شرعی دلیل بیوقت عقلی بھی ہوسکتی ہے

11067497_1611064412463518_1528503421072653045_n

ایک شرعی دلیل آخر عقلی دلیل کیوں نہیں کہلا سکتی؟
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ کتاب النبوات میں کچھ قرآنی دلائل کی مثالیں دیتے ہیں:
”لوگو! اگر تمہیں مرنے کے بعد جی اٹھنے میں شک ہے تو (ذرا یہ سوچو) ہم نے تمہیں مٹی سے ہی تو پیدا کیا، پھر ایک ٹپکتے قطرے سے، پھر ایک خون کے لوتھڑے سے، پھر ایک گول مول بوٹی سے جس پر کہیں نقش نکل آئے ہوتے ہیں اور کہیں نہیں نکلے ہوتے …. اس لئے کہ ہم تم پر (یہ) معاملہ کھول دیں….“
اس کے بعد شیخ الاسلام تحریر کرتے ہیں:
”پس انسان کی تخلیق سے خالق (کے وجود، اس کی قدرت اور اس کی وعید کی سچائی) پر استدلال کرنا ایک حد درجہ عمدہ اور مستقیم طرز استدلال ہے۔ یہ خالصتاً عقلی طریقہ ہے اور درست طریقہ ہے۔ اور یہ بیک وقت شرعی ہے۔ قرآن اس پر باقاعدہ دلالت کرتا ہے۔ اسی طرز استدلال کی جانب قرآن راہنمائی کرتا ہے اور اسی کو بار بار واضح کرتا ہے۔ سو یہ شرعی طریقہ ہوا۔ اور یہ عقلی بھی ہے۔ کیونکہ انسان کا جب کہیں نام نشان نہ تھا تو اس کے بعد اس کا یوں پایا جانا اور پھر اس بنی نوع انسان کا وجود میں آنے کیلئے منی کے ایک ٹپکتے قطرے سے برآمد ہونا اور پانی کی اس بوند سے پہلے اس کا لوتھڑا بننا اور پھر لوتھڑے سے بوٹی بننا اور پھر آخرکار اس سے ایک جیتا جاگتا انسان بن کر نکل آنا …. یہ کوئی ایسی بات تھوڑی ہے جو انسانوں کو محض رسول کے بتانے سے ہی معلوم ہو پائی ہو۔ بلکہ یہ بات تو سب انسانوں کو معلوم ہی ہے اور جو کہ ان کو خود عقل ہی کی بدولت معلوم ہوئی ہے۔ رسول یہ بات ان کو بتائے تب ان کو یہ معلوم ہے اور نہ بتائے تب معلوم ہے۔ مگر رسول ان کو کہتا ہے کہ وہ اس سے باقاعدہ استدلال کریں اور ایک نتیجہ تک پہنچیں۔ رسول ان کو استدلال کی یہ راہ دکھاتا ہے اور اس کو واضح کرتا ہے اور پھر اسی کو حجت بناتا ہے۔ پس یہ شرعی دلیل ہے کیونکہ شارع نے اس سے استدلال کیا ہے اور اس سے استدلال کرنے کا حکم دیا ہے۔ پھر یہ عقلی ہے کیونکہ عقل سے ہی یہ بات سمجھ آتی ہے اور اس کے درست نتیجہ تک پہنچا جاتا ہے“۔
’علم‘ یا ’دانش‘ یا ’معرفت‘ وغیرہ تک قطعی رسائی کا جو مسئلہ ہے اور اس معاملہ میں جو لوگ بحث ونزاع کرتے ہیں …. ان میں کی اکثریت اس طرز استدلال کو اختیار کرنے سے قاصر رہتی ہے۔ اور تب ان کا نزاع یہ ہو رہتا ہے کہ دانش کا مصدر آیا شرع ہے یا عقل؟ (یعنی یا شرع ہو گی اور یا پھر عقل۔ گویا یہ طے ہے کہ ان دونوں کی آپس میں لگتی ہے!! معاذ اﷲ)
قرآن اسی طرح کی دلیلوں سے بھرا ہوا ہے۔ مثلاً بادلوں کے اٹھنے اور بارشیں برسانے سے استدلال کیا جانا۔ جو کہ قرآن میں ایک نہیں متعدد مقامات پر مذکور ہوا ہے۔ (یہ ایک مثال ملاحظہ کیجئے)
”اور کیا ان لوگوں نے یہ منظر کبھی نہیں دیکھا کہ ہم ایک بے آب وگیاہ زمین کی جانب پانی کو ہانک لاتے ہیں اور پھر اس کے ذریعے ہم (اسی زمین سے) وہ ساری کھیتیاں برآمد کر لاتے ہیں جس سے ان کے چوپائے پیٹ بھرتے ہیں اور یہ خود بھی ۔ کیا یہ دیکھتے نہیں ہیں؟“
چنانچہ یہ وہ چیز ہے جو آنکھوں سے نظر آتی ہے۔ لوگ اپنی آنکھوں سے زمین کو دیکھتے ہیں کہ اس میں صرف خاک اڑتی ہے۔ کوئی ہریالی، کوئی سبزہ، کوئی زندگی کا نشان دور دور تک کہیں نہیں۔ یہاں تک کہ ایک عجیب وغریب انتظام سے یہاں پانی پہنچایا جاتا ہے۔ خدا بارش کرتا ہے تو یہ مردہ زمین زندگی سے بھری کروٹ لیتی ہے۔ اس میں زندگی کی یکدم ایک لہر دوڑ جاتی ہے اور پھر یہ زندگی کی اور زندگی کے اسباب کی نشوونما کرنے لگتی ہے۔ طرح طرح کے پودے اس کی کوکھ سے جنم لیتے ہیں۔
چنانچہ یہ آیات یعنی نشانیاں جن کو کہ خدا لوگوں کو دکھاتا ہے تاکہ لوگ جان لیں کہ قرآن کے قائم کردہ مقدمات بالکل سچ ہیں …. یہ دراصل عقلی نشانیاں ہیں جن سے استدلال کرکے عقل قرآن کے دعوی کی حقانیت تک پہنچتی ہے جبکہ یہ بیک وقت شرعی ہیں کیونکہ شریعت ان پر دلالت کرتی ہے اور ان سے راہ پانے کا سبق دیتی ہے۔
چنانچہ قرآن ہمیں ان ’آیات‘ سے جو بیک وقت عقلی بھی ہیں اور شرعی بھی، پُر نظر آتا ہے۔ مگر لوگوں کی اکثریت ایسی ہے جو ’شرعی دلیل‘ کا لفظ صرف اس چیز کیلئے بولتی ہے جس پر دلالت مجرد رسول کی خبر سے ہوتی ہو۔ یہ ایک ایسی اصطلاح ہے جو مکمل معنی دینے سے شدید قاصر ہے“۔
(کتاب النبوات از شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ صفحہ: ٢٩، ٣٩، بحوالہ الاصول الفکریہ للمناھج السلفیہ عند شیخ الاِسلام مولفہ: شیخ خالد عبدالرحمن العک)
بشکریہ ایقاظ

 

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *