دورِِصحابہ کی تاریخ میں جھوٹ کے بنیادی اسباب

12122528_1688878744682084_7561444090007486560_n

اگر آپ قرون ثلاثہ کی تاریخ کا باریک بینی سے جائزہ لیں گے تو تدوین کے اس زمانہ میں جھوٹ کے ظاہر ہونے کے اسباب و اہداف میں تداخل پائیں گے، بسا اوقات ایک ہی واقعہ میں سبب اور ہدف دو نوں پائے جائیں گے، اگر آپ نفس واقعہ کی طرف دیکھیں گے تو آپ کو اس کا سبب نظر آئے گا؛ لیکن اسی واقعہ پر نتیجہ کے اعتبار سے غور کیا جائے تو اس کی ایک غرض بھی سامنے آئے گی۔ دروغ گوئی کے بعض ایسےواضح اسباب ہیں ، جن کی وجہ سے قرون ثلاثہ کے دوران عام طور سے اور تدوین تاریخ کے وقت خاص طور سے دروغ گوئی نے جڑ پکڑ لی تھی۔
ویسے تو دروغ گوئی کے اسباب کثیر تعداد میں ہیں ، ہم یہاں صرف چنداہم اور بنیادی اسباب کے ذکر پر اکتفا کریں گے۔

1۔سیاسی اختلافات:۔
بنیادی طور پر سیاسی اختلافات ہی وہ اہم سبب ہے جس نے امتِ مسلمہ کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے باہم مقابل فرقوں میں بانٹ کر ایک دوسرے کے خون کا پیا سا بنادیا ، سیاسی اختلافات کی ابتدا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت کے آخری ایام میں ہوئی جس کا سلسلہ بعد کے زمانوں میں مختلف صورت میں جاری رہا۔

2۔فکری اور مذہبی گمراہی:۔
فکری اور مذہبی گمراہی نے اسی سیاسی فتنہ کے بطن سے جنم لیا، اس اندھے سیاسی فتنہ نے فکری اور مذہبی انحراف کو مزید گہرا کر کے نہ صرف اسے بنیاد فراہم کی بلکہ اس کا دفاع کر کے اسے ایک مقدس ، شرعی و مذہبی رنگ دے دیا ۔جیسا کہ صراطِ مستقیم سے انحراف کرنے والے اسلام کی طرف منسوب بہت سارے گمراہ فرقے خوارج و روافض وغیرہ۔ ان کا حال یہی ہے کہ دونوں نے سیاسی فتنہ کے بطن سے جنم لے کر اسی کی گود میں پرورش پائی اور اس کی تائید سے صراط مستقیم سے منحرف ان فرقوں نے ایک مقدس مذہبی رنگ کا لبادہ اوڑھ لیا ، جن کی قداست کے پسِ پردہ امت مسلمہ کو گزشتہ تیرہ صدیوں سے لہو لہان کیا جارہا ہے۔

3۔امراض باطنی:۔
امراض باطنی جیسا کہ کفر ، نفاق،زندقہ، حسد، کینہ ، دنیا کی محبت و حرص وغیرہ یہ وہ اسباب ہیں جنہوں نے بہت سارے لوگوں کو دروغ گوئی، اس میں مہارت و امتیاز حاصل کرنے پر ابھارا اور مجبور کیا، پھر اس کے برے اور زہریلے اثرات میں مزید اضافہ اس وقت ہوا جب ان امراض باطنی اور سیاسی و مذہبی اختلافات میں امتزاج ہوا۔
یہ وہ مرکزی اور گہرے و بنیادی اسباب تھے جنہوں نے ان دروغ گو راویوں کے لیے زمین ہموار کی اور فضاو ماحول کو سازگار بنایا جس کی وجہ سے وہ نہ صرف جھوٹ و دروغ گوئی کی طرف متوجہ ہوئے؛ بلکہ اس میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی سعی نامسعود کی؛ تاکہ اپنے زعمِ باطل کے مطابق اس دروغ گوئی کے سہارے اپنے مذہب کی خدمت، مصالح کے حصول اور شہوات کی تکمیل کرسکیں ۔

4۔مخصوص فکری و مذہبی فرقہ کی تائید و نصرت:۔
دروغ گوئی و کذب کے ظاہر ہونے کے اسباب میں ایک سبب صراط مستقیم سے منحرف رہنے والے مخصوص فکری و مذہبی فرقہ کی تائید و نصرت بھی ہے ، علامہ ذھبی رحمة اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ دروغ گواورکذّاب احمد بن عبداللہ جو یباری فرقہ کرامیہ کی نصرت و دفاع کی خاطر محمد بن کرام کے لیے احادیث گھڑا کرتا تھا اور محمد بن کرام انھیں اپنی کتابوں میں ذکر کرتا تھا۔ .. اس طرح دروغ گو و کذّاب قاضی محمد بن عثمان نصیبی روافض کی تائید و نصرت کی خاطر روایات گھڑاکرتا تھا، اور ابو جارود بن منذر کوفی مثالبِ صحابہ میں روایات وضع کیا کرتا تھا، عبدالرحمن بن خراشی شیعی کابھی یہی وطیرہ تھا، اس نے حضرات شیخین رضی اللہ عنہم کے مزعومہ مثالب میں دو رسالے تحریر کرکے روافض کے ایک بڑے پیشوا کی خدمت میں پیش کیا تو اس نے اسے دو ہزار درھم انعام میں دیے۔
( میزان الاعتدال :۱/۲۴۵،دار لکتب العلمیہ ، الضعفاء لابن الجوزاي: ۳/۸۴، ۴/۳۶۵،دار لکتب العلمیة، لسان المیزان : ۳/۴۴۴ )
! غور فرمائیں کہ مذکورہ بالا تینوں افراد کا ہدف و مقصد وضعِ روایات سے صرف اپنے مخصوص فرقہ کے فکری و اعتقادی افکار کی تائید کے علاوہ کچھ نہیں، یہ لوگ انبیاء کرام کے بعد بالاتفاق خیرالبشر و افضل البشر صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہم کے خلاف زبان درازی اور دلی کینہ کے اظہار کی غرض سے دروغ گوئی کیا کرتے تھے۔
( میزان الاعتدال:۲/۱۷۱)

5۔ترغیب و ترہیب:۔
دروغ گوئی کے اہداف میں ایک ہدف لوگوں کو اپنے فرقہ کی طرف راغب کرنا ، اسکے لیے ان کے دلوں کو نرم کرنا اور اپنے مزعومہ نظریہ کے مطابق لوگوں کو اجر کی امید دلانا اور گناہ سے روکنے کے لیے ترہیب بھی تھا، جیسا کہ بعض جہل گزیدہ نام نہاد صوفیوں نے اس قبیح فعل کا ارتکاب کیا۔

6۔مادی و معاشی فوائد کا حصول:۔
دروغ گوئی کے مرکزی اہداف و اسباب میں ایک بڑا اور بنیادی سبب جاہل عوام کو اپنی طرف مائل کر کے ان سے مادی و معاشی فوائد حاصل کر کے اپنی خواہشات کو پورا کرنا بھی تھا، یہ طرزِ عمل مخصوص گمراہ فرقوں کے علاوہ قصہ گو اور واعظ قسم کے لو گوں نے بھی اختیار کیا تھا، یہ لوگوں کو جھوٹی روایات ، عجیب و غریب اور محیرالعقول قسم کی باتیں گھڑا کرتے اور رلا دینے والے اشعار اور مرثیے سنایا کرتے تاکہ لوگ ان سے متأثر ہو کر ان کی مادی و معاشی ضروریات کی تکمیل میں معاونت کریں۔ آج بھی کچھ فرقوں کے ہاں یہ چیز عام ہے۔ حافظ ابن حجر رحمة اللہ علیہ نے میں لکھا ہے کہ ابراہیم بن فضل اصفہانی (المتوفی ۵۳۰ھ)اصفہان کے بازار میں کھڑے ہو کر اسی وقت اپنی طرف سے احادیث گھڑ کر لوگوں کو سنایا کرتا تھا اور ان روایاتِ کاذبہ کے ساتھ صحیح روایات کی اسانید کو جوڑا کرتا تھا۔ ( لسان المیزان :۱/۱۳،موٴسسة الأعلمي بیروت)

7۔شخصی یا گروہی مفادات:۔
ایک سبب اپنے شخصی یا گروہی مفاد کے لیے بعض برگزیداور بڑے لوگوں کی مدح یا مذمت میں روایات وضع کرنا بھی تھا، علامہ ذہبی نے امام مازری کے حوالہ سے لکھا ہے کہ نعیم بن حماد امام اعظم ابو حنیفہ رحمة اللہ علیہ کے مثالب میں جھوٹی روایات و ضع کیا کرتا تھا،
علامہ ذہبی ہی نے لکھا ہے کہ احمد بن عبداللہ جو یباری نے امام ابو حنیفہ رحمة اللہ علیہ کی مدح میں ایک روایت وضع کی تھی۔
(میزان الاعتدال :۷/۴ ، میزان الاعتدال :۲۴۵۱)

ان تمام اسباب و اہداف میں غور و فکر سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ کذب و دروغ گوئی کے پھلنے اور پھولنے کی بنیاد تو ان دروغ گوراویوں کے باطنی امراض کے سبب وجود پذیر ہوئی ؛ لیکن سیاسی ، گروہی اور مادی و معاشی عوامل نے اس کی گہرائی و نشاط میں اضافہ کر کے اسے مزید سہ آتشہ بنایا۔

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *