”جمہوری سیکولر ریاست فرد کی ذاتی زندگی میں مداخلت نہیں کرتی” (1) ۔۔۔۔۔۔ سیکولروں کی مغالطہ انگیزیاں

سیکولر لوگوں کی پھیلائی ھوئی بہت سی مغالطہ انگیزیوں (جن کا جائزہ پہلی پوسٹس میں لیا جا چکا) میں سے ایک یہ بھی ھے کہ ”سیکولر ریاست مذہبی ریاست کی طرح فرد کی ذاتی زندگی میں مداخلت نہیں کرتی، لہذا یہ مذہبی ریاست کی طرح جابرانہ (coercive) نہیں ھوتی۔ پس ریاست کو مذہبی نہیں بلکہ سیکولر بنیاد پر قائم ھونا چاھئے”۔ مگر حقیقت یہ ھے کہ موجودہ جمہوری سیکولر ریاستیں انسانی تاریخ کی جابر ترین ریاستیں ھیں۔ یہ ریاستیں نگرانی (surveillance) کے ایک ایسے جابرانہ نظام کے ذریعے فرد کی زندگی کو گھیرے میں لئے ھوئی ہیں جس کا تصور بھی اگلی ریاستوں کیلئے ممکن نہ تھا۔ جدید ٹیکنالوجی (موبائیل، انٹرنیٹ وغیرھم) کے ذریعے یہ مرکزیت قائم کرتے کرتے فرد کے فیصلوں پر مختلف الانواع طرق سے اثر انداز ھوتی ہیں۔ مثلا موبائیل ٹیکنالوجی کے ذریعے کون، کب اور کہاں موجود ھے اس پر نظر رکھی جاتی ھے (اب تو شناختی کارڈ میں ہی ‘چپ’ (chip) لگا دی گئی ھے)، کون، کس سے، کتنی دیر تک اور کیا بات کررھا ھے سب ریاست کی نظر میں ھے، کون کس سے کتنی رقم لیتا اور کسے دیتا ھے بذریعہ بینک ریاست سب جانتی ھے (اور بینکنگ کے علاوہ ٹرانزیکشن کے دیگر طریقے آہستہ آہستہ غیر قانونی قرار دئیے جاتے ہیں کہ وہ ریاست کی نظر میں نہیں ھوتے)، کون شخص کس ویب سائٹ پر آتا جاتا ھے ریاست کو سب معلوم ھے، لائبریری سے کون لوگ کونسی کتب اشو کروارھے ہیں ریاست یہ بھی جانتی ھے۔

الغرض اس نظام میں شعوری طور پر ایسی ٹیکنالوجی ڈیزائن کی جارہی ھے جو مرکزیت (centralization) کو ممکن بنائے۔ اس مرکزیت کے نتیجے میں فرد ریاست کے سامنے کلیتا بے یارو مددگار ھو جاتا ھے۔ جب تک ریاست (sovereign) کو فرد سے خطرہ لاحق نہیں ھوتا وہ اسے کھلا چھوڑے رکھتی ھے، فرد اس جھانسے کا شکار رھتا ھے کہ ”میں آزاد ھوں”، مگر جونہی ریاست کو اس سے خطرہ لاحق ھوتا ھے اسے یوں غائب کردیتی ھے جیسے گدھے کے سر سے سینگ ۔۔۔۔۔۔۔ اورجدید مسلم ذھن کی برق گرتی ھے تو بچارے ‘اسلامی تاریخ کے ملوک’ پرکہ ‘وہ جبر کیا کرتے تھے، مخالفین کو ٹھکانے لگادیتے تھے’ وغیرہ؛ مگر ‘جمہوری ریاست’ ایسوں کے ساتھ جو سلوک کرتی ھے یا تو انہیں اسکا اندازہ ہی نہیں اور یا پھر مارے شرم کے اس معاملے میں تجاہل عارفانہ سے کام لیتے ہیں۔

جمہوری سیکولر ریاست کے اس جابرانہ اور مداخلتی رویے کی خالص علمی بنیادیں ہیں۔ آزادی کے فریم ورک میں جب ریاست (sovereign) کسی کی آزادی کے تحفظ کا ذمہ لیتی ھے تو اسکا مطلب یہ ھوتا ھے کہ sovereign جب چاھے اسکی آزادی چھین سکتا ھے، یعنی چونکہ وہ آزادی چھین سکتا ھے اسی لیۓ وہ تحفظ دے سکتا ھے ۔جس کی آزادی sovereign کی پھنچ سے باھر ھو اسے وہ تحفظ بھی نہیں دے سکتا۔ اسی لیۓ موجودہ جمھوری ریاستوں میں فرد کی آزادی ایک سراب ھوتا ھے، ریاست جب چاھے اسے چھین لیتی ھے۔ یھاں جس شے کو فرد “اپنی آزادی کا دائرہ” سمجھتا ھے وہ درحقیقت “sovereign کے کنٹرول کا دائرہ” ھوتا ھے۔ وہ لوگ جو اس “sovereign کے دائرہ تحفظ” کو قبول نہ کریں انکی آزادی sovereign کےلیۓ خطرہ ھے (کیونکہ وہ اسکی پھنچ سے باھر ھے) لھذا یہ انہیں اپنے دائرہ تحفظ قبول کرنے کےلیۓ مجبور کرتا ھے،بصورت دیگر انھیں مار دیتا ھے، جیسے کہ موجودہ استعمار کرتاآرھا ھے۔ چنانچہ جمھوری فریم ورک میں آزادی اسی کی محفوظ ھوتی ھے جو اسے sovereign کے سپرد کرنے کےلیے تیار ھو۔

اب طرفہ تماشا دیکئھے، ایک طرف یہ نظام یہ تعلیم و آگہی عام کرتا ھے کہ فرد کی آزادی مقدم ھے، اسکی ذاتی زندگی مقدس ھے، فرد ہی sovereign ھے وغیرہ (علم معاشیات و لبرل ڈیموکریسی کا پورا ڈسکورس ھے ہی یہی)؛ مگر دوسری طرف عملا یہ نظام فرد کو بے یارومددگار کرتا ھے، کلیتا ریاست کے رحم و کرم کا محتاج بناتا ھے، اسکی ذاتی سے ذاتی خواھش پر اثر انداز ھوتا ھے، وہ بھی اخلاقی پریشر کے طور پر نہیں بلکہ قانونی طور پر (اسکی وضاحت بعد میں کی جائے گی) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس حد تک کہ اسے کتنے بچے پیدا کرنے چائیے، اپنے بچوں کے ساتھ کیا کرے (انہیں سکول بھیجے، بصورت دیگر سزا یا جرمانہ ھوگا)، اسکے گھر یہاں تک کہ بیڈ روم کے رویے کو بھی قانون کی گرفت میں لاتا ھے (یورپ و امریکہ میں اگر بیوی یہ کہہ دے کہ اسکے شوھر نے اسکی مرضی کے بغیر اسکے ساتھ ہم بستری کی کوشش کی تو ثابت ھونے پر شوھر کو سزا ھوجاتی ھے)۔ موجودہ جمہوری سیکولر ریاستوں کی اس صورت حال کو دیکھتے ھوئے انفرادی آزادی پسند جمہوری مفکرین بھی تلملا اٹھے ہیں اور انہیں Monster (خوفناک بھوت) قرار دیتے ہیں جن سے گلو خلاصی انہیں ناقابل حصول شے معلوم ھوتی ھے۔

مگر ہمارے یہاں کا جدید مسلم ذھن ھے کہ موجودہ نظام کی پھیلائی ھوئی اس جھوٹی آگہی سے متاثر ھوکر ان ریاستوں پر فدا ھوا چاھتا ھے، اتنا ہی نہیں بلکہ اپنے اسلاف کو بھی کند ذھن سمجھنے لگا ھے کہ وہ اس آگہی کو ان سے یہلے کیوں نہ پاسکے ۔۔۔۔۔۔۔ اسے قیامت کی علامت نہ کہیں تو اور کیا کہیں!

(جاری)

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *