے اس فرق کے باوجود کوئی جاہل ہی قرآن مجید کو ان کتب کا مصدق کہے گا۔

کیا قرآن تورات کے علاوہ یہودی روایات پر مبنی کتابوں کی تصدیق کرتا ہے؟

  1. معترض نے بڑے دھڑلے سے یہ دعویٰ کیا کہ “قرآن مجید تورات کے علاوہ یہودی روایات پر مبنی کتاب تالمود کی کتاب کی بھی تصدیق کرتا ہے جو کہ دو حصوں مشنا اور گمارا بھی مشتمل ہے” حقیقت یہ ہے کہ قرآن مجید بہت سی یہودی روایات کی بھی تردید کرتا ہے اگرچہ یہ خود اپنی ذات میں ایک موضوع ہے مگر اختصارا ایک مثال ضرور پیش کرنا چاہوں گا۔

 تالمود کی کتاب Kallah (1) (18b)میں عیسیٰ علیہ السلام کو (نعوذباللہ منہ) ناجائز اولاد اور حیض کی دوران کی پیداوارکہا گیا ہے۔اسی طرح Sanhedrin, 67-a نامی کتاب میں بھی عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں بدترین گستاخی کی گئی ہے۔ (بحوالہ Talmud Unmasked by I.B. Prainitis)

اب اگر قرآن مجید ان تالمودی خرافات کی تصدیق کرنے والا ہوتا تو عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ صدیقہ کی شان اقدس میں اتنی آیات مبارکہ اتار کر ان کی عصمت وپاکیزگی کی گواہی کیوں بیان کرتا؟حتیٰ کہ قرآن مجید میں کسی بھی عورت کا نام نہیں لیا گیا بلکہ ہر جگہ صرف امراۃ کہہ کر عورت کا ذکر کیا گیا لیکن مریم صدیقہ علیہاالسلام کی پاکیزگی بیان کرنے کے لئے اللہ  نے پوری ایک سورۃ مریم ان کے نام  سے اتار دی۔

 إِذْ قَالَتِ الْمَلآئِكَة يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللّه يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَة مِّنْه اسْمُه الْمَسِيحُ عِيسَی ابْنُ مَرْيَمَ وَجِيها فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَة وَمِنَ الْمُقَرَّبِينَ(سورۃ آل عمران 45)

اور جب فرشتوں نے کہا کہ اے مریم بےشک اللہ آپ کو خوشخبری دیتا ہے کلمہ کی جس کا نام مسیح عیسیٰ ابن مریم ہوگا اور وہ دنیا میں کامیاب اور آخرت میں مقربین میں سے ہونگے۔

إِنَّمَا الْمَسِيحُ عِيسَی ابْنُ مَرْيَمَ رَسُولُ اللّه وَكَلِمَتُه أَلْقَاها إِلَی مَرْيَمَ وَرُوحٌ مِّنْه فَآمِنُواْ بِاللّه وَرُسُلِه(سورۃ النساء171)

بےشک مسیح عیسیٰ ابن مریم اللہ کے رسول ہیں اور کلمۃ ہیں جو اللہ نے مریم علیہاالسلام کی طرف بھیجا اور اللہ کی عطاکردہ روحوں میں سے روح ہیں پس اللہ او اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ۔

 تالمودی الزامات کی اس صریح تردید کے باوجود قرآن مجید کو ہر  تالمودی روایات  سے متفق کہنا  جہالت  کے سوا کچھ نہیں ہے۔

فیس بک تبصرے

تورات و انجیل کے قصے اور قرآن“ ایک تبصرہ

  1. پنگ بیک قرآن کے مصنفین-متفرق اعتراضات اور جوابات | الحاد جدید کا علمی محاکمہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *