پیغمبر اسلام ﷺکی زندگی کا مطالعہ کیوں کیا جاۓ؟

11

انسانی زندگی دو عظیم شعبوں میں تقسیم ہے. ایک مادی جب کہ دوسرا روحانی ہے.ان دونوں شعبوں میں ہم آہنگی اور توازن پیدا کرنے کے لیے ایسی حیات مبارکہ کی عملی مثال دینا ہوگی جو فانی انسانوں کی رہنمائی کے لیے ایک مثالی نمونہ ہو. تاریخ نے ایسے لا تعداد بادشاہوں، دانشوروں، ولیوں اور دوسرے ممتاز راہنماؤں کا ریکارڈ پیش کیا ہے جن کی زندگیاں ہمارے لیے بہترین قابل عمل مثالیں ہیں. پھر آنحضرت محمّد مصطفیٰ صلی الله علیہ وسلم کی حیات طیبہ کا مطالعہ کیوں کیا جاۓ جو کہ انسانوں کی طرح ١٤٠٠ سال قبل اس دارفانی سے کوچ فرما گئے اور اس دوران سائنس کی قابل قدر ترقی کے ساتھ ساتھ ہمارے حالات اور زندگی کے بارے میں ہمارے نظریات میں ٹھوس تبدیلیاں آ چکی ہیں؟

ایک مسلمان کے لیے اس کا جواب انتہائی سادہ ہے کہ وہ اس وقت مسلمان نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے رہبرو رہنما حضرت محمّد مصطفیٰ صلی الله علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ کی پیروی نہ کرے. لیکن وہ افراد جو ابھی تک نبی آخرالزماں حضرت محمّد مصطفیٰ صلی الله علیہ وسلم کی سیرت ( سوانح حیات) کی تفصیلات سے آگاہ وآشنا نہیں ہیں ان کے لیے چند حقائق کی یاددہانی اہمیت کی حامل ہے.

(الف) محمد رسول صلی الله علیہ وسلم کی تعلیمات آئندہ آنے والی نسلوں کے لیے آپ صلی الله علیہ وسلم کی اپنی نگرانی میں انتہائی قابل اعتماد انداز میں محفوظ کرنے کی خاطر تحریر میں لائی گئیں. دوسرے مختلف بڑے مذاہب کے بانیوں میں سے صرف حضرت محمد مصطفیٰ صلی الله علیہ وسلم کی ذات پاک نے خوش بخت نظریہ کے تحت وقتا فوقتا رب تعالیٰ جل شانہ، کی جانب سے وحی اور احکامات کو نہ صرف اپنی صحبت کے افراد تک پہنچایا بلکہ اپنے کاتبوں کو لکھوایا اور یہ کہ اس کے کئی نسخے اپنے پیروکاروں تک پہنچانے کا محتاط و محفوظ انتظام فرمایا. جہاں آپ صلی الله علیہ وسلم کی تعلیمات کے تحفظ کا تعلق ہے یہ مسلمانوں کا مذہبی فریضہ بن گیا کہ وہ رب تعالیٰ جل شانہ، کی جانب سے نازل ہونے والے کلام کے مختلف حصّوں ( اقتباسات) کو اپنی نمازوں میں تلاوت کریں. اس طرح اس متبرک کلام کا زبانی یاد کرنا لازم ہو گیا. یہ روایت بغیر کسی رکاوٹ کے جاری و ساری رہی کہ رب کائنات کے کلام قرآن الحکیم کے تحریر شدہ نسخے محفوظ رکھے جائیں دوسرا یہ کہ انہیں زبانی حفظ کیا جاۓ. یہ دونوں طریقے الله تبارک وتعالیٰ کے کلام کی اصلی زبان میں مستند و معتبر ترسیل و تفسیر میں ایک دوسرے کے مددگر ثابت ہوئے. قرآن الحکیم اپنے مواد کے اعتبار سے “عہد نامہ قدیم ” کی پہلی پانچ کتابوں مع ” عہد نامہ جدید” کی پہلی چار کتابوں سے بھی زیادہ عظیم ہے. چناچہ اس امر میں حیرت و حیرانی کی کوئی بات نہیں کہ قرآن الحکیم میں تمام شعبہ ہائے حیات کے بارے میں ہدایات موجود ہیں.

(ب) پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰ صلی الله علیہ وسلم، رب تعالیٰ جل شانہ، کے نبی اور رسول کا عزاز حاصل کرنے پر اپنی اجارہ داری کا اعلان نہیں فرماتے بلکہ اس کے برعکس آپ صلی الله علیہ وسلم اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ آپ صلی الله علیہ وسلم سے پہلے الله تبارک وتعالیٰ نے تمام قوموں کے لیے پیغمبر بھیجے. آپ صلی الله علیہ وسلم نے ان میں سے چند کے نام بھی لیے ہیں جیسا کہ حضرت آدم علیہ السلام، حضرت نوح علیہ السلام ، حضرت ادریس علیہ السلام، حضرت ابراہیم علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام ، حضرت داؤد علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام. آپ صلی الله علیہ وسلم نے بتایا کہ جن پیغمبروں کے آپ صلی الله علیہ وسلم نے نام لیے ہیں ان کے علاوہ اور بھی کئی پیغمبر ہیں. آپ صلی الله علیہ وسلم محض یہ دعویٰ فرماتے ہیں کہ آپ صلی الله علیہ وسلم حقانیت و وحدانیت کی بحالی کا کردار ادا کرنے آئے ہیں. آپ صلی الله علیہ وسلم سابقہ پیغمبروں کی تعلیمات کا احیاء چاہتے ہیں جو کہ حضرت آدم علیہ السلام و حضرت حوا کے جانشینوں کی بدقسمت تاریخ کے دوران جنگوں اور انقلابات کے ذریعے بے قدری و تنزلی کا شکار ہوئیں. محمد رسول صلی الله علیہ وسلم کی خوش قسمت و مقدّس یادداشت کی بہت مضبوط و مستحکم اور غیر مصالحانہ توثیق و تصدیق یہ رہی کہ رب تعالیٰ جل شانہ، کے کلام کی ترسیل و ابلاغ آپ صلی الله علیہ وسلم کے بعد بھی بر قرار رہی جس سے رب تعالیٰ جل شانہ، کی طرف سے مزید پیغمبر بھیجھنے کی ضرورت نہ رہی. یقینی طور پر ہمارے پاس قرآن الحکیم اور الحدیث اپنی اصلی زبان میں محفوظ ہیں..

(ت) نبی آخرالزماں حضرت محمد مصطفیٰ صلی الله علیہ وسلم مشن کے پہلے ہی روز سے تمام دنیا سے مخاطب ہوئے. آپ صلی الله علیہ وسلم کسی قوم یا کسی زمانے تک محدود نہیں رہے. آپ صلی الله علیہ وسلم نے رنگ ونسل اور سماجی ومعاشرتی درجہ بندیوں کی غیر مساوی تقسیم کو تسلیم نہیں کیا. اسلام میں تمام انسان مکمل طور پر برابر ہیں اور ذاتی برتری کی بنیاد نیک اعمال و افعال پرہے.

(ث) انسانی معاشرے میں مکمل طور پر اچھے اور مکمل طور پر برے انسان شاذو نادر ہی ہوتے ہیں. اکثریت کا تعلق متوسط درجہ سے ہوتا ہے. حضرت محمد مصطفیٰ صلی الله علیہ وسلم نے یہ سمجھ کر اطمینان حاصل نہیں کیا کہ آپ صلی الله علیہ وسلم انسانوں میں سے “فرشتوں” سے مخاطب ہیں بلکہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے اپنے پیغام کا رخ بنیادی طور پرعام لوگوں اور فانی انسانوں کی بہت زیادہ اکثریت کی جانب رکھا. قرآن الحکیم کے الفاظ میں انسان کو “اس دنیا کے اچھے حصے اور آخرت کے اچھے حصے” کے حصول کے لیے کوشش وکاوش کرنی چاہیے.

(ج) انسانی معاشرے میں عظیم سلاطین، عظیم فاتحین، عظیم مصلحین اور عظیم متقین کی کمی نہیں لیکن زیادہ تر افراد اپنے متعلقہ شعبے ہی میں مہارت اور قدرو قیمت رکھتے ہیں. ان تمام اوصاف کا تمام پہلوؤں کے حوالے سے اجتماع صرف ایک ہی شخص میں ہونا. جیسا کہ سرور کائنات حضرت محمد مصطفیٰ صلی الله علیہ وسلم کی شخصیت میں ہے. نہ صرف بہت ہی نایاب وکمیاب ہوتا ہے بلکہ وہاں ہوتا ہے جب معلم کو اپنی تعلیمات کو بذات خود عملی شکل دینے کا موقع ملتا ہے یعنی جب تدریس و تجربہ میں توازن پیدا ہوتا ہے.

(ح) اتنا کہنا کافی ہے کہ پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰ صلی الله علیہ وسلم ایک صالح کی حثیت سے ایک مذہب کے بانی ہیں جو دنیا کہ بڑے مذاہب میں سے ایک ہے جس کا ہمیشہ شاندارو جاندار وجود رہا ہے، جس کا نقصان اس کے روزانہ کے فوائد وثمرات کے مقابلہ نہ ہونے کہ برابر ہے. اپنے ہی بتاۓ ہوئے اصول و ضوابط پر انتہائی ریاضت و استقامت کے ساتھ عمل پیرا ہونے کے حوالے سے رحمتہ للعالمین حضرت محمد صلی الله علیہ وسلم کی حیات طیبہ بے داغ ہے. ہم جانتے ہیں کہ ایک سماجی و معاشرتی منتظم کی حیثیت سے پیغمبر اسلام حضرت محمّد مصطفیٰ صلی الله علیہ وسلم نے ایسے ملک میں صفرسے سفر کا آغاز کیا جہاں ہر ایک شخص، ہر دوسرے شخص سے برسروکار تھا. سرور کونین حضرت مصطفیٰ صلی الله علیہ وسلم کو ایک ایسی ریاست کی بنیاد رکھنے میں دس سال لگے جو تیس ٣٠ لاکھ مربع کلومیٹر سے زیادہ کے علاقے میں پھیلی ہوئی تھی اور جس میں تمام جزیرہ نہاے عرب کے ساتھ ساتھ فلسطین اور جنوبی عراق کے علاقے شامل تھے. آپ صلی الله علیہ وسلم نے اتنی بڑی سلطنت کو اپنے جانشینوں کے لیے ورثہ میں چھوڑا جنہوں نے آپ صلی الله علیہ وسلم کے بعد پندرہ سال کے عرصے میں اسے یورپ، افریقہ اور ایشیا کے تین براعظموں تک وسعت دے دی.(طبری، جلد اول صفحہ ٢٨١٧ ) فاتح کی حیثیت سے آپ صلی الله علیہ وسلم کی جنگی وعسکری ہجات میں دونوں جانب سے انسانی جانوں کے ضیاع کی کل تعداد چند سو افراد سے زیادہ نہیں ہے لیکن ان علاقوں کی رعایا میں آپ صلی الله علیہ وسلم کی اطاعت کامل واکمل تھی. درحقیقت رحمتہ للعالمین حضرت محمد مصطفیٰ صلی الله علیہ وسلم نے جسموں کی بجاۓ دلوں پر حکمرانی کی. جہاں تک آپ صلی الله علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں ہی آپ صلی الله علیہ وسلم کے مشن کی کامیابی و کامرانی کا تعلق ہے مکہ مکرمہ میں حجتہ الوداع کے موقع پر آپ صلی الله علیہ وسلم نے ڈیڑھ لاکھ پیروکاروں کے اجتماع سے خطاب کیا جب کہ ابھی تک مسلمانوں کی ایک کثیر تعداد اس تاریخی موقع پر لازما اپنے اپنے گھروں میں رہی ہوگی ( کیونکہ ہر سال حج کرنا فرض نہیں ہے ).

(خ) پیغمبر اسلام حضرت مصطفیٰ صلی الله علیہ وسلم نے جو قوانین اپنے پیروکاروں کے لیےلاگو کیے اپنے آپ کو بھی قوانین سے بالاتر نہیں سمجھا بلکہ اس کے برعکس جس قدر آپ صلی الله علیہ وسلم کے پیروکاروں سے عمل کی توقع ہو سکتی تھی آپ صلی الله علیہ وسلم نے ان سے بڑھ کر عبادت و ریاضت کی، روزے رکھے اور رب تعالیٰ جل شانہ، کی راہ میں خیرات کی. آپ صلی الله علیہ وسلم انصاف پسند تھے اور حتیٰ کہ اپنے دشمنوں کیساتھ نرمی و ہمدردی سے پیش آتے تھے چاہے وہ امن کا زمانہ یا جنگ کا دور ہو.

(د) آپ صلی الله علیہ وسلم کی تعلیمات سے زندگی کے ہر شعبہ کا احاطہ کرتی ہیں یعنی عقائد، روحانی عبادت، اخلاقیات، معاشیات، سیاست الغرض وہ تمام کچھ جس کا انسان کی انفرادی یا اجتماعی، روحانی و مادی زندگی سے ہے. اور سب سے بڑھ کر یہ کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے ان تمام شعبہ ہائے حیات میں اپنے فعل وعمل کی مثال چھوڑی ہے۔

چناچہ کسی بھی فرد کو آپ صلی الله علیہ وسلم کی حیات طیبہ کا مطالعہ ضروری کرنا چاہیے اس سے پہلے کہ وہ اس بارے میں کوئی فیصلہ کرے

(ڈاکٹر حمید اللہ رحمہ اللہ کی تحریر کردہ فرانسیسی سیرت طیبہ کی کتاب کےاردو ترجمے سے اقتباس، انتخاب : عدنان مسعود)

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *