تقدیر کی حقیقت۔ ۔ ۔!

1798200_1537185266518100_4496292451217609130_n

جواب :

اللہ پاک نے اپنے علم سے ھمیں سزا دینی ھوتی تو پیدا کرنے کا جواز نہیں بنتا تھا اور ھمیں پیدا کرنا ایک مذاق اور ڈرامہ کہلاتا ۔اللہ اس قسم کے عبث کاموں سے پاک ہے.
اس نے ھمیں پیدا فرمایا ،، علم دیا ، وقت دیا اور ذرائع دیئے ،، سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں دیں اور ارادے کا بٹن ھمارے ھاتھ میں دے دیا ،، نیکی بدی کا زیادہ تر احساس ھمارے ضمیر میں رکھا تو مزید سپورٹ کے لئے رسول اور پیغمبر بھیجے ! جنہوں نے نیکی اور بدی کا فرق روزِ روشن کی طرح واضح کر دیا ،، اگر شیطان آپ کو برے ارادے کے لئے ابھارتا ھے تو فرشتے نیک ارادے کے لئے ابھارتے ھیں،،مگر زبردستی نہ شیطان کر سکتا ھے اور نہ فرشتہ ،، ایکشن بہرحال آپ نے لینا ھے ،، کافروں سے حشر میں یہی کہا جائے گا
،یا ایہا الذین کفروا لا تعتذروا الیوم انما تجزون ما کنتم تعملون ،،(التحریم) اے کافرو آج عذر مت تراشو ،، تمہیں اسی کا بدلہ مل رھا ھے جو تم نے کیا ھے ؟
آپ کو اللہ پاک نے اپنے علم کا پرنٹ نہیں بھیجا کہ اے فلاں آج تم نے نیٹ کیفے میں بلیو پرنٹ دیکھنے ھیں فورا ! سارے کام چھوڑ کر وھاں پہنچو ورنہ ھم تمہیں سخت سزا دیں گے ،، اگر کسی کے پاس اللہ کے علم کا ایسا کوئی پرنٹ آؤٹ ھے تو پلیز وہ اسکین کر کے شیئر کرے ،،
اللہ کو ھر بات کا علم ھونا اس لئے ضروری ھے کہ اس کے کئے گئے فیصلوں پر کوئی اثر انداز نہ ھو ، مثلاً اللہ نے اگر میری عمر 60 سال لکھی ھے تو ضروری ھے کہ وہ میرے آگے پیچھے اور میرے ارادوں ،نیز مجھ سے ملنے جلنے والوں کے ارادوں پر نگاہ رکھے ، میرے پاس سے گزرنے والی شاں شاں کرتی گاڑیوں پہ نگاہ رکھے کہ ان میں سے کوئی مجھے ساٹھ سال سے پہلے مار نہ دے اور میں کسی اور کو مار نہ دوں ،،جب وقت آ جاتا ھے تو نگرانی ھٹا لی جاتی ھے ، دشمن کام کر جاتا ھے ،جس کے لئے اس نے دنیا میں سزا رکھی ھے جان کا بدلہ جان ،،یعنی ایسا نہیں ھے کہ اللہ نے میری عمر پوری ھوتے ھی آپ کو فیکس بھیجی کہ او فلاں جلدی کرو فلاں کی عمر پوری ھو گئ ھے اسے جلدی جا کر گولی مارو ،، آپ کے فعل کا جواز کوئی اور ھو گا ،،رب کا علم ھرگز جواز نہیں ھو گا ،، آپ کو غصہ کسی اور بات پر ھو گا ،،بس فرق صرف اتنا ھو گا کہ اس دن اللہ نے مجھے بچانے کے لئے مداخلت نہیں کی .
خلاصہ یہ کہ بے شک اللہ تعالی کو پہلے سے علم تھا کہ بندہ فلاں کام اپنے اختیار سے کرے گا اور فلاں کام اس نے بلااختیار اس سے سرزد ہو گا ۔اس سے یعنی اللہ تعالی کے علم سے بندے کا اختیار زائل نہیں ہوتا۔اللہ تعالی تو اختیاری اور اضطراری سب ہی امور کو جانتا ھے۔ نیز یہ کہ اللہ تعالی ازل میں اپنے افعال کو بھی جانتا تھا کہ فلاں وقت فلاں کو یہ شے عطا کرؤں گا۔پس جس طرح علم ازلی کی وجہ سے اللہ تعالی کا اختیار نہیں جاتا رہا اسی طرح علم ازلی سے بندوں کے اختیار اور ارادہ کا زاہل ہونا لازم نہیں اتا.

فیس بک تبصرے

تقدیر کی حقیقت۔ ۔ ۔!“ پر 2 تبصرے

  1. Sir, iski mazeed wazahat karain please k khuda ko yeh pta hai k hum nay jannat ya dozkh main jana hai to phir ikhtiyar denay ya na denay ka kya jawaz howa jab kisi nay jana he dozakh main hai

    • جب آپ یہ تسلیم کرلیتے ہیں کہ اللہ کے علم سے بندے کے اختیار پر کوئی اثر یا فرق نہیں پڑتا ، بندے کو اختیار حاصل ہے کہ وہ نیکی کی راہ پر چلے یا برائی کی ۔ ۔ یہاں پھر تقدیر پر اعتراض ختم ہوجاتا ہے ، اب جو آپکا اگلا سوال ہے وہ کائنات اور انسان کے مقصد کے متعلق ہے کہ یہ سب کیوں کیا بنایا، کیوں ترتیب دیا گیا ۔کائنات کیوں بنی ، یہ سسٹم کیوں چلا یا گیا۔ یہ سوال اس موضوع سے متعلق نہیں۔اس پر بعض دوسری تحاریر میں بات کی گئی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *