بائبل کے دفاع میں ملحدین کے دلائل

a

موجودہ بائبل تحریف شدہ ہیں اور اس میں تحریف ایک ایسی مسلمہ حقیقت ہے کہ عیسائی علما بھی اس کا انکار نہیں کر سکتے. بائبل شاید دنیا کی واحد کتاب ہے جس پر اتنی بار نظر ثانی ہو چکی ہے کہ جس کی نظیر کسی بھی الہامی کتاب کے لئے نہیں ملتی , عجیب بات یہ ہے کہ یہاں عیسائی نہیں بلکہ اک  ملحد نے اپنی قرآن کے  خلاف لکھی تحریر میں اسی قرآن ہی  سے بائبل کے غیر محرف ہونےپر دلائل دیے ہیں . بائبل میں تحریف   کوئی ایسی بات نہیں  کہ جس کے بارے میں ہم یہ کہہ سکیں کہ ان ملحدین کو اس کے بارے میں علم نہیں ہے ،انکی یہ چشم پوشی بے مقصد معلوم نہیں  ہوتی .

ملحدکے بائبل کے دفاع میں پیش کیے گئے دلائل کا مختصر جائزہ

ملحد لکھتا ہے :

سورۃ انعام زمانۂ آخر کی مکی سورتوں میں سے ہے لیکن اگر غور سے اس سورۃ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ آیت 91 کا اضافہ ضرور بالضرور مدینہ میں ہی انجام دیا گیا۔ پہلے اس آیت پر ایک نظر ڈال لیتے ہیں جس کا ترجمہ کچھ یوں ہے:

‘‘اور ان لوگوں نے خدا کی قدر جیسی جاننی چاہیے تھی، نہ جانی۔ جب انھوں نے کہا کہ خدا نے انسان پر (وحی اور کتاب وغیرہ) کچھ بھی نازل نہیں کیا۔ کہو جو کتاب موسیٰ لے کر آئے تھے، اسے کس نے نازل کیا تھا جو لوگوں کے لیے نور اور ہدایت تھی اور جسے تم نے علیحدہ علیحدہ اوراق (پر نقل) کررکھا ہے ، ان (کے کچھ حصے) کو تو ظاہر کرتے ہو اور اکثر کو چھپاتے ہو۔ اور تم کو وہ باتیں سکھائی گئیں جن کو نہ تم جانتے تھے اورنہ تمھارے باپ دادا۔ کہہ دو (اس کتاب کو) خدا ہی نے (نازل کیا تھا) پھر ان کو چھوڑ دیا کہ اپنی بیہودہ بکواس میں کھیلتے رہیں۔’’

مندرجہ بالا آیت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ محمد نے توریت پر تحریف کا الزام نہیں لگایا بلکہ کچھ آیات کے ‘‘چھپانے’’ کا ذکر کیا ہے ۔ محمد کا مطلب صاف ہے کہ یہودی تورات کی تفسیریں غلط پیش کرتے ہیں تاکہ انھیں جھٹلا دیں اور ان کے دعووں کو مسترد کردیں۔ ممکن ہے کہ جس طرح قرآن کی ہزاروں تفسیریں پیش کی جاتی رہی ہیں اور ہر تفسیر دوسری تفسیر سے علاحدہ ہوتی ہے، اسی طرح یہود بھی توریت کی تفسیریں پیش کرتے رہے ہوں۔ لیکن تفسیروں کی بنیاد پر جس طرح قرآن کو تحریف شدہ قرار نہیں دیا جا سکتا، اسی طرح توریت کو تحریف شدہ قرار دینا غلط ہوگا۔ سورۃ بقرہ ، سورۃ آل عمران، سورۃ المائدہ وغیرہ کی بھی کچھ آیات کو ہمارے علما جواز کی شکل میں پیش کرتے ہیں کہ توریت میں تحریف ہوئی ہے لیکن چونکہ مجھے ڈر ہے کہ میں نفس موضوع سے کہیں دو ر نکل نہ جاؤں، لہٰذا یہاں ان آیات پر تفصیلی رائے پیش کرنے کی گنجائش نہیں پاتا لیکن ان تمام آیات میں جو مدنی ہیں ، کہیں بھی کھلم کھلا یہ نہیں کہا گیا کہ تورات میں تحریف ہوئی ہے بلکہ یہ دعویٰ الفاظ کے ہیر پھیر کے ساتھ کیا گیا ہے کہ یہودی انھیں اس لیے چھپاتے ہیں تاکہ محمد کے منصب رسالت کی بشارت کی تصدیق نہ ہوسکے۔

تبصرہ:

قرآن مجید نے یہودیوں کی تحریف کرنے کے ہرانداز کو بیان فرمایا ہے۔چاہے وہ لفظی تحریف ہو یامعنوی یا پھر تحذیف۔لفظی تحریف تو تورات میں جابجاہے جس کی گواہی گذشتہ صدی میں وادی قمران سے دریافت ہونے والی دوہزار قدیم صحف بھی دے رہے ہیں کہ مروجہ تورات کا عبرانی متن اور اس قدیم متن میں بعدالمشرقین ہے حتی کہ محققین کو اقرار کرنا پڑا کہ قمرانی صحائف ہمیں اس دور میں لے جاتے ہیں کہ مروجہ متن کی حیثیت پر شک ہونے لگتا ہے۔(بحوالہ معتدبہ کلام مقدس)دوسری بات یہ کہ یہودیوں کے مطابق تورات موسیٰ علیہ السلام نے لکھی تو کیاتورات کی کتاب استثناء کے آخری باب میں موسیٰ علیہ السلام کی وفات کا حال بھی موسیٰ علیہ السلام نے کیا قبر سے اٹھ کر لکھا؟؟یہ تحریف نہیں تو پھر اور کیا ہے؟

ملحد لکھتا ہے:

مجھے پورے قرآن میں کہیں بھی ایک ایسی آیت نہیں ملی جس میں یہ واضح طور پر کہا گیا ہو کہ توریت میں کوئی تحریف یا تبدیلی کی گئی ہو بلکہ اس کے برخلاف سورۃ المائدہ (آیت نمبر 44) میں توریت کی صحت پر اصرار کیا گیا ہے، ‘‘بے شک ہم نے توریت نازل فرمائی جس میں ہدایت اور روشنی ہے، اسی کے مطابق انبیا جو (خدا کے )فرماں بردار تھے یہودیوں کو حکم دیتے رہے ہیں اور مشائخ اور علما بھی کیوں کہ وہ کتاب خدا کے نگہبان مقرر کیے گئے تھے اور اس پر گواہ تھے (یعنی حکم الٰہی کا یقین رکھتے تھے) تو تم لوگوں سے مت ڈرنا اور مجھی سے ڈرتے رہنا اور میری آیتوں کے بدلے تھوڑی سے قیمت نہ لینا اور جو خدا کے نازل فرمائے ہوئے احکام کے مطابق حکم نہ دے تو ایسے ہی لوگ کافر ہیں۔ ’’

تبصرہ:

مروجہ تورات میں جس قدر تحریفات موجود ہیں اس پر پورے دفاتر لکھے جاسکتے ہیں ایک مثال تو ہم نے اوپر ہی دے دی ہے کہ تورات میں موسیٰ علیہ السلام کی وفات کا حال کس نے لکھا؟دوسری بات یہ کہ قرآن مجید صاف صاف کہتا ہے کہ یہ یہودی و نصاری اپنے ہاتھ سے کتاب لکھ کر کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے۔اور مروجہ بائبل میں شامل تمام کتب اسی صفت سے متصف ہیں کیونکہ ان کے مصنف ہی گمنام ہیں جس کا اقرار یہودی ومسیحی دونوں کے ہی علماء کو ہے بائبل میں شامل کتب کا فقط انبیاء کرام علیہم السلام کی طرف انتساب ہے اور انتساب ہونے سے ہرگز یہ انہی برگزیدہ انبیاء کی تحاریر نہیں بن سکتی ہیں۔

ملحد لکھتا ہے:

مذکورہ بالا آیت سے ظاہر ہے کہ اگر توریت کی تحریف و تنسیخ ہوجاتی تو قرآن اسے ہرگز صحیح اور قابل قبول نہ گردانتا۔ پھر وہ اسی آیت میں توریت کی نگہبانی کا بھی ذکر کررہا ہے۔ چنانچہ جو مسلمان توریت کی تحریف و تنسیخ کی بات کرتے ہیں دراصل وہ خود قرآن کی توہین و تکذیب کے مرتکب ہوتے ہیں۔ یعنی اگر قرآن نے توریت کی حفاظت و نگہبانی کا دعویٰ کیا تو وہ محض دعویٰ تھا۔

تبصرہ :

قرآن نے کہیں یہ دعوی نہیں کیا پرانی کتابیں محفوظ ہیں،  قرآن مجید نے اُن کتب کونور وہدایت کہا جو موسیٰ وعیسیٰ علیہاالسلام پر نازل ہوئی تھیں جبکہ یہودی موسیٰ علیہ السلام اور عیسائی عیسیٰ علیہ السلام پر کتاب نازل ہونے کے منکر ہیں اور مروجہ تورات اور انجیل موسیٰ وعیسیٰ علیہماالسلام کے بہت بعد میں لکھی گئی ہیں لہذا قرآن مجید نے ان جعلی کتابوں کو محرف اور اصلی کتابوں کو نور اور ہدایت کہا ہے۔ ان کتابوں میں مذکور ان واقعات   اور مسائل  کو جنکی تفصیل میں تحریف کر لی گئی تھی ، دوبارہ ٹھیک تفصیل کے ساتھ قرآن میں بیان کیا گیا۔

ملحد لکھتا ہے:

اصل بات یہ ہے کہ محمد کو خود توریت کی صحت پر کسی قسم کا کوئی شک و شبہ نہیں تھا لیکن جب انھوں نے دیکھا کہ اب یہودیوں سے کوئی غرض و مطلب نہیں تو یہی بہتر سمجھا کہ اس کو غیر معتبر قرار دے دیں ، حتیٰ کہ قبلہ بھی یروشلم سے مکہ منتقل کردیا ۔ پھر شروع ہوا محمد کے منتقمانہ مزاج کی گھڑ دوڑ نے مدینہ کے تینوں یہودی قبیلے یعنی بنو قینقاع، بنو نضیراور بنو قریضہ کو روند ڈالا، ان کے قلعوں اور ذراعتی فارموں پر قبضہ کرلیا، ان کے مردوں کو قتل کردیا، ان کے بچوں اور عورتوں کو غلاموں کے بازار میں بیچ دیا گیا ۔ محمد نے ان کی کچھ عورتوں کو اپنے ساتھیوں میں تقسیم کردیا اور ریحانہ نام کی خوب صورت دوشیزہ کو اپنے لیے منتخب کرلیا لیکن ریحانہ نے جب محمد سے نکاح کرنے سے انکار کردیا تو محسن انسانیت نے اسے بغیر نکاح کے ہی اپنے حرم میں ڈال لیا۔

تبصرہ:

تاریخ سے یہ واضح ہے  کہ یہودی اپنی شریر فطرت کی وجہ سے ان سزاؤں کے حقدار بنے وگرنہ پیغمبراسلام ﷺ تو ان کی شرارتوں کو نظرانداز کرتے رہے مگر یہ سرکش اپنی شرارتوں میں حد سے متجاوز ہوگئے تو تبھی ان کو ازروئے تورات دھوکہ دہی کی سزا دی گئی اور ملک بدر کر دیا گیا۔یہ سزا پیغمبراسلام ﷺ نے اپنی طرف سے نہیں دی بلکہ تورات کی رو سے ان کی یہی سزا بنتی تھی جیساکہ انہوں نے خدا کے ساتھ دھوکہ کیا تو خدا نے چالیس سال تک ان کو وادی سینا میں دربدر رکھا اسی طرح ان کوسزا دی گئی۔اب جہاں تک مدینہ کے یہودیوں کو قتل کرنے کا معاملہ ہے تو یہودیوں نے اپنا فیصل اپنے فقیہ،سردار اور شریعت کےعالم حضرت سعد  کو مقرر کیا تھا کہ وہ جو ہمارے متعلق فیصلہ کریں گے وہ ہمیں قبول ہوگا اور سعد رضی اللہ عنہ کے فیصلے کے مطابق وہ قتل کئے گئے تو قتل کی سزا تو خود انہوں نے ہی منتخب کی ۔یہ سز بھی انکی کتاب کے مطابق  تھی (تفصیل کے لیے لنک)۔نیز اس قتل میں بھی عورتوں بچوں اور بوڑھوں کو مستثنیٰ قرار دیا گیا اور جہاں تک باندی والا قصہ ہے تو یہ سب بلاسند بکواس اور افتراء ہے۔

ملحد لکھتا ہے:

توریت کی تحریف و تنسیخ کی رد میں آخری دلیل یہ پیش کی جا سکتی ہے کہ قرآن کا دعویٰ کسی دوسری کتاب کے لیے حجت تسلیم نہیں کیا جا سکتا چونکہ وہ خود آسمانی کتاب ہونے کا مدعی ہے لہٰذا ایک مدعی اپنا گواہ نہیں ہوسکتا۔ کیا مسلمانوں کے پاس وہ توریت موجود ہے جس سے اس توریت کا موازنہ کیا جا سکے جس کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ وہ تحریف شدہ ہے؟

تبصرہ :

مروجہ تورات کے متعلق تو یہودی بھی اقرار کرتے ہیں کہ اس کی گواہی اتنی بھی معتبر نہیں کہ اسے کسی عدالت میں بطور شہادت پیش کیا جاسکے۔(بحوالہ مقدمہ تناخ،جیوش پبلیکیشن سوسائٹی فلاڈفلیا)تو جب یہودی ہی اس کی حیثیت کو نہیں مانتے تو قرآن کیسے مان سکتاہے؟دوسری بات یہ کہ تورات یہودیوں کو دی گئی نہ کہ مسلمانوں کو۔جب اہلیان تورات ہی تورات کی حفاظت نہ کرسکے تو مسلمانوں سے تورات کی حوالگی کا مطالبہ کرنے کٹ حجتی ،ہٹ دھرمی اور جہالت کے سواکچھ نہیں۔

دوغلا پن ملاحظہ فرمائیے

 ایک طرف ملحد قرآن سے بائبل  کے غیر محرف ہونے کو اس دلیل سے ثابت کررہا ہے کہ

 ” مجھے پورے قرآن میں کہیں بھی ایک ایسی آیت نہیں ملی جس میں یہ واضح طور پر کہا گیا ہو کہ توریت میں کوئی تحریف یا تبدیلی کی گئی ہو بلکہ اس کے برخلاف سورۃ المائدہ (آیت نمبر 44) میں توریت کی صحت پر اصرار کیا گیا ہے”

 دوسری طرف اسے  اسی قرآن کے انسانی کلام ہونے پر بھی اصرار ہے ۔۔!!

یہاں یہ سوال بھی  اٹھایا جاسکتا ہے کہ ایک ملحد  تورات کے غیر منحرف ہونے کے بن مانگے دلائل  کیوں پیش کر رہا ہے ؟؟؟؟؟

اسکی ایک  وجہ  یہ  ہے کہ ملحد کی  تحریر ایک عیسائی مستشرق   کی مہربانی کا نتیجہ ہے ، جب عیسائی مصنف نے قرآن کے خلاف پراپیگنڈے میں  اتنی مہربانی کی ہے   تو ملحد کا بھی یہ فرض بنتا ہے کہ  تھوڑی رعایت کرتے ہوئے اس نے جو اپنی کتاب بائبل  کا دفاع کیا ہوا ہے  وہ  بھی پیش کردیاجائے ۔۔  دوسری وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ  اس سے ملحدین کی صفوں میں موجود  عیسائی جو اسلام کے خلاف ملحدین کے شانہ بشانہ کام کررہے ہیں  جنکی وجہ سے کوئی  ملحد عیسائیت کے خلاف بولنے کی جرات نہیں کرتا’  وہ بھی خوش ہوجائیں گے ۔ الکفر ملۃ الواحدہ

تبصرہ : عبداللہ غازی

تفصیلی تحقیق کے لیے ملاحظہ کیجیے ۔ عہد نامہ جدید تاریخ کے آئینے میں

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *