عقل و نقل کے درمیان ٹکراؤ کا آغاز

11067514_1611055345797758_1811700382793301231_n

عقل اور نقل کا معرکہ اسلامی عقائد کی تاریخ کا ایک مشہور معرکہ ہے۔ اس معرکہ کی مختصر تاریخ ہم کسی اور موقعہ پر ذکر کریں گے البتہ اس معاملہ کا ایک افسوسناک پہلو یہ رہا ہے کہ چونکہ خدا کی اتاری ہوئی تنزیل کا درجہ انسان کی عقل وتفکیر پر مقدم ہے اور چونکہ اس وجہ سے مذہب سلف پہ چلنے والوں کو فکر اعتزال کے اس عقل پرست منہج کے آڑے آنا تھا جو عقل کو نقل پر مقدم ٹھہراتا ہے تو اس کے باعث مذہب سلف سے منسوب بعض حلقوں کے اندر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایک ‘ردعمل’ کا انداز پروان چڑھا۔ یوں اس سے ایک دوسری انتہا سامنے آئی اور وہ ‘عقل’ کو حقیر جاننے، شریعت کی تلقی کے معاملہ میں عقل کو بڑی حد تک معطل کردینے اور یوں دین کے معاملہ میں ‘عقل’ کو کسی شمار قطار میں ہی نہ لانے سے عبارت تھا۔ اس سے لازم تھا کہ، نصوص کے فہم میں ایک جمود آتا۔ یہ انداز فکر ایک طرف فقہی معاملات میں اجتہاد کو معطل کر دینے پر منتج ہوا تو دوسری طرف عقیدہ کی ایک خشک انداز کی ترجمانی کرنے لگا اور تیسری طرف دعوت میں ایک فوجداری کی سی صورت اپنانے لگا اور دین کے حقائق کی بجائے دین کے مظاہر پر ہی زیادہ تر زور اور توجہ صرف کرنے لگا اور چوتھی طرف شریعت اور سماج میں ایک خلیج پیدا کردینے کا باعث بنا۔
اس صورتحال کا سبب یہی تھا کہ عقل کا وہ کردار جو اس کو شریعت کی اپنی ہی جانب سے عطا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔ عقل کا وہ کردار جو اس کو شریعت کی نصوص کے ساتھ ایک فطری تفاعل کی صورت میں ادا کرنا تھا اور ایک بھرپور انداز میں ادا کرنا تھا۔۔۔۔۔۔ عقل کے اس کردار کو معطل کردیا گیا اور یہ باور کرلیا گیا کہ عقل کا خدا کے دین میں بس یہی مقام ہے جو یہ حضرات اسے دے رہے ہیں۔
بنیادی طور پر، جیسا کہ ہم نے کہا، یہ ایک ردعمل تھا جو کچھ طبقوں کے ہاں اس انداز کے تشدد کو ایک منہج کے طور پر اپنا لینے کا آخرکار سبب بنا۔
البتہ معاملہ یہ ہوگیا، اور اسی وجہ سے ہم نے اسے بدقسمتی کہا ہے، کہ یہ طرز فکر اور یہ اسلوب یہاں اب منہِجِ سلف کی پہچان سمجھا جانے لگا ہے۔ جبکہ اس کا منہج سلف سے کچھ واسطہ ہی نہ تھا۔
اس کا آپ سے آپ نتیجہ یہ ہوتا کہ فکر وفہم، سوچ اور تفکیر اور طرز تعامل میں آدمی کا انتہائی پرانی وضع کا نظر آنا اور اپنے دور سے اور اپنے دور کے فکری رجحانات سے یکسر بیگانہ رہنا بلکہ کسی حد تک ان سے آزردہ خاطر رہنا، انسان کے ‘سلفی’ ہونے کا ایک لازمی حصہ سمجھا جانے لگے!!
یہ ایک بڑا ظلم تھا جو کہ یہاں سلف کے منہج کے ساتھ ہوا۔ اس سے بڑی زیادتی ہمارے خیال میں دین اسلام کی اس سچی اور خالص تعبیر کے ساتھ اس دور میں کوئی نہ ہو سکی تھی۔ البتہ اس تاثر کے بن جانے میں طرفین کو کچھ نہ کچھ دخل حاصل رہا ہے۔
اس کا پھر یہ نتیجہ بھی لازمی تھا کہ ‘سلف کی دعوت’ کچھ خاص موضوعات میں محصور ہو جاتی اور اپنے دور کے موضوعات سے پہلو تہی برتتی۔ اور یہ کہ اپنے دور کے ساتھ بھی ہمیشہ وہی پرانے موضوعات ہی چھیڑتی۔ اپنے دور میں اترتی تو یہ اپنے دور کو اپنے روایتی موضوعات پہ لے آنے کے ساتھ ساتھ زیادہ سے زیادہ یہ کرتی کہ اپنے دور کو ایک عمومی معنی میں ‘دیندار’ بنا لینے کیلئے کوشاں ہوتی۔ البتہ ہر دور کے افکار کا جو ایک ‘آپریشن’ کیا جانا ہوتا ہے اور ہردور کے علمی وفکری وثقافتی رجحانات کے عین بیچ سے گزر کر حق کیلئے جو ایک راستہ بنانا ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔ وہ فرض بالکل متروک ہو رہا کیونکہ اس کی یہی ایک صورت ہے کہ ہر دور کی عقل اور ہر دور کا فکر خدا کی اس ازلی وحی کے ساتھ ایک بہترین انداز کا تفاعل کرے اور اس عمل سے عین وہ چیز برآمد ہو جو کہ اس دور کی ایک صحیح شرعی ضرورت ہے اور جو کہ اس دور کے انسان کی درماندگی کا اصل مداوا ہے۔
چنانچہ ‘عقل’ کو حساب سے خارج کر دینا سلف کا منہج نہ تھا۔ خود قرآنی استدلالات بھی سب سے پہلے اس مفروضہ کو غلط ٹھہراتے ہیں۔ البتہ عقل کو خدا کی تنزیل پر ___ جو کہ خدا کی کتاب اور اس کے رسولؐ کی سنت ہے___ حَکَمarbiter بھی نہیں بننا۔ یہ اس کا غلط مقام ہے اور ایک غلط مقام پر رہنا خود اس کا یعنی عقل کا اپنا بھی تقاضا نہیں۔
مگر چونکہ عقل پرست رجحانات نے شروع میں اس توازن کو خراب کیا جو کہ منہج سلف میں نقل اور عقل کے مابین ایک بہترین انداز میں قائم کروا دیاگیا تھا۔۔۔۔۔۔ اور چونکہ یہ عقل پرست رجحانات آج تک اس تاک میں ہیں کہ ‘حقیقت’ کے ادراک کے ان دو ذرائع کو ___ جو کہ انسان پر خدا کی عظیم ترین نعمت ہیں___ کسی نہ کسی طرح آپس میں بھڑوا دیں اور ان دونوں کی اس فرضی جنگ میں خود یہ ‘عقل’ کے خودساختہ ترجمان اور ‘خرد’ کے من مانے حمایتی بن بیٹھیں۔۔۔۔۔۔ لہٰذا ان لوگوں کے اس توازن کو خراب کردینے نے بالواسطہ طور پر اپنے مدمقابل کچھ اور طبقوں کو بھی اس توازن سے دور کردیا۔ یہ ایک تنگ نظر ردعمل تھا جس نے عقل پرستوں کو اپنی گمراہی میں پھر اور بھی آگے بڑھتا رہنے اور اپنی اس گمراہی کو معاشرے کے اندر ___خصوصاً پڑھے لکھے طبقے کے ہاں___ ایک معقول روپ دے لینے کا موقعہ دیا۔
اب چونکہ نقل کو عقل پر مقدم جاننے کا عقیدہ سلف کا متفقہ عقیدہ ہے اور جس کے حق ہونے کی شہادت خود ‘عقل’ بھی دیتی ہے لہٰذا اس معرکہ میں جو کہ ‘عقل’ اور ‘نقل’ کے مابین فرضی طور پر کئی صدیوں تک کروایا گیا کچھ لوگ ایک دوسری انتہا پر بھی چلے گئے جو کہ دینی حقیقت کے ادراک کے معاملہ میں عقل کا کردار تقریباً ختم کر دیتی تھی۔۔۔۔۔۔ اور جو کہ سلف کے منہج کی ہرگز کوئی ترجمانی نہ تھی مگر دونوں میں (سلف کے منہج اور اِس جامد منہج کے مابین) مشترک بات یہ تھی کہ سلف کا منہج بھی نقل کو عقل پر مقدم ٹھہراتا تھا اور اس انتہا پر چلے جانے والوں کا منہج بھی۔۔۔۔۔۔ لہٰذا محض اس ‘قدرِ مشترک’ کے باعث ان دونوں کو ایک ہی شمار کر لیا گیا جس سے سارا نقصان منہج سلف کو پہنچا اور جس کا سارا فائدہ اس ‘عقل پرست’ منہج کو گیا جو کہ دراصل ‘ھویٰ پرستی’ کا ایک پرتو تھا۔
اللہ تعالیٰ نے امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کے ہاتھوں کرایا۔ آپ نے اس موضوع پر تاریخِ اہلسنت کی ایک یادگار ترین کتاب ”درء التعارض بین صریح المعقول وصحیح المنقول” تصنیف کی اور اس جنگ کا سارا نقشہ ہی تبدیل کرکے رکھ دیا۔ اس کتاب نے دین کے اندر لائے جانے والے عقل پرست رجحانات کو عین وہاں کھڑا کردیا جہاں عقل بھی ان کا ساتھ چھوڑ دیتی ہوئی نظر آئے۔اب جو میدان جنگ کی صورت بدلی تو عقل عین شریعت کے پہلو میں کھڑی نظر آئی اور عقل پرست اس جنگ میں تنہا رہ گئے! ان کا اپنا معبود بھی ان کا ساتھ چھوڑ گیا!
امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کی یہ کتاب فکر اہلسنت کی توضیح اور منہج سلف کی ترجمانی کے موضوع پر ایک مستند ترین کتاب مانی گئی ہے۔
‘عقل پسندی’ ایک چیز ہے اور جو کہ ہمارے دین میں بدرجہئ اتم موجود ہے البتہ ‘عقل پرستی’ ایک اور چیز ہے۔ اس کو بہرحال ہم ایک فتنہ جانتے ہیں۔ جس طرح خدا کی ہر مخلوق خدا کے مقابلہ میں اپنی پرستش کرانے سے بیزاری کرتی ہے اسی طرح ‘عقل’ بھی خدا کا ہمسر بننے سے صاف بیزار ہے۔ یہ صرف کچھ نادان انسان ہیں جو خدا کی کسی مخلوق کو خداکی ہمسری کے مرتبہ پر فائز کر آتے ہیں۔
حامد کمال الدین

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *