كيا رحمن اور رحيم ہونے كا يہ تقاضا نہيں كہ پیدا ہی نہ كیا جاتا يا امتحان نہ ليا جاتا؟

4

شبہ نمبر 6: كيا رحمن اور رحيم ہونے كا يہ تقاضا نہيں كہ تخلیق نہ كی جاتی يا امتحان نہ ليا جاتا؟ آخر خدا کی پیدا کردہ اس صورتحال كی قيمت ناکامی کی صورت میں إنسان كو ادا كرنی ہے خدا كو نہيں۔
تبصرہ:
یہاں گفتگو کے تین پہلو ہیں۔
اولا یہ کہ امتحان لینا کس چیز کا اظہار ہے،
ثانیا تصور رحمت کا تقاضا کیا ہے،
ثالثا انسان کا اسکے انجام کے ساتھ کیا تعلق ہے۔
یہاں اختصار سے ان پر گفتگو کی جاتی ہے۔
یہاں یہ اصولی بات ذھن نشین رہنی چاہئے کہ اس پوری گفتگو میں خدا کی صفات کو زیر بحث لانا صرف خدا کی صفات کا ذکر کرنے کی غرض سے نہیں ہے بلکہ کائنات کا انکے ساتھ ربط بیان کرنے کیلئے ہے۔
چنانچہ پہلے پہلو پر یہ عرض ہے کہ اگر امتحان نہ ہو تو خدا کی خود اپنی بتائی ہوئی بہت سی صفات (مثلا حق، عادل، غفور، منتقم وغیرہم) کا اظہار نہ ہوگا۔ پس یہ امتحان اور حق و باطل کی کشمکش انہی صفات کا اظہار ہے۔
دوسرے پہلو کی تفصیل یہ ہے کہ خدا صرف رحمان ہی نہیں بلکہ حق، عادل وغیرہ بھی ہے، لہذا صرف صفت رحمت کو ریفرنس پوائنٹ بنا کر خدا کے فیصلوں پر حکم لگانے کا مطلب یہ ہوا کہ ہم خدا کی دیگر تمام صفات کو معطل کرکے اسے صرف ایک ہی صفت میں محدود کردیں، ظاہر ہے خدا کی یہ ڈسکرپشن خود اسکی اپنی بتائی ہوئی ڈسکرپشن کے خلاف ہے۔ اس ضمن میں یہ بات بھی درست نہیں کہ رحمت کا تقاضا امتحان نہ لینا ھے کیونکہ یہ بات اتنی ہی قوت کے ساتھ اسکے برعکس بھی کہی جاسکتی ھے، یعنی امتحان دینے والے کو جو sense of achievement ملتی ھے نیز نعمت کے حصول پر استحقاق کی کیفیت نیز دوسروں پر سبقت لیجانے کے سبب جو کیفیات پیدا ھوتی ھے وغیرہ وہ بغیر امتحان ممکن نہیں۔ پس یہ کہنا کہ ‘امتحان نہ لینا صفت رحمت کا تقاضا ھے’ ایک غلط بات ھے (سمجھنے کیلئے اس کی مثال یوں ھے کہ بظاھر ایسا تقاضا لگتا ھے کہ استاد کمرہ امتحان میں طالب علم کو جواب خود لکھوا دے تو شاید یہ رحمت ھوگی مگر ظاھر ھے اسے کوئی بھی رحمت کا تقاضا نہیں سمجھتا)۔ چنانچہ اس اعتراض میں رحمت کا اپنی طرف سے ایک تصور قائم کرکے خدا کو اس پر فٹ کرنے کی کوشش کی جارہی ھے، خدا کے رحمان ھونے کا معنی کیا ھے یہ خود خدا بتائے گا۔
تیسرے پہلو کی بابت یہ عرض ھے کہ خدا خالق، صمد، فعال لما یرید اور رحمان ھونے کے ساتھ ساتھ عادل بھی ھے (اور خدا یہ سب کچھ ایک ساتھ ھے، بغیر کسی تضاد کے)۔ پس اسکی صفت عدل کا تقاضا ھے کہ آخرت میں جو انسان جو بھی قیمت ادا کرے گا اس میں خود اسکے اختیار کے استعمال کا بھی عمل دخل شامل ھوگا جیسا کہ اسنے بتایا۔
اب رہ گئی یہ بحث کہ کس قدر اختیار ھے اور کس قدر نہیں تو اس پر بہت کچھ لکھا گیا (متکلمین نے یہاں خلق اور کسب کے فرق بیان کرنے کی کوششیں کیں)، مگر اصولی بات یہ ھے کہ ھم نے یہ کبھی دعوی نہیں کیا کہ ھم جبر و قدر کی اس گھتی کو پوری طرح سلجھا دیں گے، یعنی خدا کی مشیت و علم کا خدا کے عدل کے ساتھ گوں نا گوں کیسا تعلق ھے یہ پوری طرح عقل کی گرفت میں لانا ممکن نہیں (اور نفس مسئلہ یہ نہیں کہ انسان ان مابعدالطبعیاتی سوالات کا جواب صرف خدا کے حوالے سے نہیں دے سکتا بلکہ حقیقت یہ ھے ان سوالات کا جواب وہ کسی بھی حقیقت اولی کے بارے میں حتمی طور پر نہیں دے سکتا، اور تو اور انسان مشاھدے میں آنے والی اس مادی دنیا کے بارے میں بھی بہت سے ایسے سوالات کا شافی جواب نہیں دے سکتا جو نبی اسے بتا دیتا ھے)۔ اسی لئے کہا گیا کہ خدا کو بس اتنا ہی سمجھنا ممکن ھے جتنا خود اس نے اپنے بارے میں بتایا، اس سے زیادہ خدا کےبارے میں کوئی رائے قائم کرنا بے محل ٹامک ٹوئیاں مارنا ھے۔ خدا نے آخرت کی کامیابی کو ان گھتیوں کو سلجھانے سے مشروط نہیں کیا۔
اس سب پر گھما پھرا کر یہی اعتراض کیا جاسکتا ہے کہ خدا یہ سب کیوں کررھا ھے (یا خدا ایسا کیوں ھے)؟ مگر اس کا جواب اوپر عرض کیا جا چکا کہ خدا پر ”کیوں” (مقصدیت) کا سوال اٹھانا خدا کی صمدیت کا انکار کرنا ھے۔ پس خود میری عقل مجھے بتاتی ھے کہ جس ھستی کو خدا کہا جاتا ھے اس پر کیوں کا سوال ہی غیر متعلق و غیر عقلی ھے۔ خدا پر کیوں کا سوال اٹھانا ایک rational category mistake ھے (یعنی ایک ایسے محل پر ایک چیز کو اپلائی کرنا ھے جو اسکا محل ھے ہی نہیں)۔

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *