محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی تکذیب کیوں ۔۔؟!

10356765_1567934673443159_2887432236391513348_n

محمد رسول اللہﷺ کی تکذیب آج بھی ہو رہی ہے اور آپ کا ٹھٹھہ آج بھی اڑایا جا رہا ہے اس کی وجہ یہی   ہے کہ محمدﷺ وقت کے رسول ہیں۔ کوئی اور نبی اِن جھٹلانے والوں اور ٹھٹھہ اڑانے والوں کا موضوع نہیں تو اِس کی وجہ یہی ہوسکتی ہے کہ وہ دورِ ماضی کے انبیاءہیں نہ کہ زمانۂ حاضر کے۔..
جس نبی کی انسانی دنیا میں منادی ہوگی، جس کی لائی ہوئی آیات و بینات زمانے کو چیلنج کریں گی، ظاہر بات ہے تکذیب اور ٹھٹھہ کرنے والے مریض ذہن اُسی کو اپنا ہدف بنائیں گے۔ یہ اگر دیکھیں تو آج روئے زمین پر ”نبوت“ کے سلسلہ میں محمدﷺ کے سوا آخر کس کی منادی ہے اور کس کی لائی ہوئی آیات و بینات زمانے بھر کو چیلنج کر رہی ہیں۔۔۔۔؟
کوئی ہے یہاں جو اقوامِ عالم کو مثلاً آج موسیٰ علیہ السلام پر ایمان کی دعوت دیتا پھر رہا ہو؟
مسیح علیہ السلام کی منادی کرنے والے یہاں ضرور ہیں مگر وہ مسیحؑ کی ’خدائی‘ کی دہائی دیتے پھر رہے ہیں نہ کہ مسیح ؑ کی ”نبوت“ کی۔ ”خدائی“ یہاں سوائے خدائے واحد قہار و جبار کے کسی کی چل سکتی ہے؟ البتہ ”نبوت“ کا دعویٰ اور منادی تو روئے زمین پر آج ہے ہی صرف محمدﷺ کی!
کوئی مومن ہوگا تو اِس کا، کافر ہوگا تو اِس کا! اِس کے سوا تو کوئی اور چناؤ ہی نہیں!!! تو پھر کیا یہ لوگ اِس حقیقت سے کوئی نتیجہ اخذ نہیں کرتے کہ ”آسمانی رسالت“ کے حوالے سے سوائے محمدﷺ کے آج نہ کسی کا دعویٰ، نہ کسی کی دعوت، نہ کسی کی منادی اور نہ کسی کا چیلنج!!! بطورِ ”خدا کا پیغمبر“ اِس ایک شخص کے سوا آج نہ کسی پر ”ایمان لانے“ کے واقعات ہو رہے ہیں اور نہ کسی کو ”جھٹلانے“ کے اور نہ کسی کا ٹھٹھہ اور مذاق اڑایا جانے کے!!!
پس محمدﷺ کے سوا یہاں میدان میں ہے ہی کون؟ یہ اِن پر ایمان لائیں، یا اِن کو جھٹلائیں، .
ہر کسی کو اِسی کے اندر ہی اپنی جائے مراد ڈھونڈنی ہے نہ کہ اِس سے باہر، البتہ اصل دیکھنے کی بات یہی ہے کہ آیا ایک نبی اُس قبیل کی وہ سب اشیاءخدا کے پاس سے لے کر آیا ہے جو اس سے پہلے انبیاءلے کر اُس کے ہاں سے آتے رہے یا اِس خاص پہلو سے اس کے ہاں معاذ اللہ کوئی کمی رہ گئی ہے؟ ہاں اِس خاص پہلو سے دیکھیں، اور ضرور دیکھیں، اور بار بار دیکھیں، وہ سب کچھ جو کسی نبی کے ہاں پایا گیا اِس آخری آسمانی رسالت میں اپنے عروج پر ملے گا۔
آج کے علمائے اسلام قرآن کے معجزاتی پہلوؤں کو نمایاں کرتے ہیں تو وہ اس لئے کہ محمدﷺ کا یہ وہ سدا بہار معجزہ ہے جو ہر دور میں اپنے کرشمے دکھا سکتا ہے اور آج بھی ایسے ایسے پہلوؤں سے کرشمے دکھا رہا ہے کہ اَدوارِ ماضی میں اُن کا تصور تک نہ کیا جاسکتا ہو (اِن کے ذکر کا گو یہ مقام نہیں)۔
علمائے اسلام کا یہ طریق کار اس لئے بھی ہے کہ دورِ محمدی علوم کی افزودگی کا دور ہے لہٰذا intellectual miracles ہی کو زیادہ سامنے لے آیا جائے جن کا کہ قرآن ایک نہ ختم ہونے والا خزانہ ہے، اور یہ معجزوں کی وہ قسم ہے جو صرف ’تاریخ‘ میں پڑھنے کی نہیں بلکہ ہر دور کا انسان ان کو خود بھی محسوس کر سکتا ہے۔ معجزوں کی یہ قسم اِس کثرت کے ساتھ رسالتِ محمدی کو اِسلئے ملی کہ اِس کے زمانے میں عقول اپنے جوبن پر پائی جائیں گی اور اس کا تسلسل قیامت تک رہے گا۔ البتہ اِس کا یہ مطلب نہیں کہ حسی معجزات physical miracles میں معاذ اللہ اِس نبی کے ہاں کوئی کمی رہنے دی گئی۔ اردو کے دستیاب لٹریچر میں ’سیرۃ النبی‘ کے مؤلف علامہ سید سلیمان ندویؒ نے نبی آخر الزمانﷺ کے دو سو کے لگ بھگ حسی معجزے بہ تفصیل ذکر کئے ہیں اور نہایت چھان پھٹک اور عرق ریزی سے ان روایات کا موثوق ہونا ثبوت کے ساتھ واضح کیا ہے۔
حامد کمال الدین

 

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *