اعتراض: عورت کا وراثت میں حصہ آدھا کیوں ہے؟

5

اعتراض :ذرا قرآن کھول کے سورہ النِسا پڑھو صاف لکھا ہےعورت کو وراثت میں سے آدھا حصّہ ملے گا ۔۔ ( یعنی بھائی کو دو تو بہن کو ایک )
جواب :
شريعت اسلاميہ کے ایک اسلامی خاندان کے متعلق باقی تمام احکامات کو سامنے نا رکھنا اس سطحی اعتراض کی ایک وجہ ہے۔
شریعت نے اگر عورت كو وراثت ميں مرد سے نصف حصہ ديا ہے، اس سے پہلے مرد پر عورت کے تمام اخراجات کی ذمہ داری بھی لگائی ہے ، عورت اگر والدین کے گھر ہے تو بھی اور اگر شادی شدہ ہے تو بھی، نہ تو اپنے خرچ كى مكلف ہے، نہ ہى گھر اور اپنى اولاد كے کسی خرچ كى، اس كا مكلف مرد ہے ۔ ۔۔!
ان اخراجات کے علاوہ مرد كو مختلف قسم كے مصائب ، مشکلات ، جنازے، شادیاں ، ديت اور، صلح وغيرہ كے امور بھى سرانجام دينا ہوتے ہيں، اس لیے یہاں اسکا حصہ ذیادہ رکھا گیا۔ ۔
پھر بات یہاں تک ختم نہیں ہوتی ۔۔ یہ تو والد کی جائیداد میں حصہ تھا۔ ۔آگے سورہ النِسا میں یہ بھی لکھا ہے کہ ” بیوی کا میاں کی جائیداد میں بھی حق ہے ” !!
یعنی ایک عورت کو قرآن باپ کی جائیداد سے بھی حصہ دے رہا ہے اور میاں کی جائیداد سے بھی ۔۔۔ اسلام عورت کی حق تلفی کہاں کر رہا ہے؟؟؟
حق تلفی اسلام نہیں آپ کررہے ہیں آپکا سماج کررہا ہے۔۔۔باپ بھائی حصّہ نہیں دیتے ۔۔ یہ کہہ کر بیٹی کو چپ کرا دیتے ہیں کہ “جہیز دے دیا اب بخش دئے ” ۔۔۔لڑکی شادی کر کے سُسرال آتی ہے تو شوہر نہیں دیتا۔۔
اعتراض اسلام پر نہیں سماج اور افراد پر بنتا ہے۔

فیس بک تبصرے

اعتراض: عورت کا وراثت میں حصہ آدھا کیوں ہے؟“ ایک تبصرہ

  1. بہت خوب ، ماشاٗء اللہ ، اللہ آپ کو استقامت دے ۔ امین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *