اعتراض: عیسائی سے مسلمان ہونے پر سزا نہیں مسلمان سے عیسائی ہونے پر کیوں ؟

11855782_1668102943426331_7676008000033265825_n

کچھ لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اگر دوسرے مذاہب کے پیروکار اپنا آبائی مذہب چھوڑکر مسلمان ہوسکتے ہیں‘ تو ایک مسلمان اپنا مذہب تبدیل کیوں نہیں کرسکتا؟ اگر کسی یہودی اور عیسائی کے مسلمان ہونے پر قتل کی سزا لاگو نہیں ہوتی تو ایک مسلمان کے یہودیت یا عیسائیت قبول کرنے پر اسے کیوں واجب القتل قرار دیا جاتا ہے؟

جواب: اصولی طور پر ہم اس سوال کا جواب دینے کے مکلف نہیں ہیں‘ یہ انکا معاملہ ہے وہ سزا دیں یا نا دیں۔ لیکن عام طور پر اس سوال کو اس رنگ آمیزی سے پیش کیا جاتا ہے کہ ایک سیدھا سادا مسلمان نہ صرف اس سے متاثر ہوتا ہے‘ بلکہ سزائے ارتداد کوغیر معقول و غیر منطقی اور آزادی اظہار رائے و آزادی مذہب کے خلاف سمجھنے لگتا ہے‘ اس لئے ضرورت ہے کہ اس مغالطہ کے جواب میں بھی چند معروضات پیش کردی جائیں:

1. غور کیا جائے تو دونوں رویوں میں بظاہر جو تناقص نظر آتا ہے،فی الواقع وہ نہیں ہے۔بلکہ اگر دونوں باتوں میں ایک ہی رویّہ اختیار کیا جاتا تو البتہ تناقص ہوتا۔اسلام اپنے آپ کو حق کہتا ہے اور بالکل خلوص کے ساتھ حق ہی سمجھتا ہےاس لئے وہ حق کی طرف آنے والے اور حق سے منہ موڑ کر واپس جانے والے کو مساوی مرتبہ پر ہرگز نہیں رکھ سکتا۔حق کی طرف آنے والے کا یہ حق ہے کہ وہ اس کی طرف آئے اور جو اس کی راہ میں مزاحمت کرتا ہےوہ مذمت کا مستحق ہے اور حق سے واپس جانے والے کے لئے یہ حق نہیں ہے کہ جانتے بوجھتے حق کا انکار کرے اور واپس جائے اور جو اس کی راہ روکتا ہے وہ مذمت کا مستحق نہیں ہے۔تناقص اس رویہ میں نہیں ہے،البتہ اگر اسلام اپنے آپ کو حق بھی کہتا اور ساتھ ہی اپنی طرف آنے والے اور اپنے سے منہ موڑ کر جانے والے کو ایک ہی مرتبہ میں رکھتا تو بلاشبہ یہ ایک تناقض طرزعمل ہوتا ۔

2. سابقہ انبیائے کرام علیہم السلام کے ادیان اور ان کی شریعتیں اسلام کے آنے کے بعد منسوخ ہوچکی ہیں۔ اس کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے کسی ملک کے قانون میں ترمیم کردی جائے یا اس کو سرے سے منسوخ کردیا جائے اور اس کی جگہ دوسرا جدید آئین و قانون نافذ کردیا جائے‘ اب اگر کوئی عقل مند اس نئے آئین و قانون کی بجائے منسوخ شدہ دستور و قانون پر عمل کرتے ہوئے نئے قانون کی مخالفت کرے‘ تو اسے قانون شکن کہا جائے گا یا قانون کا محافظ و پاسبان؟
اگر کسی ملک کا سربراہ ایسے عقل مند کو رائج و نافذ جدید آئین و قانون کی مخالفت اور اس سے بغاوت کی پاداش میں باغی قرار دے کر اُسے بغاوت کی سزا دے‘ تو اس کا یہ فعل ظلم و تعدی ہوگا یا عدل و انصاف؟
کیا ایسے موقع پر کسی عقل مند کو یہ کہنے کا جواز ہوگا کہ اگر جدید آئین و قانون کو چھوڑنا بغاوت ہے تو منسوخ شدہ آئین و قانون کو چھوڑنا کیونکر بغاوت نہیں؟
اگر جدید آئین سے بغاوت کی سزا موت ہے تو قدیم و منسوخ شدہ آئین کی مخالفت پر سزائے موت کیونکر نہیں؟

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *