تقدیر کے متعلق ایک مشہور اشکال کا جواب

3

جواب:۔اسکا ایک سادہ ترین جواب یہ ہے کہ ان ایات میں خدا کی قدرت طاقت کا بیان ہے نہ کہ سنت و قانون کا..!!

یعنی وہ چاہے تو کوئی اسکے ارادے کو کوئی پلٹ نہیں سکتا۔ اسے سورہ بقرہ میں بیان کردہ بات سے سمجھا جا سکتا ہے.جہاں کہا گیا کہ
ماھم بضارین بہ من احد الا باذن اللہ (“اپنے جادو منتر سے وہ کسی کو اللہ کے اذن کے بغیر نقصان نہیں پہنچا سکتے تھے”)۔
یعنی ایسا نہیں تھا کہ جادو منتر کی اثر انگیزی ارادہ الہی سے ماوراء یا کائنات میں کسی دوسرے خدا کے اذن سے ہوتی ہے، اسباب کا یہ سلسلہ بھی تمام سلسلوں کی طرح اذن الہی یی کا اظہار تھا ، اسکی قدرت سے باہر کچھ نہیں۔ اسی طرح ان آیات میں خدا کی قدرت کا بیان ہے کہ خدا کی قدرت و طاقت یہ ہے کہ اگر وہ کسی کو ہدایت یا گمراہی دے دے تو کوئی اسکے فیصلے کو اسکی مرضی کے خلاف پلٹ نہیں سکتا۔
باقی
ہدایت و گمراہی کے سلسلے میں خدا کی سنت و طریقہ کیا ہے’ اس کا بیان دیگر آیات میں آیا ہے
جیسے
( وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ )
ترجمہ: اور جو لوگ ہماری راہ میں جدوجہد کرتے ہیں ہم یقینا انھیں اپنی راہیں دکھا دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ یقینا اچھے کام کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ العنكبوت/69
نوٹ:۔ہدایت و گمراہی اور مسئلہ تقدیر کے باب سے متعلق بہت سی آیات کو سمجھنے کے لئے “خدا کی قدرت و خدا کی سنت” نیز “خدا کی مشیت و خدا کی رضا” کے فرق کو ذہن نشین رکھنا نہایت ضروری ہے، بصورت دیگر ایسے بہت سے سوالات پیدا ھوتے رہتے ہیں۔

فیس بک تبصرے

تقدیر کے متعلق ایک مشہور اشکال کا جواب“ ایک تبصرہ

  1. The poster of the question has comitted the fallacy of cherry picking, he use that one ayah alone to make a case against the God, which is fallacy of cherry picking, the poster of the question would have reasonable position only if the above was the only thing that was revealed but that is not the case rather there are ayahs which explain the whole thing in detail, like the answer give n by the admin.

    That’s my twenty cents and the God knows the best.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *