طبری اور تاریخ طبری -ایک جائزہ

12088371_1688878861348739_2464617661159653632_n

جن حقائق کا ہم نے گزشتہ تحاریر میں تذکرہ کیا ، ان کا ہماری اسلامی تاریخ سے کتنا تعلق ہے اور اس کے کیا برے اثرات مرتب ہوئے ،ان کا ایک سر سری جائزہ لینے کی غرض سے ہم نے کتبِ تاریخ میں سے علامہ ابن جریر بن یزیدطبری (المتوفی: ۳۱۰ھ) کی مشہور و معروف تصنیف ”تاریخ الأمم والملوک المعروف بتاریخ الطبری“ کا بطور نمونہ کے انتخاب کیا ہے، تاریخِ طبر ی ہماری عہدِ اسلامی کی تاریخ کا اہم مصدر ہو نے کے علاوہ قرونِ ثلاثہ کے حوالہ سے سب سے اہم ، کثیر المعلومات اور مستند کہی جانے والی کتاب ہے
اس کتاب کا نام ”تاریخ الرسل والملوک “ یا ”تاریخ الأمم و الملوک“ہے؛ االبتہ ”تاریخ طبری“ کے نام سے عوام و خواص میں مشہور ہے۔ علامہ طبری کی یہ تصنیف عربی تصانیف میں مکمل اور جامع تصنیف شمار کی جاتی ہے، یہ کتاب ان سے پہلے کے موٴرخین یعقوبی ، بلاذری ، واقدی، ابن سعد وغیرہ کے مقابلہ میں اکمل اور ان کے بعد کے موٴرخین ، مسعودی، ابن مسکویہ ، ابن اثیر اور ابن خلدون وغیرہ کے لیے ایک رہنما تصنیف بنی۔معجم الادباء میں یا قوت حموی نے لکھا ہے کہ ابن جریر نے اپنی اس تالیف میں۳۰۲ ھ کے آخر تک کے واقعات کو بیان کیا اور بروز بدھ ۲۷ ربیع الاول ۳۰۳ھ میں اس کی تکمیل کی۔
(معجم الأدباء:۶/۵۱۶،موٴسسة المعارف)
ابن جریر طبری – تعارف
نام: محمد
ولدیت: جریر
دادا کا نام: یزید
کنیت: ابو جعفر
پیدائش طبرستان میں ہوئی،اس کی نسبت سے ”طبری“ کہلاتے ہیں۔
سنہ ولادت میں دو قول ہیں:(۱)۲۲۴ھ کے اخر میں، (۲)۲۲۵ھ کے اول میں۔
خود اپنے ابتدائی حالاتِ زندگی بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں نے سات سال کی عمر میں قرآن کریم حفظ یاد کرلیا ،آٹھ سال کی عمر میں لوگوں کو نمازیں پڑھانا شروع کردیں اور نوسال کی عمر میں حدیث لکھنا شروع کردی تھی.
ابن جریر طبری نے علوم و فنون کی تکمیل کے لیے مختلف علماء اورعلاقوں کی طرف اسفار کیے۔ عراق میں ابو مقاتل سے فقہ پڑھی، احمدبن حماد دولابی سے کتاب ”المبتدا“ لکھی ،
مغازی محمد بن اسحاق بواسطہ سلمہ بن فضل حاصل کی اور اسی پر اپنی تاریخ کی بنیاد رکھی۔کو فہ میں ھناد بن سری اور موسی بن اسماعیل سے حدیث لکھی ، سلیمان بن خلادطلحی سے قرآت کا علم حاصل کیا پھر وہاں سے بغداد لوٹ آئے، احمد بن یوسف تغلبی کی صحبت میں رہے اور اس کے بعد فقہِ شافعی کی تحصیل کی طرف متوجہ ہوئے اور اسی کو اپنامسلک ٹھہرا کر کئی سال تک اس کے مطابق فتویٰ دیتے رہے، بیروت میں عباس بن ولید بیروتی سے شامیوں کی روایت میں قرآت و تلاوت مکمل کی۔ یوں آپ نے حدیث ، تفسیر ، قرآت ، فقہ ،تاریخ، شعر و شاعری اور تمام متداول علوم و فنون میں مہارت حاصل کر لی . پهر مختلف عنوانات پر ۲۶ کے قریب کتابیں تصنیف کیں ، ان میں تفسیر طبری کے علاوہ تاریخ طبری بہت زیادہ مشہور و معروف ہے۔

ابن جریر طبری کا مذہب-ایک غلط فہمی کا ازالہ

تاریخ طبری کے مصنف” ابن جریر طبری “کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ سنی شافعی المسلک تھے،طبقاتِ شافعیہ اور دیگر رجال کی کتابوں میں یہی مذکور ہے بعد میں وہ درجہٴ اجتہاد پر فائز ہوگئے تھے اور فقہائے مجتہدین کی طرح ان کا بھی مستقل مکتبِ فقہ وجود میں آگیا تھا جو ایک عرصہ تک قائم رہا ۔(۱) اس موقع پر یہ یاد رہے کہ اسی نام وولدیت سے ایک اور شخص بھی گزرا ہے جو رافضی مذہب سے تھا؛چناں چہ علمائے رجال نے وضاحت کے ساتھ لکھا ہے کہ ابو جعفر محمد بن جریر بن رستم طبری رافضی تھا،اس کی بہت ساری تصانیف بھی ہیں،ان میں سے ایک ”کتاب الرواة عن أہل البیت“ بھی ہے،حافظ سلیمانی رحمہ اللہ کے کلام ”کان یضع للروافض“ کا مصداق بھی یہی شخص ہے۔(2)
علامہ ابن قیم رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ ابن جریر طبری (سنی)کے بارے میں(مسح رجلین کے قائل ہونے کاشبہ) اس لیے پیدا ہوا؛ کیوں کہ ابن جریر جو مسح رجلین کا قائل تھا وہ ان کے علاوہ ایک اور شخص ہے جو شیعی تھا،ان دونوں کا نام اور ولدیت ایک جیسی ہے، میں نے اس (ابن جریر شیعی) کی شیعہ مذہب کے اصول و فروع کے بارے میں کتابیں دیکھیں ہیں ۔(3)حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ابن جریر کے بارے مسح رجلین کے قائل ہونے کی جو حکایت بیان کی جاتی ہے تو اس سے مراد محمد بن جریر بن رستم رافضی ہے؛ کیوں کہ یہ ان کا مذہب ہے،(نہ کہ اہل سنت کا)۔ (4)چوں کہ دونوں کا نام ولدیت اور کنیت ایک جیسی ہے؛ اس لیے بہت سارے خواص بھی اس سے دھوکہ کھا جاتے ہیں،پہچان کا طریقہ یہ ہے کہ دونوں کے دادا کا نام جدا جدا ہے،سنی ابن جریر کے داد کا نام یزید ہے اور رافضی ابن جریر کے دادا کا نام رستم ہے۔(5)
خود شیعہ مصنّفین اور اصحابِ رجال میں سے بحرالعلوم طباطبائی،ابن الندیم، علی بن داوٴد حلّی، ابو جعفر طوسی،ابو العباس نجاشی اور سیّد خوئی وغیرہ نے ابن جریر بن رستم طبری کا اہلِ تشیع میں سے ہونے کی تصریح کی ہے۔(6)
بہرحال دونوں ناموں اور ولدیت و کنیت میں تشابہ ہے، اسی تشابہ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے شیعہ علماء نے ابن جریر شیعی کی بہت ساری کتابوں کی نسبت ابن جریرسنی کی طرف کرنے کی کوشش کی ہے؛ چناں چہ ڈاکٹر ناصر بن عبداللہ بن علی قفازی نے ”أصول مذھب الشیعة الإمامیة الإثني عشریة عرض و نقد“ میں لکھا ہے :”روافض نے اس تشابہ کو غنیمت جان کر ابن جریر سنی کی طرف بعض ان کتابوں کی نسبت کی ہے جس سے ان کے مذہب کی تائید ہوتی ہے،جیسا کہ ابن الندیم نے الفہرست،ص:۳۳۵ میں ”کتاب المسترشد في الإمامة“ کی نسبت ابن جریر سنی کی طرف کی ہے؛ حالاں کہ وہ ابن جریر شیعی کی ہے،دیکھیے: طبقات أعلام الشیعة في المائة الرابعة،ص:۲۵۲،ابن شہر آشوب،معالم العلماء، ص:۱۰۶،
آج بھی روافض بعض ان اخبار کی نسبت امام طبری کی طرف کرتے ہیں جن سے ان کے مذہب کی تائید ہوتی ہے؛حالاں کہ وہ اس سے بری ہیں،دیکھیے: الأمیني النجفي، الغدیر: ۱/۲۱۴-۲۱۶۔
روافض کے اس طرزِ عمل نے ابن جریر طبری سنی کو ان کی زندگی میں بہت سارے مصائب سے دوچار کیا؛ یہاں تک کہ عوام میں سے بعض لوگوں نے انھیں رفض سے متہم بھی کیا، جیسا کہ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔(دیکھیے:البدایة و النہایة: ۱۱/۱۴۶)
حواشی :
(1) طبقاتِ الشافعیة الکبریٰ:۲/۱۳۵․۱۳۸،تذکرة الحفاظ : ۲/۷۱۶۷۱۰،میزان الاعتدال :۳/۴۹۸، ۴۹۹، لسان المیزان :۵/۱۰۰، ۱۰۳
(2) تذکرة الحفاظ : ۲ / ۷۱۰ ۷۱۶،میزان الاعتدال :۳/۴۹۸،۴۹۹،لسان المیزان :۵/۱۰۰،۱۰۳
(3) حاشیة الإمام ابن القیم علی سنن أبي داوٴد في ذیل عون المعبود:۲/۲۰۵
(4) لسان المیزان :۵/۱۰۳
(5) میزان الاعتدال :۳/۴۹۹،لسان المیزان :۵/۱۰۳
(6) الفوائد الرجالیة:۷/۱۹۹،مکتبة العلمین الطوسي و بحر العلوم في نجف الأشرف،مکتبة الصادق طہران، الفہرست،ص:۵۸، رجال ابن داوٴد للحلّي:۱/۳۸۶،رجال الطوسي لأبي جعفر الطوسي: ۲/۲۴۲، موٴسسة النشر الإسلامي قم،رجال النجاشي لأبي العباس أحمد بن علي النجاشي: ۱/۳۷۸، موٴسسة النشر الإسلامي قم ،معجم رجال الحدیث للسید الخوئي: ۱/۱۳۲، ۱۲/۱۵۴، ایران

تاریخ طبری – مصادر و روایات

ابن جریر نے اپنی تاریخ کی ابتدا حدوثِ زمانہ کے ذکر ، اول تخلیق یعنی قلم و دیگر مخلوقات کے تذکرہ سے کی، پھر اس کے بعد آدم علیہ السلام اور دیگر انبیاء و رسل کے اخبار و حالات کو تورات میں انبیاء کی مذکورہ ترتیب کے مطابق بیان کیا؛ یہاں تک کہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت تک تمام اقوام اور ان کے واقعات کو بھی بیان کیا ہے۔اسلامی تاریخ کے حوادث کو ہجرت کے سال سے لے کر ۳۰۲ھ تک مرتب کیا اور ہر سال کے مشہور واقعات و حوادث کو بیان کیا۔اس کے علاوہ اس کتاب میں حدیث ، تفسیر ، لغت ، ادب ، سیرت ، مغازی ، واقعات و شخصیات ، اشعار، خطبات اور معاہدات وغیرہ کو خوبصورت اسلوب میں مناسب تر تیب کے ساتھ ہر روایت کو اس کے راوی اور قائل کی طرف (بغیر نقد و تحقیق کے ) منسوب کیا کہ اس کو کتاب اور فصول کے عنوان سے تقسیم کرکے ان کو علماء کے اقوال سے مزین کیا ہے.
طبری نے اپنی اس تصنیف کے لیے جن مصادر کا انتخاب کیا وہ یہ ہیں
1. تفسیر مجاہد اور عکرمہ وغیرہ سے نقل کی
2. سیرت ابان بن عثمان ، عروہ بن زبیر ، شرجیل بن سعد ، موسی بن عقبہ اور ابن اسحاق سے نقل کی
3. ارتداد اور فتوحاتِ بلاد کے واقعات سیف بن عمر اسدی سے نقل کیے،
4. جنگ جمل اور صفین کے واقعات ابو مخنف اور مدائنی سے نقل کیے،
5. بنو امیہ کی تاریخ عوانہ بن حکم سے نقل کی
6. بنو عباس کے حالات احمد بن ابو خیثمہ کی کتابوں سے لکھے
7. اسلام سے قبل عربوں کے حلات عبید بن شریة الجر ھمی ، محمد بن کعب قرظی اور وھب بن منبہ سے لیے
8. اہل فارس کے حالات فارسی کتابوں کے عربی ترجموں سے لیے،
9. پوری کتاب میں مصنف کا اسلوب یہ ہے کہ واقعات و حوا دث اور روایات کو ان کی اسناد کے ساتھ بغیر کسی کلام کے ذکر کرتے چلے گئے ہیں
10. جن کتابوں اور موٴلفین سے استفادہ کیا ہے تو جگہ جگہ ان کے ناموں کی صراحت کی ہے
11. تاریخِ طبری کے بہت سارے تکملات لکھے گئے اور کئی لوگوں نے اس کا اختصار بھی کیا اور خود طبری نے سب سے پہلے اس کا ذیل لکھا ، بعض حضرات نے اس کا فارسی میں ترجمہ کیا، پھر فارسی سے ترکی زبان میں بھی ترجمہ کیا گیا۔

دروغ گو اور ثقہ راویوں کی روایات :
علامہ ابن جریر بن یزید طبری بہت بڑے اور بلند مرتبہ کے عالم تھے، خاص کر قرونِ ثلاثہ کی تاریخ کے حوالہ سے ان کا نام اور کتاب کسی تعارف کے محتاج نہیں ،قدیم و جدید تمام موٴرخین نے ان سے استفادہ کیا. ان ساری خصوصیات کے باوجود تاریخ طبری میں جگہ جگہ حضرات صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہم سے متعلق ایسی بے بنیاد اور جھوٹی روایات مروی ہیں، جن کی کوئی معقول و مناسب توجیہ نہیں کی جاسکتی ہے ،جب کہ عدالتِ صحابہٴ کرام پرموجود قطعی نصوص قرآن و سنت اور اجماعِ امت کے پیش نظر منصف مزاج اہل علم امام طبری اور خاص کر ان کی تاریخ میں مروی اس طرح کی روایات پر کلام کرنے پہ مجبور ہوئے ہیں، روایات پر کی گئی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ تاریخ طبری میں بڑے بڑے دروغ گو ، کذّاب اور متہم بالکذب راویوں کی روایات بھی جگہ جگہ موجود ہیں۔ جن میں مشہور دروغ گو راوی محمد بن سائب کلبی کی بارہ (۱۲) روایات،حشام بن محمد کلبی کی پچپن (۵۵) روایات ،ابو مخنف لوط بن یحی ٰ کی چھ سو بارہ (۶۱۲)روایات شامل ہیں ۔
( تفصیل کے لیے دیکھیے : مدرسة الکذابین فی روایة التاریخ الإسلامي و تدوینیہ، ص:۴۵۔۴۷،دار البلاغ الجزائر)

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ طبری نے ان جھوٹے اور بدنام زمانہ لوگوں کی واضح جھوٹی روایات کو اپنی کتاب میں کیوں جگہ دی جن سے بعد میں فتنوں کا دروازہ کھلا اور اصحاب رسول کے خلاف زبان درازی کا لوگوں کا موقع ملا ؟ اس سوال کا جواب ہم خود طبری کی زبان سے ہی پیش کرتے ہیں۔ کتاب کے مقدمہ میں لکھتے ہیں
“میں نے اس کتاب میں جو کچھ ذکر کیا ہے ا س میں میرا اعتماد اپنی اطلاعات اور راویوں کے بیان پر رہا ہے نہ کہ عقل و فکر کے نتائج پر ، کسی پڑھنے والے کو اگر میری جمع کردوں خبروں اور روایتوں میں کوئی چیز اس وجہ سے ناقابل فہم اور ناقابل قبول نظر آئے کہ نہ کوئی اسکی تک بیٹھتی ہے اور نہ کوئی معنی بنتے ہیں تو اسے جاننا چاہیے کہ ہم نے یہ سب اپنی طرف سے نہیں لکھا ہے بلکہ اگلوں سے جو بات ہمیں جس طرح پہنچی ہے ہم اسی طرح آگے نقل کردی ہے”۔
(مقدمہ تاریخ طبری)

طبری صحابہ کے باب میں بری طرح جانبداری کا شکار ہوئے، مشاجرات میں صرف یک رخی روایات لے کر آئے ،دوسری طرف سے اغماض برتا ہے۔۔ دور صحابہ کا جو منظر انہوں نے دکھایا اس سے بالکل مختلف منظر دکھانے والی ذیادہ مضبوط روایات بھی انکے دور میں موجود تھیں، جو کئی دوسرے مورخین نے ذکر کیں’ طبری نے ان سب کو چھوڑ کر کتاب میں اس دور کے متعلق ستر فیصد سے زائد روایات دروغ گو راویوں کی کتابوں سے نقل کیں ۔
طبری نے یہ کیا کہ صحابہ کے بارے میں جو “خرافات” متفرق تھیں اور شاید کچھ عرصہ بعد خود بخود مرور زمانہ سے ختم ہوجاتیں ،آنجناب نے اسے قیامت تک کے لیے “زندگی ” دے دی ۔۔۔۔ طبری کی عظمت اپنی جگہ’ مشاجرات کے باب میں “خرافات” کو تاریخ کے نام پر جمع کرنا ان کی “اجتہادی غلطی ” تھی۔ اللہ انہیں اس پر معاف کریں ۔ہم نہ ان کی بے ادبی کے قائل ہیں ،نہ ان خرافات میں ان کی حمایت کے ۔۔۔و خیر الامور اوسطھا

تاریخ طبری محقق علماء کی آراء

علامہ ذہبی اور حافظ ابن حجر کی رائے :-
علامہ ذہبی اور حافظ ابن حجر رحمھما اللہ نے طبری کی توثیق کرنے کے ساتھ ساتھ دبے لفظوں میں ان کے تشیع کی طرف میلان کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا ہے:” ثِقَةٌ صَادِقٌ فِیْہ تَشَیُّعٌ یَسِیْرٌ وَ مُوَالَاةٌ لَاتَضُرُّ“․(1 )
شاید ان دونوں حضرات کے کلام کامقصد یہ تھا کہ چوں کہ علامہ طبری نے اپنی تاریخ میں ایسی روایات بغیر نقد و کلام کے نقل کی ہیں،جن سے ان کا تشیع کی طرف میلان معلوم ہوتا ہے ،لہٰذا اس تصریح کے بعد طبری کی وہ تمام روایات جن سے اہلِ تشیع کے مخصوص افکار کی تائید ہوتی ہے وہ غیر معتبر قرار پائیں گی۔

عصر حاضر کے اک محقق مولانا محمد نافع صاحب کا تبصرہ:-
تاریخ طبری میں منقول معتضد با للہ عباسی کا رسالہ جسے موٴرخ طبری نے ۲۸۴ھ کے تحت بلا کسی نقد و تحقیق و تمحیص اور کلام کے نقل کیا ہے، جس میں حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ دونوں حضرات کے خلاف سب و شتم اور لعن طعن کرنے کے جواز میں مواد فراہم کیا اور اس میں موجباتِ لعن و طعن درج کیے ہیں،اس رسالہ پر تنقید کرتے ہوئے ”الطبری کی حکمتِ عملی“ کے تحت مولانا محمد نافع نے” فوائدِنافعہ “میں جو کچھ فرمایا وہ من و عن پیش خدمت ہے:
”غور طلب بات یہ ہے کہ صاحب التاریخ محمد ابن جریر الطبری کے لیے عباسیوں کے اس فراہم کردہ غلیظ مواد کو من و عن نقل کے لیے اپنی تصنیف میں شامل کرنے کا کون سا داعیہ تھا؟اور اس نے کون سی مجبوری کی بنا پر یہ کارِ خیرانجام دیا؟ گو یا الطبری نے اس مواد کو اپنی تاریخ میں درج کر کے آنے والے لوگوں کو اس پر آگاہ کیا اور سب وشتم اور لعن طعن کے جو دلائل عباسیوں نے مرتب کروائے تھے، ان پر آئندہ نسلوں کو مطلع کرنے کا ثواب کمایا؟چناں چہ شیعہ اور روافض رسالہٴ مذکورہ میں مندرجہ مواد کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اپنی کتب میں ابو سفیان رضی اللہ عنہ اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر مطاعن قائم کرتے ہیں اور شدید اعتراضات پیدا کرتے ہیں۔(2)

مولانا مہرمحمد صاحب کی رائے
ابن جریر طبری کا مذہب ،اس عنوان کے تحت مولانا مہرمحمد صاحب رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ یہ وہی امام طبری المتوفی ۳۱۰ھ ہیں جنہیں اہلِ بغداد نے تشیع سے متہم کر کے اپنے قبرستان میں دفن نہ ہونے دیا تھا(3)،گو شیعہ نہیں ہیں؛ تاہم اپنی تاریخ یا تفسیر میں ایسی کچی پکی روایات خوب نقل کر دیتے ہیں جو شیعہ کی موضوع یا مشہور کی ہوئی ہوتی ہیں۔ (4 )

عرب علماء کی رائے:-
معاصر عرب اہل علم حضرات میں سے ڈاکٹر خالد علال کبیر صاحب (5)نے اپنی کتاب ”مدرسة الکذابین في روایة التاریخ الإسلامي و تدوینہ“ میں موٴرخ طبری کے اس مخصوص طرزِ عمل کے بارے میں لکھا ہے کہ
“میرے نزدیک انھوں نے یہ (یعنی تحقیق و تمحیص کے بغیر صرف اسانید کے ساتھ روایات کو نقل کر کے) ایک ناقص کام کیا ہے، اور ان تمام روایات کے وہ خود ذمہ دار ہیں جو انہوں نے اپنی تاریخ میں مدون کی ہیں،پس انہوں نے عمداً دروغ گو راویوں سے بہ کثرت روایات نقل کیں اور ان پر سکوت اختیار کیا، یہ انتہائی خطرناک معاملہ ہے جو بعد میں آنے والی بہت ساری نسلوں کی گمراہی کا سبب بنا، انھیں (طبری) چاہیے تھا کہ وہ ان دروغ گو رایوں کا بغیر ضرورت کے تذکرہ نہ کرتے، یا ان پر نقد کرتے اور ان کی روایات کی جانچ پڑتال کرتے، صرف ان کی اسانید کے ذکر پر اکتفا کر کے سکوت اختیار نہ کرتے۔
نقدِ روایات اس لیے ضروری تھا کہ تاریخِ طبری کا مطالعہ کرنے والوں میں غالب اکثریت ان لوگوں کی ہے جن میں اتنی علمی صلاحیت نہیں ہوتی کہ وہ ان روایات پر سند و متن کے اعتبار سے نقد کرسکیں،اگر اس سے استفادہ کرنے والے صرف حدیث، تاریخ و دیگر علوم میں متبحر ہوتے تو یہ طے شدہ بات تھی کہ وہ نقد و تمحیص کا عمل انجام دیتے۔ (6)
ڈاکٹر صاحب موصوف مزید لکھتے ہیں کہ
” اس معاملہ کو اس سے بھی زیادہ سنگین اس بات نے کردیا کہ طبری کے بعد آنے والے اکثر موٴرخین نے قرونِ ثلاثہ کے بارے میں ان سے بہ کثرت روایات نقل کی ہیں ، جیسا کہ ابن جوزی نے اپنی کتاب ”المنتظم“‘ میں، ابن الاثیر نے ”الکامل“ میں اور ابن کثیر نے ”البدایہ“ میں بغیر سند کے نقل کیا ہے، اور ان حضرات کا اس طرح بغیر سند کے روایات نقل کرنے سے ثقہ اور دروغ گو راویوں کی روایات خلط ملط ہوگئیں ہیں، بسا اوقات تاریخ طبری کی طرف مراجعت کے بغیر ان روایات میں تمیز مستحیل ہوجاتی ہے۔(7)
خود علامہ طبری کا اپنی تاریخ کے مقدمہ میں واضح طور پر لکھا ہے کہ انہوں نے اپنی کتاب میں بغیر نقدو تمحیص کے مختلف فرقوں اور گروہوں کے راویوں کی روایات کو ان کی اسانید کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ ہم قارئین کے اطمینان قلبی کی خاطر علامہ طبری کی وہ پوری عربی عبارت پیش خدمت ہے، جس میں انہوں نے محض سند کے ساتھ بغیر نقد و تمحیص کے روایات ذکر کرنے کا اعتراف کیا ہے:
”فَمَا یَکُنْ فِيْ کِتَابِيْ ھَذا مِنْ خَبَرٍ ذَکَرْناہ عن بَعْضِ الماضِیْنَ مِمَّا یَسْتَنْکِرُہ قَارِیہِ، أو یَسْتَشْنَعُہ سَامِعُہ، مِنْ أَجَلِ أنَّہ لَمْ یَعْرِفْ لَہ وَجْھاً فِي الصِّحَّةِ، وَلاَ مَعْنًی فِي الْحَقِیْقَةِ، فَلِیُعْلَمْ أنَّہ لَمْ یُوٴْتِ فِيْ ذٰلِکَ مِنْ قَبْلِنَا، وَ إنَّمَا مِنْ قِبَلِ بَعْضِ نَاقِلِیْہِ إِلَیْنَا، وَأنّا إنَّما أدَّیْنَا ذلِکَ عَلی نَحْوِمَا أُدِّيَ إلَیْنَا“․(۲۷)
کیا صرف سند کے ساتھ رطب و یابس، غث و سمین اور ثقہ و غیر معتبر ہر طرح کی روایات کا نقل محض کسی بھی ثقہ مصنف کے لیے معقول عذر بن سکتا ہے؟ کیا اس بنیاد پر ثقہ مصنف کی نقل کردہ ہر روایت کو قبول کیا جاسکتا ہے. ؟
حواشی :-
(1) میزان الاعتدال :۳/۴۹۹،لسان المیزان :۵/۱۰۰
(2) فوائدنافعہ:۱/۵۷۔۵۸،دار الکتاب لاہور
(3) معجم الأدباء :۶/۵۱۴
(4) ہزار سوال کا جواب ،ص:۷۹،مرحبا اکیڈمی
(5) موصوف نے جامعة الجزائر سے تاریخ اسلامی میں ڈاکٹریٹ لی ہوئی ہے۔
(6) مدرسة الکذابین في روایة التاریخ الإسلامي و تدوینہ: ۱/۶۷، ۶۸
(7) حوالہٴ سابق

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *