مستشرقین دیانت داری سے کام کیوں نہیں لے سکتے ؟!

12366392_1707307552839203_2517155709069654542_n

گزشتہ تحریر میں مذکور مستشرقین کا انداز بارہویں صدی عیسوی میں اختیار کیا گیا اور بعد کے مصنفین اسی راستہ پر چلتے رہے۔لیکن اب حالات کافی حد تک بدل چکے ہیں۔ اِسلام اب ایک سیاسی خطرہ نہیں رہا، آج اسلامی فتوحات کا سیلاب ہے نہ یورپ کی سرحدوں پر مسلمانوں کی یورش۔ اہلِ یورپ نے اپنے تمام علاقے مسلمانوں سے واپس لے لیے ہیں۔ بین الاقوامی تجارت پر نہ عرب قابض ہیں نہ مسلمان، بلکہ یورپ کی اقوام کا تسلط ہے۔ اس دوران اہلِ یورپ بہت سے انقلابات اور تحریکوں سے دوچار ہوچکے ہیں مثلاً نشاۃ ثانیہ (Renaissance) ،اصلاح ِ مذہب ( Reformation) اور روشن خیالی کی تحریک (Enlightenment)۔ فرانس کا انقلاب ، صنعتی انقلاب اور سائنسی انقلاب۔ ان تحریکوں اور انقلابات نے فکرونظر کی نئی راہیں کھول دی ہیں۔ تحقیق و تنقید کی دنیا میں ایک انقلاب برپا ہوچکا ہے ۔ اس کے علاوہ عیسائیت کی بنیادیں ہل چکی ہیں۔ اب عام طور پر تعلیم یافتہ یورپین عیسائیت کے بنیادی اصولوں کو بھی شک کی نظروں سے دیکھتے ہیں اور انھیں عیسائیت سے بھی وہ لگاؤ نہیں رہا جو قرونِ وسطٰی میں تھا۔
ظاہر ہے ان تحریکوں اور انقلابات کا کچھ نہ کچھ اثر مستشرقین پر بھی ہوا ہے، ان کا اندازِ بیان اور معیارِ تنقید بھی بدلا ہے۔ نئے موضوعات سامنے آئے ہیں اس کےعلاوہ چونکہ عیسائیت سے وہ والہانہ عقیدت انکی عوام کو بھی نہیں رہی ،یہی وجہ ہے کہ عصر ِ حاضر کے بیشتر مستشرقین آں حضرت ﷺ کی شانِ اقدس میں وہ لچر اوربیہودہ باتیں کم از کم کھل کر نہیں کہتے جو قرونِ وسطیٰ کے عیسائی علماء بے دھڑک لکھا کرتے تھے۔
لیکن کیا مستشرقین کا نقطہ ء نظر بھی بدل گیاہے؟
ان کے مقاصد بھی بدل گئے ہیں،کیااب یہ حق گوئی اور دیانت سے کام لینےلگے ہیں؟
اگر آپ کایہ خیال ہے تو آپ کومایوسی ہوگی ، کیونکہ عصر حاضر کے مغربی سیرت نگاروں نےالفاظ بدلے ہیں،واقعات پیش کرنے کاانداز ضرور بدل دیا ہے مگر بنیادی اعتبار سے مقصد وہی ہے جوایک ہزار سال پہلے تھا۔ (نارمن ڈینیل کی رائے بھی یہی ہے۔ ملاحظہ فرمائیں “اسلام اور مغرب” 257،279،287،294،300۔)
یعنی بات وہی کہتے ہیں جو ان کے پیشرو کہاکرتے تھے، مگر الفاظ بدل گئے ہیں اور کہنے کا انداز مختلف ہے۔ ملاحظہ فرمائیے ان کے طرز ِ نگارش کی جھلک:
یہ ماہر مستشرقین (جن میں میور،مارگولیث، اور واٹ جیسے سب شامل ہیں) اپنے تمہیدی کلام میں چند باتیں واضح طور پر کہہ دیتے ہیں مثلاً نہایت سادگی سے لکھتے ہیں:۔
یورپ میں اب تک حضرت محمد ﷺ اور اسلام پر جتنی کتابیں لکھی گئی ہیں وہ اس اعتبار سے ناقص تھیں کہ زیادہ تر غیرمستند واقعات پر مشتمل تھیں، کچھ تعصب سے بھی کام لیا گیا اور واقعات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ نہیں لیا گیا۔ اس کے بعد یقین دلاتے ہیں کہ ہم غیر جانبداری سے کام لیتے ہوئے مستند واقعات ہی بیان کریں گے اور اسباب وعلل کا تجزیہ بھی معقول انداز میں کریں گے۔
اس طرح قارئین پر یہ تاثر قائم ہو جاتا ہے کہ ان کی کتابوں میں کم از کم وہ بیہودہ باتیں نہیں ہوں گی جو قرون ِ وسطیٰ کے عیسائی یا یہودی لکھتے تھے۔ اس کے بعد یہ فن کار سیرت نگار حضرت محمدﷺ کی بعثت کے وقت عرب کی سیاسی ،معاشی ،معاشرتی اور مذہبی حالت بیان کرتے ہیں، روایات کی چھان بین کرتے ہیں اور کچھ اس طرح نقشہ کھینچتے ہیں کہ گویا سرزمین ِ عرب ایک مذہبی رہ نما کی ضرورت محسوس کر رہی تھی۔ یہ بات ذہن میں بٹھا کر آہستہ آہستہ کھلتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ آں حضرت ﷺ نے عربوں کے مشرکانہ عقاید، جاہلانہ رسوم، یہودیوں کے عقاید اور عیسائیوں کے کچھ اصولوں کے امتزاج سے ایک نئے مذہب کی تشکیل کی اور اسے اسلام کا نام دے دیا۔ حالات نے مجبور کردیا کہ آپ نبوت کا دعوٰی کریں چنانچہ آپ نے یہ دعوٰی کردیا۔ حالات کے دباؤ اور مختلف اثرات سے اپ پر ایک خاص قسم کی کیفیت طاری ہوئی اور اس کیفیت میں جو کچھ آپ نے کہا اسے قرآن کا نام دے دیا گیا۔ انہی تاثرات کو آپ نے خدا کی طرف سے وحی سمجھ لیا۔ اس پر خاص طورسے زور دیاجاتا ہےکہ قرآن میں بیشتر باتیں وہی ہیں جو آپ نے یہودیوں اور عیسائیوں سے وقتاً فوقتاً سنی تھیں۔ عرب کا قبائلی اور معاشی نظام کچھ اس نوعیت کا تھا کہ وہ آپ کے پیش کردہ اصولوں کو تسلیم نہیں کررہے تھے۔ بالآخر مدینہ کے حالات سازگار دیکھ کر آں حضرت ﷺ وہاں چلے گئے۔ معاشی دباؤ بڑھا تو قریش کے تجارتی قافلوں پر حملے کیے، مال ِ غنیمت ہاتھ آیایہودیوں کو زمینوں سے بے دخل کیا، اُن کےایک قبیلہ کا قتل ِعام کیا جو اسلام کی پیشانی پر بدنماداغ ہے۔ آپ کی دنیوی سوجھ بوجھ کی تعریف کرنے کے بعد کہہ دیتے ہیں کہ آپ کی ازدواجی زندگی یورپ کے معیار سے دیکھی جائے تو قابلِ اعتراض ہے ورنہ عربوں اور مشرقی لوگوں کے نقطہء نظر سے کچھ زیادہ قابلِ اعتراض نہیں۔ پھر جہاد ،جزیہ ،تعداد ازواج ،طلاق،غلامی ،تقدیر اور اسلام کے دوسرے اصولوں پرنکتہ چینی کرتے ہیں اور اس انداز سے گویا مسلمانوں کی ہمدردی میں ایسا کررہے ہیں۔
یہ وہی تمام باتیں ہیں جو ہزار سال پہلے کے متعصب عیسائی اور یہودی کہتے تھے۔ وہ “جھوٹا نبی” کہتے تھے ایسے الفاظ تو جدید مستشرقین استعمال نہیں کرتے مگر اتنا تو صاف طور پر کہہ دیتے ہیں کہ آپ کو ایسا معلوم ہوا کہ آپ نبی ہیں،یعنی یہ کہ واقعی نبی نہیں تھے۔ نتیجہ ایک ہی نکلا کہ آپ کا نبوت کا دعوٰی صحیح نہیں۔ اس طرح گھما پھرا کر الفاظ کے پھیلاؤ،الجھاؤ اور عبارتوں کی ساحری سے وہی سب کچھ کہہ جاتے ہیں جو ان سے پہلے یہودی اور عیسائی متعصب اہلِ قلم کہا کرتے تھے، فرق صرف اتنا ہے کہ انتہائی کڑوی اور تلخ عبارتوں پر “جدید نظریات” ،”تحقیق و تنقید” کی قابلِ قبول اور پُرفریب تہیں چڑھا دیتے ہیں تاکہ پہلی ہی نظر میں مسلمان بھڑک نہ جائیں۔
چنانچہ یہ روش اختیار کی گئی کہ نبی کریمﷺکی بعض خوبیوں کا اعتراف کیا جائے اور ساتھ اس اعتراف کو غیر مؤثر بنانے کے لیے کچھ ایسی غیر حقیقی توجیہ بھی کردی جائے جو پڑھنے والوں پر فضیلتِ محمدی ﷺعَیاں نہ ہونے دے ، مثال کے طور پر آر ،اے ،نکلسنReynold Alleyne Nicholson (١٨٦٨ء -١٩٤٥ئ) نے پامر Edward Henry Palmer (١٨٤٠ئ-١٨٨٢ئ)کے ترجمہ قرآن پر جو دیباچہ لکھا ہے اس میں جناب رسولِ کریم ﷺکے خلوص کو تسلیم کیا ہے ، تاہم یہ کہنے سے بھی بازنہ رہ سکا :
” جب حالات کے جبر کے تحت پیغمبر ﷺ) ایک حکمراں اور قانون ساز میں ڈھل گئے ، تو بھی یہ ایک نفسیاتی ضرورت تھی کہ وہ خود کو الہامی پیغامات کا منتخب ذریعہ سمجھتے رہیں ۔ ” (بحوالہ اسلام ، پیغمبر اسلام اور مستشرقینِ مغرب کا اندازِ فکر : ١٦٤)

لندن یو نیورسٹی کے مشہور پرو فیسر علامہ ڈینس سورا اپنی کتاب “تاریخ الادیان” میں قرآن مجید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے متعلق بے سروپا اعتراضات اور اپنے ماقبل کے مستشرقین کی پھیلائی ہو ئی جھوٹی باتوں کی پوری قوت کے ساتھ تر دید کر تے ہیں یہ کتاب 1933ء میں لندن سے شائع ہو ئی ہے وہ اپنے بیان میں اس قدر غیر متعصب اور بے لاگ مصنف نظر آتے ہیں کہ کسی کو ان کی نیت پر شُبہ کرنے کی گنجائش نظر نہیں آتی بلکہ وہ اچھے خاصے عقیدت مند کی طرح بیان کرتے ہیں کہ
“مذاہب کے عظیم بانیوں میں سے شاید محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک ہی شخص ہیں جن کی شخصیت سے تاریخی حیثیت سے بالکل واضح ہے اور خرافات نے ان کی شخصیت پر کوئی پردہ خفا نہیں ڈالا ہے۔”
اور اس کے بعد عقیدت مند انہ انداز میں وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کارناموں کی تعریف کرتے ہیں بلکہ خراج عقیدت پیش کرتے ہیں لیکن اس کے بعد یہ بھی کہتے ہیں کہ
“بلا شبہ عرب کے لوگ جنوں اور روحوں کی پو جا کرتے تھے اور روحوں کے حجری مجسموں میں جا گزیں ہونے کے قائل تھے۔ ان کے علاوہ قبیلہ قبیلہ کے الگ الگ بت بھی ہو تے تھے۔ اسلام نے ان سب بتوں کو نیست نابود کر دیا۔ صرف ایک حجر اسود کو باقی رکھا شاید اس لیے کہ اس سے حضرت ابراہیم خلیل اللہ کا احترام مقصود تھا یا شاید یہ ایک سیاسی عمل تھا جس کے ذریعہ عربوں کے باہمی اتفاق کو باقی رکھنا مقصود رہا ہو۔ (ص 221 المشرقون و الاسلام مصنفہ زکریا ہاشم زکریا۔ طبع القاہرہ 1965 ء)
آپ نے دیکھا کہ فاضل پروفیسر نے کس معصومیت کے ساتھ یہ یقین دلانے کی سعی فرمائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیاسی مصلحت کی بناء پر ایک بت کو باقی رکھا اور اس حد تک بت پرستی کو اسلام میں جائز قرار دیا۔ حالانکہ زمانہ جاہلیت میں بھی جبکہ سینکڑوں بت تھے کبھی حجر اسود کو بتوں کے زمرہ میں نہیں شمار کیا گیا اور نہ کبھی اس کی پوجا کی گئی۔ حجر اسود کا ذکر ہی کیا۔ اٹھارہویں صدی تک یورپ کے مستشرق اور محققین یہ لکھتے رہے اور مشہور کرتے رہے کہ مسلمان جو حج کو جاتے ہیں وہ اس لیے جاتے ہیں کہ خانہ کعبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا ایک بُرنجی بت بنوا کر رکھ دیا ہے۔ مسلمان اس بت کو سجدہ کرنے کے لیے جاتے ہیں۔ اٹھارہویں صدی کے آواخر اور انیسویں صدی کے اوائل میں خود علمائے یورپ نے اس کی تردید کی اور ایک بار نہیں بار بار مختلف ممالک کے علماء نے اس کی تر دید کی۔ تب یہ خیال لوگوں کے دلوں سے محو ہو سکا یا شاید اب بھی دور افتادہ دیہاتیوں میں یہ خیال موجود ہو۔

اگر آپ گہرائی کے ساتھ مطالعہ کریں تو آپ اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ نویں ،دسویں صدی عیسوی سے انیسویں صدی کے اختتام تک جتنی بیہودہ اور رکیک باتیں آں حضرتﷺ کے بارے میں یورپین مصنیفین نے کہی تھیں اُن سب کوبیسویں صدی کے مشہور مستشرقین مارگولیث (Margoliouth) نے بلا جھجک انہی بیہودہ الفاظ کےساتھ دہرادیا۔ مارگولیث کی کتاب Mohammed and the Rise of Islam ، جو کہ 1905ء؁ میں شائع ہوئی تھی۔ اس میں درج بیہودہ باتوں کو نقل کرنا ضروری نہیں ،اور نہ صفحات کا حوالہ،کیونکہ پوری کتاب ہی واہیات باتوں سے لبریز ہے۔ یہی حال اس کے ہم نواؤں کا ہے۔

دوسرا طبقہ ذرا محتاط مستشرقین کا ہے جس میں مونٹگمری واٹ (Montgomery Watt) کو شامل کیا جاسکتا ہے۔ واٹ نے سیرت پر کئی کتابیں لکھی ہیں۔ ان میں Muhammed at Mecca, Muhammed at Madina زیادہ مشہور ہیں
اس نے الفاظ اور طرزِ استدلال بدل کر اس طرح عبارت آرائی کی ہے ،اور واقعات و الفاظ کو توڑ مروڑ کر اس طرح عجیب و غریب معنی پہنائے ہیں کہ نتائج وہی نکلتے چلے جاتے ہیں جو میور اور مارگولیث اور اس کے پیشروؤں کے تھے۔البتہ جملوں وہ تلخی محسوس نہیں ہوتی جو قرونِ وسطیٰ کے مستشرقین کے جملوں میں ہوتی تھی۔ یہی ان کی فن کاری اور بازیگری ہے۔

اس طرح ارنلڈ جے ٹوائن بی(A.J.Toynbee 1889-1975) عہد جدید کا نامور مورخ ہے جس نے مذاہب کا گہرا مطالعہ کیا تھا۔ اور اپنی عظیم الشان تصنیف مطالعہ تاریخ میں اسلام کے بارے میں عمومی طور پر معقول رویے کا اظہار کیا ہے۔ ٹوائن بی کے بارے میں جو ایک مثبت رائے قائم ہوئی تھی کہ اس نے اپنی عالمانہ تحقیق کے نمونے اپنی کتابوں میں پیش کیے ہیں اوراس کی شخصیت عالمی حوالہ جات کا منبع و ماخذ قرار پائی تھی۔ لیکن وہ بھی آپ ﷺ کا موازنہ جنگجو سیزر سے کرگیا ، اگر تعصب سے پرے اس نے دونوں شخصیتوں کا علمی و تحقیقی اور عقلی و استدلالی مطالعہ کیا ہوتا تو اسے نبی کریمﷺ کے بارے میں ایسی رائے دینے سے پہلے ہزار بار سوچنا پڑتا اس کا یہ طرز عمل نبیﷺ کی شان میں بدترین گستاخی اور تذلیل و تحقیر ہے۔
منصوبہ بند طریقے سے جو اعتراضات سیرتِ نبویﷺ پرکیے گئے،اسے چند لوگوں کی کوشش بھی نہیں کہی جا سکتی،بلکہ ایسے لوگوں کی بڑی تعداد ہے۔خاص طور پراٹھارھویں اور انیسویں صدی عیسوی میں ان بھدے اور دل شکن اعتراضات کو جلی سرخیوں کے ساتھ دہرایاگیا ۔ جوزف وہائٹ، ہمفرے پریڈو، ریسکی،ریلانڈ، ریسکی ،ایڈ منڈ ڈوٹے،سینٹ ہلری،دی انکونا،سائمن اوکلے، ایڈورڈ گبن،جارج سیل، گوئٹے ، تھامس کارلائل،دیون پوٹ، باس ورتھ اسمتھ، اسٹینلے لین پول، رینان،واشنگٹن ارونگ،ایچ جی ویلز،کائتانی، بکر،گرم، ولہاوزن، جان کریمر، نولدیکی، اسپرنگر، دوزی، گولڈ زیہر،وبر،ڈیوڈ مارگو لیتھ،ہنری لیمن،ولیم میور وغیرہ نے کم وبیش سیرتِ رسولﷺ کو موضوع بحث بنایا۔ ان میں بہت سے لوگوں نے سیرتِ رسولﷺ پر گفتگو کرتے ہوئے دانستہ یا غیر دانستہ ٹھوکریں کھائی ہیں اورکہیں نہ کہیں اپنے خبث باطن کا ضرور اظہار کیا ہے۔ ’’ان کے اعتراضات میں شاطرانہ مہارت پائی جاتی ہے جسے رد کرنا عام انسان کے لیے آسان نہیں۔یہ اعتراضات عیسائی دنیا کے لیے دل خوش کن،عالم اسلام کے لیے کرب انگیز اور غیرجانب دار لوگوں کے لیے گم راہ کن ہیں‘‘۔
آج انکے ہاں ناصرف پرانے الزامات کو نئے روپ میں اور اسی قدیم نظریے کو نئے الفاظ کے کے قالب میں ڈھالاجاتا ہے بلکہ ان الزامات کی اشاعت کے لیے فلموں ، ڈراموں اور کارٹونوں کا بھی سہارا لیاجاتا ہے۔ ڈاکٹر عبدالقادر جیلانی لکھتے ہیں:
’’کائنات کی کوئی اور شخصیت اس قدر موضوع گفتگو نہیں بنی، جس قدر کہ سرور کائناتﷺ کی ہمہ جہت شخصیت۔عالم اسلام میں قلم ان کے عشق ومستی میں سرشار تو عالم عیسائیت کا قلم بُغض وعناد میں ڈوبا ہوا۔ابو جہل وابو لہب نے اگر انھیں شاعرو ساحر ومجنون ومفتون قراردیا تو صادق و امین وحلیم وکریم بھی تسلیم کرتے تھے۔لیکن مغرب کی نظر یں عرب جاہلیہ کے تعادل سے بھی عاری تھیں۔انھیں سواے قبح کے کوئی حسن نظر نہیں آتا۔اپنی کورچشمی کو وہ ان کی شخصیت کا عکس سمجھے، اپنی ذہنی قبح کو الفاظ میں ڈھالااور اسے سیرت نگاری تصور کرتے رہے‘‘۔
(اسلام ، پیغمبرﷺ اسلام اور مستشرقین مغرب کا انداز فکر ،ص ۱۹۱۔۱۹۲)
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں: ’’یہ بد طینت لوگ علم کے نام سے جو تحقیقات کرتے ہیں ،اس میں پہلے اپنی جگہ طے کرلیتے ہیں کہ قرآن کو بہرحال منزل من اللہ تو نہیں ماننا ہے۔ اب کہیں نہ کہیں سے اس امر کا ثبوت بہم پہنچانا ضروری ہے کہ جو کچھ محمد ﷺ نے اس میں پیش کیا ہے یہ فلاں فلاں مقامات سے چرائے ہوئے مضامین اور معلومات ہیں۔اس طرز تحقیق میں یہ لوگ اس قدر بے شرمی کے ساتھ کھینچ تان کر زمین اور آسمان کے قلابے ملاتے ہیں کہ بے اختیار گھن آنے لگتی ہے اور آدمی کو مجبوراً کہنا پڑتا ہے کہ اگر اسی کا نام علمی تحقیق ہے تو لعنت ہے اس علم پر‘‘۔(سید ابوالاعلیٰ مودودی، سیرت سرور عالمﷺ، دہلی، ج ۱،ص ۴۲۳)

مستشرقین اور دیانت داری :

مستشرقین دیانت داری سے کام کیوں نہیں لے سکتے
سوال یہ پیدا ہوتا ہےکہ اب تو دنیا کے حالات اتنے بدل چکے ہیں ،اسلام کا سیاسی اور معاشی دباؤ بھی ختم ہوچکا،اب مستشرقین کو اسلام سے عداوت کیوں ہے،کیوں اس کی تاریخ کو مسخ کرنے سے باز نہیں آتے ،آخر آں حضرت ﷺ پر بے بنیاد الزامات لگانے حقائق کو دبانے کی روش ترک کیوں نہیں کرتے؟ کیا واقعی یہ اسلام کی صداقت کے بارے میں شبہات میں مبتلا ہیں؟
یہ بات نہیں ۔ ہم پورے وثوق کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ یہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ حضرت محمدﷺ سچے رسول ہیں ،لیکن اس حقیقت کے اعتراف کے سوا اور ساری باتیں نہایت پُرفریب انداز میں تو کہتے ہیں،لیکن سچائی جو روزِروشن کی طرح عیاں ہے نہیں کہتے۔قرآن کہتا ہے :”اور حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے (یعنی اہلِ کتاب کے علماء) اُن پر حقیقت حال پوشیدہ نہیں ہے۔ وہ پیغمبر ِاسلام کو ویسے ہی پہچان گئے ہیں جس طرح اپنی اولاد کو جانتے ہیں”۔ پہلے ایک الزام لگاتے ہیں اور جب وہ کسی طرح چسپاں نہیں ہوتا تو منکرین مکہ کی طرح دوسرا الزام لگاتے ہیں نکتہ چینی اور جملے انداز بدل بدل کر کرتے ہیں اور جب ناکام ہوجاتے ہیں تو پھر محاذ بدل دیتے ہیں۔ آخر اب اس اِسلام دشمنی کی تہہ میں کون سے عوامل اور محرکات کارفرما ہیں؟
دراصل معاملہ کی نوعیت ہی کچھ ایسی ہے کہ مستشرقین دیانت داری سے کام لے نہیں سکتے،کیوں کہ:-
ہم پورے یقین کےساتھ کہہ سکتے ہیں کہ مستشرقین (یادوسرے غیرمسلم) سیرت اور اِسلام پر اعتراضات کےساتھ ان کےجوابات نقل نہیں کرسکتے اور اسلام کی صحیح تصویر پیش کر ہی نہیں سکتے کیونکہ یہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس طرح اسلام کی صداقت آفتاب سے زیادہ روشن ہوجائے گی،ان سے کوئی جواب نہ دیا جاسکے گا،اس کا اثر یہ ہوگا کہ ان کے مخاطبین(وہ چاہے یہودی ہوں یا عیسائی،اشتراکی ہوں یا دہریے) اسلام کی صداقت کے قائل ہوجائیں گے، یہ اور بات ہے کہ زبان سے اقرار نہ کریں۔ ہم یہ بات کسی خوش فہمی کی بناء پر نہیں کہہ رہے بلکہ یہ ایک ناقابل ِ انکار تاریخی حقیقت ہے۔ غور فرمائیے:
ابتدا ء میں مشرکین مکہ اور دوسرے لوگوں نے اسلام قبول نہیں کیا۔ اسلام کے اصولوں پر جی کھول کر نکتہ چینی کی،حضرت محمد صﷺ پر ہر ممکن اعتراض کیا، توحید و رسالت کےبارے میں سو طرح کے شبہات نکالے ،مخالفت میں کوئی کسر نہ اُٹھارکھی،سب کچھ کہتے رہے مگر آں حضرت ﷺ کی رسالت کو مان کر نہ دیا۔ تئیس سال کی مدت میں کوئی کسوٹی ایسی نہیں تھی جس پر حضرت محمد ﷺ کے دعوے کو پرکھ نہ دیکھ لیا ہو،لیکن بالآخر کیا ہوا، عرب کا کوئی فرد ایسا نہیں بچا جس نے آپ کی رسالت کوتسلیم نہ کرلیا ہو،کوئی آنکھ ایسی نہیں بچی جس نے سچائی کو دیکھ کر مان نہ لیا ہو۔
اتنا وقت کیوں لگا؟ اس لیے کہ وہ سچائی کو دیکھنا نہیں چاہتے تھے،سچائی کو مٹا نہیں سکتے تھے،وہ سچائی جو آفتاب سے زیادہ روشن نظر آرہی تھی،اس کا اُن کے پاس ایک ہی علاج تھا،وہ یہ کہ اپنی آنکھیں بند کرلیں ،اپنے کان بند کرلیں تاکہ سچائی اُن کے کانوں کے ذریعے دل میں نہ اُترسکے،اور اتنا شور مچائیں کہ قرآن کےالفاظ اُن کے کانوں میں نہ پڑسکیں۔جب تک مخالفین اس روش پر قائم رہے سچائی کو جھٹلاتے رہے لیکن جیسے ہی انھوں نے آنکھیں کھولیں، قرآن سنا،پردے اُٹھ گئے،بےلاگ حقیقت ان کے قلوب میں اُتر گئی اور بے ساختہ پکار اٹھے کہ اللہ ہی ہمارا رب ہے اور حضرت محمدﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں۔
ٹھیک یہی معاملہ مستشرقین کا ہے۔ یہ بھی سچائی کو دیکھنا نہیں چاہتے،اس کی طرف سے آنکھیں بند کرلیتے ہیں، دوسرے کو بھی اس سے محروم رکھتے ہیں،قرآن کے الفاظ مخاطبین تک پہنچنے ہی نہیں دیتے ،اور معاشی عوامل،سیاسی پسِ منظر، قبائلی نظام اور اس قسم کا شور مچاکر چاہتے ہیں کہ قرآن کی صداقت کو دبادیں۔ جب تک یہ اس روش پر قائم رہیں گے سچائی سے دور رہیں گے لیکن جیسے ہی انھوں نے اسلام کو صحیح ڈھنگ سے دیکھا اور پیش کیا تو اسلام کی بے لاگ صداقت ان کے سامنے آکھڑی ہوگی اور یہی وہ چیز ہے جسےیہ دیکھنا اور دکھانا نہیں چاہتے،اسباب وہی ہیں جو منکرینِ عرب کے معاملے میں تھے۔ یعنی ان میں اب بھی یہی خوف ہے کہ ان کے ہم مذہبوں نے اگر واقعی اسلام کا مشاہدہ کرلیا تو پھر اس کے اثر میں آئے بغیر نہ رہ سکیں گے اور پھر اسلام یورپ پر اور ان کے ممالک پر چھا جائےگا اور وہی خطرات سامنے آجائیں گے جو عروج اسلام کے وقت رونما ہوئے تھے۔
اس کا ایک نفسیاتی پہلو بھی ہے۔ مستشرقین یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ اگر یہودیت اور عیسائیت کو ٹھیک اسی شکل میں پیش کیا جائے جس میں موجودہ بائبل پیش کرتی ہے تواس میں کوئی اپیل نہیں ہوگی،خود عیسائیوں اور یہودیوں کے دلوں میں ہزاروں شبہات پیدا ہوجائیں گے اور بالخصوص اسلام کے مقابلے میں اس کی صداقت ثابت کرنا ناممکن ہوجائے گا اور پھر معاملہ ہاتھوں سے نکل جائے گا۔ اسی خوف کی وجہ سے اوّل دن ہی سے یہودیت اور عیسائیت کےعلمبرداروں نے یہ طریقہ اختیار کیا کہ اس مسئلہ کو چھیڑا ہی نہ جائے،یعنی اپنے مذہب کو بائبل کی روشنی میں آنے ہی نہ دیا جائے۔ بلکہ اپنے ہم مذہبوں کا دھیان اس طرف سے ہٹا کر اِسلام کی مذمت پر لگا دیاجائے۔
اس سے دو فائدے ہوئے، ایک تو عام یہودی اور عیسائی اپنے مروجہ مذہب پر قائم رہے اور اس کی خامیوں سے واقف نہ ہوسکے اور دوسری طرف مسلمان دفاع پر مجبور ہوگئے۔ انھوں نے سیرت اور تاریخ ِ اسلام کو کچھ اس طرح الجھا یا اور پے درپے اتنے اعتراضات کیے کہ اہلِ اِسلام معاملات کو سلجھانے اور ان کے عائد کردہ الزامات کی تردید اور صفائی میں مصروف ہوگئے۔چنانچہ مسلمانوں کا ایک طبقہ اس طوفان کی تاب نہ لاسکا اور صفائی کرتے کرتےمصالحت پر اُتر آیا اور کہیں کہیں تو اعترافِ شکست کے بعد ہتھیار ہی ڈال بیٹھا۔ مستشرقین نے مختلف سمتوں سے کچھ اس طرح منظم حملے کیے کہ مسلمان اختلافات میں اُلجھ گئے اور سچائی خود ان کی نظروں میں مشتبہ ہوگئی۔ یہی مستشرقین کا مقصد تھا۔
بہ قول علامہ اسد:
’’یورپین کا رویہ اسلام کے بارے میں اورصرف اسلام ہی کے بارے میں دوسرے غیر مذاہب اور تمدنوں سے بے تعلقی کی ناپسندیدگی ہی نہیں، بلکہ گہری اور تقریباً بالکل مجنونانہ نفرت ہے ۔یہ محض ذہنی نہیں ہے، بلکہ اس پر شدید جذباتی رنگ بھی ہے۔ یورپ بدھشٹ اور ہندو فلسفوں کی تعلیمات کو قبول کرسکتا ہے اور ان مذہبوں کے متعلق ہمیشہ متوازن اور مفکرانہ رویہ اختیار کرسکتا ہے،مگر جیسے ہی اسلام کے سامنے آتا ہے، اس کے توازن میں خلل پڑ جاتا ہے اور جذباتی تعصب آجاتا ہے۔بڑے سے بڑے یورپین مستشرقین بھی اسلام کے متعلق لکھتے ہوے غیرمعقول جانب داری کے مر تکب ہو گئے ہیں ۔۔۔ اس طریقۂ عمل کا نتیجہ یہ ہے کہ یورپ کے مستشرقین کے ادب میں ہمیں اسلام اور اسلامی تعلیمات کی بالکل مسخ شدہ تصویر ملتی ہے۔یہ چیز کسی ایک خاص ملک میں محدود نہیں،بلکہ جرمنی، روس، فرانس، اٹلی،ہالینڈ،غرض ہر جگہ جہاں یورپین مستشرقین نے اسلام سے بحث کی ہے ، انھیں جہاں کہیں بھی کوئی واقعی یا محض خیالی ایسی بات نظر آتی ہے جس پر اعتراض کیا جاسکے ،وہاں ان کے دل میں بدنیتی کی مسرت کی گدگدی ہونے لگتی ہے‘‘۔(محمد اسد،اسلام دوراہے پر،۱۹۶۸ء،ص ۴۶۔۴۷)
جاری ہے

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *