مکہ کعبہ اور آب زمزم کے تاریخی وجود پر اعتراض کا جواب

1

دہریوں کے ایک پیج پر ایک تحریر نظر سے گزری جس میں مکہ، کعبہ اور زم زم کے تاریخی وجود پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ ہم اسکے اہم اعتراضات کا جواب پیش کررہے ہیں ۔ تحریر کی طوالت کی وجہ سے اسے تین قسطوں میں پیش کیا جارہا ہے۔

اعتراض :توحید کے گھر میں بت پرستی کیسے آگئی ؟؟
ایک بات جو سمجھ نہیں آتی وہ یہ ہے کہ جب ابراہیم نے یہ کعبہ بنایا تو مطلب اس نے توحید کا گھر بنایا ۔ اب توحید کے گھر میں وقت کے ساتھ بت کیسے آگئے ؟ تاریخ میں موجود تمام تر عبادت گاہوں کو اٹھا کے دیکھ لیجئے کہ وہ جس مقصد کے لیئے بنی تھی اسی مقصد کی آج تک زبان بول رہی ہیں۔ اگر کسی نے کعبہ پہ چڑھائی کرکے اسے بتوں کا گھر بنایا تھا تو اسلامی اور باقی تاریخ کسی ایسے واقعے سے خالی کیوں ہے ؟

جواب:
تاریخ کسی ایسے واقعے سے اس لیے خالی ہے کہ کسی نے کعبہ پر چڑھائی کرکے ایسا نہیں کیا تھا بلکہ یہ بت پرستی بتدریج ملک عرب میں رائج ہوئی، اسکی تفصیل تاریخ کی کتابوں میں موجود ہے۔ ہم مختصرا پیش کرتے ہیں۔
عام باشندگانِ عرب شروع سے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی دعوت وتبلیغ کے نتیجے میں دینِ ابراہیمی کے پَیرو تھے تاآنکہ بنو خزاعہ کا سردار عَمر و بن لُحَی منظر عام پر آیا۔ اس کی نشوونما بڑی نیکوکاری ، صدقہ وخیرات اور دینی امور سے گہری دلچسپی پر ہوئی تھی۔ اس لیے لوگوں نے اسے محبت کی نظر سے دیکھا اور اسے اکابر علماء اور افاضل اوّلیاء میں سے سمجھ کر اس کی پیروی کی۔ اس شخص نے ملک شام کے سفر میں بتوں کی پوجا دیکھی تو اس نے سمجھا کہ یہی بہتر اور بر حق ہے کیونکہ ملک شام پیغمبروں کی سر زمین اور آسمانی کتابوں کی نزول گاہ تھی۔ چنانچہ وہ اپنے ساتھ ہبل بت بھی لے آیا اور اسے خانہ کعبہ کے اندر نصب کر دیا اور اہل مکہ کو اللہ کے ساتھ شرک کی دعوت دی۔ اہل مکہ نے اس پر لبیک کہا۔ اس کے بعد بہت جلد باشندگان حجاز بھی اہل مکہ کے نقش قدم پر چل پڑے۔ کیونکہ وہ بیت اللہ کے والی اور حرم کے باشندے تھے۔ اس طرح عرب میں بت پرستی کا آغاز ہوا اور اس کے بعد حجاز کے ہر خطے میں شرک کی کثرت او ر بتوں کی بھر مار ہو گئی۔ ہبل سرخ عقیق سے تراشا گیا تھا۔ صورت انسان کی تھی۔ یہ مشرکین کا پہلا بت تھا اور ان کے نزدیک سب سے عظیم اور مقدس تھا۔ (کتاب الاصنام لابن الکلبی ص ۲۸)

دوسری بات یہ چیز اہل عرب کے ساتھ خاص نہیں تھی پہلے عیسائی بھی ایسی بے راہروی کا شکار ہوئے، پولس جو کہ ایک یہودی تھا’ اسی طرح عیسائی مذہب میں داخل ہوا اور اپنی ولایت اور پاکبازی دکھا کر مشہور راہب اور پھر عیسی علیہ السلام کے بعد سب سے معتبر شخص کہلایا گیا ،اسی نے بعد میں عیسائیت میں تثلیث کا عقیدہ رائج کیا اور عیسائیت کو ایک مشرک مذہب میں تبدیل کردیا ۔

زم زم کے کنویں پر اعتراض :۔
اب ابن اسحاق ہی لکھتا ہے کہ جرہم کا قبیلہ باہر سے آنے والوں کے لیئے ایذا کا باعث بن گیا۔ ان کے رشتوں داروں کے علاوہ جو بھی وہاں آتا ان سے ناروا سلوک کیا جاتا۔اس بات پہ بنو خزاع اور بنو جرہم کی لڑائی ہوتی ہے اور جرہم کے قبیلے کو شکست ہوتی ہے اور وہ علاقہ چھوڑ کے چلے جاتے ہیں۔ جاتے جاتے وہ لوگ دو عدد سونے کے بنے ہوئے مجسمے اور حجر اسود زمزم میں چھپا دیتے ہیں۔ لیکن یہ واقعہ پرانا نہیں بلکہ دوسری صدی بعد از مسیح کا ہے ۔سیرت النبی انب اسحاق، اشاعت محمدیہ یونیورسٹی صفحہ نمبر 67
ابن اسحاق لکھتا ہے کہ ایک دن نبی کریم کے دادا عبدالمطلب کو ان کے خواب کے زریعے ایک جگہ کی نشاندہی کی جاتی ہے کہ اس جگہ پہ کھود دو
سیرت النبی انب اسحاق، اشاعت محمدیہ یونیورسٹی صفحہ نمبر 64
ایک کنواں جس کے ساتھ اتنی مقدس روایات وابستہ ہیں کہ ایک بچے کے رونے پہ اس کنویں کو فرشتے نے کھودا، ان لوگوں نے اس کنویں کو دوبارہ کیونکر نہ کھودا ہوگا۔

جواب :
یہ بالکل ایک بچگانہ اعتراض ہے جسکا جواب اسلامی تاریخ کا بیسک علم رکھنے والا بھی دے سکتا ہے، معترض کی اگر نیت ٹھیک ہوتی تو اسے ریفرینس کے سیاق و سباق اور خود ان حوالوں پر غور کرنے سے ہی سے ہی جواب مل جاتا ہے۔ بحرحال ہم صرف اتنا لکھ دیتے ہیں کہ جب آپ کنویں کی نسبت اسماعیل علیہ السلام سے مانتے ہوئے (فرض کرکے ہی سہی ) اگلے سوال اٹھاتے ہیں تو پھر انہی لوگوں کا جواب قبول کرنے میں کیا حرج ہے جن کے حوالے آپ بھی سوال میں دے رہے کہ قبیلہ جرہم نے جاتے ہوئے اس کنویں میں زیورات وغیرہ ڈال کے اسکا منہ ریت ، مٹی سے بھر کر برابر کردیا تھا اور اہل قریش کو نشانی یاد نہ رہی یا بھلا دی گئی تھی اور بعد میں حضور کے دادا کو یہ اعزاز ا دکھلائی گئی اور کنویں کو انکے ذریعے صاف کروایا گیا۔؟؟!!

مکہ اور کعبہ پر اعتراض :
بقیہ تاریخ کچھ یوں گویا ہوئی ہے کہ اول تو مکہ شہر کا چوتھی صدی عیسوی تک کوئی زکر ہی نہیں اور اس کے بعد کا جو زکر ہے اس میں مکہ کو کسی بڑے شہر کے طور پہ نہیں دکھایا گیا۔ کئی رومن اور یونانی جغرافیہ دانوں اور تاریخ دانوں نے عرب کا سفر کیا اور اس کے بارے میں لکھا لیکن کسی نے بھی مکہ کا زکر نہیں کیا۔مسلمان اسے بائبل کے اندر موجود ایک نام بکا (bacca) سے ملاتے ہیں ۔ اگر بکا والی سابقے لاحقے میں تمام آیات کو غور سے پڑھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ وہاں یروشلم کا زکر کرتے ہوئے ایک وادی کے جس میں ایک مخصوص پھول ” بکا ” لگتےہیں کے بارے میں بتایا گیا ہے ۔
جواب :
مکہ کا قدیم اور اصلی نام بکہ ہے۔ جیسا کہ قرآن نے بھی ذکر کیا
اِنَّ اَوَّلَ بَیۡتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِیْ بِبَکَّۃَ مُبَارَکًا(ال عمران-3:96) ترجمہ- پہلا مبارک گھر جو آدمیوں کے لیے بنایا گیا تھا وہ بکہ ہی تھا۔
معترض نے بائبل کے حوالے کے متعلق یہ کہا کہ اس کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جاتا ہے۔ ہم اسکو سیاق و سباق کے ساتھ پیش کرتے ہیں، بات واضح ہوجائے گی۔۔زبور 84 کی آیت 6 میں ہے
” بکہ کی وادی میں گزرتے ہوئے اسے ایک کنواں بناتے، برکتوں سے مورو کو ڈھانک لیتے، قوت سقوت تک ترقی کرتے چلے جاتے ہیں“
اس عبارت میں بکہ کا جو لفظ ہے وہ ہی مکہ معظمہ ہے لیکن اگر اس لفظ کو اسم علم کے بجائے مشتق قرار دیں تو اس کے معنی ”رونے“ کے ہوں گے اور یہ وہی عربی لفظ بکاء ہے۔ مستشریقین نے مکہ کی وقعت مٹانے کی کوشش میں عبارت مذکورہ میں بکہ کا ترجمہ رونا پیش کیا ۔ لیکن ہر شخص خود سمجھ سکتا ہے کہ اس حالت میں وادی بکا کے کیا معنی ہوں گے؟ پھر زبور کی عبارت مذکورہ کی اوپر کی آیتوں سے بھی صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس نشید میں حضرت داؤدؑ نے مکہ معظمہ اور مروہ اور قربان گاہ اسماعیلی کی نسبت اپنا شوق اور حسرت ظاہر کی ہے۔ اوپر کی عبارت یہ ہے
(حضرت داؤد ؑ خدا سے کہتے ہیں) ”اے فوجوں کے خدا! تیرے مسکن کس قدر شیریں ہیں، میرا نفس خدا کے گھر کا مشتاق بلکہ عاشق ہے…اے خدا! ‘تیرے قربان گاہ ‘میرے مالک اور میرے خدا ہیں، مبارکی ہو ان لوگوں کو جو تیرے گھر میں ہمیشہ رہتے ہیں اور تیری تسبیح پڑھتے ہیں“
اس کے بعد بکہ والی آیتیں ہیں اب غور کریں حضرت داؤد ؑ جس مقام کے پہنچنے کا شوق ظاہر کرتے ہیں وہ اس مقام پر صادق آ سکتا ہے جس میں حسب ذیل باتیں پائی جاتی ہوں۔
1. قربانی گاہ ہو

۔2. حضرت داؤد ؑ کے وطن سے دور ہو کہ وہاں تک سفر کر کے جائیں۔

3. وہ وادی بکہ کہلاتا ہو۔

4. وہاں مقام مورو بھی ہو۔
ان باتوں کو پیش نظر رکھیں تو یہ واضح ہوجاتا ہے کہ بکہ وہی مکہ معظمہ اور مورو وہی مروہ ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی اندازہ ہو گا کہ یہود کس طرح تعصب سے الفاظ کو ادل بدل کر دیتے ہیں۔یُحَرِّفُوۡنَ الْکَلِمَ عَنۡ مَّوَاضِعِہٖ ۔ ڈاکٹر ہسٹنگس نے ”ڈکشنری آف دی بائیبل“ میں وادی بکا پر جو آرٹیکل لکھا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اس لفظ سے اگر کوئی وادی مراد ہے تو حسب ذیل ہے۔
1. ایک وادی ہے جس میں ہو کر زائرین بیت المقدس جاتے ہیں۔ 2. وادی اخور ہے جو یشوعا باب 7 آیات 24- 26 میں مذکور ہے۔ 3. وادی رفایون ہے جو سامویل دوم باب 5 آیات 18-22 وغیرہ میں مذکور ہے۔ 4. کوہ سینا کی ایک وادی ہے۔ 5. بیت المقدس تک جو کاروانی راستہ شمال سے آتا ہے اس راستے کی آخری منزل ہے۔
(رینان کی کتاب ”حیات عیسی“ باب 4)
کیا عجب بات ہے ڈاکٹر ہسٹنگس کو اتنے احتمالات کِثیرہ میں کہیں مکہ معظمہ کا پتہ نہیں لگتا۔
؏ ہمیں ورق کہ سیہ گشتہ مدعا اینجاست
حیرت پر حیرت یہ کہ جن وادیوں کا نام لیا ہے ان میں ایک کو بھی بکا کے لفظ سے کسی قسم کی مناسبت نہیں۔ یہاں تک کہ ایک حرف بھی مشترک نہیں۔ بخلاف اس کے کہ بکا اور بکہ بالکل ایک لفظ ہیں۔ قرق صرف اس قدر ہے کہ ایک ہی لفظ کے تلفظ میں فرق ہے۔
اعتراض : مکہ اور اس وادی کا ذکر سوائے قرآن و سیرت کی کتابوں کے علاوہ پہلے کسی کتاب میں نہیں آیا۔ یہ مسلمانوں کا ایجاد کردہ ہے۔ زبور کی آیات میں بیت المقدس کا ذکر ہوا ہے ۔
جواب:
مکہ اور اسکی وادی کا قرآن و حدیث کے علاوہ بھی ذکر موجود دہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ رب العزت کے حکم سے اپنی بیوی حضرت ھاجرہ علیہاالسلام اورحضرت اسماعیل علیہ السلام کو مکہ مکرمہ کی وادی میں لےجا کر اللہ کے آسرے پر چھوڑ دیا تھا جہاں حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ایڑیاں رگڑنے سے زمزم کا چشمہ پھوٹ نکلا۔بائبل مقدس میں یہ واقعی کچھ اس طرح سے مذکور ہے۔
14 تب ابرؔہام نے صبح سویرے اُٹھ کر روٹی اور پانی کی ایک مشک لی اور اپسے ہاؔجرہ کو دِیا بلکہ اُسے اُسکے کندھے پر دھر دیا اور لڑکے کو بھی اُسکے حوالہ کر کے اُسے رُخصت کی دیا۔ سو وہ چلی گئی اور بیر ؔسبع کے بیابان میں آوارہ پِھرنے لگی۔ 15 اور جب مشک کا پانی ختم ہوگیا تو اُس نے لڑکے کو ایک جھاڑی کے نِیچے ڈالدیا ۔ 16 اور آپ اُسکے مقابل ایک تیِر کے ٹپّے پر دُور جا بِیٹھی اور کہنے لگی کہ مَیں اِس لڑکے کا مرنا تو نہ دیکھوں ۔ سو وہ اُسکے مُقابل بَیٹھ گئی اور چلاّ چِلاّ کر رونے لگی۔ 17 اور خُدا نے اُس لڑکے کی آواز سُنی اور خُدا کے فرشتہ نے آسمان سے ہاجؔرہ کو پُکارا اور اُس سے کہا اَے ہاجرؔہ تجھ کو کیا ہُوا؟ مت ڈر کیونکہخُدا نے اُس جگہ سے جہاں لڑکا پڑا ہے اُسکی آواز سُن لی ہے۔ 18 اور اُسے اپنے ہاتھ سے سنبھال کیونکہ مَیں اُسکو ایک بڑی قوم بناؤنگا۔ 19 پِھر خُدانے اُسکی آنکھیں کھو لیں اور اُس نے پانی کا ایک کُوآں دیکھا اور جا کر مشک کو پانی سے بھر لِیا اور لڑکے کو پِلایا۔ 20 اور خُدا اُس لڑکے کے ساتھ تھا اور وہ بڑا ہُوا اور بیابان میں رہنے لگا اور تیر انداز بنا۔ 21 اور وہ فاؔران کے بیا بان میں رہتا تھا اور اُسکی ماں نے مُلکِ مصؔر سے اُسکے لِئے بیوی لی۔
(پیدائش باب 21فقرات15تا21)
مذکورہ بائبلی فقرات واضح کرتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت ھاجرہ اور حضرت اسماعیل علیہماالسلام کو فاران(جوکہ مکہ مکرمہ کا پرانا نام
ہے)کے بیاناں میں ہی چھوڑاتھا جہاں اسماعیل علیہ السلام کو پیاس کی شدت نے ستایا تو ان کے قدموں کے نیچے سے چشمہ پھوٹ پڑا۔بائبل میں واضح لکھا ہے کہ پانی نہ ملنے کی صورت میں ھاجرہ علیہاالسلام اپنے بیٹے کی زندگی سے بالکل مایوس ہوگئی تھیں۔اگر وہاں پانی نہ تھا تو پھرانکا مایوس ہونا چہ معنی
وارد؟؟اور پھر جب اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا سنی اور انہوں نے آنکھیں کھول کردیکھا تو وہاں پانی کا چشمہ پھوٹ پڑاتھا۔گوکہ اس مقام پر یہودیوں نے خاصی قطع وبرید سے کام لیاہے لیکن تدبرقلیل سے اب بھی صداقت مترشح ہوتی ہے۔اسی مقام(فاران کی وادی یعنی مکہ مکرمہ) کا داؤد علیہ السلام کی زبور میں بھی ذکر آچکا جسکا اوپر بھی تذکرہ کیا گیا تھا ۔
“اےخداوندمبارک ہیں وہ جو تیرے گھر مین رہتے ہیں۔وہ تو ہمیشہ تیری ستائش کرتے ہیں۔مبارک ہے وہ آدمی جس کی قوت تجھ سے ہے جب اس کے دل میں زیارت کا خیال ہے۔وہ خشک وادی میں سے گزرتے ہوئے اسے چشمہ بنادیتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اےخداہماری سپرکودیکھ،اوراپنے ممسوح کے چہرےپر نگاہ کر۔ یقینا تیری بارگاہوں میں ایک دن کسی اور جگہ کے ہزار سے بہتر ہے(زبور84فقرات 5تا11)
گوکہ سیاق وسباق سے بات اظہرمن الشمس ہے مگر خوف طوالت مانع ہے اس لئے اختصار سے کام لے رہے ۔اب جہاں تک اس عبارت کا تعلق ہے کہ “وہ خشک وادی میں سے گزرتے ہوئے اسے چشمہ بنالیتے ہیں”تو اس مقام پر کیتھولک اور پروٹسٹنٹ چرچز نے انتہائی دیدہ دلیری سے تحریف کی ہے،1932 سے قبل شائع ہونے والی بائبل میں اس جگہ وادی بکہ مندرج تھا(جوکہ مکہ مکرمہ کا پرانا نام قرآن مجید میں مندرج ہے) لیکن پھر اس لفظ”بکہ”کو بکا سے تبدیل کردیا گیااور کیتھولک چرچ نے تو کمال ڈھٹائی سے بکا کو خشک وادی سے بدل دیا۔اتنی تحریفات کے ستم سہنے کے بعد پھر بھی اس آیت سے مظہرہونے والی صداقت پر پردہ نہ ڈال سکے۔قرآن مجید میں ارشاد ربانی ہے۔
رَبَّنَا إِنِّي أَسْكَنتُ مِن ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ عِندَ بَيْتِكَ المُحَرَّمِ رَبَّنَا لِيُقِيمُوا الصَّلاةَ فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِي إِلَيْهِمْ وَارْزُقْهُم مِّنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ﴾ (إبراهيم:37)
اے میرے پروردگار!میں نے اپنی کچھ اولاد کو اس خشک وادی میں تیرے پاک گھر کے پاس ٹھہرایاہےتاکہ یہ نماز قائم کریں۔پس تو لوگوں کے دلوں کو انکی طرف پھیر دے اور ان کو پھلوں میں سے رزق دے تاکہ یہ شکر ادا کریں۔
یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعامبارک ہے جوکہ انہوں حضرت اسماعیل اور حضرت ھاجرہ علیہماالسلام کو فاران یعنی مکہ مکرمہ کی وادی میں چھوڑنے کے بعد کی تھی اور اس دعا میں واضح طور پر مکہ مکرمہ کی صفت”خشک وادی” پکارا گیاہے۔اور آج بھی دنیا شاہد ہے کہ مکہ مکرمہ جیسے بیاباں میں “جہاں انتہائی سخت گرمی کی وجہ سے پہاڑ تک سیاہ ہوچکے ہیں”ہمہ وقت دنیا بھرکے انواع واقسام کے پھل دستیاب ہیں۔یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مبارک دعا ہی تو ہے جوکہ اللہ تعالیٰ نے ایسے قبول فرمائی کہ آج بھی ہر سال لاکھوں فرزندان توحید حج کے موسم میں اس “خشک وادی” کی طرف کھنچے چلے جاتے ہیں۔خشک وادی کے ساتھ چشمے کا لفظ قابل غور ہے۔اور یہ چشمہ زمزم ہی ہے جس کی وجہ سے اس وادی کو شان دی گئی اور اسی چشمہ زمزم کی وجہ سے حضرت ھاجرہ علیہاالسلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اس وادی کو اپنا مستقل مسکن بنا لیااور آج تک اولاد اسماعیل عرب میں ہی آباد ہے اور کسی کو اس بات سے زرہ برابر بھی اختلاف نہیں۔ اگر زمزم کا چشمہ نہ ہوتا تو پیاس سے بلکتے ایڑیاں رگڑتے اسماعیل علیہ السلام کیسے جوان ہوکر منصب نبوت پر فائز ہوتے؟اور کیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی کئے ہوئے وعدے کی تکمیل کا ذریعہ ہوتے کہ سیدنامحمدمصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت اسماعیل علیہ السلام کی مبارک نسل سے اس جہاں میں تشریف لائے تھے۔
زبور کی اس آیت کی تصدیق وتوثیق یسیعاہ کی کتاب کی ان آیات سے بھی ہوتی ہے۔
6 اُونٹوں کی قطاریں اور مدیان اور عیفہ کی سانڈنیاں ارد گردبے شمار ہوں گی۔ وہ سب سبا سے ائیں گے اور سونا اور لبان لائیں گے اور خداوند کی حمد
کاا علان کریں گے۔ 7 قیدار کی سب بھیڑیں تیرے پس جمع ہوں گی۔نبایوت کے مینڈھے تیری خدمت میں حاضر ہوں گے۔وہ میرے مذبح پر مقبول ہوں گے اور میں اپنے شوکت کے گھر کو جلال بخشوں گا۔ (یسعیاہ باب60 آیات6تا7)
تاریخ گواہ ہےکہ قیدارکےگلّےاورنیابوت کےمینڈھے کبھی بھی ہیکل یروشلیم کےلئےجمع نہیں ہوئےاورنہ ہی پسندیدہ ہوکروہاں ذبح کئے گئے۔ہیکل بارباربنی
اوربرباد اوربےحرمت کی گئی حتیٰ کہ گذشتہ 1944 سالوں سےتادم تحریراب تک ویران ہےاور وہاں پریہودی عبادت کی کوئی جگہ نہیں بلکہ آثارمیں صرف ایک دیوار نظرآتی ہےجہاں اسرائیلی جاکراس کی گذشتہ عظمت رفتہ کویادکرکےروتےروتےبےحال ہوجاتےہیں۔حتیٰ کہ اس کانام ہی دیوارگریہ
پڑگیاہے۔یہودی بےبسی کااس سےبڑاثبوت اورکیاہوگاکہ یروشلیم پرگذشتہ پچاس برس سےقابض ہونےکےباوجودوہ اپنی ہیکل محض اس وجہ سےبنانےسےقاصرہیں کہ صحیح النسب لاوی النسل کاہن دستیاب نہیں۔ لیکن الحمداللہ کعبۃ المکرمہ کبھی بھی بےوقعت اوربےوقارنہیں ہوا اورنصرانی بادشاہ ابرہہ الاشرم نےاسے ڈھانےکاقصدکیاتوتاریخ کاعبرت ناک سبق بن کررہ گیا۔کعبہ معظمہ کےبابرکت ترین اورخداکےجلالی گھرہونےمیں کیاشبہ ہے؟یہ گھر روزاول سے بنواسمٰعیل کےپاس ہے۔ کیا اللہ تعالیٰ کی یہ برکات روزروشن کی طرح دکھائی نہیں دیتیں؟


اگر مغربی مورخین کی کتابوں کا مطالعہ کیا جائے تو نظر آتا ہے کہ پرانے مورخین کو مکہ کے متعلق اختلاف نہ تھا لیکن اب بیسویں صدی کے بعد کے ان محققین کو انکی باتیں قبول نہیں۔ پروفیسر ڈوزی جو فرانس کا مشہور محقق اور عربی دان عالم ہے وہ لکھتا ہے
”بکہ وہی مقام ہے جس کو یونانی جعرافیہ دان ماکروبہ لکھتے ہیں“(جدید انسائیکلوپیڈیا جلد 7 صفحہ 392)
اسی طرح کارلائل نے اپنی کتاب ”ہیروز اینڈ ہیروورشپ“ میں لکھا ہے کہ
”رومن مؤرخ سیسلس نے کعبہ کا ذکر کیا اور لکھا ہے ” وہ دنیا کے تمام معبدوں سے قدیم اور اشرد ہے اور یہ ولادت مسیح ؑ سے پچاس برس پہلے کا ذکر ہے”۔“
اگر کعبہ حضرت عیسیؑ سے بہت پہلے موجود تھا تو مکہ بھی تقریباً اسی زمانے کا شہر ہوگا کیونکہ جہاں کہیں کوئی معبد ہوتا ہے اس کے آس پاس ضرور کوئی نہ کوئی شہر یا گاؤں آباد ہو جاتا ہے۔
یاقوت حمومی نے معجم البلدان میں لکھا ہے کہ مکہ معظمہ کا عرض اور طول بلد بطلیموس کے جغرافیہ میں حسب ذیل ہے۔
”طول78 درجہ عرض13 درجہ“
یہ بطلیموس نہایت قدیم زمانہ کا مصنف ہے اس نے اپنے جغرافیہ میں مکہ کا ذکر کیا ہے تو اس سے زیادہ قدامت کی کیا سند درکار ہے؟
مستشرقین و جدید ملحدین کی منافقت ملاحظہ فرمائیں کہ ایک طرف یہ لوگ حضرات امام بخاری کی لائف لونگ ریسرچ اور مشقت میں تو بساط بھر کیڑے نکالتے ہیں’ جو کے نسبتاً نزدیک کے زمانے کے ہیں اور انکی سند بھی موجود ہے۔ مگر وہ تاریخ دان جو بخاری سے ہزاروں سال پہلے کے ہیں اور جن کی کوئی بھی اصلی تحریر موجود نہیں، انہیں امّنا صدقنا کے مترادف آنکھیں بند کر کے قبول کرتے ہیں۔ ہم پوچھتے ہیں اگر آپ ١٤٠٠ سال پرانی تاریخ کی صحت پے انگشت نمائی کرتے ہیں تو وہ اصول بھی بتا دیں جس کے تحت ٣٠٠٠ سال پرانی تاریخ آپ کے لیے قابل قبول ہوگئی ہے؟
اصولا اتنے پرانے تاریخی حوالوں پر بحث یہاں سے ہی شروع ہونی چاہیے تھی کہ جن کی باتوں کو پیش کیا جارہا وہ خود کس قدر مستند ہیں؟ انکی باتیں کس قدر سچی ہیں ؟ انکے بیان میں کس قدر انکی پسند نا پسند شامل ہے؟۔
جب واقدی، ابن اسحاق اور دوسرے مورخین اور محدیثین وغیرہ پر جانبداری کی تہمت لگائی جاسکتی ہے حالانکہ وہ سند سے بات لکھتے ہیں اور انکے ہر ہر راوی کے حالات تک محفوظ ہیں تو ان بغیر سند سے لکھنے والوں کی حقیقت زیر بحث کیوں نہیں آسکتی؟ ۔ ۔ جنہوں نے تاریخ کو پہلی دفعہ ایک فن کی شکل دی اور یورپ کے بڑے بڑے مورخین اس فیلڈ میں انکے شاگرد ہیں انکی بات جھٹلائی جاسکتی ہے ان پر اسطرح جرح کی جاسکتی ہے تو ان مجہول لوگوں پر کیوں نہیں ؟
اصل میں یہی وہ سوچ اور پلان ہے جس کے متعلق پیج پر ہم کئی دفعہ لکھ چکے کہ مسلمانوں کی نوجوان نسل کو اپنی تاریخ اور مذہب سے دور کرکے ان کے ساتھ کیا کیا جانا ہے ۔۔؟ ؟ جب انکو اپنی تاریخ کا علم ہی نہیں ہوگا تو وہ پھر ان دشمنان اسلام کی تیار کردہ ایسی کچھڑیوں سے ہی متاثر ہونگے اور انہی کو ہی اصل تاریخ سمجھیں گے ۔
صاحب تحریر نے آخر میں لکھا کہ ” سائنسی علوم تعصبات سے پرے ہوتے ہیں ، انتھراپالوجی اور آرکیالوجی کے علوم جوں جوں ترقی کرتے جا رہے ہیں وہ تمام مذاہب پہ کاری ضرب لگاتے جا رہے ہیں۔۔۔”
یہی باتیں لوگ فلسفہ اور سائنس کے بارے میں بھی کہتے رہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں اس وقت سب سے زیادہ اسلام قبول کرنے والے افریقہ کے جانگلی نہیں جنہیں ان علوم کا پتا نہ ہو بلکہ یہی امریکہ یورپ کے فلسفہ سائنس آرکیالوجی کا علم رکھنے والے اور جدید تعلیم یافتہ لوگ ہیں۔ سائنسی علوم بالکل تعصبات سے بہت پرے ہوسکتے ہیں لیکن ان کے نام کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے والوں کے تعصب سے پرے ہونے کی گارنٹی کون دے سکتا ہے۔؟!!
ہسٹری آف کعبہ پر انگلش میں ایک تحقیقی آرٹیکل یہاں سے ملاحظہ کیجیے
http://www.islamic-awareness.org/History/kaaba.html

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *