مسئلہ آخرت- عقلی استدلالات

10

عقلی استدلال کے لیے ہمارے پاس کیا مواد موجود ہے؟ ہمارے سامنے ایک تو خود انسان ہے، اور دوسرے یہ نظامِ کائنات۔ ہم انسان کو اس نظام کائنات کے اندر رکھ کر دیکھیں گے کہ جو کچھ انسان میں ہے آیا اس کے سارے مقتضیات اس نظام میں پورے ہو جاتے ہیں یا کوئی چیز بچی رہ جاتی ہے جس کے لیے کسی دوسری نوعیت کے نظام کی ضرورت ہو۔؟
دیکھیے، انسان ایک تو جسم رکھتا ہے، جو بہت سے معدنیات، نمکیات، پانی اور گیسوں کا مجموعہ ہے۔ اس کے جواب میں کائنات کےاندر بھی مٹی، پتھر، دھاتیں، نمک، گیسیں، دریا اور اسی جنس کی دوسری چیزیں موجود ہیں۔ ان چیزوں کو کام کرنے کے لیے جتنے قوانین کی ضرورت ہے وہ سب کائنات کے اندر کارفرما ہیں، اور جس طرح وہ باہر کی فضا میں پہاڑوں، دریاؤں اور ہواؤں کو اپنے حصے کا کام پورا کرنے کا موقع دے رہے ہیں، اسی طرح انسانی جسم کو بھی ان قوانین کے تحت کام کرنے کا موقع حاصل ہے۔
پھر انسان ایک ایسا وجود ہے جو گردوپیش کی چیزوں سے غذا لے کر بڑھتا اور نشوونما حاصل کرتا ہے۔ اسی جنس کے درخت، پودے اور گھاس پھونس کائنات میں بھی موجود ہیں، اور وہ قوانین بھی یہاں پائے جاتے ہیں جو نشوونما پانے والے اجسام کے لیے درکار ہیں۔
پھر انسان ایک زندہ وجود ہے جو اپنے ارادے سے حرکت کرتا ہے، اپنی غذا خود اپنی کوشش سے فراہم کرتا ہے، اپنے نفس کی آپ حفاظت کرتا ہے، اور اپنی نوع کو باقی رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ کائنات میں اس جنس کی بھی دوسری بہت سے قسمیں موجود ہیں۔ خشکی، تری، اور ہوا میں بے شمار حیوانات پائے جاتے ہیں۔ اور وہ قوانین بھی تمام و کمال یہاں کارفرما ہیں جو ان زندہ ہستیوں کے پورے دائرہ عمل پر حاوی ہونے کے لیے کافی ہیں۔
ان سب سے اوپر انسان ایک اور نوعیت کا وجود بھی رکھتا ہے جس کو ہم اخلاقی وجود کہتے ہیں۔ اس کے اندر نیکی اور بدی کرنے کا شعور ہے، نیک اور بد کی تمیز ہے، نیکی اور بدی کرنے کی قوت ہے، اور ا س کی فطرت یہ مطالبہ کرتی ہے کہ نیکی کا اچھا اور بدی کا برا نتیجہ ظاہر ہو۔ وہ ظلم اور انصاف، سچائی اور جھوٹ، حق اور ناحق، رحم اور بے رحمی، احسان اور احسان فراموشی، فیاضی اور بخل، امانت اور خیانت اور اسی ہی مختلف اخلاقی صفات کے درمیان فرق کرتا ہے۔ یہ صفات عملًا اس کی زندگی میں پائی جاتی ہیں اور یہ محض خیالی چیزیں نہیں ہیں بلکہ بالفعل ان کے اثرات انسانی تمدن پر مرتب ہوتے ہیں۔ لہٰذا انسان جس فطرت پر پیدا ہوا ہے اس کا شدت کے ساتھ یہ تقاضا ہے کہ جس طرح اس کے افعال کے طبعی نتائج رونما ہوتے ہیں اسی طرح اخلاقی نتائج بھی رونما ہوں۔
مگر نظام کائنات پر گہری نگاہ ڈال کر دیکھیے، کیا اس نظام میں انسانی افعال کے اخلاقی نتائج پوری طرح رونما ہو سکتے ہیں؟؟؟
میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ یہاں اس کا امکان نہیں ہے، اس لیے کہ یہاں کم از کم ہمارے علم کی حد تک کوئی دوسری مخلوق ایسی نہیں پائی جاتی جو اخلاقی وجود رکھتی ہو۔ سارا نظام کائنات طبعی قوانین کے ماتحت چل رہا ہے۔ اخلاقی قوانین اس میں کسی طرف کارفرما نظر نہیں آتے۔
یہاں روپے میں وزن اور قیمت ہے، مگر سچائی میں نہ وزن ہے نہ قیمت۔
یہاں آم کی گٹھلی سے ہمیشہ آم پیدا ہوتا ہے، مگر حق پرستی کا بیج بونے والے پر کبھی پھولوں کی بارش ہوتی ہے اور کبھی بلکہ اکثر جوتیوں کی۔
یہاں مادی عناصر کے لیے مقرر قوانین ہیں جن کے مطابق ہمیشہ مقرر نتائج نکلتے ہیں مگر اخلاقی عناصر کے لیے کوئی مقرر قانون نہیں ہے کہ ان کی فعلیت سے ہمیشہ مقرر نتیجہ نکل سکے۔
طبعی قوانین کی فرماں روائی کے سبب سے اخلاقی نتائج کبھی تو نکل ہی نہیں سکتے، کبھی نکلتے ہیں تو صرف اس حد تک جس کی اجازت طبعی قوانین دے دیں، اور بارہا ایسا بھی ہوتا ہے کہ اخلاق ایک فعل سےایک خاص نتیجہ نکلنے کا تقاضا کرتا ہے، مگر طبعی قوانین کے مداخلت سے نتیجہ بالکل برعکس نکل آتا ہے۔
انسان نے خود اپنے تمدنی و سیاسی نظام کے ذریعے سے تھوڑی سی کوشش اس امر کی کی ہے کہ انسانی اعمال کے اخلاقی نتائج ایک مقرر ضابطے کے مطابق برآمد ہو سکیں۔ مگر یہ کوشش بہت محدود پیمانے پر ہے اور بے حد ناقص ہے۔ ایک طرف طبعی قوانین اس کو محدود اور ناقص بتاتے ہیں، اور دوسری طرف انسان کی اپنی بہت سی کمزویاں اس انتظام کے نقائص میں اور زیادہ اضافہ کر دیتی ہیں۔

نیکی اور بدی کا بدلہ کب اور کیسے؟

ایک شخص اگر کسی دوسرے شخص کا دشمن ہو اور اس کے گھر میں آگ لگا دے تو اس کا گھر جل جائے گا۔ یہ اس کے فعل کا طبعی نتیجہ ہے۔ اس کا اخلاقی نتیجہ یہ ہونا چاہیے کہ اس شخص کو اتنی ہی سزا ملے جتنا اس نے ایک خاندان کو نقصان پہنچایا ہے۔ مگر اس نتیجے کا ظاہر ہونا اس بات پر موقوف ہے کہ آگ لگانے والے کا سراغ ملے، وہ پولیس کے ہاتھ آ سکے، اس پر جرم ثابت ہو، عدالت پوری طرح اندازہ کر سکے کہ آگ لگنے سے اس خاندان کو اور اس کی آئندہ نسلوں کو ٹھیک ٹھیک کتنا نقصان پہنچا ہے، اور پھر انصاف کے ساتھ اس مجرم کو اتنی ہی سزا دے۔ اگر ان شرطوں میں سے کوئی شرط بھی پوری نہ ہوتی ہو تو اخلاقی نتیجہ یا تو بالکل ہی ظاہر نہ ہو گا یا اس کا صرف ایک تھوڑا حصہ ظاہر ہو کر رہ جائیگا۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ اپنے حریف کو برباد کر کے وہ شخص دنیا میں مزے سے پھلتا پھولتا رہے۔
اس سے بڑے پیمانے پر ایک اور مثال لیجیے۔ چند اشخاص اپنی قوم میں اثر پیدا کر لیتے ہیں اور ساری قوم ان کے کہے پر چلنے لگتی ہے اس پوزیشن سے فائدہ اٹھا کر وہ لوگوں میں قوم پرستی کا اشتعال اور ملک گیری کا جذبہ پیدا کرتے ہیں۔ گردوپیش کی قوموں سے جنگ چھیڑ دیتے ہیں، لاکھ ہا آدمیوں کو ہلاک کرتے ہیں، ملک کے ملک تباہ کر ڈالتے ہیں اور کروڑوں انسانوں کو ذلیل اور پست زندگی گزارنے پر مجبور کرتے ہیں۔ انسانی تاریخ پر اُن کی اِن کاروائیوں کا ایسا زبردست اثر پڑتا ہےجس کا سلسلہ آئندہ سینکڑوں برس تک پشت در پشت اور نسل در نسل پھیلتا چلا جائے گا۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ چند اشخاص جس جرم عظیم کے مرتکب ہوئے ہیں اس کی مناسب اور منصفانہ سزا ان کو کبھی اس دنیوی زندگی میں مل سکتی ہے؟ ؟؟ظاہر ہے کہ اگر ان کی بوٹیاں بھی نوچ ڈالی جائیں، اگر ان کو زندہ جلا ڈالا جائے یا کوئی اور ایسی سزا دی جائے جو انسان کے بس میں ہے تب بھی کسی طرح وہ اس نقصان کے برابر سزا نہیں پا سکتے جو انہوں نے کروڑوں انسانوں کو اور ان کی آئندہ بے شمار نسلوں کو پہنچایا ہے۔ موجودہ نظام کائنات جن طبعی قوانین پر چل رہا ہے ان کے تحت کسی طرح یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ اپنے جرم کے برابر سزا پا سکیں۔

نیکی کی مثال
اسی طرح ان نیک انسانوں کو لیجیے جنہوں نے نوع انسانی کو حق اور راستی کی تعلیم دی اور ہدایت کی روشنی دکھائی، جن کے فیض سے بےشمار انسانی نسلیں صدیوں سے فائدہ اٹھا رہی ہیں اور نہ معلوم آئندہ کتنی صدیوں تک اٹھاتی چلی جائیں گے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ ایسے لوگوں کی خدمات کا پورا صلہ ان کو اس دنیا میں مل سکے؟ کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ موجودہ طبعی قوانین کی حدود کے اندر ایک شخص اپنے اس عمل کا پورا صلہ حاصل کر سکتا ہے جس کا ردعمل اس کے مرنے کے بعد ہزاروں برس تک اور بے شمار انسانوں تک پھیل گیا ہو؟؟؟
جیسا کہ میں ابھی بیان کر چکا ہوں، اول تو موجودہ نظام کائنات جن قوانین پر چل رہا ہے ان کے اندر اتنی گنجائش ہی نہیں ہے کہ انسانی افعال کے اخلاقی نتائج پوری طرح مرتب ہو سکیں، دوسرے یہاں چند سال کی زندگی میں انسان جو عمل بھی کرتا ہے اس کے ردعمل کا سلسلہ اتنا وسیع ہوتا ہے اور اتنی مدت تک جاری رہتا ہے کہ صرف اسی کے پورے نتائج وصول کرنے کے لیے ہزاروں بلکہ لاکھوں برس کی زندگی درکار ہے، اور موجودہ قوانین قدرت کے ماتحت انسان کو اتنی زندگی ملنی ناممکن ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ انسانی ہستی کے خاکی، عضوی اور حیوانی عناصر کے لیے تو موجودہ طبعی دنیا (Physical World) اور اس کے طبعی قوانین کافی ہیں، مگر اس کے اخلاقی عنصر کے لیے یہ دنیا بالکل ناکافی ہے۔ اس کےلیے ایک دوسرا نظام عالم درکار ہے جس میں حکمران قانون (Covering law)اخلاق کا قانون ہو اور طبعی قوانین اس کے ماتحت محض مددگار کی حیثیت سے کام کریں۔ جس میں زندگی محدود نہ ہو بلکہ غیر محدود ہو۔ جس میں وہ تمام اخلاقی نتائج جو یہاں مترتب ہونے سے رہ گئے ہوں، یا الٹے مترتب ہوئے ہوں، اپنی صحیح صورت میں پوری طرح مترتب ہو سکیں۔ جہاں سونے اور چاندی کے بجائے نیکی اور صداقت میں وزن اور قیمت ہو۔ جہاں آگ صرف اس چیز کو جلائے جو اخلاقًا جلنے کی مستحق ہو، جہاں عیش اس کو ملے جو نیک ہو اور مصیبت اس کے حصے میں آئے جو بد ہو۔ عقل چاہتی ہے، فطرت مطالبہ کرتی ہے کہ ایک ایسا نظامِ عالم ضرور ہونا چاہیے۔

وحی کی روشنی
جہاں تک عقلی استدلال کا تعلق ہے وہ ہم کو صرف “ہونا چاہیے” کی حد تک لے جا کر چھوڑ دیتا ہے۔ اب رہا یہ سوال کہ آیا واقعی کوئی ایسا عالم ہے بھی، تو ہماری عقل اور ہمارا علم دونوں اس کا حکم لگانے سے عاجز ہیں۔ یہاں قرآن ہماری مدد کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ تمہاری عقل اور تمہاری فطرت جس چیز کا مطالبہ کرتی ہے فی الواقع وہ ہونے والی ہے۔ موجودہ نظامِ عالم جو طبعی قوانین پر بنا ہے ایک وقت میں توڑ ڈالا جائے گا۔ اس کے بعد ایک دوسرا نظام بنے گا جس میں زمین و آسمان اور ساری چیزیں ایک دوسرے ڈھنگ پر ہوں گی۔ پھر اللہ تعالیٰ تمام انسانوں کو جو ابتدائے آفرینش سے قیامت تک پیدا ہوئے تھے دوبارہ پیدا کر دے گا، اور بیک وقت ان سب کو اپنے سامنے جمع کرے گا۔ وہاں ایک ایک شخص کا، ایک اک قوم کا اور پوری انسانیت کا ریکارڈ ہر غلطی اور ہر فرگذاشت کے بغیر محفوظ ہو گا۔ ہر شخص کے ایک ایک عمل کا جتنا ردعمل دنیا میں ہوا ہے ا س کی پوری روداد موجود ہو گی۔ وہ تمام نسلیں گواہوں کے کٹہرے میں حاضر ہوں گی جو اس ردعمل سے متاثر ہوئیں۔ ایک ایک ذرہ جس پر انسان کے اقوال اور افعال کے نقوش ثبت ہوئے تھے اپنی داستان سنائے گا۔ خود انسان کے ہاتھ اور پاؤں اور آنکھ اور زبان اور تمام اعضاء شہادت دیں گے کہ ان سے اس نے کس طرح کام لیا۔ پھر اس روداد پر وہ سب سے بڑا حاکم پورے انصاف کے ساتھ فیصلہ کرے گا کہ کون کتنے انعام کا مستحق ہے اور کون کتنی سزا کا۔
انعام اوریہ سزا دونوں چیزیں اتنے بڑے پیمانے پر ہوں گی جس کا کائی اندازہ موجودہ نظامِ عالم کی محدود مقداروں کے لحاظ سے نہیں کیا جا سکتا۔ وہاں وقت اور جگہ کے معیار کچھ اور ہوں گے۔ وہاں کی مقداریں کچھ اور ہوں گی۔ وہاں کے قوانین قدرت کسی اور قسم کے ہوں گے۔ انسان کی جن نیکیون کے اثرات دنیا میں ہزاروں برس چلتے رہے ہیں، وہاں وہ ان کا بھرپور صلہ وصول کر سکے گا بغیر اس کے کہ موت اور بیماری اور بڑھاپا اس کے عیش کا سلسلہ توڑ سکیں۔ اور اسی طرح انسانوں کی جن برائیوں کے اثرات دنیا میں ہزار ہا برس تک اور بے شمار انسانوں تک پھیلتے رہے، وہ ان کی پوری سزا بھگتے گا، بغیر اس کے کہ موت اور بے ہوشی آ کر اسے تکلیف سے بچا سکے۔
ایسی ایک زندگی اور ایسے ایک عالم کو جو لوگ ناممکن سمجھتے ہیں، مجھے ان کے ذہن کی تنگی پر ترس آتا ہے۔ اگر ہمارے موجودہ عالم کا موجودہ قوانین قدرت کے ساتھ موجود ہونا ممکن ہے تو آخر ایک دوسرےنظامِ عالم کا دوسرے قوانین کے ساتھ وجود میں آنا کیوں ناممکن ہوا؟ البتہ یہ بات کہ واقع میں ایسا ضرور ہو گا، تو اس کا یقین نہ دلیل سے ہو سکتا ہے اور نہ علمی ثبوت سے۔ اس کے لیے ایمان بالغیب کی ضرورت ہے۔
(“مستفاد ازاسلامی نظام زندگی اور اس کے بنیادی تصورات” از مودودی صاحبؒ)

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *