کیاریاست کسی گروہ کو کافر قرار دے سکتی ہے؟

b

کیا ریاست کسی گروہ کو غیر مسلم قرار دے سکتی ہے ؟
میرے نزدیک اس معاملے کو دو زاویوں سے دیکھنا ضروری ہے۔
پہلا یہ کہ جس گروہ کو غیر مسلم قرار دیا گیا، کیا وہ واقعی غیر مسلم ہے یا اس رائے پر اختلاف موجود ہے ؟
دوسرا یہ کہ ایسی ضرورت کیوں محسوس ہوئی کہ کسی گروہ کو غیر مسلم قرار دینے کے لئے باقاعدہ تحریک چلائی گئی ؟ اس پس منظر کو سمجھے بغیر ریاست کے اس اقدام کی وجہ سمجھ نہیں آ سکتی۔
اب پہلے سوال کو لیتے ہیں۔ اسلام میں توحید کے بعد رسالت کا نمبر آتا ہے۔ اس کی اسلام میں مرکزی حیثیت ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ کو اللہ کا رسول ماننا اور آخری رسول ماننا بہت ضروری ہے۔ قرآن واحادیث سے اس کی انتہائی مضبوط اور ٹھوس دلائل ملتی ہیں اور وہ اس قدر کلئیر ہیں کہ صدیوں سے امت مسلمہ اس پر متفق رہی اس پر تفصیل سے لکھا جاچکا ہے کہ کس طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد جن جھوٹے نبیوں نے نبوت کا دعویٰ کیا، ان سے اسلامی ریاست نے کس طرح نمٹا،ان کو قتل کیا گیا وغیرہ ۔ ۔ اس کے بعد بھی بنو امیہ، بنو عباس اور ان کے بعد بھی جب کبھی کوئی جھوٹا نبی کھڑا ہوا، اسے باطل قرار دیا گیا اس کے ماننے والوں کو غیر مسلم سمجھا گیا۔ اس میں امت مسلمہ کے تمام مسالک اور فرقوں میں مکمل اتفاق رائے رہا ہے ۔ یہ ایک لحاظ سے امت کی غیر متنازع رائے ہے ۔
قادیانیوں نے مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کو اپنا نبی قرار دیا ، ایک خاص منطق سے انہوں نے یہ عجیب وغریب دلیل نکالی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس لحاظ سے خاتم النبین ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی باہر سے دوسرا نبی نہیں آئے گا، مگر مرزا صاحب ظل نبی ہیں، مثل نبی ہیں وغیرہ وغیرہ۔ قادیانی حضرات کی اس منطق کو علما کرام نے مکمل طور پر مسترد کر دیا۔علما کی تحریک پر عام آدمی بھی اس حوالے سے یکسو ہوگیا۔ پاکستان کے تمام مسالک شیعہ ، سنی، بریلوی، دیوبندی، اہل حدیث وغیرہ سب اس حوالے سے مکمل طور پر متفق اور یکسو تھے اور ہیں کہ قادیانی کافر یا غیر مسلم ہیں ۔
اب آتے ہیں دوسرے مسئلے کی جانب، قادیانیوں کے غیر مسلم ہونے پر عوامی سطح پر کبھی کوئی شک یا اختلاف نہیں تھا۔ ہر کوئی انہیں کافر یا غیر مسلم سمجھتا تھا، مگر قادیانی حضرات کی تکنیک یہ تھی کہ وہ دوسروں سے انٹرایکشن میں شروع میں خود کو قادیانی کہنے سے گریز کرتے اور وہ باتیں کرتے جن پر عام مسلمان یقین رکھتا ہے ۔ جب اپنے تقویٰ ، اخلاق کا سکہ جما لیتے پھر، مختلف حیلے بہانے، منطق فتنہ انگیز کا سہارا لیتے ہوئے انہیں قادیانیت کی جانب مائل کرتے اوررفتہ رفتہ قادیانی بنا لیتے ۔ جب یہ پریکٹس بہت زیادہ ہونے لگی، ہر جگہ سے اس قسم کی شکایات پیدا ہوئیں تو علما کرام اور دینی حلقے اس پر مضطرب ہوئے ۔ یہ رائے مستحکم ہوئی کہ ریاستی سطح پر انہیں غیر مسلم قرار دلوایا جائے اور ان پر اپنے آپ کو مسلمان کہنے سے روکا جائے، انہیں اس دھوکہ دہی ، چالاکی سے روکا جائے ۔ یوں یہ تحریک چلائی گئی کہ آئین میں ترمیم کر کے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا جائے ۔
اس حوالے سے یہ اہم نکتہ ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ پاکستان میں کئی گروہ ایسے ہیں جن کے عقائد معروف عقائد سے مختلف ہیں اور انہیں غیر مسلم کہا جا سکتا ہے، مگر چونکہ وہ اپنے آپ کو عام مسلمانوں سے الگ رکھتے ہیں، خاموشی سے اپنے عقائد کے مطابق زندگی گزار رہے ہیں، کبھی خود کو مسلمان قرار دے کر اور حیلہ کے ذریعے عام مسلمان کو گمراہ کرنے کی کوششیں نہیں کر رہے تو کسی بھی دینی یا قومی جماعت نے انہیں غیر مسلم قرار دینے کے لئے آئینی ترمیم کا مطالبہ نہیں کیا۔ مثال کے طور پر بلوچستان کے بعض علاقوں تربت وغیرہ میں ذکری ہیں۔ وہ خود کو الگ تھلگ رکھے ہوئے ہیں تو کوئی ان کو آئوٹ آٖف دا وے جا کر تنگ نہیں کر رہا۔ اسی طرح بہائی ہیں، جنہیں ایرانی شیعہ بھی غیر مسلم سمجھتے ہیں، پاکستان میں وہ رہ رہے ہیں، کسی نے انہیں تنگ کیا نہ ہی ان کے لئے آئینی ترمیم کا مطالبہ کیا۔ اسی طرح بوہری، اسماعیلیوں وغیرہ کے حوالے سے کچھ لوگوں کے تحفظات موجود ہیں، اثنا عشریہ شیعہ بھی ان کے لئے تحفظات رکھتے ہیں، مگر کبھی کسی نے اسے تحریک کا نام نہیں دیا، کیونکہ یہ سب گروہ نہایت پرامن طریقے سے رہتے اور عام مسلمان آبادی کے ایمان وعقائد کے لئے خطرہ نہیں بنتے۔ قادیانیوں کے لئے یہ مطالبہ اس لئے کیا گیا کہ وہ دوسری اقلیتیوں کی طرح اپنے انداز میں اپنی عبادت کرنے اور زندگی گزارنے کے بجائے منافقت ، جھوٹ اور حیلہ کا پردہ اوڑھ کر (اپنے کفر کو اسلام کہہ کر )گمراہی پھیلا رہے تھے ۔ حالانکہ دنیا بھر میں ہر اقلیت الگ رہنے کو پسند کرتی ہے، اس کا مطالبہ صرف یہی ہوتا ہے کہ ان کے عقائد میں ریاست مداخلت نہ کرے اور انہیں اپنی پسند سے عبادات وغیرہ کرنے دے۔ یہ مطالبہ معقول ہے۔ قادیانی حضرات مگرسماج کے لئے خطرہ بن چکے تھے اور نقص امن کا ایشو بھی کھڑا ہوگیا تھا کہ قادیانی حضرات کی تبلیغ کے نتیجے میں اشتعال پیدا ہو رہا تھا ، مختلف جگہوں پر عوامی تصادم کے واقعات رپورٹ ہو رہے تھے اور ایک مستقل ٹینشن سماج کے لئے پیدا ہوچکی تھی۔
تیسرا سوال یہ ہے کہ ایسی صورت میں کیا کیا جاتا؟
اس کے دو جوابات ہیں۔ ایک تو یہ کہ معاملے کو جوں کا توں رکھا جاتا، دینی گروہوں، علما ، دینی جماعتوں کو اپنے طور پر یہ معاملہ سیٹل کرنے دیا جاتا۔ ایسی صورت میں روز مارکٹٓائی ، قتل وغارت کے واقعات ہوتے ، لوگ قانون اپنے ہاتھ میں لیتے اور جبراً اس گروہ کو روکنے کی کوشش کرتے جو ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرتا اور مسلمانوں میں نقب لگا کر لوگوں کومال دولت اور دوسری ’’ترغیبات‘‘ کی مدد سے ورغلاتا، سب سے بڑھ کر خود کو مسلمان ظاہر کر کے اندر گھس کرکم پڑھے لکھے، سادہ لوح دیہاتی اور شہری لوگوں کو گمراہ کررہا ہے ۔
دوسری آپشن یہ تھی کہ ریاست اس معاملے کو اپنے ہاتھ میں لے اور علما کرام سے رائے لے کر، اور تفصیلی بحث کے لئے معاملہ پارلیمنٹ میں لے جائے ، وہاں کسی خوف ،جبر کے بغیر کئی دنوں تک کارروائی چلے، اس گروہ کی قیادت کو تفصیل بلکہ نہایت تفصیل کے ساتھ اپنا موقف بیان کرنے کا موقعہ ملے۔ انہیں یہ حق حاصل ہو کہ وہ اپنی لفاظی ، دلائل سے اراکین پارلیمنٹ پر اثر انداز ہو سکٰیں اور پھر مشاورت کے ساتھ عوام کے منتخب فورم کی حیثیت سے ریاستی نظم ونسق برقرار رکھنے کے لئے کوئی ایک فیصلہ سنایا جائے۔
بھٹو صاحب ایک ذہین شخص تھے، لبرل ،سیکولر ویلیوز پر وہ عمل پیرا رہتے ،مگر عوام کی نبض پر ان کی انگلیاں تھیں۔ کہا جاتا ہے کہ شروع میں بھٹو صاحب کا خیال تھا کہ اس معاملے کو پارلیمنٹ میں لایا جائے ، وہاں قادیانی قیادت ان مولویوں کو لاجواب کر دے گی اور یوں یہ معاملہ ازخود دم توڑ دے گی۔ قادیانی لیڈر مرزا ناصرالدین اور ان کے ہم نوائوں کا یہی دعویٰ تھا کہ جہاں کہیں ہمیں بات کرنے کا موقعہ ملے گا، ہم مولویوں کے چراغ گل کر دیں گے۔ پھر پارلیمنٹ میں معاملہ گیا ، گیارہ روز کی کارروائی کے بعد ہی پارلیمنٹ نے اتفاق رائے کے ساتھ آئینی ترمیم منظور کی۔ کہا جاتا ہے کہ بھٹو صاحب قادیانیوں کی عام مسلمانوں کے بارے میں رائے سن کر ہکا بکا رہ گئے، جب مرزا ناصر الدین نے بتایا کہ جو کوئ مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی نہیں مانے گا، وہ کافر، اس کی اولاد کافر، میاں بیوی کے نکاح حرام ، اولاد حرامی وغیرہ۔ یہ سن کر بھٹو صاحب کے کان سرخ ہوگئے۔ انہیں سمجھ آگئی کہ قادیانیوں کا عام مسلمانوں سے کوئی سمبندھ اور رشتہ نہیں۔ اس وقت یہ سوال اٹھا کہ صرف مرزا کو نبی ماننے والوں کو غیر مسلم قرار دیا جائے یا لاہوری گروپ جو مرزا کو مجتہد اور مسیح موعود مانتا ہے، انہیں بھی غیر مسلم قرار دیا جائے، پھر یہی فیصلہ ہوا کہ سب کے ساتھ ایک سا سلوک کیا جائے ۔
میرے خیال میں تو معاملہ بہت آسان اور سادہ ہے۔ اقبال نے کہا تھا کہ پارلیمنٹ کو اجتہاد کا حق حاصل ہے ، وہ اس حق کو علما کی رائے کے مطابق استعمال کرے۔ قادیانیوں والے معاملے میں یہی کیا گیا۔ منطقی طور پر نہایت درست اور صائب فیصلہ ۔
جب یہ فیصلہ ہونا تھا تو قادیانی اور ان کے ہم نوا بعض حضرات نے یہ دلیل استعمال کی کہ آج قادیانیوں کو غیر مسلم کہا جا رہا ہے، کل کو شیعہ حضرات کے ساتھ ایسا ہوگا، بعد میں بریلویوں کا نمبر آئے گا۔ الحمداللہ اس وقت شیعہ اور بریلوی علما اس پروپیگنڈے میں نہ آئے اور اتحاد برقرار رکھا۔ آج چالیس سال ہوچکے ہیں اس ترمیم کو۔ ایک بھی بڑی دینی جماعت یا قومی سیاسی جماعت نے یہ مطالبہ نہیں کیا کہ شیعہ کو کافر کہا جائے یا بریلوی کو یا کسی اور کو۔ اس طرح سے یہ سوال خود اپنی موت مر گیا۔ یہ دلیل اگر تھی تو اپنے ہی ہاتھ سے اس نے خود کشی کر لی۔ وقت نے اسے باطل قرار دے دیا۔

تحریر محمد عامر ہاشم خاکوانی

فیس بک تبصرے

کیاریاست کسی گروہ کو کافر قرار دے سکتی ہے؟“ ایک تبصرہ

  1. پاکستان کے تمام مسالک شیعہ ، سنی، بریلوی، دیوبندی، اہل حدیث وغیرہ سب اس حوالے سے مکمل طور پر متفق اور یکسو تھے اور ہیں کہ قادیانی کافر یا غیر مسلم ہیں ۔
    درست
    لیکن
    جنہیں ایرانی شیعہ بھی غیر مسلم سمجھتے ہیں، پاکستان میں وہ رہ رہے ہیں، کسی نے انہیں تنگ کیا نہ ہی ان کے لئے آئینی ترمیم کا مطالبہ کیا۔ اسی طرح بوہری، اسماعیلیوں وغیرہ کے حوالے سے کچھ لوگوں کے تحفظات موجود ہیں، اثنا عشریہ شیعہ بھی ان کے لئے تحفظات رکھتے ہیں، مگر کبھی کسی نے اسے تحریک کا نام نہیں دیا، کیونکہ یہ سب گروہ نہایت پرامن طریقے سے رہتے اور عام مسلمان آبادی کے ایمان وعقائد کے لئے خطرہ نہیں بنتے۔
    جواب ضرور تحریر کرنا
    کیا شیعه مسلمان نهین الله اور رسول کو قبول هین؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *